Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی  کے سکول کب تک بند رہیں گے؟ فیصلہ ہوگیا

    کراچی کے سکول کب تک بند رہیں گے؟ فیصلہ ہوگیا

    وفاقی وزارتِ تعلیم نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث کراچی میں بھی اسکول 6 جون تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔وفاقی وزارتِ تعلیم کے مطابق کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور مظفرآباد سمیت کئی شہروں میں اسکول چھ جون تک بند رہیں گے۔
    فیصل آباد، گجرات، ملتان سمیت پنجاب کے 20، حیدر آباد، سکھر سمیت سندھ کے 12، سوات، صوابی سمیت خیبر پختون خوا کے 14 اضلاع کے اسکول اب 6 جون کو کھلیں گے۔اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہونے پر کیا گیا ہے، 5 فیصد سے کم شرح والے شہروں میں اسکول 24 مئی سے کھلیں گے۔واضح رہے کہ کراچی بھر میں سرکاری و نجی اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں تاہم اساتذہ آن لائن کلاسز یا طلبہ کو مختلف اوقات میں بلانے کے لیے مسلسل اسکولوں میں حاضر ہو رہے ہیں۔

  • سندھ میں سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ کا آغاز ،کراچی کے سات اضلاع نظرانداز ، دادو پر خصوصی نوازشات

    سندھ میں سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ کا آغاز ،کراچی کے سات اضلاع نظرانداز ، دادو پر خصوصی نوازشات

    سندھ میں سرکاری ملازمتوں کی بندر بانٹ کا آغاز ،کراچی کے سات اضلاع نظرانداز ، دادو پر خصوصی نوازشات

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر سندھ حکومت کے تمام محکموں میں گریڈ 1 سے گریڈ 4 تک کی ملازمتوں پر بھرتیوں کا آغاز ہوگیا ۔ اس سلسلے میں بعض محکموں نے گریڈ 1 تا گریڈ 4 کی خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے لئے اشتہارات اخبارات میں شائع کروادئیے گئے ہیں ۔
    سرکاریی محکموں میں بھرتیوں کے اشتہارات میں سندھ کے مختلف اضلاع کے لئے مختص کردہ اسامیوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان بھرتیوں کے لئے مروّجہ قانون اور قواعد وضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئےبعض اضلاع کے لئے سیاسی بنیادوں پر زیادہ اسامیاں رکھی گئی ہیں اور بعض اضلاع کو نظرانداز کردیا گیا ہے ۔ مشتہر کردہ ملازمتوں کی تقسیم میں قواعد وضوابط کی پامالی کی ایک مثال بعض اخبارات میں شائع شدہ ‘محکمہءلائیواسٹاک اینڈ فشریز’ ، حکومت ِسندھ کی جانب سے بھرتی کا اشتہار ہے جس میں سندھ کے مختلف اضلاع کے لئے مختص ملازمتوں کی تعداد میں بے قاعدگی اور ناانصافی واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مذکورہ اشتہار میں محکمے کی گریڈ 1 تا گریڈ 4 ، کی کل 244 اسامیوں کو مشتہر کیا گیا ہے جن میں سے وزیر اعلٰی سندھ کے آبائی ضلع دادو کے لئے کل 31 اسامیاں رکھی گئیں ہیں جب کہ کراچی کے 7 اضلاع ، کراچی ایسٹ ، کراچی ویسٹ ، کراچی ساؤتھ، کراچی سینٹرل ، ملیر، کورنگی اور کیماڑی کے لئے صرف 10 اسامیاں رکھی گئیں ہیں ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان بھرتیوں کے سلسلے میں کراچی کے 7 اضلاع کو 1 ہی ضلع تصوّر کیا گیا ہے اس طرح دادو کے 1 ضلع کے لئے مختص 31 اسامیوں کے مقابلے میں کراچی کے 7 اضلاع کے لئے محض 10 اسامیاں مختص کرنا سندھ کے شہری اضلاع کے نوجونوں پر روزگار کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے جو شہری اضلاع کے عوام میں مایوسی اور بےچینی کا سبب بن سکتا ہے ۔

  • کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا، تحقیقاتی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

    کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا، تحقیقاتی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

    کراچی طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا، تحقیقاتی رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟

    کراچی میں المناک طیارہ حادثے کو ایک سال بیت گیا جس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ طیارے میں خرابی نہیں تھی بلکہ یہ حادثہ کلی طور پر پائلٹس اورائیر ٹریفک کنٹرولرز کی کوتاہی کی وجہ سے ہوا۔

    ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی ابتدائی رپورٹ سے اخذ کردہ نتائج کے مطابق حادثے کا شکار پائلٹ پہلے حد سے زیادہ پر اعتماد تھے مگر پھر کنفیوژن کا شکار ہوگئے،وائس ریکارڈ سے پتا چلا ہے کہ لینڈنگ کے وقت پائلٹس سیاست اور کورونا جیسے موضوعات پر گفتگو کر رہےتھے۔

    ائیرٹریفک کنٹرولر نے دو مرتبہ خبردار کیا کہ طیارے کی رفتار اور بلندی دونوں بہت زیادہ ہیں ، وائس ریکارڈر کو ڈی کوڈ کرنے کے دوران کاک پٹ میں مختلف الارم بجنے کی آوازیں مسلسل سنائی دیں جنہیں پائلٹ اور معاون پائلٹ نے نظر انداز کردیا۔

    لینڈنگ کی پہلی کوشش کے دوران دونوں پائلٹ مسلسل کنفیوژ رہے کہ لینڈنگ کریں یا دوبارہ چکر لگا کر مناسب بلندی اور رفتار کے ساتھ لینڈنگ کریں، لینڈنگ سے قبل ہی نہیں بلکہ پوری پرواز کے دوران ہی پائلٹس نے ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی ہدایات پر عمل نہیں کیا

  • طیارہ حادثے کو ایک سال، غمزدہ خاندانوں کو انشورنس کی رقم نہ مل سکی

    طیارہ حادثے کو ایک سال، غمزدہ خاندانوں کو انشورنس کی رقم نہ مل سکی

    قومی ایئر لائن کے کراچی ایئر پورٹ کے قریب رہائشی آبادی پر گرکرتباہ ہونے والے طیارہ حادثے کو ایک سال گزرگیا تاہم متاثرہ خاندانوں کوانشورنس کی رقم نہیں مل سکی ہے۔

    22مئی 2020کو جمعہ کے روز پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 نے لاہورکے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے دن ایک بجکر 10منٹ پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے لیے اڑان بھری اوردوپہر 2بجکر 37منٹ پر طیارہ ایئر پورٹ کے قرب میں واقع جناح گارڈن کی رہائشی آبادی پرگرکرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے عملے کے8ارکان سمیت 97 افرادجاں بحق ہوگئے تھے اور2 مسافر خوش قسمت رہے تھے۔حادثے میں کئی مکانات مکمل اورجزوی طورپر تباہ ہوگئے اورگھروں کے باہر پارک کئی گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا تھا، طیارے کے حادثے میں جانیں گنوانے والے متاثرہ خاندانوں کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی پی آئی اے نے انشورنس کے ایک کروڑ روپے کی ادائیگی نہیں کی ہے۔

    متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ دستاویزات پر دستخط کے لیے تیار ہیں لیکن قانونی حق سے دست بردار نہیں ہوں گے،انشورنس کے لیے وہ ایسی دستاویزات پردستخط نہیں کریں گے جس سے ان کا قانونی حق ختم ہو جائے۔انشورنس ہماراحق ہے،ٹکٹ خریدتے وقت اس کی ادائیگی کی ہے،ڈاکٹرمحمدمحسن طیارہ حادثے کے متاثرہ شخص ڈاکٹر محمد محسن کاکہناہے کہ انشورنس ہمارا حق ہے، ٹکٹ خریدتے وقت اس کی ادائیگی کی ہے،حکومت سے3 گزارشات ہیں ،اول متاثرین کو طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں شامل کیا جائے،دوم انشورنس کی رقم کی ادائیگی کو آر ڈی اے پر دستخط سے مشروط نہ کیا جائے اورتیسری ایک ایسے ایمرجنسی رسپانس سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے جس تک ہر شہری کی رسائی ہوتاکہ اس قسم کے حادثات کی صورت میں فوری طورپردادرسی ہوسکے۔

