Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی سمیت سندھ بھر میں کرونا وائرس کی سختیاں برقرار رہیں گی

    کراچی سمیت سندھ بھر میں کرونا وائرس کی سختیاں برقرار رہیں گی

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کرونا وائرس سختیاں برقرار رہیں گی۔

    جمعرات کو وزیر صحت سندھ ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو نےسندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمیں کرونا وائرس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو ملک کی 80 فیصد عوام کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانا ہوگی۔

    وزیر صحت نے کہا کہ غلط افواہیں آتی رہتی ہیں اور بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔اس وقت ہسپتالوں میں لوگ آرہے ہیں اور بستر بھر رہے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سندھ میں زیادہ کیسز آ رہے ہیں اور کراچی میں کیسز کی تعداد 11 فیصد ہے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ پورے ملک میں کیسز 3 سے 4 فیصد ہوگئے ہیں لیکن سندھ اب تک کرونا کیسز میں کمی نہیں آئی ہے کیوں کہ بہت سارے لوگ احتیاط نہیں کر رہے ہیں۔

    انھوں نے واضح کردیا کہ بندشوں پر بزنس کمیونٹی احتجاج کر رہی ہے لیکن عوام کے بھلائی کے لئے یہ اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ان میں کمی تب لائیں گے جب لوگ ویکسین لگوانا شروع کرینگے۔

    اس لئے ہر شعبے میں ویکسینیشن کروانا ہوگی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ویکسینیشن کو آگے بڑھنا چاہئے تاکہ لوگوں کا اعتماد بڑھے۔

    عذرا پیچوہو نے یہ بھی بتایا کہ وباء کے پھیلاؤ سے نظام صحت بری طرح متاثر ہے۔ اس وباء کی وجہ سے ہم کسی خوشی اور غم میں شریک نہیں ہوسکتے۔ ماسک لگا کر رکھنے سے ہم ایک دوسرے کی شکلیں بھول چکے ہیں۔ ماسک سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو ویکسینیشن کروائیں۔

    وزیر صحت نے کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کے ساتھ فیصلے کئے تھے اور اس پر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہئے۔ 6 بجے تک دکانیں کھلی ہیں اور دکانیں بند نہیں کی ہیں۔

    تاجروں کو مشورہ ہے کہ سویرے کاروبار کھولیں۔ کراچی کا معاشی قتل ہونا غلط ہے۔ اگرہماری مدد عوام نہیں کرے گی تو مزید سختیاں کرنا پڑیں گی۔ عوام کو خوش رکھنے کے فیصلے سے کام نہیں ہوسکتا.

  • آئی بی اے کراچی نے ڈویلپمنٹ اسٹڈیزمیں 2 سالہ ماسٹر آف سائنس پروگرام کا آغاز کردیا

    آئی بی اے کراچی نے ڈویلپمنٹ اسٹڈیزمیں 2 سالہ ماسٹر آف سائنس پروگرام کا آغاز کردیا

    آئی بی اے کراچی نے ڈویلپمنٹ اسٹڈیزمیں 2 سالہ ماسٹر آف سائنس پروگرام کا آغاز کردیا

