Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی: شیخ رشید آج وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ سے ملاقات کریں گے

    کراچی: شیخ رشید آج وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ سے ملاقات کریں گے

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید آج کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کریں گے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کراچی کے دورے پر ہیں اور آج وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کریں گے-

    ترجمان وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ملاقات میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا-

    دوسعی جانب اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ جو مانگیں گے، دیں گے، امن و امان کے مسئلے پر مراد علی شاہ کے ساتھ ہیں، سارے سندھ کو صاف کریں گے۔

    شیخ رشید نے ڈی جی سندھ رینجرز میجر جنرل افتخار حسن چودھری سے ملاقات کی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ لی۔

  • حکومت کورونا وبا سے بچاتے بچاتے عوام کو بھوک اور فاقوں سے مار دے گی۔

    حکومت کورونا وبا سے بچاتے بچاتے عوام کو بھوک اور فاقوں سے مار دے گی۔

    سندھ حکومت انتظامی امور پر قابو پانے میں مکمل طور پرناکام ہوچکی ہے۔ حکومت کورونا وبا سے بچاتے بچاتے عوام کو بھوک اور فاقوں سےمار دے گی علامہ باقر عباس زیدی۔

    کراچی:مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت انتظامی امور پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔حکمرانوں کی بے حسی سندھ کے عوام کو پیپلز پارٹی سے دور کر رہی ہے۔اگر سندھ حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو برسراقتدار پارٹی کا سیاسی مستقبل تباہ ہو کر رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں عام آدمی کا طرز زندگی تباہ حالی کا شکار ہے۔صحت،تعلیم،روزگار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام شعبے پوری سرعت کے ساتھ تنزلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جلتی پر تیل کا کام کر رکھا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے حکومت کو عوام کی مشکلات سے کوئی غرض نہیں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن دیہاڑی دار طبقے کے لیے وبال جان جب کہ انتظامی اہلکاروں کے لیے لوٹ مار کرنے کا’سنہری موقعہ’بنا ہوا ہے۔ دکانداروں سےجبری بھتہ وصول کیاجارہاہے۔غریب عوام ہر طرف سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وبا سے بچاتے بچاتے عوام کو بھوک اور فاقوں سے مار دے گی۔جن چھوٹے دکانداروں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے،حکومت انہیں ریلیف فراہم کرے۔ملک میں مہنگائی کی شرح دو سوفیصد تک بڑھ چکی ہے۔عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کورونا ریلیف کے نام پر ملنے والے اربوں روپے کن کاموں پر خرچ کیے گئے۔انہوں نے کہا بازار اور دکانیں زبردستی بند کرانے کے بجائے ایس او پیز پر سختی سے عمل درامد کرایا جائے تاکہ تاجر طبقے کا روزگار چلتا رہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث طلباء کا تعلیمی سلسلہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔اگر کوئی مثبت اور فوری لائحہ عمل طے نہ کیا گیا تو بچوں کاتعلیمی مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔کورونا کے دوران تعلیمی نظام کو عالمی طریقہ کار سےہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ کوروناوائرس کے پھیلاؤ کو بھی روکا جائے اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔

  • پیپلزپارٹی کو سندھ میں ظلم، نفرت اور تعصب کا نظام رائج رکھنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے،سید مصطفی کمال

    پیپلزپارٹی کو سندھ میں ظلم، نفرت اور تعصب کا نظام رائج رکھنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے،سید مصطفی کمال