    والدکے بجائے کسی اور شخص کی لاش حوالے کی گئی،زرقا حادثے میں والد کو کھونے والی زرقا چوہدری کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھاکہ والد دومہینے کے بعد لاہور سے عید منانے کراچی آرہے تھے اس وقت گھرمیںان کے استقبال کی تیاریاں ہورہی تھیں کہ اس دوران لاہور سے بہن کی کال آئی کہ کراچی میں کوئی طیارہ گرکر تباہ ہوگیا ہے۔زرقا کے مطابق جائے حادثہ پر انھوں نے جوافراتفری کا عالم دیکھا اس سے ان کو لگاکہ پروفیشنل ازم کا بہت بڑا فقدان ہے،اس بدانتظامی سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ حالات پی آئی اے اورسول ایوی ایشن کے لیے بھی بالکل نئے ہو۔زرقا کے مطابق انھوں نے 3روز بعد والد کی میت جناح اسپتال میں شناخت کرلی تھی مگر وہاں پر انھیں کہا گیا کہ جب تک سائنسی ثبوت نہیں مل جاتے لاش آپ کے حوالے نہیں کی جاسکتی ہے،7دن گزرجانے کے بعد بھی ان کی ڈی این اے رپورٹ کا کوئی پتہ نہیں تھا۔بلاآخر لاہور میں مقیم ان کی ایک بہن نے وہیں پرڈی این اے ٹیسٹ دیا، زرقا چوہدری نے الزام عائدکیا ہے کہ اس بے ہنگم صورتحال کے دوران بہت سی لاشیں تبدیل ہوچکی تھیں کیونکہ انھیں جولاش دی گئی تھی وہ اسپتال میں شناخت کی جانے والی لاش نہیں بلکہ کوئی دوسری لاش تھی مگر والدہ کی بگڑتی حالت کے پیش نظرانھوں نے کمپرومائز کیا اگرمجھے یہ معلوم ہوتاکہ والدکے انتقال کے14روز بعد صدمے کی وجہ سے والدہ بھی دنیا سے چلی جائیںگی تو وہ اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتیں ۔

  • کراچی کے 2 علاقوں میں آج سے لاک ڈاؤن نافذ

    کراچی کے 2 علاقوں میں آج سے لاک ڈاؤن نافذ

    کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث کراچی کے علاقوں منگھو پیر اور مومن آباد میں آج سے 4 جون تک لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔دوسری جانب کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے پر پورے کراچی میں سخت لاک ڈاؤن کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے اس ضمن میں سینئر افسران سے سفارشات طلب کر لی ہیں۔
    پولیس افسران نے حکام سے بجٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کے بغیر لاک ڈاؤن کمائی کا دھندہ بن سکتا ہے، گزشتہ لاک ڈاؤن میں پولیس کو بجٹ دیا گیا تھا۔جیو نیوز کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کیلئے پولیس افسران سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کے فیصلے کا اطلاق ابتدائی طور پر کراچی میں ہوسکتا ہے۔کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر کراچی میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن متوقع ہے اور اس حوالے سے ذرائع بتاتے ہیں کہ سخت لاک ڈاؤن گزشتہ سال کی طرز کا ہوسکتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ اب تک 24 پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار ہو کر شہید ہو چکے ہیں، حکومتِ سندھ نے کورونا ڈیوٹیز کے دوران شہید ہونے والوں کیلئے 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا تاہم تاحال کسی بھی پولیس اہلکار کو یہ امدادی رقم نہیں مل سکی ہے۔ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ شہر میں سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ آج یا کل ہوسکتا ہے اور اطلاق بھی جلد ممکن ہے۔

  • ناصر حسین شاہ نے صحافیوں کے تحفظ کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا

    ناصر حسین شاہ نے صحافیوں کے تحفظ کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا

    صوبائی وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے تحفظ کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔
    صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے صحافیوں اور دیگر میڈیا پریکٹشنرز کے تحفظ کے لیے Sindh Protection of Journalists and other media practitioners Bill 2021 آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا۔
    محکمہ اطلاعات نے یہ بل فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے)،کراچی یونین آف جرنلسٹس(کے یو جے)، سینئر صحا فیو ں کی مشاورت اور آراکو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا ہے جن میں پروفیسر توصیف احمد خان، مظہر عباس، فاضل جمیلی ،ڈاکٹر جبار خٹک، اویس اسلم علی اور قاضی آصف شامل تھے۔صوبائی وزیر اطلاعات کی تجویز پر یہ بل صوبائی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے قانون کو بھیج دیا گیا جو کہ تین دن کے اندر اس کا جائزہ لے کر رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے گی۔

  • کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ڈاکٹر کا  مبینہ اغوا

    کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ڈاکٹر کا مبینہ اغوا

    کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ڈاکٹر کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق واقعے کا مقدمہ ڈاکٹر کے بھائی کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے پولیس کے مطابق مبینہ اغواء کا مقدمہ مغوی ڈاکٹر فرخ حسن کے بھائی کی مدعیت میں درخشاں تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔

    مدعی نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بھائی پرائیویٹ کلینک میں بطور ڈاکٹر کام کرتا ہے، جو 2 روز قبل گھر سے دوست سے ملنے کا کہہ کر گیا لیکن اس کے بعد سے وہ غائب ہے۔

    مدعی مقدمہ کایہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرخ حسن کا موبائل فون بھی بند جا رہا ہے، انہیں شبہ ہے کہ نامعلوم ملزمان نے ان کے بھائی کو اغواء کر لیا ہے۔

  • کورونا کا پھیلاؤ:کراچی کے دوعلاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ جبکہ پورے شہر میں سخت لاک ڈاؤن کا امکان

    کورونا کا پھیلاؤ:کراچی کے دوعلاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ جبکہ پورے شہر میں سخت لاک ڈاؤن کا امکان

    کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے پر پورے کراچی شہر میں سخت لاک ڈاؤن کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق عالمی وبا کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے کراچی کے علاقوں منگھو پیر اور مومن آباد میں آج سے 4 جون تک لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے اس ضمن میں سینئر افسران سے سفارشات طلب کر لی ہیں۔

    پولیس افسران نے حکام سے بجٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کے بغیر لاک ڈاؤن کمائی کا دھندہ بن سکتا ہے، گزشتہ لاک ڈاؤن میں پولیس کو بجٹ دیا گیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کیلئے پولیس افسران سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔

    کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر کراچی میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن متوقع ہے اور اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن گزشتہ سال کی طرز کا ہوسکتا ہے۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ اب تک 24 پولیس اہلکار کورونا وائرس کا شکار ہو کر شہید ہو چکے ہیں، حکومتِ سندھ نے کورونا ڈیوٹیز کے دوران شہید ہونے والوں کیلئے 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا تاہم تاحال کسی بھی پولیس اہلکار کو یہ امدادی رقم نہیں مل سکی ہے۔

    ذرائع کے مطابق شہر میں سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ آج یا کل ہوسکتا ہے اور اطلاق بھی جلد ممکن ہے۔

  • اسرائیل نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ،بلاول بھی بول پڑے

    اسرائیل نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ،بلاول بھی بول پڑے

    اسرائیل نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ،بلاول بھی بول پڑے
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد مسجد اقصی پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود مسجد اقصی پر دستی بموں سے حملے کرکے اپنی بدنیتی واضح کرچکا ہے اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد اقصی کے تقدس کو پامال کرکے اسرائیل نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے،

    میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کا جشن منانے والے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کرکے مہذب دنیا کے منہ پر طمانچہ مارا ہے، جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز نے پیش قدمی کرکے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑادیں ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام عالم نیتن یاہو سے جواب طلب کریں کہ اسرائیلی جارحیت میں اب تک شہید ہونے والے 66 بچوں اور 39 عورتوں کا کیا قصور تھا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ حالیہ اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں اب تک 243 فلسطینیوں کی شہادت اور دوہزار افراد کا زخمی ہونا انسانی المیہ ہے جبکہ مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ اقوام متحدہ کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پوری دنیا میں فلسطین کا مقدمہ لڑا جبکہ مظلوم فلسطینیوں کی آواز بن کر شہید بے نظیر بھٹو نے جرات مندانہ کردار ادا کیا،

