Baaghi TV

Category: کراچی

  • مرکزی مسلم لیگ کا دریائے سندھ میں فری بوٹ ریسکیو آپریشن شروع

    مرکزی مسلم لیگ کا دریائے سندھ میں فری بوٹ ریسکیو آپریشن شروع

    مرکزی مسلم لیگ سندھ کی جانب سے دریائے سندھ کے قریب و جوار میں بسنے والے لاکھوں خاندانوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فری بوٹ ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    سیلاب کے خطرات کے پیش نظر ان علاقوں میں لاکھوں افراد اور ان کے مال مویشی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لیکن بدقسمتی سے اب تک حکومت سندھ کی جانب سے بروقت اقدامات دیکھنے میں نہیں آرہے۔اس نازک صورتحال میں مرکزی مسلم لیگ نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم اپنی ٹیم کے ہمراہ دریائی علاقوں کے دورے پر پہنچے، جہاں انہوں نے ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور کارکنان کو ہدایت دی کہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کو بھی محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن حد تک کوششیں کی جائیں۔

    فیصل ندیم نے کہا کہ حکومت سندھ کو چاہیے کہ فی الفور ایمرجنسی نافذ کرے اور تمام اداروں کو متحرک کر کے متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کرے۔ مرکزی مسلم لیگ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی بساط کے مطابق ریلیف و ریسکیو کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

    عوامی احتجاج کامیاب،اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کم کرنے کا اعلان

    پاکستان کا تاریخی اقدام، وقت سے پہلے 2600 ارب روپے کا قرض ادا

    پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم

  • کراچی کے حقوق کیلئے جماعتِ اسلامی کا وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے قریب دھرنا

    کراچی کے حقوق کیلئے جماعتِ اسلامی کا وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے قریب دھرنا

    امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے شہرِ قائد کو تباہ حال کر دیا ہے، کراچی کے ہر مسئلے کو ہم اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔

    حقوقِ کراچی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری مزاحمت کل بھی جاری تھی اور آج بھی جاری ہے، ہم وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے قریب اپنے حق کے لیے موجود ہیں۔منعم ظفر نے کہا کہ ہم کراچی کا حق لے کر رہیں گے، یہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک شہر کو اس کا حق نہیں ملتا۔

    جماعتِ اسلامی کا مارچ پریس کلب سے روانہ ہو کر شاہین کمپلیکس کے راستے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس پہنچا۔ ریلیوں کی شکل میں بڑی تعداد میں کارکن شریک تھے۔پولیس کی بھاری نفری پریس کلب پر تعینات رہی جبکہ پی آئی ڈی سی کے مقام پر کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔

    پاکستان سیلابی صورتحال سے دوچار،متاثرین کا ساتھ دیں گے،یوسف رضا گیلانی

    شینگھائی تعاون تنظیم اجلاس، شہباز شریف عالمی راہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنے رہے

  • کراچی :سی ٹی ڈی  اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی،دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا

    کراچی :سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی،دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شہر میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائیاں منگھوپیر اور کشمیر روڈ کے علاقوں میں کی گئیں جن کے دوران مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 5 شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا گرفتار ملزمان میں تحریک طالبان پاکستان کے اللہ نور اور سرفراز شامل ہیں جبکہ سلیم، جہانزیب اور امداداللہ القاعدہ برصغیر کے رکن نکلے۔

    سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق دہشت گرد پڑوسی ملک میں عسکری تربیت حاصل کرچکے تھے اور کراچی میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ان کے دیگر سہولت کاروں اور نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

  • پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سپر فلڈ کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں،حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے-

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے خود گدو اور سکھر بیراج سمیت حساس بندوں کا معائنہ کیا ہے جہاں سپر فلڈ کی صورت میں 9لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ آسکتا ہے، حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج انخلاء اور ریلیف کے انتظامات میں مصروف ہیں جبکہ کچے کے علاقوں میں بروقت انخلاء کے لیے 192 کشتیاں تعینات کی جا چکی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کچے کے تمام علاقوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور آبادی، گھروں اور مویشیوں کے نقشے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیے گئے ہیں، ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات، سرکاری اسکولوں، عمارتوں اور ٹینٹ سٹی ویلیجز میں منتقل کرنے کے انتظامات مکمل ہیں، جبکہ ریلیف کیمپس میں کھانے، پانی اور صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام حساس بندوں پر فلڈ فائٹنگ کی رفتار تیز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی ہے۔ کے کے بند، شاہین بند، قادرپور، راونتی اور دیگر حساس مقامات پر مشینری، پتھروں اور عملے کی تعیناتی کی جا چکی ہے اور افسران 24 گھنٹے نگرانی پر مامور ہیں،یہ صرف حکومت یا انتظامیہ کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ امتحان ہے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی کارکنوں کو متاثرین کی مدد کی ہدایت دی گئی ہے۔