    اک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے اپنی حکومت کی بقا کے عوض پیپلزپارٹی کو سندھ میں ظلم، نفرت اور تعصب کا نظام رائج رکھنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ تحریک انصاف نے کراچی سے نشستیں حاصل کرکے پاکستان کی معاشی شہ رگ کو پیپلزپارٹی کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔
    پی ٹی آئی کی کمزور ترین حکومت پیپلزپارٹی کی وجہ سے چل رہی ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں 15 سال میں ناصرف یہ کہ ایک قطرہ مزید پانی نہیں دیا بلکہ جو آرہا تھا وہ بھی چھین لیا، جعلی ڈومیسائل کے زریعے کراچی سے سرکاری نوکریوں اور تعلیم کا بچا کھچا حق بھی چھین لیا ہے۔ ایک نئی بس کراچی کو نہیں ملی۔ سندھ کے شہری علاقوں میں پیپلزپارٹی کی بدسلوکی کی انتہا ہوچکی ہے .
    پیپلزپارٹی کی حکومت نے کرونا کی وبا میں تعصبی سوچ کے تحت شہری علاقوں پر دھاوا بول کر کاروباری طبقے کو پریشان کر رکھا ہے، لاک ڈاون کے نام پر شہریوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، کورونا لاک ڈان میں سرکاری افسران کی چاندی ہوگئی ہے، دوکانداروں کو اٹھا کر بند کرتے ہیں اور پھر لاکھوں روپے بھتہ لیکر چھوڑ دیا جاتا ہے، روزانہ کروڑوں روپے اس مد میں کمائے جارہے ہیں، جبکہ لاک ڈان کے نام پر گوٹھوں سے آئے ہوئے سرکاری افسران پاگل ہوگئے ہیں، پی پی پی کی اس تعصبانہ پالیسی نے سندھ کے شہری علاقوں سے جینے کی امید چھین لی اور غور طلب بات یہ اس سارے معاملے پر عمران خان صاحب خاموش ہیں کیونکہ پیپلزپارٹی وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو گرنے نہیں دے گی۔
    پیپلزپارٹی کا ظلم رکنے کا نام نہیں لے رہا، بڑھتا ہی جارہا ہے۔ میں سندھ کی مخدوش صورتحال میں کسی سیاست دان سے تو امید نہیں رکھتا لیکن پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب سے درخواست کرتا ہوں اس سارے معاملے میں مداخلت کریں اور سندھ کی صورتحال پر ایکشن لیں۔ جب شہر میں برساتی نالوں کے معاملے پر آرمی چیف کراچی آگئے تھے تو سندھ کی بدامنی پر کیوں نہیں آسکتے۔
    ہم پیپلزپارٹی کی فرعونیت پر خاموش نہیں رہیں گے۔آج اس شہر کی سابقہ جماعت مہاجر صوبے کا نعرہ لگا کر مہاجروں کو گمراہ کرنے کی ایک اور سازش رچا رہی ہے، جب کہ ان حالات کی ذمہ دار وہ خود ہے، 14 سالوں ایم کیو ایم پی پی پی حکومت کی ہر سازش میں شامل تھے اور ہیں، کوٹہ سسٹم، اختیارات اور وسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں نے اپنے ہاتھوں سے اختیارات اور وسائل پیپلزپارٹی کو دیے، اس وقت صوبے کا گورنر عشرت العباد تھا اور سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے 8 صوبائی وزرا تھے، یہی وجہ کہ میں کہتا ہوں کہ شہر کو چوروں نے نہیں بلکہ چوکیداروں نے لوٹا ہے۔
    پریس کانفرنس میں مہاجر قوم کو مہاجر صوبے کے نام پر ورغلانے والوں میں اتنی ہمت نہیں کہ سندھ اسمبلی جہاں نئے صوبے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے، وہاں کھڑے ہوکر نئے صوبے کی حمایت میں ایک تقریر کرسکیں۔اے مہاجروں یہ ایم کیو ایم والے پھر صوبے کا نعرہ لگا کر تمہارے ہاتھوں میں ہتھیار دیں گے، خبر دار رہنا۔ مصطفی کمال کے آنے کے بعد کسی مہاجر کا خون نہیں بہا، ہم نے مہاجر نوجوانوں کو رہا کروایا ،ہم نے اس شہر سے لسانی سیاست کو ختم کیا اور کسی مہاجر کو بیچا نہیں ہے جبکہ ایم کیو ایم نے وزارتوں کے مزے لینے کے لیے مہاجروں کا سودا کرلیا۔
    ہم نے وفاقی حکومت کے دونوں نمائندوں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کو بلدیہ ٹان میں ہزاروں ووٹوں سے ہرایا ہے ہمارا ووٹ مستقل بڑھا ہے۔ این اے 249 میں اللہ کا شکر ہے ہم پی ٹی آئی ،ایم کیو ایم سے آگے رہے۔ لوگ مایوس ہیں کراچی میں کبھی بھی حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ عوامی لاوا پھٹتا نظر آرہا ہے۔ سندھ حکومت آج پانی کے مسئلے پر وفاق سے ناراض ہے، سندھ سے پانی بلوچستان کو بھی ملتا ہے، جو اب پورا نہیں مل رہا، بلوچستان اور سندھ میں منصفانہ پانی کی تقسیم کی جائے اور جس صوبے کا جو حصہ ہے وہ اسے پورا ملنا چاہیے۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی، سید حفیظ الدین، شبیر قائم خانی، ڈاکٹر ارشد وہرہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ مصطفی کمال نے مزید کہا کہ کراچی کی مردم شماری کو متنازعہ کردیا گیا۔ وفاقی حکومت نے آج ان غلط اعداد و شمار پر تصدیق کی مہر لگادی اور ایم کیو ایم اپنی چند وزارتوں کیلئے خاموش رہ کر کراچی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔
    کچھ عرصہ پہلے تک مہاجروں کے نام نہاد ٹھیکیدار عامر خان کو گھر چلانے کیلئے رابطہ کمیٹی زکو فطرے میں سے 25 ہزار مہینہ دیتی تھی، آج وہ ارب پتی انسان بن گیا، عامر خان کے قریبی لوگ سندھ کی سب سے اعلی سیٹوں پر سرکاری افسران بن کر بیٹھے ہیں جبکہ مہاجر قوم بے روزگار ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔

  • سندھ میں ڈاکو راج کا خاتمہ رینجرز ہی کرسکتی ہے ، ایاز میمن موتی والا

    سندھ میں ڈاکو راج کا خاتمہ رینجرز ہی کرسکتی ہے ، ایاز میمن موتی والا

    کراچی تاجر الائنس کے چیئرمین ایاز میمن موتی والا نے کہاہے کہ اندرون سندھ کچے کے علاقے میں ڈاکووں سے نجات کے لیے سندھ رینجرز سے مدد لی جائے اندورن سندھ کے لوگ ڈاکووں کی جانب سے آئے دن کی وارداتوں سے شدید پریشان ہیں،سندھ میں بلخصوص کچے کے جنگلات میں ڈاکو راج قائم ہیں جن کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے،ڈاکووں کے یہ گروہ بھتہ اور تاوان کی مد میں غریب سندھیوں کو دن دہاڑے اغواکررہے ہیں اور پیسہ نہ دینے پر ان پر کی گئی تشدد کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل کردیتے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ لوگ کس قدرطاقتور ہے لہذا ایسے ناسوروں سے نمٹنے کے لیے سندھ پولیس کے ساتھ رینجرزکا تعاون ہونا بہت ضروری ہے ۔
    ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے ڈیفنس آفس سے جاری کردہ بیان میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے سندھ میں ڈاکووں کی جانب سے وارداتوں میں اضافے کی خبریں سن رہے ہیں عوام کی جان ومال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے یہ ڈاکو نہ صرف لوگوں کا مال لوٹتے ہیں بلکہ ان کے ہاتھوں غریب لوگوں کی بہن بیٹیوں کی عزتیں بھی محفوظ نہیں ہیں،ایاز میمن کا کہناتھا کہ سندھ میں ڈاکو راج کی وجہ سے یہاں کے چھوٹے بڑے شہروں میں اغوابرائے تاوان ،چوری ڈکیتی اور لوٹ مار جیسے واقعات معمول کا حصہ بنتے جارہے ہیں،جو کہ پولیس اور انتطامیہ کی جانب سے انکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،کیونکہ جب غریب لوگوں کو ان کے عزیزوں کے اغوا کے بعد نامعلوم لوگوں کی جانب سے کال کے زریعے لاکھوں روپے وصول کیا جاتا ہے تو یہ متاثرہ لوگ پولیس کے پاس ہی جاتے ہیں ، انہوں نے مزید کہاکہ ضروری ہے کہ سندھ رینجرز جن کے عظیم کارنامے شہر قائد کے امن کے لیے سب کے سامنے موجود ہیں ایسے میں یہ ہی کہاجاسکتاہے کہ سندھ میں ڈاکو راج کا خاتمہ رینجرز ہی کرسکتی ہے۔

