سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ معیشت کو دعوؤں مستحکم یا بلندی پر نہیں پہنچایا جاسکتا،حکمران طبقہ بتائے معیشت مستحکم ہوئی ہے تو 3سال پہلے پوزیشن پر آٹا،چینی،گھی کی قیمتیں واپس نہیں آئی،موجودہ دور میں یہ تمام اشیائ ڈبل قیمتوں پر کیوں فروخت ہو رہی ہیں،معیشت کی بہتری کیلئے اچھے اقدام ہونا اور مثبت سمت کی طرف جانا اچھی بات ہے مگر عوام کو معاشی استحکام کے بہتر نتائج برآمد نہیں ہورہے جو غمازی کرتے ہیں معیشت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے،حکومت معیشت کے استحکام کیلئے مثبت کردار ادا کرئے بھرپور ساتھ دینگے،غریبوں کو مہنگائی کی دلدلنکالنے کیلئے کوحکومت کا ساتھ دینگے،پاکستان سنی تحریک چاہتی ہے کہ مہنگائی وبیروزگاری کا خاتمہ ہو اور ملک کے عوام خوشحال ہوجائیں،اب دعوؤں سے نہیں عملی طورپر کام کرکے غربت کو ختم کرنا ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت پر نیو کراچی سے آئے ہوئے بزرگوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ دوئیواں کو قیمتیں آسمانوں سے بات کررہی ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کو دوائیاں نہیں مل رہیں،سرکاری اسپتالوں میں غریبوں کو دوائیاں نہ ملنا سوالیہ نشان ہے،حکومت کی عوام کو اچھی تعلیم،صحت اور روزگار فراہم کرنے میں کارکردگی مایوس کن ہے۔
Category: کراچی
-

گورنرسندھ کا شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پر برہمی کا اظہار
گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کراچی شہر میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے معاملات پر ایم ڈی کے الیکٹرک مونس علوی کو گورنر ہائوس میں طلب کیا۔ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ پر برہمی کا اظہار کیا۔
گورنر سندھ نے ایم ڈی کے الیکٹرک مونس علوی کو ہدایت جاری کی کہ شہر میں جاری لوڈ شیڈنگ کے معاملات کو ذاتی طور پر دیکھیں اور شہریوں کی شکایات کا فوری طور پر ازالہ کریں ۔
ملاقات کے دوران گورنر سندھ نے وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد اظہر سے بھی فون پر رابطہ کیا اور شہر میں جاری لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے صورتحال کو بہتر بنانے اور کے الیکٹرک کے معاملات میں بہتری لانے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد اظہر نے بھی ایم ڈی کے الیکٹرک مونس علوی کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیں۔ -

سندھ میں پانی کا ایشو وفاق اور سندھ حکومت مل کر حل کریں ،حنید لاکھانی
رہنما تحریک انصاف حنید لاکھانی نے کہاکہ سندھ میں پانی کا ایشوآج کا نہیں ہے یہ طویل عرصے سے تواتر سے چلا آرھاہے ،عوام پیاسی مررہی ہے حکومت سندھ پانی پر دن رات سیاست چمکانے پر مشہور ہے،ایسا لگتا ہے سندھ حکومت جان بوجھ کر سندھ کی عوام کو پیاسا ماررہی ہے، بلاول بھٹو اگر سندھ کی عوام کا دردرکھتے ہیں تو پانی پر سیاست کرنے کی بجائے وفاق کے ساتھ ملکر اس مسئلے کا حل نکالیں اور ایک نظر اپنے انتظامی امور پر بھی ڈالیں ہوسکتاہے کہ یہ معاملہ خود ان کی حکومت میں انتظامی امورمیں بے ضابطگیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہو، جبکہ کراچی میں ہر طرف ٹینکر مافیا کا راج ہے جو انتہائی طاقتور لوگ ہیں جن کے تانے بانے سندھ کی وزیروں سے جاکر ملتے ہیں، ان خیالات کااظہار انہوں نے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ شہر قائد پورے پاکستان کو کما کردیتاہے مگر یہاں کی عوام پانی کے لیے دربدر ہیں شاید ہی کراچی کا کوئی علاقہ ایسا ہو جہاں لوگ پانی کے لیے پریشان نہ ہو لیاری، ملیر ،کورنگی سمیت فیڈرل بی ایریا،ناظم آباد ،اورنگی ٹائون،لانڈھی سرجانی کے لوگ لمبی لمبی لائنیں لگاکر قطاورں میں کھڑے ہیں،جبکہ بے حیائی تو ان انتظامیہ کے لوگوں کی ہے جنھوں نے عوام کو دوبوند پانی کے لیے گھروں سے بے گھر کیاہواہے ،انہوں نے کہاکہ ایسا لگتاہے شہر کا تمام پانی ٹینکر مافیا کو دیدیا گیا ہے جو منہ مانگے داموں شہریوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا رہاہے ،اب سندھ حکومت خود ہی پانی روک کر یہ کہے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی ملنا چاہیے تو اس بڑی منافقت اور کیا ہوسکتی ہے ،انہوں نے مزید کہاکہ سندھ میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے وفاق کو بھی ہر حال میں سندھ حکومت کا ساتھ دینا چاہیے ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست سے نقصان صرف عوام کا ہورہاہے۔
-