    سینیئر وزیر نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ افواہوں اور خوف پھیلانے کے بجائے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

  • سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا ہےکہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے سپر فلڈ کی صورتحال میں 9 لاکھ کیوسکس پانی بہنے کی توقع ہے، تاہم صوبائی حکومت کو امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا،سپر فلڈ کی صورت میں کچے کے علاقے ڈوب سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ نے پورے کچے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے عوام، مویشیوں اور فصلوں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تمام نقشے، آبادی کی تفصیلات اور مویشیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے تعاون کی ہدایت دی گئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ اور پاک فوج کی مدد سے 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کی جا چکی ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، طبی امدادی کیمپ بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جہاں سانپ کے کاٹنے کے ویکسین سمیت تمام ضروری ادویات موجود ہیں،متاثرین کے لیے وقتی رہائش اور واپسی کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ کچے میں ڈوبنے والے گھروں کو دوبارہ اونچے مقامات پر تعمیر کیا جائے گا،24 اگست کو گڈو سے ساڑھے 5 لاکھ کیوسکس پانی گذرا، جس کی وجہ سے کچھ بندوں اور فصلوں کو نقصان ہوا۔ انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور خوف پھیلانے سے گریز کریں۔

    صوبائی وزیر محکمہ آبپاشی جام خان شورو، سیکریٹری ظریف کھیڑو اور چیف انجنیئر سردار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ سندھ بند سپر فلڈ کے مطابق تشکیل دیا گیا ہےبند مینوئل گائیڈلائنز کے تحت ہر میل پر چار لاندیاں قائم کی گئی ہیں اور 16 افراد بند کی نگرانی کے لیے گشت پر مامور ہیں۔ یہ عملہ 24 گھنٹے چوکس رہے گا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری اقدامات کرے گا۔

    دریائے سندھ کے دائیں کنارے گڈو اور سکھر بیراج کے 820 میل پر 3280 افراد تعینات کیے گئے ہیں جبکہ لیفٹ مارجینل بند، کے کے بند، کے کے فیڈر بند، نیو گھورگھاٹ، ایکس بند، اولڈ توری بند اور ایس بی بند کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہےبائیں کنارے گڈو تا سکھر 516 میل پر 2064 افراد تعینات ہیں، جہاں قادر پور شنک بند، قادر لوپ بند، راونتی بند، بائیجی بند اور آر این بند کو بھی حساس مقامات قرار دیا گیا ہے۔

    ان مقامات پر رات کے گشت، عملہ کی تعیناتی، ضروری مشینری، کمزور جگہوں کی مرمت اور مضبوطی کے کام شامل ہیں۔ کمزور لوکیشنز پر بھاری پتھروں کی فراہمی اور 24 گھنٹے افسران کی موجودگی یقینی بنائی گئی ہےوزیراعلیٰ سندھ نے حفاظتی اقدامات مزید تیز کرنے، حساس بندوں کی کھڑی نگرانی کرنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دینے کی ہدایات بھی دی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ انسانی جانوں، مویشیوں، فصلوں اور بیراجوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سپر فلڈ کی ممکنہ صورتحال میں احتیاطی اقدامات کا جائزہ لیا اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی پلان پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر آغا شیرزمان نے وزیراعلیٰ کو متاثرہ علاقوں، انخلا کے انتظامات اور ریلیف کے اقدامات سے تفصیلی آگاہ کیا، سپر فلڈ کی صورت میں 8 یونین کونسلز، 38 دیہات اور 171 گائوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جہاں مجموعی طور پر 2 لاکھ 6 ہزار 107 افراد اور 31 ہزار 257 خاندان آباد ہیں۔ ان علاقوں میں 2 لاکھ 68 ہزار 225 مویشی موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ عوام کو ان کے مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور انخلا کے تمام اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ کندھ کوٹ میں 15 کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے گا، جبکہ 21 دیگر کشتیوں کی مدد سے کام آسان بنایا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جن میں توری بند، کے کے بند، گھوراغاٹ اور بی ایس فیڈر آر ڈی 45 پر چار میڈیکل کیمپس شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے 30 فیصد حفاظتی بندوں کے نزدیک سرکاری اسکولوں یا عمارتوں میں قیام فراہم کیا جائے گا اور باقی افراد کو ٹینٹ سٹیز/ویلیجز میں محفوظ پناہ دی جائے گی۔ کندھ کوٹ میں 14، کشمور میں 10 سرکاری عمارتیں ریلیف سینٹر میں تبدیل کی گئی ہیں، جبکہ تینوں اضلاع میں ٹینٹ سٹیز بھی قائم کی جائیں گی۔

    صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کندھ اسپتال میں 24 ڈاکٹرز، 78 پیرامیڈیکل اسٹاف، 20 بستروں اور 2 ایمبولینس، کشمور اسپتال میں 13 ڈاکٹرز، 113 پیرامیڈیکل اسٹاف، 6 بستروں اور ایک ایمبولینس، اور دیگر ہسپتالوں میں بھی ضروری طبی انتظامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ PPHI کے تحت 44 ہیلتھ فیسلیٹیز، 10 KMC سروسز، 10 EPI سینٹرز، 16 لیبر رومز، اور 9 لیبارٹریز بھی خدمات انجام دیں گی۔ ایمرجنسی کے لیے 2 سول ایمبولینس، 7 PPHI ایمبولینس اور 5 ایمبولینس 112 تعینات کی گئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی کمی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام کمپلین سیل فعال رہیں گے ضرورت پڑنے پر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انسانی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں آج بڑے اضافہ،ہوا،ہے-

    سونے کے نرخ میں مسلسل پانچویں دن اضافہ ہوا ہے، سونے کے فی تولہ نرخ 3600 روپے بڑھ گئے ہیں،اس اضافے کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 3 لاکھ 67 ہزار 400 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،دس گرام سونے کے نرخ میں 3172 روپے کا اضافہ ہونے سے قیمت تین لاکھ 14 ہزار 986 روپے ہو گئی ہے،بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 36 ڈالر مزید مہنگا ہوا ہے جس کے بعد فی اونس سونے کے نرخ 3 ہزار 447 ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

    ایران میں موساد کے 8 ایجنٹ گرفتار

    صدر مملکت نے پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی

    بھارتی بینک میں بیف پارٹی، ملازمین کا انوکھا احتجاج

  • سرکاری ملازم پر تشدد کیس: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کی عدم پیشی،عدالت  برہم

    سرکاری ملازم پر تشدد کیس: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کی عدم پیشی،عدالت برہم

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی۔

    کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کیخلاف سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی،پراسیکیوٹر، ملزمان اور مدعی کے وکیل اور تفتیشی افسر پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے ملزمان کی رہائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ مدعی کہاں ہیں؟ وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ مدعی کے وکیل موجود ہیں،عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے ملزمان کو ریلیف دے دیا، دیکھنا ہے کہ 497 اس کیس میں بنتا ہے یا نہیں، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزمان سے مچلکے لئے ہیں یا ایسے ہی چھوڑ دیا؟

    کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد

    تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 10 لاکھ روپے کے مچلکے لیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچلکے؟ تفتیشی افسر نے مچلکے سے متعلق رپورٹ پیش کی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ضامن ملزمان کو 30 تاریخ کو پیش کرے گا۔

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی،عدالت یہ دیکھے گی کہ تفتیشی افسر نے جو اختیارات کا استعمال کیا ہے وہ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔

    سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    عدالت ملزمان کی رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر ملزمان کو نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اس رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے گا،عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان اور ضامن کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔

  • کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد

    کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد

    کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد کردی گئی۔

    میلاد النبیؐ کے حوالے سے تقریبات کے سلسلے میں شہر قائد میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر دو دن پابندی ہو گی،ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور لنک روڈ پر جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد ہوگا، شہریوں کی حفاظت کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک پولیس پیر محمد شاہ نے شہر قائد میں 11 اور 12 ربیع الاول کو ڈمپر اور دیگر ہیوی ٹریفک چلانے پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے، تمام ڈمپر مالکان کو پابندی سے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب ڈمپرز اور دیگر ہیوی ٹریفک کی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    واضح رہے کہ شہر قائد میں 11 اور 12 ربیع الاول کو جشن میلادالنبی ﷺ کے حوالے سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جلسے اور جلوسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، ان تقریبات میں شرکت کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد موٹر سائیکلوں پر سوار ہوتی ہے،12 ربیع الاوّل 6 ستمبر بروز ہفتہ کو ملک بھر میں مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جائے گی۔

    محسن نقوی سے سعودی عرب کے سفیر کی ملاقات

  • بلاول بھٹو  اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ،بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا –

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فلڈ کنٹرول روم قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے فعال ہے اور تمام اداروں کے نمائندے وہاں موجود ہیں،تونسہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے اور 2 یا 3 ستمبر کو سیلابی ریلا پنجاب سے سندھ میں داخل ہوگا ان کے مطابق سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ 16 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہیں، 192 ریسکیو بوٹس اور دیگر انتظامات مکمل ہیں ایمرجنسی کی صورت میں شہری 04199222962، 02199222902 اور 02199222758 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا جبکہ ضلعی انتظامیہ ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بروقت منتقلی یقینی بنا رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کا مسئلہ ہے، پاکستان کا کاربن ریشو صرف ایک فیصد ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    ایشیا کپ: ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا آغاز ہو گیا