  • شیخ رشید ان ایکشن ، کراچی سے منشیات کے خاتمے کیلئے آپریشن کا اعلان کردیا

    شیخ رشید ان ایکشن ، کراچی سے منشیات کے خاتمے کیلئے آپریشن کا اعلان کردیا

    وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینےکے لئے کراچی پہنچ کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج نہیں لگ رہا ، ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے سندھ جل رہا ہے ، امن و امان کیلئے رینجرز اور دیگر اداروں سے بات کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کراچی آیا ہوں ،گزشتہ روز گورنرسندھ اور اسد عمر نے وزیراعظم کو کراچی کی صورتحال سے آگاہ کیا ، اس حوالے سے رینجرز ہیڈکوارٹر میں اہم اجلاس ہوگا ، کل گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کروں گا ، کسی مشن پر نہیں آیا امن وامان صوبے کا معاملہ ہے ، ذمہ داری لیتا ہوں کراچی سے منشیات کا صفایا کروں گا ، کراچی سے منشیات کا خاتمہ کروں گا یہ میرا کام ہے ، منشیات سے متعلق ڈی جی اے این ایف سے ملاقات ہوئی ہے۔
    شیخ رشید نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھرمیں امن وامان کی صورتحال بہترنہیں ، وزیراعظم کوحقائق پرمبنی رپورٹ پیش کروں گا ، موجودہ دورمیں کسی کواسلحہ لائسنس جاری نہیں کیاگیا۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید کراچی پہنچ گئے ، شیخ رشید پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے ، صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیں گے ، وفاقی وزیرداخلہ کو شکارپور میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔
    ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ شیخ رشید امن وامان پر کراچی میں ہنگامی اجلاس کی صدارت کریں گے ، اجلاس رینجرز ہیڈکوارٹر میں ہوگا، وزیر داخلہ کراچی اور سندھ میں امن وامان سے متعلق اجلاس میں اہم فیصلے کریں گے ، اس کے علاوہ وزیرداخلہ شیخ رشید کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کل صبح 10 بجے ہوگی، ملاقات میں صوبے میں امن وامان اور وفاق سے جڑے امور کا جائزہ لیا جائے گا، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی گورنر سندھ سے ون آن ون ملاقات کل ہوگی۔

  • ایڈیشنل آئی جی کراچی کا پولیس کے افسران و جوانوں کی ویلفئیر کے لئے ایک اور احسن اقدام۔

    ایڈیشنل آئی جی کراچی کا پولیس کے افسران و جوانوں کی ویلفئیر کے لئے ایک اور احسن اقدام۔

    ایڈیشنل آئی جی کراچی کا پولیس کے افسران و جوانوں کی ویلفئیر کے لئے ایک اور احسن اقدام۔