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ کی طرح فلسطین کے مظلوم انسانوں کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنے عہد کو نبھارہی ہے-

  • اسرائیل عالمی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے پنجرے سے آزاد درندہ بن چکا ہے

    اسرائیل عالمی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے پنجرے سے آزاد درندہ بن چکا ہے

    جگر گوشہ امیر المجاہدین علامہ حافظ انس حسین رضوی کی اچانک کراچی آمد، لبیک بیت المقدس مارچ کی قیادت کی

    اسرائیل عالمی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے پنجرے سے آزاد درندہ بن چکا ہے مکمل سر کچلنا ہوگا، علامہ انس حسین رضوی
    فلسطینی مسلمان نہتے ہونے کے باوجود قبلہ اول کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہیں،علامہ انس رضوی

    کراچی: تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر اہتمام بعد از نماز جمعہ لبیک بیت المقدس مارچ کا انعقاد میرٹھ کباب سے کیا گیا،
    یہ مارچ تبت سینٹر سے پاسپورٹ آفس اور وہاں سے ہوتا ہوا کراچی پریس کلب پر اختتام پذیر ہوا، مارچ کا ابھی آغاز ہونے والا تھا کہ اچانک اعلان کیا گیا کہ قیادت علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے شہزادے علامہ انس حسین رضوی کرینگے، اس سے شرکاء مارچ کا جوش و خروش دیدنی تھا،
    مارچ کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے علامہ انس حسین رضوی نے کہا کہ اسرائیل کو مذمت کی نہیں مرمت کی ضرورت ہے، یہودی دہشتگرد مرمت کے بغیر ماننے والے نہیں،انہوں نے کہا فلسطین اسرائیل مسئلے کا دو ریاستی حل کا فارمولہ دہائیوں سے قربانیاں دینے والےفلسطینیوں کے ساتھ نا انصافی ہے،
    اسرائیل ناجائز طور پر قابض ہوا اور قبضے کی جگہوں کو واگزار کروانا ضروری ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام "امن پسند” دنیا کے چہرے پر بد نما داغ ہے، دنیا کے امن کی تسبیح پڑھنے والوں کو مسلمانوں کا بہتا ہوا خون کیوں نظر نہیں آتا؟؟ انہوں نے کہا اسرائیل عالمی طاقتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے پنجرے سے آزاد درندہ بن چکا ہے مکمل سر کچلنا ہوگا اس کے سوا اسکا کوئی حل نہیں، وقتی جنگ بندی کو اسلامی دنیا اپنی فتح قرار دے کر اپنا ضمیر مطمئن کرنے کی کوشش نہ کرے بلکہ ان یہودی دہشتگردوں سے کم از کم حالیہ واقعات کا ہی حساب لیا جائے جسمیں سیکنڑوں مسلمان آدمی ، عورتیں اور بچے شہید ہوئے ، 2 ہفتوں میں غزہ کو کھنڈرات کا ڈھیر بنا دیا گیا اور بنیادی انفراسٹر کچر کو بری طرح تباہ کردیا گیا۔عورتوں ، بچوں ، ہسپتالوں ، ڈاکٹروں اور صحافیوں پر حملوں کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی بتاتی ہے کہ انسانی حقوق کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں، اب دنیا کو علامہ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کا نظریہ سمجھ آرہا ہوگا "اسلام غیرت کا درس دیتا ہے”،
    مارچ سے رکن شوری مفتی عمیر الازہری ، رکن شوری علامہ فاروق الحسن، مفتی مبارک عباسی، مفتی قاسم فخری، صوفی یحیی قادری ودیگر نے بھی خطاب کیا،
    طویل روٹ ہونے کے باوجود ابتداء سے انتہا تک بڑی تعداد میں لوگ ریلی میں موجود رہے جو مسلسل لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لبیک بیت المقدس اور لبیک یا اقصی کے نعرے لگارہے تھے.