ایم کیو ایم کی سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع
ایم کیو ایم کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں سندھ حکومت کے خلاف رکشوں اور گاڑیوں پر بینرز آویزاں کردئیے گئے۔تفصیلات کے مطابق کراچی سمیت شہری سندھ کے ساتھ زیادتیوں پر ایم کیو ایم پاکستان نے احتجاجی تحریک کے لیے حکمت عملی مرتب کرلی ہے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں کراچی سمیت اندرون سندھ زیادتیوں کے خلاف احتجاجی بینرز اور آگاہی مہم چلائی جائے گی.
پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ حکومت کے فیصلوں اور زیادتیوں کے خلاف کراچی کے مختلف علاقوں کے چوکوں اور چوراہوں پر احتجاجی بینرز آویزاں کردیئے گئے ہیں، جب کہ رکشوں، ٹیکسیوں اور مسافر گاڑیوں پر بھی بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔ایم کیو ایم کے احتجاجی بینرز میں کراچی کے وسائل پر قبضہ ، کراچی پر ڈاکو راج نامنظور کے نعرے درج کئے گئے ہیں، اور جعلی ڈومیسائل پر بھرتیاں، کرپٹ اور غیر مقامی پولیس کی بے دخلی اور کراچی کو اس کے حصے کا پانی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوسرے حصے میں ریلیاں، مظاہرے اور وزیراعلی ہاؤس کا گھیرا بھی شامل ہے۔ -

جمہوریت کے لئے پی پی پی سے زیادہ کسی نے قربانیاں نہیں دیں،سیدہ تحسین عابدی
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور ایم کیو ایم پاکستان کی سابقہ سوشل میڈیا انچارج و سی آئی سی رکن و سینئر رہنما سیدہ تحسین عابدی نے کہا ہے کہ ہمیں پیلزپارٹی میں شمولیت پر فخر ہے۔ پیپلزپارٹی کارکنان کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ جمہوریت کے لئے پی پی پی سے زیادہ کسی نے قربانیاں نہیں دیں ۔
بھٹو خاندان نے جان دینا قبول کیالیکن اصولوں پر سودا نہیں کیا۔ نفرت اور تعصب کی سیاست سے شہری علاقوں کے عوام بیزار ہیں ۔
سیدہ تحسین عابدی نے یہ بات شمولیت کے لئے رابطہ کرنے والے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں کے عوام کی سوچ میں تبدیلی کی وجہ شہری علاقوں کے ساتھ جو سلوک اسٹیک ہولڈرز نے کیاوہ ہے اور وہ اب پیپلزپارٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔کراچی کی ترقی کے لئے سندھ حکومت ترقیاتی پیکیج اور اداروں میں بہتری لا رہی ہے ۔ کراچی کی ترقی کے لئے پی پی پی پی ہی اصل جماعت ہے۔وفاق کے گیارہ سو ارب ابتک کراچی میں نظر نہیں آرہے۔ بلاول بھٹو کھری باتیں کرتے ہیں ۔ جو حقیقت پر مبنی ہیں ۔ تحسین عابدی نے مزید کہا کہ ہم نوجوانوں کو گھٹا ٹوپ اندھیروں سے باہر نکالیں گے ۔ پیپلزپارٹی امیدوں کی کرن ہے اور انہیں مایوس نہیں کریگی۔
-