    کراچی پولیس کیساتھ محمدی بلڈ بینک اور افضال میموریل تھیلیسیمیا فاونڈیشن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ طے شدہ معاہدے کے تحت کراچی پولیس کے افسران و جوان اور انکے اہل خانہ کو انتقال خون سمیت دیگر خون کی ضروریات میں فوری خون کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔تھیلیسیمیا سمیت دیگر خون کی بیماریوں کی جانچ کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی۔
    افضال میموریل تھیلیسیمیا فاونڈیشن کراچی پولیس کے افسران و جوانوں کی فیملیز میں موجود تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کا علاج معالجے سمیت خون کی دیگر ضروریات کی سہولت فراہم کریگی۔معاہدے میں شامل محمدی بلڈ بینک اور افضال میموریل تھیلسمیا فاؤنڈیشن کلیکشن پوائنٹس پولیس اسپتال گارڈن, کراچی میں کھولی جا رہی ہیں جہاں پولیس کے افسران و ملازمان سمیت انکی فیملیز کیلئےخون اور مختلف لیبارٹری ٹیسٹ ، او۔پی۔جی ٹریٹمنٹ ٪70 فیصد ڈسکاؤنٹ اور فری ایکسرے، الٹراساؤنڈ وغیرہ کی سہولت موجود ہوگی۔
    کراچی پولیس میں فرائض کی انجام دہی میں مصروف افسران و اہلکاروں کی ویلفئیر کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔افضال میموریل تھیلیسیمیا فاونڈیشن کے سی ای او ڈاکٹر عاصم قدوائی نے پولیس کو آنر دینے کے لئے پولیس ریسپکٹ کارڑ بھی متعارف کرایا گیا۔
    کراچی پولیس کیساتھ معاہدے کیلئے افضال میموریل تھیلیسیمیا فاونڈیشن کے سی ای اوڈاکٹر عاصم قدوائی، محمدی بلڈ بینک کے سی ای اوسید مہدی رضوی سمیت دیگر ڈاکٹرز اور افسران نے شرکت کی۔

  • تمام صنعتکار و تاجر اپنے ورکرز کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں۔

    تمام صنعتکار و تاجر اپنے ورکرز کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں۔

    چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد اور ویکسینیشن کےحوالے سے اہم اجلاس۔
    تمام صنعتکار و تاجر اپنے ورکرز کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں۔ملازمین کوویکسین نا کروانے والے سیکٹرز بند کئے جائیں گے۔ سید ممتاز علی شاہ
    کراچی میں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا، اجلاس میں کرونا وائرس ایس او پیز پر عملدرآمد،ویکسینیشن مہم اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ اجلاس میں سینیئر میمبر بورڈ آف ریونیو علم الدین بلو سمیت تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کرونا وائرس ویکسینیشن کے لئے 285 سینٹر بنائے گئے ہیں۔ اب تک 11 لاکھ 6 ہزار 384 افراد کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔ اجلاس میں مختلف ڈپٹی کمشنرز نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ماتحت روینیو کے عملے کی ویکسین مکمل کر لی ہے اور اب دیگر محکموں کو بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی جائے گی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ویکسین کی تعداد بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کی تعداد کو بڑھایا جائے اور ویکسین سینٹر بھی مزید قائم کئے جائیں، انہونے کہا کہ تمام صنعتکار و تاجر اپنے ورکرز کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن لگوائیں اور حکومت صنعتی علاقوں میں بھی ویکسین سینٹر قائم کر رہی ہےانہو ں نےکہا کہ ورکرزکو ویکسین نا کروانے والے سیکٹرز بند کی جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ایس او پیز پر سختی سی عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ داخلہ کے جاری کردہ احکامات پر سختی سے عمل کروایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے کمشنر کراچی اور کمشنر حیدرآباد کو روز مرہ کے اشیاء کی قیمتوں پر سختی سی عملدرآمد کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ قیمتوں کو موثر انداز میں نافذ کریں اور مرغی سمیت ضروری اشیاء کی قیمتوں پر ہر صورت کنٹرول کیا جائےمنافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار اپنے جوڈیشل پاور استعمال کرتے ہوئے ایس او پیز اور قیمتوں پر کنٹرول کریں۔
    چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے اجلاس میں مزید کہا کہ سال 2019 سے اب تک فوتی کوٹا پر 5846 ملازمتوں کی منظوری دی گئی ہے اجلاس میں مختلف محکموں کے 519 ملازمتوں کی منظوری دیگئی جن میں سے محکمہ زراعت میں 17، بورڈ آف ریونیو میں31، کالج ایجوکیشن میں13 اینٹی کرپشن میں 2،ایکسائز میں1، فاریسٹ میں7، صحت میں 45 اور محکمہ داخلا میں 32 ، محکمہ کامرس میں 2، اطلاعات میں1 ،آبپاشی میں 58، بلدیات میں40، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں3، محکمہ اسکول ایجوکیشن میں 222، سروسز ایڈمنسٹریشن میں10 اور ورک اینڈ سروسز میں 35 ملازمتوں کی منظوری دی گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سیکریٹریز کو ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ کمیٹی نےجو پہلے کیس منظور کئے ہیں انکی تنخواہیں جاری کی جائیں، اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز سے ڈی آر سی کے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

  • وفاقی وزیر شیخ رشید کی کراچی آمد،سندھ کے امن وامان سے متعلق بریفننگ

    وفاقی وزیر شیخ رشید کی کراچی آمد،سندھ کے امن وامان سے متعلق بریفننگ

    وفاقی وزیر شیخ رشید کی کراچی آمد پر پی ٹی آئی رہنماؤں سمیر میر شیخ، رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے جناح ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا ان کے ہمراہ ڈائریکٹر سندھ ایف آئی اے عامر فاروقی اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سلطان خواجہ بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر وفاقی وزیرخرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سندھ کے امن وامان سے متعلق وزیراعظم فکرمند ہیں وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔
    خرم شیر زمان نے کہا کہ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ مجھے شیخ رشید نے اپنے آنے کا بتایا نہیں ۔مراد علی شاہ کو شرم آنی چاہیے، سندھ میں لوگ مررہے ہیں آپ کو شیخ رشید کو خود بلانا چاہیے تھا ۔تھر میں پینے کا پانی نہیں ہے، تمام سیکیورٹی فورسز کی اٹھارویں ترمیم کے بعد ذمہ داری ہے ۔امن و امان برقرار رکھنا ۔نیب سے درخواست ہے محکمہ داخلہ کیخلاف نوٹس لیں ۔سندھ کے امن و امان کا بجٹ کہاں خرچ کیا جاتا ہے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی انصاف ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو

    پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی انصاف ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو

    پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی انصاف ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو،اس موقع پر پارلیمانی لیڈر بلال غفار،رکن اسمبلی راجہ اظہر، رہنماء سمیر میر شیخ، سبحان ساحل موجود تھے۔
    صوبہ سندھ کے حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ۔کشمور، جیک آباد، شکارپور میں عام لوگوں کو اغوا کیا جارہا ہے ۔ہمیں سمجھ نہیں آرہا سندھ حکومت کیسے نظام چالارہی ہے ۔ڈاکوؤں کے پاس ائیر کرافٹ بندوقیں، راکٹ لاؤئنچر ہیں ۔ مغوی سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو بناکر کہتے ہیں ہمیں بچاؤ ۔پولیس کےپاس بکھتر بند بھی دو نمبر ہیں
    بکھتر بند میں ڈاکوؤں کی گولیاں آر پار ہورہی ہیں
    سندھ پولیس کے پاس کبوتر مارنے والی بندوقیں ہیں ۔ایس ایس پی نے شکار پور کیلئے رپورٹ میں بتایا کہ سندھ میں ڈاکوؤں کے پیچھے سیاسی شخصیات کا ہاتھ ہے۔ پیپلزپارٹی نے ایس پی رضوان کیخلاف ایکشن لیا۔جبکہ ایکشن سیاسی شخصیات کیخلاف لینا تھا۔65 پولیس اہلکار اغواء اور درجنوں کو قتل کردیا گیا ۔آج وزیراعظم نے نوٹس لیا اور وزیر داخلہ کراچی بھیجا ہے وزیر اعلیٰ گھبراہٹ میں آج شہداء کے لواحقین سے ملنے چلے گئے ۔میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان شہدا کو جنہوں نے ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا ۔صحافیوں کا قتل کردیا جاتا ہے سندھ کی کرپشن پر آواز اٹھانے پر 7سو 53 ارب کا بجٹ کہاں گیا
    وزیر اعلیٰ بتائیں کتنی اے پی سی خریدیں گئی
    ماہانہ 98 بلین پولیس کے اخراجات ہیں۔ایس ایس یو بلاول زرداری اور آصفہ کی حفاظت کرتی ہے
    ایس ایس یو کو شکارپور کیوں نہیں بھیجا جاتا
    بلاول کی ایس ایس یو کو کشمور بھیجا جائے اور کشمور کی پولیس کو بلاول کی حفاظت کیلئے بھیجا جائے ۔اربوں روپے پولیس پر خرچ کیے جاتے ہیں ۔رینجرز کو مزید اختیارات کیوں نہیں دیے جارہے ہیں ۔
    کیونکہ سندھ حکومت پولیس کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔زمینوں پر قبضوں کیلئے پولیس کو استعمال کیا جاتا ہے ۔لوگ مررہے ہیں اور مراد علی شاہ تماشا دیکھ رہے ہیں ۔نوکریاں تو دے دی مگر ان کی زندگیاں دے سکتے ہیں وزراء کہتے ہیں کہ ہمیں گھروں میں گھس کرماریں گے
    یہ وزیر وگ لگاکر شکارپور کے ڈاکوؤں کو جاکر ماریں ۔مراد علی شاہ کے پاس جتنی وزارتیں ہیں اب تباہ حالی کا شکار ہیں ۔مراد علی شاہ اداروں کوتباہ و برباد کررہے ہیں،ڈاکوؤں کے ذریعے الیکشن جیتے جارہے ہیں ۔ڈکیتوں کی سرپرستی سندھ حکومت کررہی ہے.سندھ کے معصوم لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان پر حکومت کی جارہی ہے ۔محکمہ داخلہ کا آڈٹ کرایا جائے ۔یہ پیسہ کہاں گیا
    وزیر سہیل انور سیال اسمبلی میں آکر کہتے ہیں ۔کہ تمہیں دیکھ لوں گا، بلال غفار نے جو کہا اس کی فوٹیج موجود ہیں ۔یہ دلائل نہیں دے سکتے تو دھمکیوں پر اتر آتے ہیں ۔ہم نے کراچی میں بغیر اسلحہ کے بڑے بڑے بدمعاشوں کا سامنا کیا ہے ۔
    ہم چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ سہیل انور سیال کے رویہے کا نوٹس لیں ہم وزیر اعظم سے گزارش کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اندرون سندھ میں اپنے اختیارات کا استعمال کریں ۔سندھ میں رینجرز، آرمی کو بااختیار کیا جائے۔

  • سال 2019 سے اب تک فوتی کوٹا پر  5846 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    سال 2019 سے اب تک فوتی کوٹا پر 5846 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت فوتی کوٹا پر عملدرآمد کے متعلق اجلاس

    اجلاس میں سینیئر میمبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین اینٹی کرپشن سمیت دیگر سیکریٹری شریک تھے۔

    سال 2019 سے اب تک فوتی کوٹا پر 5846 ملازمتوں کی منظوری دی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ

    اجلاس میں مختلف محکموں کے 519 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    محکمہ زراعت میں 17، بورڈ آف ریونیو میں 31، کالج ایجوکیشن میں 13 اینٹی کرپشن میں 2 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    ایکسائز میں 1، فاریسٹ میں 7، صحت میں 45 اور محکمہ داخلا میں 32 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    محکمہ کامرس میں 2، اطلاعات میں 1، آبپاشی میں 58، بلدیات میں 40، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں 3 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    محکمہ اسکول ایجوکیشن میں 222، سروسز ایڈمنسٹریشن میں 10 اور ورک اینڈ سروسز میں 35 ملازمتوں کی منظوری دی گئی

    کمیٹی نے جو پہلے کیس منظور کئے ہیں ہیں انکی تنخواہیں جاری کی. چیف سیکریٹری سندھ کی متعلقہ افسران کو ہدایت

    چیف سیکریٹری سندھ نے تمام ڈپٹی کمشنرز سے ڈی آر سی متعلق رپورٹ طلب کرلی۔