    آئی بی اے کراچی نے راوں سال فال 2021 سمیسٹر کے داخلوں کے لئے 2 سالہ ماسٹر آف سائنس ڈویلپمنٹ اسٹڈیز پروگرام کااجراء کردیا جو مجموعی طور پر 30 کریڈٹ آورز پر مشتمل ہوگا۔
    یہ پروگرام، اسکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سائنسز کے زیر اہتمام ڈیزائن کیا گیا ہے اور محکمہ معاشیات اور محکمہ سوشل سائنسز اور لبرل آرٹس کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔یہ کثیر الانضباطی پروگرام ترقی کے نظریہ اور طریقوں کے تنقیدی موضوعات کی کھوج کریگا ہے اور معاشروں کے ارتقا میں ترقیاتی عمل کومتعارف کرائے گا۔
    ایم ایس ڈویلپمنٹ اسٹڈیز اعلیٰ معیاری تعلیم کی فراہمی اور طلباء کی تربیتی عمل میں معاونت کے ساتھ ترقی سے منسلک طریقہ کار اور پالیسی سے آگہی فراہم کریگایہ پروگرام کثیر الشعبہ معاشرتی سائنس کے ارتقائی نظریے، مقداری طریقوں اور معاشرتی نشوونما کے مختلف شعبوں میں کام آنے والی ایپلی کیشنز کی بنیاد ڈالنے میں بھی مدد دیگا۔
    ڈین، اسکول آف اکنامکس اینڈ سوشل سائنسز، ڈاکٹر اسماء حیدر نے پروگرام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پروگرام طلباء کو ترقیاتی نظریہ اور عمل کے اہم موضوعات کی کھوج اور تاریخی تناظر کو حالیہ پیشرفتوں سے جوڑنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ہمارہ مقصد طلبعلموں کی تربیت کے ذریعے انہیں بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ مستقبل میں مقامی برادریوں کے لئے تبدیلی اور مثبت بدلاو کا باعث بن سکیں۔

    پروگرام کے اجراء کے موقع پر آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے کہا، ”ترقیاتی مطالعات ایک ایسی پالیسی بحث ہے جس میں معاشرے کی تاریخ، ماحولیات، ثقافت، ٹیکنالوجی اور سیاست کے لحاظ سے غور کیا جاتا ہے۔ ان عوامل سے پیدا ہونے والے اختلافات کی آگہی سے معاشرتی نشوونما اور طریقوں کی حکمت عملیوں کومرتب کرنا اس پروگرام کے مقاصد میں شامل ہے جس کی تکمیل کے لئے عمدہ فیکلٹی اورجدید انفراسٹرکچر کوبروئے کار لیا جائے گا۔ ڈاکٹر زیدی نے روشنی ڈالی کہ آنے والے دنوں میں یہ پروگرام دوسری یونیورسٹیوں کے لئے ایک نیا معیار قائم کرے گا۔
    اس پروگرام سے فارغ التحصیل افراد تحقیقی اداروں، سرکاری شعبوں، ترقیاتی ایجنسیوں، بین الاقوامی تنظیموں، اور پالیسی سے متعلق تھنک ٹینکوں میں اپنے کیریئر کا انتخاب کرپائیں گے۔
    ڈویلپمنٹ اسٹڈیز پروگرام کے اضافے کے ساتھ، آئی بی اے کراچی 6 انڈرگریجویٹ اور 3 پوسٹ گریجویٹ پروگراموں کےساتھ ساتھ10 گریجویٹ پروگرام میں داخلہ فراہم کر رہا ہے۔

  • لوڈشیڈنگ سے نجات ، وفاقی حکومت کا کراچی کے شہریوں کیلئے بڑا اعلان

    لوڈشیڈنگ سے نجات ، وفاقی حکومت کا کراچی کے شہریوں کیلئے بڑا اعلان

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہریوں کی لوڈشیڈنگ سے نجات کیلئےمزید 200میگاواٹ بڑھادی گئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کراچی الیکٹرک کو پہلے 350میگا واٹ اضافی بجلی فراہم کی جا رہی تھی، اب کراچی کے شہریوں کی لوڈشیڈنگ سے نجات کیلئےمزید 200میگاواٹ بڑھادی گئی ہے۔

    گذشتہ روز وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی شہر ‏میں جاری طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے پر وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد ‏اظہر سےاسلام آباد میں ملاقات کی تھی ۔

    رنر سندھ نے کہا کہ کے ای کراچی کو بلا تعطل بجلی فراہمی کو یقینی بنائے، کے الیکٹرک کو ‏وارننگ بھی جاری کی گئی ہے کہ کراچی کے لوگ اگر بجلی کے حوالے سے مزید تنگ اور پریشان ‏ہوئے تو وفاق اس معاملہ میں انتہائی اقدامات کر سکتا ہے۔