عدالت نے کینجھرجھیل کے حفاظتی انتظامات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی
سندھ ہائی کورٹ نے 4 جون کو انچارج کینجھر جھیل کو حفاظتی انتظامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ سمیت طلب کرلیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو کینجھر جھیل پر حفاظتی انتظامات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جسٹس محمد علی مظہر نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجودانچارج کینجھرجھیل پیش نہیں ہوئے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کینجھر پر تمام حفاظتی اقدامات مکمل کرلیےگئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی رپورٹس بھی جمع کرائی جاچکی ہیں۔ اگر ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے تو الگ بات ہے۔ ہم نے تسلی کے لیے انچارج کینجھر جھیل کو طلب کیا تھا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر کنجھر جھیل کے انچارج کو طلب کرتے ہوئے حفاظتی انتظامات سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔کیس کی سماعت 4 جون تک ملتوی کردی گئی۔جھیل پر حفاظتی انتظامات نہ ہونے پر ندیم اے شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس اگست میں کینجھر جھیل پر ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث حادثہ پیش آیا تھا جس میں
خواتین و بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ حادثے کا شکار خاندان کا تعلق محمود آباد سے تھا۔
اگست 2020 کو کمشنر حيدر آباد کی زير صدارت اجلاس ميں فيصلہ کيا گيا کہ کينجھر جھيل ميں جو بھی کشتی چلے گی، اس کی رجسٹريشن کرانا ہوگی۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بغیر لائف جیکٹس کے کوئی بھی مسافر کشتی میں سوار نہیں ہوسکے گا اور نگرانی کے لیے پاک بحریہ کا کيمپ بھی قائم کيا جائے گا۔ جھيل ميں تربیت یافتہ عملہ ہی کشتياں چلا سکے گا۔اس کےعلاوہ نوری جام تماچی کے مزار پر جانے کے لیے ٹوکن جاری کيا جائے گا۔ -

پیپلز پارٹی نے پانی کی کمی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کردیا
پیپلزپارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پنجاب کئی دہائیوں سے سندھ کا پانی چوری کررہا ہے، صوبے کے کسانوں کو فصلوں کی آبیاری میں مشکلات کا سامنا ہے، اب ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
پیپلزپارٹی نے صوبے میں پانی کی کمی کے خلاف سندھ بھر میں تحریک چلانے کا اعلان کردیا، اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے رہنما نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ پنجاب کئی دہائیوں سے سندھ کا پانی چوری کررہا ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور ہوشربا مہنگائی کے بعد اب سندھ کو پانی کی کمی کا تحفہ بھی دیاجارہا ہے، جس کیلئے پورا سندھ پانی کی چوری پر سراپا احتجاج ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب پیپلز پارٹی اس صورت حال پر کسی صورت خاموش نہیں رہے گی، ہم ارسا کو سندھ کے حصے کا پانی چوری نہیں کرنے دیں گے۔
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا پانی دیا جائے، ٹھٹھہ میں پانی کی کمی کے باعث لوگ فصلیں نہیں اگاسکتے۔
-

