Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی پر دعوے کرنے والے جونہ تین میں ہیں نہ تیرا میں،شور شرابہ سے سیاست نہیں ہوتی

    کراچی پر دعوے کرنے والے جونہ تین میں ہیں نہ تیرا میں،شور شرابہ سے سیاست نہیں ہوتی

    صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور نواب تیمور ٹالپر نے کہا ہے کہ وہ نا اہل، نالائق حزب اختلاف کے مشکور ہیں جنہوں نے بجٹ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ، نہ ہی کوئی کٹوتی کی تحریک جمع کروائی اور بجٹ آسانی سے منظور ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے جب بجٹ ووٹنگ کے لیے ایوان میں پیش کیا تو کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ مشاورت اور اتفاق رائے سے منظور ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجٹ منظوری کے بعد سندھ اسمبلی میں میڈیا کارنر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بجٹ منظوری کی کوئی جلدی نہیں تھی ، سندھ کے عوام نے انہیں واضح اکثریت دی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کی حکمت عملی کو بہترین طریقے سے ناکام کیا۔حزب اختلاف کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بجٹ پر کٹوتی کی کوئی تحریک نہیں ڈالی ، صرف شور شرابہ اور خلل ڈالتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ شور شرابہ سے سیاست نہیں ہوتی اور پھر یہاں آکر یہ آئین و قانون کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کے قائدین ان سے ضرور پوچھیں کہ انہوں نے کٹوتی کی تحاریک کیوں نہیں ڈالی۔ سندھ واحد اسمبلی ہے کہ جہاں پر حزب اختلاف نے مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا اور محض شور شرابہ کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پر دعوے کرنے والے جونہ تین میں ہیں نہ تیرا میں وہ زیادہ شور مچا رہے تھے کہ کراچی کے لئے کوئی اسکیم نہیں رکھی گئی۔ کراچی کے سات اضلاع میں سے تین میں تو یہ ہیں ہی نہیں اور کراچی کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے لئے 991 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے ہیں، جبکہ رواں سال کے بجٹ میں 90 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
    صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا کہ وہ نالائق اور نا اہل حزب اختلاف کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے سندھ اسمبلی سے بجٹ منظوری میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی بلکہ ہمیں سپورٹ کیا۔ نہ کوئی کٹ موشن دیئے اور ناہی بجٹ کی مخالفت کی۔ آج تاریخی دن ہے بجٹ آسانی سے منظور ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ہم پر الزام لگانے کے بجائے اپنے اندر دیکھے کہ پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں میں کوآرڈینیشن کتنی بہتر تھی۔ جو کچھ وہ کرتے رہے اس کا نقصان صرف حزب اختلاف کو ہوا ، اپوزیشن کو موقع ملتا ہے کہ وہ تمام محکموں کے بجٹ پر بات کرے، لیکن انہوں نے یہ موقع گنوا دیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے آج یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ایم کیو ایم نے ان سے ہاتھ کر لیا ہے۔ کل کے احتجاج میں حلیم عادل شیخ نے ایم کیو ایم کے ساتھ فلور پر دھرنا دیا اور ان کے ساتھ احتجاج کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کا آپس کا مسئلہ ہے ، یہ خود طے کریں کہ کس نے کس کے ساتھ ہاتھ کیا ہے۔
    اس موقع پر صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نواب تیمور ٹالپر نے کہا کہ 25 سال میں پہلی بار سندھ حکومت کی پالیسیوں اور بجٹ کے خلاف کٹوتی کی کوئی تحریک نہیں آئی ، جس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن ہمارے بجٹ سے سو فیصد متفق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حلیم عادل شیخ اس وقت کا سب سے بدترین قائد حزب اختلاف ہے، جس کو بجٹ تقریر بھی نصیب نہیں ہوئی۔

  • پیپلز پارٹی خواتین ونگ لیاری کی متحرک رہنماء نسیمہ ناز بلوچ صاحبہ انتقال کر گئیں

    پیپلز پارٹی خواتین ونگ لیاری کی متحرک رہنماء نسیمہ ناز بلوچ صاحبہ انتقال کر گئیں

    اِنَّالِلَه وَاِنَّااِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

    رکن قومی اسمبلی NA-238 پاکستان پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ملیر سید آغا رفیع اللہ کا معاون خصوصی برائے وزیراعلیٰ سندھ و پیپلز پارٹی خواتین ونگ لیاری کی متحرک رہنماء نسیمہ ناز بلوچ صاحبہ کے انتقال پر اپنے دکھ غم و افسوس کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ دکھ کی اس گھڑی میں انکے خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔نسیمہ ناز بلوچ کی پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے جدوجہد اور خدمات ناقابلِ فراموش ہے.

    دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)

  • اورنگی ٹاؤن میں کم آمدنی والے افراد کے لیےچلنے والے کچن میں شر پسند عناصر کی توڑ پھوڑ

    اورنگی ٹاؤن میں کم آمدنی والے افراد کے لیےچلنے والے کچن میں شر پسند عناصر کی توڑ پھوڑ

    کراچی کے ایم سی اورنگی ٹاؤن کے آفس میں کل شب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، پراجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاؤن رضا عباس رضوی کی جانب سے چلنے والے کچن میں شر پسند عناصر کی توڑ پھوڑ، اورنگی ٹاؤن میں پہلی مرتبہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے ایک کچن کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں روز کی بنیاد پر 150 افراد کھانا تناول کرتے تھے، رضا عباس رضوی کی جانب سے اس کچن کی بنیاد کم آمدنی والے افراد کے لئے رکھی گئی تھی، جہاں ایک شخص اگر ایک وقت میں 100 روپے کا کھانا کھائے گا تو مہینے میں3000 روپے اس کے کھانے پر خرچ ہوجائینگے، پراجیکٹ ڈائریکٹر رضا عباس رضوی کی ان کم آمدنی والے افراد کے سہولت کے لئے کچن کا اہتمام کیا جہاں روزانہ کی بنیاد پر 150 افراد کھانا کھایا کرتے تھے، لیکن کل شب کے ایم سی آفس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر رضا عباس رضوی کی جانب سے چلنے والے کچن میں نامعلوم افراد کی جانب سے توڑ پھوڑ، پراجیکٹ ڈائریکٹر اورنگی ٹاؤن رضا عباس رضوی کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد تالا توڑ کر کچن میں داخل ہوئے، وہاں توڑ پھوڑ کی، جبکہ چوکیداروں سے معلوم کرنے پر انھوں نے لاعلمی ظاہر کی.
    رضا عباس رضوی کا کہنا تھا کہ اگر مجھ سے کسی کی کوئی ناراضگی یا جھگڑا تھا تو مجھ سے بات کرتا، نادار افراد کے کھانے کے لئے بنائے گئے کچن سے کیا تکلیف تھی، اگر کسی نے یہ جلن یا حسد کی بن پر کیا ہے تو میری دعوت ہے آپ اس کام کو جاری رکھیں میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، رضا عباس رضوی نے مزید کہا کہ معاشرے میں چلتے ہوئے نیک کام میں روڑے اٹکانے والے شیطان کے پیروکار ہی ہوسکتے ہیں.

  • سندھ کا بجٹ منظور،اپوزیشن کا شور شرابا

    سندھ کا بجٹ منظور،اپوزیشن کا شور شرابا

    اپوزیشن اراکین نعرے لگاتے رہے ، شور مچاتے رہے، سندھ اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے ایک سو چھپن مطالبات زر کی ایک منٹ میں منظوری دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بطور صوبائی وزیر خزانہ بجٹ کے مطالبات زرپیش کیے۔

    اپوزیشن کے شور شرابے اور ہلڑبازی کا جواب دینے کی حکمت عملی کے تحت حکومتی اراکین وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے گرد حصار بنایا اور بجٹ تجاویز منظوری کیلئے پیش کیں جن کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کیا۔

    اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے سوائے احتجاج کے کچھ نہیں کیا گیا، اپوزیشن نے نہ تو بجٹ بحث میں حصہ لیا اور نہ ہی کٹوتی کی تحاریک پیش کیں، یہی وجہ تھی کہ سندھ اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے ایک سو چھپن مطالبات زر کی ایک منٹ میں منظوری دے دی۔

    صوبائی بجٹ پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعر ہ بازی کی گئی۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال 22-2021 کیلئے 1477.903ارب روپے کا سندھ بجٹ پیش کیا تھا، بجٹ میں خسارے کا تخمینہ 25،738 ارب تھا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کیلئے کل تخمینہ1452،168 ارب روپے ہے جبکہ صوبے کی اپنی وصولیاں 329،319 ارب روپے متوقع ہیں۔

  • نومولود بچہ اسپتال سے اغواء کا کیس 10گھنٹے سے پہلے حل

    نومولود بچہ اسپتال سے اغواء کا کیس 10گھنٹے سے پہلے حل

    نومولود بچہ اسپتال سے اغواء کا کیس 10 گھنے سے پہلے حل

    بلدیہ ٹاون نمبر 4 سے نجی اسپتال سے نومولود بچہ کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا۔ جس کی ملزمہ گرفتار بچہ بازیاب پولیس نے واقعہ کی تفتیش ٹیکنیکل بنیاد پر کی اور ملزمہ گرفتار ۔

    نجی اسپتال کی نرس نے بچے کو 30000 ھزار روپے میں فروخت کیا تھا۔ نجی اسپتال کی نرس کی گرفتاری کے لیے پولیس روانہ کردی گئی۔

    والدین ھی اولاد کی گمشدگی کا درد سمجھ سکتے ھیں.تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے کو بچہ کا جنم ہوا تھا.پولیس کے مطابق واقعہ کی مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

  • کراچی میں غلط پارکنگ پر ٹریفک پولیس کا ایکشن، سرکاری گاڑیاں لفٹ

    کراچی میں غلط پارکنگ پر ٹریفک پولیس کا ایکشن، سرکاری گاڑیاں لفٹ

    کراچی میں ٹریفک کا اژدھام کنٹرول کرنے اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف ٹریفک پولیس نے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

    ڈبل پارکنگ کرنے والے شہری ہوشیار، عام شہری ہو یا سرکاری افسر بشمول پولیس اہلکار غلط پارکنگ کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، یہ اعلان کراچی کی معروف و مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر کئے گئے۔

    ٹریفک پولیس کے یہ اعلانات محض رسمی کارروائی نہ رہی بلکہ انہوں نے اس پر عملی مظاہرہ بھی کیا اور شہر قائد کی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر ڈبل پارکنگ میں کھڑی چار پولیس موبائلز کو لفٹ کرلیا۔

    سینئر افسر میٹھادر ٹریفک سیکشن کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر اکثر غلط پارکنگ کے نتیجے میں بدترین ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوجاتی تھی جس سے نا صرف عوام بلکہ دکانداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

    ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو پارکنگ سے متعلق آگاہی فراہم کی جارہی ہے، دکانداروں اور عام شہریوں کو غلط پارکنگ سے روکا جا رہا ہے۔

    ٹریفک پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ ایم اے جناح روڈ پر اب صرف باکس پارکنگ کی اجازت ہوگی، غلط پارکنگ کرنے والا عام شہری ہو یا پولیس اہلکار گاڑی اٹھالی جائے گی۔

  • ایف آئی اے نے غیر قانونی طور پر مقیم دو غیر ملکیوں کو گرفتار کرلیا

    ایف آئی اے نے غیر قانونی طور پر مقیم دو غیر ملکیوں کو گرفتار کرلیا

    جیکب لائنز میں ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر مقیم دو غیر ملکی گرفتار کرلیے۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار غیر ملکیوں کا تعلق چین سے ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم تھے، دونوں بالترتیب 2017 اور 2019 میں جعلی کاغذات پر پاکستان آئے۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہےکہ گرفتار ایک ملزم جن بنگ بن 2017 میں جعلی کاغذات پر لاہور آیا اور دوسرا گرفتار ملزم زاو یون ڈونگ 2019 میں کراچی آیا تھا، دونوں 30 ،30 دن کے بزنس ویزا پر پاکستان آئے اور پھر سلپ ہوگئے، اس دوران ملزمان عائشہ منزل، لیاقت آباد، لائنز ایریا اور رنچھوڑ لائن میں کاروبارکررہے تھے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مقامی افرادکی مدد سے بچوں کے گیمنگ زونز چلارہے تھے، دونوں ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کو کارروائی کےلیے اطلاع موصول ہوئی تھی۔

  • سندھ میں گیس بحران آئین کی خلاف ورزی،شیری رحمان نے کیا مطالبہ

    سندھ میں گیس بحران آئین کی خلاف ورزی،شیری رحمان نے کیا مطالبہ

    سندھ میں گیس بحران آئین کی خلاف ورزی،شیری رحمان نے کیا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سندھ میں گیس بحران پر کہا ہے کہ ‏ملکی گیس کی 65-70 فیصد پیداوار کے باوجود بھی سندھ اس سے محروم ہے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق گیس پیداور والے صوبے کو پاکستان کے دوسرے حصوں پر فوقیت حاصل ہوگی،آئین کے مطابق گیس پیدا کرنے والے صوبے میں گیس کی فراہمی سب سے پہلے یقینی بنائی جائے گی، سندھ میں گیس فراہمی بند کر کے آئین کی خلاف ورزی کی جا رہی، ‏ٹیکسٹائل کی مجموعی ایکسپورٹ میں کراچی کی ٹیکسٹائل کا 52 فیصد حصہ ہے، گیس کا بحران نہ صرف ملازمتوں کو بلکہ محصولات کو بھی متاثر کرے گا، پیپلز پارٹی گیس بندش کو مسترد کرتی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو فوری طور پر سندھ میں گیس کی فراہمی کو بحال کرے،

    سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں صنعتوں کوگیس کی بندش تشویشناک عمل ہے۔ملک کی معاشی رگ کاٹی جا رہی ہے، صنعتوں کی پیداواری سرگرمیاں معطل ہیں. ملک میں گرمی میں بھی گیس کا مصنوعی بحران پیدا کردیا گیا، صنعتوں کو گیس کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے،سندھ حکومت صنعتکاروں اور مزدوروں کے ساتھ مل کر احتجاج کی کال دیگی، نے کراچی کے صنعتکاروں کی مشکلات بڑھا دیں، ایکسپورٹرز ہوں یا مقامی مارکیٹ کے لیے اشیا تیار کرنے والے، گیس کی بندش نےشہر میں فیکٹریوں کا پیداواری عمل بری طرح متاثر کردیا ہے،

    قبل ازیں گزشتہ روز بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ تعجب کی بات ہے کہ پورے ملک میں صرف کراچی کے صنعت کاروں کے لئے گیس کی فراہمی بند کی جارہی ہے، سندھ کی تمام 14 گیس فیلڈز میں بحالی کا کام ایک ساتھ شروع کرنے کے مبینہ دعوے کے بعد کراچی کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی بند کی گئی، عمران خان نے کراچی کی صنعتوں کے لئے گیس کی فراہمی بند کرکے نہ صرف ملکی برآمدات بلکہ صنعت کاروں کی ساکھ کو بھی داؤ پر لگادیا، آئینی طور پر سوئی گیس پیدا کرنے والے بلوچستان اور سندھ کا پہلا حق ہے کہ وہاں سب سے پہلے گیس فراہم کی جائے،ایک جانب عمران خان کی ہدایت پر سوئی سدرن گیس کمپنی نے کراچی کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی روک دی اور دوسری جانب ادارے سے ملازمین کو بغیر وجہ اور نوٹس نکالا جارہا ہے،عمران خان منظم طریقے سے پاکستانی معیشت اور ریاستی اداروں کو تباہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں،

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

  • لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،علامہ شہنشاہ حسین نقوی

    لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،علامہ شہنشاہ حسین نقوی

    مر کزی تنظیم عزا ملیر حلقہ نمبر 2کی جانب سے سلمان مجتبی نقوی،علامہ عون محمد نقوی،علامہ طالب جوہری،علامہ ضمیر اختر نقوی اور ڈاکٹر ریحان اعظمی کے لئے مجلس ترحیم کا انعقاد ملیر محمدی ڈیڑہ میں منعقد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں شیعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شر کت کی اس مو قع پر شر کا سے خطاب کر تے ہوئے معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی کا کہنا تھا آج ہمارے ساتھیوں کوہم سے بچھڑے کئی سال ہو چکے لیکن آج بھی ہم ان کی خدمات کو فراموش نہیں کر سکے عزاداری سید الشہداء کے لئے جو خدمات انہوں نے انجام دی آج بھی ملت جعفر یہ اُن کو سنہری حروف میں یاد کر تی ہے علامہ شہنشاہ حسین نقوی کا مزید کہنا تھا ہم لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں در ندہ صف دہشت گردوں نے کئی گھرانوں کے چراغ چھین لئے حکومت کو چائیے کہ وہ لاہور میں ہونے والی اس دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث دہشت گردو کو گر فتار کر کے عبرتناک سزا دے اس طرح کی بذدلانہ کاروائیوں سے پاکستانی عوام کو ڈرایا نہیں جا سکتا پاکستانی زندہ دل قوم ہے جب بھی وطن عزیز پر کوئی مشکل وقت آیا تو تاریخ گواہ ہے پاکستانی قوم نے ہر چیلنج کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔

  • آصف زرداری کی ہمشیرہ کو کروڑوں روپے بھتے کی مد میں دیئے، عزیر بلوچ کے تہلکہ خیز انکشافات

    آصف زرداری کی ہمشیرہ کو کروڑوں روپے بھتے کی مد میں دیئے، عزیر بلوچ کے تہلکہ خیز انکشافات

    آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو کروڑوں روپے بھتے کی مد میں دیئے، میں نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کو زمینوں پر قبضہ کرنے میں مدد کی ، عزیر بلوچ نے اقبالی بیان میں تہلکہ خیز انکشافات کر دئیے۔ تفصیلات کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ نے فریال تالپور، سینیٹر شہادت اعوان اور ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت دیگر کے راز کھول دئیے۔
    نجی ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹمطابق کراچی کی انسداددہشت گردی عدالت میں رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس میں لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ کو پیش کیا گیا تو ملزم نے اقبالی بیان میں بہت سے اہم انکشافات کیے، ملزم نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور، سینیٹر شہادت اعوان اور ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت دیگر کے راز کھول دئیے۔
    ملزم عزیر بلوچ نے اپنے اقبالی بیان میں بتایا کہ میں نے بھتے کی مد میں کروڑوں روپے محکموں اور لوگوں سے وصول کیا، محکمہ فشریز سے مجھے ماہانہ 20 لاکھ روپے اور فریال تالپور کو ایک کروڑ روپے بھتہ ملتا تھا، فشریز کے ڈائریکٹر سعید بلوچ اور نثار مورائی کو میرے کہنے پر تعینات کیا گیا۔سرغنہ گینگ وار نے بتایا کہ میرے سینیٹر شہادت اعوان، ایس ایس پی فاروق اعوان اور سی سی پی او وسیم احمد سے دوستانہ تعلقات تھے، میں نے شہادت اعوان اور فاروق اعوان کو زمینوں پر قبضہ کرنے میں مدد کی، اور دونوں کی سموں گوٹھ ملیر میں 15 ایکڑ جب کہ گڈاپ ٹاؤن میں زمینوں پر قبضے میں مکمل معاونت کی۔
    فاروق اعوان کے علاقے سے ماہانہ ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھتہ وصول کرکے اسے دیا کرتا تھا۔اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس افسران یوسف بلوچ، جاوید بلوچ اور چاند نیازی کی مدد سے اس نے لیاری گینگ وار کے ارشد پپو، اس کے بھائی اور ساتھی کو اغوا کیا، ان تینوں کے سر تن سے جدا کر کے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا، اس کے بعد دہشت پھیلانے کے لیے لاشوں کی ویڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی۔
    164 کے اقبالی بیان میں عزیر بلوچ نے کہا میں نے 2003 میں لیاری گینگ وار میں شمولیت اختیار کی، 2008 میں پیپلز پارٹی کے فیصل رضا عابدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ نصرت منگن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے قیدیوں کا ذمہ دار بنایا گیا۔ 2008 میں رحمان ڈکیت کی ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کی مکمل کمان سنبھال لی، اسی سال ہی پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروہ بنایا، 2008 سے 2013 تک کوئٹہ اور پشین سے اسلحہ بھی منگوایا، جس سے شہر میں اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری کی اور سیاسی جلسوں اور ہڑتالوں کو کامیاب بنایا۔
    عزیر بلوچ نے بیان میں اعتراف کیا کہ لیاری میں اپنی مرضی کے پولیس افسران اور اہل کار تعینات کروائے، پولیس افسران کو ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ سے تعینات کروایا، ان پولیس افسران کی سرپرستی میں لیاری میں جرائم کیے، مارچ 2013 میں اپنے والد فیض محمد عرف فیضو کے قتل کا بدلا بھی لیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے آئندہ سماعت پر عزیر بلوچ کے 164 کے بیان پر متعلقہ مجسٹریٹ کو طلب کر لیا، خیال رہے کہ عزیر بلوچ کمرہ عدالت میں اس بیان سے منحرف ہو چکا ہے واضح رہے کہ چند ہفتے قبل پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی 15 مقدمات میں بریت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