    گورنر سندھ نے بیان میں بتایا کہ وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد ‏اظہر کی جانب سے کے الیکٹرک کو مزید 400 میگا واٹ اضافی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ‏ہے۔

    گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو اگلے دس دن تک بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے معاملات کو درست کرنے ‏کے لئے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں

  • کراچی میں ایک اور نومولود بچی کی نعش ملنے پر خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپا کااظہار تشویش۔

    کراچی میں ایک اور نومولود بچی کی نعش ملنے پر خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپا کااظہار تشویش۔

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نہ کریں،چھیپا کے جھولے میں ڈالیں،بے اولادوں کی گود بھریں، خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپاکی اپیل۔

    آج کراچی میں ایک اور نومولود بچی کی نعش ملنے پر خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپا کااظہار تشویش۔

    منگھوپیرنہرمیں سے ایک اور نومولود بچی کی نعش ملنا انسانیت سوز فعل ہے،خداکے واسطے، معصوم بچوں کوقتل نہ کریں، نالے اور کچرا کنڈیوں میں پھینک کرانہیں خونخوار درندوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔نومولودبچوں کوکچرا کنڈی اور نالوں میں پھینکنے کے بجائے، انہیں چھیپا سینٹرز پر نصب چھیپا جْھولے میں ڈال دیں،

  • پولیس کی حراست میں ملزم جاں بحق

    پولیس کی حراست میں ملزم جاں بحق

    کراچی کے علاقہ کلاکوٹ سے گرفتارملزم پولیس کسٹڈی میں مبینہ طورپرجاں بحق ہوگیا،ملزم کوعدالت میں پیشی کے بعد جیل منتقل کیا جارہا تھا کہ طبیعت بگڑگئی۔

    تفصیلات کے مطابق کلاکوٹ سے گرفتارملزم علی رضا پولیس کی حراست میں جاں بحق ہوگیا، جیل منتقلی کے دوران ملزم کی طبیعت خراب ہو گئی، جس پر ملزم کو فورا ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی ملزم انتقال کر گیا۔

    بتایا جاتا ہے کہ ملزم نشے کا عادی تھا،ملزم کومنشیات کے کیس میں گرفتارکیا گیا تھا۔ ملزم کی لاش سرد خانے منتقل کردی گئی ہے اورپوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کی جائے گی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وجہ موت جاننے کے لیے مجسٹریٹ کی زیرنگرانی پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

  • عزیزآباد پولیس کی کاروائی،2 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

    عزیزآباد پولیس کی کاروائی،2 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

    عزیز آباد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی واردات ناکام بنادی، کارروائی میں 2 اسٹریٹ کرمنلز کو چھینی ہوئی نقد رقم چھینے ہوئے موبائل موبائل فونز و موٹر سائیکلوں سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

    ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ ایمونیشن بھی برآمد ہوا۔تین موٹر سائیکل پر سوار 5 مسلح ملزمان نے عزیز آباد نمبر2 کے قریب واردات کی.

    ملزمان شہری سے اسلحے کے زور پر نقد رقم، موبائیل فون چھین کر فرار ہوۓ تھے۔ گشت پر مامور تھانہ عزیز آباد کی پولیس موبائل نے تعاقب کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا۔

    ملزمان کی شناخت غلام عباس اور اشرف کے نام سے ہوئی۔ گرفتار ملزمان نے دوران انٹروگیشن ڈسٹرکٹ ویسٹ اور سینٹرل کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا

  • سندھ حکومت نے شادی ہال مالکان کا بڑی خوشخبری سنادی

    سندھ حکومت نے شادی ہال مالکان کا بڑی خوشخبری سنادی

    رات گئے پاکستان کیٹرز ڈیکوریٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیربلدیات سندھ ناصر شاہ سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ شادی ہالز بند ش سے کئی افراد بے روزگارہوگئے، جس کے باعث ہزاروں افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