سندھ میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث تاجر پریشان
سندھ میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث تاجر پریشان ہیں اور صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ جلد کاروبار بحال کرنے کی اجازت دی جائے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن کے باعث تاجر سخت پریشان ہیں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے سوال پر صدر انجمن تاجران سندھ جاوید ہاشمی نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے کاروبار کے محدود اوقات رکھے گئے ہیں ، محدود اوقات میں رش بڑھے گا کم نہیں ہوگا، یہ بات حکومت کی سمجھ میں نہیں آتی۔
صدر انجمن تاجران سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے صبح 6 بجے دکانیں کھولنے کا کہا ہے، کراچی میں شدید گرمی کے باعث لوگ ویسے ہی گھروں تک محدود ہے ، کاروبار پہلے نہیں ہے، معیشت کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے.
چھوٹے تاجروں کی وجہ سے معیشت چلنے کا بہانہ بنا تھا اور کچھ بہتری دیکھنے میں آرہی تھی لیکن کورونا کے باعث 15 ماہ سے معیشت بیٹھ چکی ہے۔
جاوید ہاشمی نے کہا دوسری جانب شادہ ہال اور ریسٹورینٹس سے منسلک دہاڑی دار طبقہ بھی پریشان ہے، سندھ حکومت سے اپیل ہے کہ جلد کاروبار بحال کرنے کی اجازت دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ این 249 ، بدین میں الیکشن ہوا ، فلسطین کے حوالے سے ریلیاں نکالی گئی ، حکومت ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کراسکی ، تمام معاملات چھوٹے تاجروں پر لاکر تھوپ دیئے جاتے ہیں، کاروبار نہیں ہورہا ، بجلی کا بل ، ملازمین کو تنخواہ کہا سے دیں۔
جاوید ہاشمی نے کہا حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ایسے اقدامات سے بے روزگاری بڑھے گی ، چوری اور ڈکیتی میں اضافہ ہوگا ، لوگ خود کشیاں کریں گے۔
-

سندھ حکومت پانی کے معاملے پر صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کر رہی ہے
پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان نے اپنے بیان میں کہا سندھ حکومت پانی کے معاملے پر صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کر رہی ہے۔
پی پی نے سندھ کے حصے کا پانی بااثر سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس اور وڈیروں کو نوازا ہے،
330 سندھ کے بااثر افراد صوبے کا پانی چوری کررہے ہیں۔محکمہ آبپاشی کی رپورٹ نے سندھ حکومت کی کرتوتیں بےنقاب کردی ہیں،8 برس سے سندھ کے پانی پر بلاول ہمشیرہ اور پھپھو نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
پی پی گندم، جزیروں اور زمینوں کے بعد اب پانی پر قابض ہوگئی ہے،جب تک پی پی رہے گی سندھ کے کسانوں کا استحصال ہوتا رہیگا۔
پی پی کا بس چلے تو جعالی اکاؤنٹس کے ساتھ صوبے کا پانی بھی بیرونی ممالک سپلائی کردے،
پانی کے مسئلے پر پی پی کے تانے بانے ہائیڈرنٹس مافیا سے ملائے جائیں تو غلط نہیں ہوگا۔بلاول اور صوبائی وزراء اپنے عمل کے بعد عوام کی بد دعاؤں کے حقدار ہیں۔
خرم شیر زمان کہتے ہیں پی پی سندھ کا پانی چوری کرکے پنجاب پر بے بنیاد الزام لاگارہی ہے،
پی پی نے پانی کی تقسیم پر پنجاب اور سندھ کے درمیان رنجشیں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔پیپلز پارٹی کی سازش کیخلاف متعلقہ اداروں سے تحقیات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
-

