Baaghi TV

Category: کراچی

  • سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں 3400 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پیر کو ملک میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 3 ہزار 400 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 93 ہزار 700 روپے ہو گئی جو اتوار کو 3 لاکھ 90 ہزار 300 روپے تھی۔

    اسی طرح 24 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 915 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 37 ہزار 534 روپے تک پہنچ گئی، جو ایک روز قبل 3 لاکھ 34 ہزار 619 روپے تھی، 22 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2 ہزار 672 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 9 ہزار 417 روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 3 لاکھ 6 ہزار 745 روپے تھی،بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونا مہنگا ہوا، جہاں قیمت 34 ڈالر کے اضافے سے فی اونس 3 ہزار 719 ڈالر ہو گئی، جو ایک روز قبل 3 ہزار 685 ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

    چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، ملک میں فی تولہ چاندی 63 روپے مہنگی ہو کر 4 ہزار 595 روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 4 ہزار 532 روپے تھی، جبکہ 10 گرام چاندی 54 روپے بڑھ کر 3 ہزار 939 روپے ہو گئی جو پہلے 3 ہزار 885 روپے تھی،عالمی مارکیٹ میں بھی چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوا اور فی اونس 0.63 ڈالر بڑھ کر 43.68 ڈالر ہو گئی جو ایک روز قبل 43.05 ڈالر تھی۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پرپہنچ،گیا-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 700 پوائنٹس بڑھ گیابینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 158,726.21 پوائنٹس پر تھا، جو 688.84 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد زیادہ رہا-

    کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں خریداری کا رجحان غالب رہا،بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایم سی بی اور این بی پی کے شیئرز مثبت زون میں رہے۔

    گزشتہ ہفتے بھی پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 3,597.68 پوائنٹس یعنی 2.3 فیصد بڑھ کر 158,037.37 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ سطح 154,439.69 پوائنٹس تھی،انڈیکس نے ہفتے کے دوران 159,337 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی چھوئی، جو رواں سال کی نمایاں ریلیز میں سے ایک رہی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں یہ اضافہ ملکی اور بیرونی عوامل کے امتزاج سے ہوا۔

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی کے میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، گزشتہ روز 3 خواجہ سراؤں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا جن کی لاشیں میمن گوٹھ میں سپرہائی وے سے ملی تھیں۔

    میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا ہے کہ ہم سب خواجہ سرا ایک ہی علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے، ہمیں بذریعہ واٹس ایپ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہےمقتولین میں ایلکس، جیئل اور اسما شامل ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات پر قتل کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، شواہد کی مدد سے قاتلوں کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں،واجہ سراؤں کے قتل کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں گزشتہ روز میمن گوٹھ کے علاقے میں ناگوری سوسائٹی کے قریب سپر ہائی وے سے ملی تھیں،دو خواجہ سراؤں کو سینے جبکہ ایک کو سر پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی، جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے دو خول ملے ہیں، کرائم سین پر کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا، خواجہ سراؤں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی،واقعے کے بعد لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں خواجہ سراؤں نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے احتجاج بھی کیا تھا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    کشمور کے کچے میں آپریشن، مغوی کانسٹیبل بازیاب، 3 ڈاکو ہلاک، 9 زخمی

    سندھ رینجرز اور پولیس نے کشمور کے کچے کے علاقے میں بدنام زمانہ بھیو گینگ کے خلاف کارروائی کرکے مغوی پولیس کانسٹیبل کو بازیاب کرالیا،جبکہ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز نے بتایا کہ کشمور میں کچے کے علاقے میں مغوی پولیس اہلکار کو بازیاب کروانے کے لیے رینجرز اور پولیس نے آپریشن کیا، دوران کارروائی ڈکیت گروہ کے ٹھکانے کو بھی مسمار کر دیا گیاآپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے نفری پر فائرنگ کر دی، بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 اغوا کار ڈاکو ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق اغوا برائے تاوان میں ملوث خادم بھیو ڈکیت گینگ نے دوران ڈیوٹی پولیس کانسٹیبل کو اغوا کیا تھا، ڈکیت گروہ نے پولیس کانسٹیبل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی،بدنام زمانہ خادم بھیو جس کے سر پر 10 لاکھ روپے انعام مقرر ہے، وہ بھی زخمی ہونے والے ڈاکوؤں میں شامل ہے، اس کے علاوہ واجد بھیو، مالک جاگیرانی سمیت 9 ملزمان زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سندھ میں کچے کے علاقوں میں آئے روز شہریوں کو ہنی ٹریپ کرکے اغوا کرنے کی وارداتیں عام ہیں، ڈاکوؤں کے گینگ سادہ لوح شہریوں کو خواتین اور سستی گاڑیوں سمیت کاروباری لالچ دے کر بلاتے ہیں اور انہیں اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا ہےڈاکوؤں کی جانب سے تاوان ادا کرنے کے لیے مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کی جاتی ہے، اور تاوان نہ دینے پر قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

  • پی آئی اے کا طیارہ خراب،6 پروازیں منسوخ

    پی آئی اے کا طیارہ خراب،6 پروازیں منسوخ

    ائیر لائنز کے انتظامی مسائل کے باعث 13 پروازیں منسوخ کردی گئیں

    فلائٹ شیڈول کے مطابق قومی ائیرلائن کا ایک طیارہ خراب ہونے سے کراچی کی 6 پروازیں منسوخ ہوئیں، کراچی سے دبئی کی قومی ائیر لائن کی 2 پروازیں منسوخ ہوگئیں جب کہ لاہور سے دبئی اور اسلام آباد ابوظبی کی 2 پروازیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔،فلائٹ شیڈول کے مطابق قومی ائیر لائن کی پشاور سے دبئی اور ابوظبی کی 3 پروازیں منسوخ کردی گئیں، کراچی کی 4 اور اسلام آباد کی 16 پروازیں ایک سے 12 گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہیں جب کہ اسلام آباد کوالالمپور قومی ائیر لائن کی پرواز 12 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے،فلائٹ شیڈول کے مطابق پشاور سے شارجہ، دبئی، ریاض اورجدہ کی 4 پروازوں میں ایک سے 8 گھنٹے تاخیر ہے، اسلام آباد سے اسکردو کی 4 پروازوں میں 3 سے 5 گھنٹے تاخیر ہے،کراچی کی 6 اور لاہور کی 14 پروازوں میں ایک سے 6 گھنٹے تاخیر ہے جب کہ جدہ کراچی کی نجی ائیر لائن کی پرواز بھی 10 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔

  • دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    دعا ملک کا انڈسٹری میں ہراسانی کا انکشاف

    اداکارہ دعا ملک نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے کیریئر کے دوران کاسٹنگ کاؤچ کا سامناکرنا پڑا، اور اس واقعے میں ملوث شخصیت پاکستان کی ایک نہایت معروف ہستی ہیں۔

    دعا ملک نے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران شوبز انڈسٹری کے مختلف پہلوؤں اور اپنی ذاتی زندگی پر کھل کر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بچے بھی اس انڈسٹری کا حصہ بنیں، اسی لیے وہ انہیں امریکا لے آئیں تاکہ وہ اس ماحول سے دور رہیں۔

    کاسٹنگ کاؤچ پر بات کرتے ہوئے ابتدا میں دعا ملک نے کہا کہ انہیں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا ان کے مطابق ہر فنکار کی اپنی شخصیت ہوتی ہے، اور اگر کوئی مضبوطی کے ساتھ ’نہ‘ کہہ سکے تو وہ اس قسم کی صورتحال سے بچ جاتا ہے، انڈسٹری میں بہت سی لڑکیاں اپنی کمزوری کے باعث دباؤ میں آ جاتی ہیں، لیکن وہ اور ان کی بہن حمائمہ ملک ہمیشہ ڈٹ کر جواب دیتی تھیں۔

    وزیراعظم کی زیر صدارت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    دعا ملک نے مزید بتایا کہ وہ بچپن سے کچھ ڈرپوک سی تھیں، لیکن ان کی بہن حمائمہ بہت بہادر ہیں، اسی لیے دونوں کو کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم، بعد میں انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ صرف ایک بار انہیں کاسٹنگ کاؤچ جیسے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ان کے کیریئر کو سخت نقصان پہنچا۔

    انہوں نے اس واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والی شخصیت پاکستان کی ایک بہت بڑی ہستی ہیں، اس لیے وہ اس معاملے کو کبھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کریں گی۔ دعا ملک نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اس وقت امریکا میں مقیم ہیں لیکن ان کا خاندان پاکستان میں رہتا ہے، اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے بیان کی وجہ سے ان کے اہلخانہ کو نقصان پہنچے۔

    پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

  • فرحان غنی کو کس سیکشن کے تحت رہا کیا گیا،عدالت

    فرحان غنی کو کس سیکشن کے تحت رہا کیا گیا،عدالت

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ٹاؤن چیئرمین چنیسر کے خلاف سرکاری ملازمین پر تشدد کے کیس میں استفسار کیا کہ فرحان غنی کو کس سیکشن کے تحت رہا کیا گیا؟ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے۔

    سرکاری ملازم پر تشدد کے کیس میں فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان اور وکلا عدالت میں پیش ہوئے جس دوران عدالت نے استفسار کیا کتنے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور کب کیے گئے،تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 24 اگست کو دو گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے گواہان کے بیانات کے مطابق سرکاری کام بند کروایا گیا،وکیل صفائی نے درمیان میں بولنے کی کوشش کی جس پر عدالت نے کہا صبر کا دامن تھام کر رکھیں، آپ کو موقع دیا جائے گا،عدالت نے استفسار کیا کیا دوران تفتیش ملزم کو رہا کرنے کا اطلاق دہشت گردی کے کیس میں ہوتا ہے؟ ملزمان کو جس سیکشن کے تحت ضمانت پررہا کیا گیا اور درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی، وہ کہاں ہے؟

    فاضل جج نے کہا مدعی کے وکیل وہ قانون عدالت میں پیش کریں، آپ کو چاہیے تھا کہ اگر کام چل رہا تھا تو پہلے نوٹس دیتے،وکیل صفائی نے کہا اگر کوئی روڈ، گلیاں اور فٹ پاتھ کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس کو روکیں گے، ملزم گرفتار تھا تو نوٹس کیسے جاری کرتا، اگر عدالت چاہے تو دہشت گردی کی دفعات منظور کرے یا پھر کارروائی کرے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے آپ جذباتی ہورہے ہیں، آپ نے کس سیکشن کے تحت ریمانڈ دیا، میں بھی کچھ سیکھنا چاہتا ہوں، ہم نے قانون کے مطابق ریمانڈ دیا، یہ رہا قانون،وکیل صفائی نے عدالت میں کہا کہ زیر دفعہ 497 کے تحت اگر درخواست منظور نہیں ہوتی تو دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں، جس پر عدالت کا کہنا تھا آپ مدعی کا 164 کا بیان ریکارڈ کروائیں اور لے آئیں، جس پر وکیل صفائی نے کہا سر کیا یہ کوئی بہت اہم کیس ہے جو اتنی باریکیاں دیکھی جارہی ہیں۔

    سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں، سرکاری کام چل رہا تھا لیکن کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی ہے، اس کیس میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی قانون لاگو نہیں ہو گا، یہ اے ٹی سی کا کیس نہیں بنتا، ہم درخواست دے دیتے ہیں،عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا اب تک کتنے بیانات ریکارڈ ہوئے؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا دو گواہان کے بیان لیے گئے پھر مصالحت ہوگئی۔ عدالت نے کہا انسداد دہشت گردی قانون میں مصالحت کی گنجائش ہی نہیں ہے، مدعی کا بیان کس قانون کے تحت ریکارڈ کیا گیا،عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ نے قانون پڑھا ہے یا نہیں؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا میں مدعی مقدمہ کا بیان نہیں دیکھتا، میں شواہد کی بات کررہا ہوں،فاضل جج نے کہا ہم آئندہ سماعت پر مدعی مقدمہ کو طلب کرلیتے ہیں، جس پر مدعی کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کا تعلق حساس ادارے سے ہے، مدعی کے بجائے گواہان کو عدالت میں پیش کردیتے ہیں،عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے گواہان کو طلب کرلیا۔

  • پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں جام صادق پل کا دورہ کیا –

    سینیئر وزیر نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا، انجنیئرز، کنسلٹنٹس اور دیگر حکام نے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کو منصوبے کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی،سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، یلو لائن بی آر ٹی کے پی ڈی بھی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ تھے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جام صادق پر اب آخری مراحل میں ہے اور ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا، پیپلز پارٹی عوام کو سہولیات دے رہی ہے اور ٹرانسپورٹ کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے، ڈبل ڈیکر بسیں بھی جلد کراچی پہنچ جائیں گی۔

    گندم کی قلت سے وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی، ن لیگ کی اتحادی نہیں ہے صرف ساتھ دیتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کو گندم کی قلت کے حوالے سے خود کو عقل کل نہیں سمجھنا چاہیے۔

    قبل،ازیں،انہوں ںے کہاتھا کہ اس پل پر پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے علیحدہ راستے بنائے گئے ہیں، پل کی ایک راہداری بی آر ٹی کے لیے مخصوص ہوگی جبکہ باقی سڑک عام ٹریفک کے استعمال میں رہے گی، اس پُل کی تکمیل کے بعد پرانا جام صادق پل منہدم کرکے اسی طرز کا نیا پل تعمیر کیا جائے گا۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا تھاکہ یلو لائن بی آر ٹی کے ڈیپوز پر بھی کام جاری ہے یہ منصوبہ تکمیل کے بعد کراچی کے شہریوں کے لیے نہایت جدید سہولت فراہم کرے گا، عالمی بینک کے تعاون سے جاری یہ منصوبہ شہر کی ٹرانسپورٹ میں نمایاں اضافہ کرے گا، اس منصوبے سے ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے، ریڈ لائن بی آر ٹی کے مرکزی راہداری پر بھی کام تیز رفتاری سے ہو رہا ہے آئندہ ماہ شہر میں ڈبل ڈیکر بسیں لائی جائیں گی اور بڑی تعداد میں الیکٹرک بسیں بھی شامل کی جائیں گی۔

  • کراچی میں فائرنگ سے اینکر امتیاز میر زخمی،صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس

    کراچی میں فائرنگ سے اینکر امتیاز میر زخمی،صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس

    کراچی میں فائرنگ کے نتیجے میں نجی ٹی وی کے اینکر امتیاز میر زخمی ہوگئے ہیں

    پولیس کے مطابق ملیر کالا بورڈ کے قریب کار پر فائرنگ سے نجی ٹی وی کے اینکر امتیاز میر زخمی ہوگئے، امتیاز میر اپنے بھائی کے ساتھ جا رہے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر دی،پولیس کا بتانا ہے کہ فائرنگ سے امتیاز میر کے سینے اور چہرے پر گولی لگی جس کے بعد زخمی اینکر کو فوری طور پر قریبی نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نےکالا بورڈ میں میٹرو ٹی وی کے اینکر پرسن امتیاز میر پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا،اینکر پرسن فائرنگ کے نتیجے میں زخمی، ضیاءالحسن لنجار نےمذمت کی ہے،وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے رپورٹ طلب کر لی،وزیر داخلہ کی ہدایت پر پولیس کو واقعہ کے محرکات سامنے لانے کی ہدایت کی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے، جائے وقوعہ سے گولیوں کے 2 خول اور ایک گاڑی برآمد ہوئی ہے،پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ جائے وقوعہ اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایم نائن موٹر وے کے ساتھ میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، تینوں کے سر سینے اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہوئی ہیں، بظاہر لگتا ہے تینوں افراد سڑک کنارے لفٹ لینے کے لیے کھڑے تھے، ممکنہ طور پر تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیاگیا اور ملزم فرار ہوگیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے واقعے گولیوں کے دو خول ملے ہیں، تینوں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم کے بعد مزید شواہد سامنے آسکیں گے، تمام پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں، جائے وقوعہ ویران جگہ ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا خواجہ سراؤں کے قتل کا نوٹس، آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی، مراد علی شاہ نے میمن گوٹھ کے قریب سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ خواجہ سراؤں کے قاتلوں کو ہرصورت گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائےخواجہ سرا معاشرے کا وہ مظلوم طبقہ ہے جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے، ریاست کسی بھی مظلوم اور معصوم شہری کا قتل برداشت نہیں کرے گی۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی ملیر واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات سے آگاہ کریں، جائے وقوعہ سے شواہد کی تفتیش جدید اور ماڈرن تیکنیک کی بنیاد پر کی جائے، قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں انٹیلیجینس ذرائع بھی استعمال کیے جائیں۔