    اس موقع پر ناصر حسین شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شادی ہالز کی بندش کا سخت فیصلہ مجبوری میں کیاتھے، حکومت سندھ کو آپ کی تکالیف کا احساس ہے۔

    ملاقات میں چیئرمین بینکوئٹ ہال ایسوسی ایشن نے صوبائی وزیر سے مطالبہ کیا کہ شادی ہالزکو ایس او پیز کےساتھ کھولنےکی اجازت دی جائے، جس پر ناصر حسین شاہ نے چھ جون سےشادی ہال کھولنےکی یقین دہانی کرائی۔

    گذشتہ روز ہی صدر آل سٹی تاجراتحاد حمادپونا والا کی سربراہی میں وفد نے صوبائی وزیر ناصر شاہ سے ملاقات کی اور سندھ حکومت سے کاروباری اوقات کار شام چھ کے بجائے رات آٹھ بجےتک کرنے کی اپیل کی، ملاقات میں حمادپونا والا نےمطالبہ کیا کہ سیل کیے گئے شاپنگ مالز، دکانوں،شادی ہالز کو بھی ڈی سیل کیاجائے۔

    دوسری جانب کراچی ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے ریسٹورنٹس بندش اور ملازمین کی گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کیا، ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران انتظامیہ اور پولیس کا رویہ انتہائی غیرمہذب ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ سیل کئے گئے ریسٹورنٹس کھولے جائیں اور گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہاکیا جائے۔

    ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن سندھ حکومت سےڈائننگ کی اجازت دینےکا مطالبہ کیا۔

  • اسٹریٹ کرائم،7ملزمان گرفتار، قبرستان سے موٹرسائیکلیں مل گئیں

    اسٹریٹ کرائم،7ملزمان گرفتار، قبرستان سے موٹرسائیکلیں مل گئیں

    شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کم نہ ہوسکیں اور رواں سال کے آغاز سے اب تک وارداتوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موٹرسائیکل لفٹنگ، منشیات فروشی اور دیگر جرائم سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی۔

    کراچی کے علاقے شیرشاہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائیاں کرکے7ملزمان کو گرفتار کرلیا، مذکورہ ملزمان اسٹریٹ کرائم، موٹرسائیکل لفٹنگ اور منشیات فروشی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

    اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل لفٹرز کے قبضے سے10موٹرسائیکلیں برآمد ہوئی ہیں، ملزمان نے یہ موٹرسائیکلیں پراچہ قبرستان میں چھپائی تھیں۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے 3اسٹریٹ کرمنلز سے چھینے گئے موبائل فون جبکہ منشیات فروشی میں ملوث ملزم سے ایک کلو سے زائد چرس برآمد ہوئی ہے، ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال کی اسٹریٹ کرائمز میں اس سال اب تک کراچی کے شہری 41کروڑ سے زائد مالیت کی اشیاء سے محروم کردیے گئے، یعنی صرف 14 ماہ میں پونے تین ارب روپے سے زائد کی اشیاء سےشہری محروم ہوئے۔

    کراچی میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ کا عفریت تھما تو اسٹریٹ کرائم جیسے قابو سے ہی باہر ہو گیا اور متفقہ طور پر شہر کا سب سے بڑا چیلنج اس وقت اسٹریٹ کرائم ہے۔

    گزشتہ سال 194گاڑیاں چھینی گئیں اور 1527چوری ہوئیں، چھینی گئی گاڑی کی کم سے کم قیمت 10لاکھ اور چوری کی گئی گاڑی کی اگر 3لاکھ تصور کر لی جائے تو صرف اس مد میں 67کروڑ 20 لاکھ سے زائد روپوں سے شہریوں کو محروم کردیا گیا۔

  • کورونا لاک ڈاؤن کے باعث سکھر میں درجنوں اسکولز مستقل طور پر بند کر دیے گئے۔

    کورونا لاک ڈاؤن کے باعث سکھر میں درجنوں اسکولز مستقل طور پر بند کر دیے گئے۔

    کورونا لاک ڈاؤن کے باعث سکھر میں درجنوں اسکولز مستقل طور پر بند کر دیے گئے۔

    سکھر میں کورونا وائرس کے باعث مسلسل تدریسی عمل معطل رہنے اور فیسوں کی عدم ادائیگی پرگلی محلوں کے 50 سے زائد اسکولز مالی اخراجات کا بوجھ برداشت نا کرسکے جس کے باعث پریشان حال مالکان نے مجبوراً اپنے اسکولز مکمل طور پر بند کردیے۔

    چیئرمین آل پاکستان پرائیویٹ اسکول ایکشن کمیٹی بشیر چناکا جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کم از کم 50 سے 100 کے درمیان اسکولز ایسے ہیں جو بند ہوچکے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ان اسکولوں کے جو اساتذہ بیروزگار ہوئے وہ الگ ہیں جب کہ ان کے ساتھ جڑے بہت سے کاروبار بھی بند ہوگئے ہیں۔

    آل پاکستان پرائیویٹ اسکول ایکشن کمیٹی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نئے آنے والے بجٹ میں پرائیوٹ اسکولز کے 25 فیصد طلبا کو اسکالر شپ دینے کا اعلان کرے تاکہ غریب طلباء تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکیں۔

  • سندھ میں کورونا ویکسین نہ لگوانے والے سرکاری ملازم کی تنخواہ روکنے کا حکم

    سندھ میں کورونا ویکسین نہ لگوانے والے سرکاری ملازم کی تنخواہ روکنے کا حکم

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ جو سرکاری ملازم کورونا کی ویکسین نہ لگائے اس کی تنخواہ روک لی جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ک سربراہی میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔ جس میں صوبے میں کورونا کی صورت حال اور دیگر امور تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی کی اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ 27 مئی سے 2 جون تک باہر سے آنے والے 26812 مسافروں کے ٹیسٹ کیے گئے.

    جن میں سے 55 کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے، 29 مئی کو 4 مسافروں میں کورونا کی انڈین قسم کی تشخیص ہوئی.

    چاروں کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، یہ مریض جن 14 لوگوں سے رابطے میں آئے ان کے بھی ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ گزشتہ 30 روز میں سندھ میں 392 اموات ہوئی ہیں، 392 اموات میں سے 238 وینٹی لیٹرز پر تھے، 73 افراد کا ان کے گھروں میں انتقال ہوا.

    اس وقت 77 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں جن میں سے 74 کراچی میں ہیں۔ 27 مئی سے 2 جون تک کراچی شرقی میں 21 فیصد نئے کیسز اور 20 اموات ہوئیں.

    کراچی وسطی میں 12 فیصد کیسز اور 15 اموات ہوئیں، کراچی جنوبی میں 9 فیصد، کراچی غربی میں 8 فیصد اور 7 اموات ہوئیں، 27 مئی سے 2 جون تک کراچی شرقی میں 21 فیصد نئے کیسز اور 20 اموات ہوئیں۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 2 جون کو 57541 کو ویکسین لگائی گئیں، ابھی تک سندھ میں کوویڈ ویکسین کے 15 لاکھ 50 ہزار 553 ڈوز لگائی جاچکی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ جو سرکاری ملازم ویکسین نہیں لگوائے گا اس کی جولائی سے تنخواہ بند کی جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے اپیل کی کہ شناختی کارڈ لے کر ویکسینیشن سینٹرز پر ویکسین لگوائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے بھر کے 300 بنیادی صحت مراکز کو ویکسینیشن سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دے دی.

    بنیادی صحت مراکز میں روزانہ 30000 ڈوز، موبائل ویکسینیشن ٹیم کو یومیہ 60000 جب کہ 90 نجی اسپتالوں کو روزانہ 10000 ڈوز لگانے کا ٹارگٹ دے دیا گیا۔