زرداری کے کتے امپورٹڈ منرل واٹر پیتے ہیں اور سندھ کے لوگ آلودہ پانی،آخر یہ دوہرہ معیار کیوں؟
مراد علی شاہ کراچی کا سارا پانی بحریہ ٹاؤن کو پلانا چاہتے ہیں:پاسبان
زرداری کے کتے امپورٹڈ منرل واٹراور سندھ کے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں:طارق چاندی والا
پیپلز پارٹی پانی کا مسئلہ حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کے فور پراجیکٹ فوری مکمل کرے سندھ کے کاشتکاروں،صنعت کاروں اور شہریوں پر ظلم بند کیا جائے۔کراچی :پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کراچی کا سارا پانی بحریہ ٹاؤن کو پلانا چاہتے ہیں۔ زرداری کے کتے امپورٹڈ منرل واٹر پیتے ہیں اور سندھ کے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں،مراد علی شاہ اپنےگریبان میں جھانک لیں، پانی کا اصل مسئلہ ان کی سمجھ میں آجائے گا۔ اگر پیپلزپارٹی پانی کا مسئلہ حل کرنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو کے فور پراجیکٹ فوری مکمل کرے۔ تاخیر کی وجہ سے قیمت سات گنا بڑھ چکی ہے۔تھر کو ہر سال قحط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تھر کے لئے کیا کیا ہے؟ پورے سندھ میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ یہ پانی جانوروں کے پینے کے قابل بھی نہیں ہے۔ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان پانی کی جنگ محض ڈرامہ ہے۔ نیب نے سندھ کے وزراء کے خلاف کیس کھولے ہیں تو انہیں سندھ کا پانی چوری ہونے کا مسئلہ یاد آگیا اور دوسرے صوبوں کے خلاف نفرت کی سیاست شروع کر دی۔ نیب نے سندھ حکومت کو کیوں چھوٹ دے رکھی ہے؟ ان کا احتساب کرکے پیپلز پارٹی کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائے۔ لولا لنگڑا احتساب پاکستان کے عوام اور بالخصوص کراچی کے عوام کے لئے عذاب بن گیا ہے۔ پیپلز پارٹی پانی کی کمی کا ڈرامہ کر کے،کراچی کے عوام کو پانی کی قلت کا شکار بنا کر وڈیرہ شاہی اور ٹینکر مافیا کو خوش کر رہی ہے۔ سندھ کے وڈیرے واٹر کورسز توڑ کر زرعی پانی چوری کرتے ہیں اور ٹینکر مافیا عوام کے حصے کا پانی لائنوں سے چوری کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کو بیوقوف بناکر اقتدار سے چمٹی ہوئی ہے۔ شخصیات کے ساتھ اداروں کا احتساب ضروری ہو چکا ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیاگیا ہے جس کی جگہ مادہ پرستی نے لے لی ہے۔ حکمران عوام کو پانی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ سندھ کی ٹیل پر پانی کی قلت بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ لوگ پانی کی کمی کے باعث نقل مکانی کر رہے ہیں جبکہ کراچی کے عوام کو بوند بوند پانی کے لئے ترسایا جا رہا ہے۔ کراچی واٹر بورڈ کی انتظامیہ اور وال مینز 25 سے30 ہزار روپے لیکر پانی کے ناجائز کنیکشن فراہم کر رہے ہیں۔ ملک میں صرف پرائیویٹ ہی نہیں بلکہ سرکاری اداروں میں بھی مافیاؤں کے سرپرستوں کی بھرمار ہے۔ پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے ٹینکرز مافیا کی چاندی کی جا رہی ہے جبکہ عوام کو چاروں جانب سے پیسا جا رہا ہے۔ پائپ لائنوں سے پانی کی فراہمی نا ہونے کے باوجود ہر ماہ موصول ہونے والے پانی کے بلز، گھنٹوں ٹینکر ز کے حصول کے لئے کی جانے والی درخواستیں اور اس کے بعد مہنگے داموں ٹینکرز کا پانی خریدنے تک ایک طویل کوفت کا سلسلہ ہے۔ جس سے کراچی کے عوام عرصہ دراز سے دوچار ہیں لیکن حکومتی اراکین اور انتظامیہ نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے حکمران عرصہ دراز سے سندھ کے عوام کے حقوق کی پامالی کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بند کیا جائے۔ بورنگ کی وجہ سے کراچی میں پانی کا لیول خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے۔ حالات اگر یہی رہے تو یہ پانی بھی دستیاب نہیں ہوگا۔ سندھ کے کاشتکاروں،صنعت کاروں اور شہریوں پر ظلم بند کیا جائے۔ زرعی پانی کی تقسیم منصفانہ کی جائےاور عوام کو لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔
