Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں کورونا جلسے،جلوسوں، الیکشنوں کے دوران چھٹی پر ہوتا ہے،صرف شادی ہالز اور اسکولوں میں پایا جاتا ہے

    کراچی میں کورونا جلسے،جلوسوں، الیکشنوں کے دوران چھٹی پر ہوتا ہے،صرف شادی ہالز اور اسکولوں میں پایا جاتا ہے

    پاکستان عوامی تحریک کے قائدین ماہرین تعلیم محمد الیاس مغل،راؤ محمد طیب،راؤ اشتیاق احمد نے وزراء تعلیم کی کانفرنس کے مضحکہ خیز علامیئے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب نا اہل لوگوں کو تعلیم کے وزیر بنایا جائے گا تو اسی طرح کے فیصلے آئیں گے۔وفاقی اورصوبائی وزرا تعلیم کا آئے روز امتحانوں کی تاریخوں میں تبدیلی سے جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

    وزراتعلیم خود کنفیوز ہیں انہیں سمجھ نہیں آرہی وہ کیا کریں تعلیم کو مذاق بنا رکھا ہے۔ملک میں کاروبار کھلے ہیں۔مارکیٹوں میں پبلک رش ہے صرف تعلیمی اداروں میں حکمرانوں کو کورونا نظر آتا ہے۔ان قائدین نے کہا جان بوجھ کر تعلیمی اداروں اور شادی ہالز کو بند کیا گیا ہے جسکی وجہ سے پرائیوٹ اسکولز اور شادی ہالز سے وابستہ لوگوں کے گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں۔ان قائدین نےکہا کورونا جلسے،جلوسوں، الیکشنوں کے دوران چھٹی پر ہوتا ہے اور وہ صرف شادی ہالز اور اسکولوں میں پایا جاتا ہےحکمرانوں کی ناکام پالیسیاں عوام اور تعلیم دشمن ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی نا اہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کورونا کو دوسال ہونے کو ہیں مگر انہوں نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی سوائے اجلاسوں کے اور قوم کے بچوں کو کنفیوز کرنے کے کوئی کام نہیں ہوا جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ان قائدین نےکہا حکمران بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلیں بلکہ فی الفور تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔

  • کراچی چیمبر کی مداخلت پر 6 روز سے بند بازار فیصل ڈی سیل،تاجروں کا دھرناواحتجاج

    کراچی چیمبر کی مداخلت پر 6 روز سے بند بازار فیصل ڈی سیل،تاجروں کا دھرناواحتجاج

    چیمبر کی مداخلت پر 6 روز سے بند بازار فیصل ڈی سیل تاجروں کا دھرناواحتجاج
    موتی والا اور مجید میمن کے مشکور ہیں ظلم و زیادتیوں کیخلاف 3 جون کو دھرنا ہوگامحمود حامد
    کراچی ال پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد نے چھہ روز سے بند بازار فیصل اور عدیل سنٹر کریم آباد کو ڈی سیل کروانے پر بی ایم جی گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا کراچی چیمبر کے صدر شارق وھرہ اسمال ٹریڈرزکمیٹی کے چیئرمین مجید میمن اور تنویر باری کا شکریہ ادا کیا ہے واضح رہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی بنیاد پر بازار فیصل کریم آباد اور عدیل سینٹر کو اے سی ڈسٹرکٹ سنٹرل نے چھ روز قبل سیل کر دیا تھا اور تاجروں کی کوششوں کے باوجود اسے ڈی سی نہیں کیا گیا اور تاجروں سے بھاری رقمیں طلب کی جا رہی تھی نیز انہیں مجبور کیا جا رہا تھا کہ وہ ای پورٹل ٹیکس کی فوری ادائیگی کریں آج متاثرہ تاجروں نے کراچی چیمبر آف کامرس سے رابطہ کیا تو چیمبر کی قیادت نے ڈی سی سینٹرل سے رابطہ کیا اور ڈسٹرکٹ سینٹرل کے تاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اس دوران بازار فیصل اور عدیل سنٹر کے مشتعل تاجر سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے کریم آباد پر شاہراہِ پاکستان کو بلاک کردیا جس کی اطلاع پر اسمال ٹریڈرز کراچی کے صدر محمود حامد، محمد اختر، کاشف احمد، محمد اکبر اور دیگر تاجر راہنماؤں نے جا کر امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کیا اور تاجروں کو چھہ روز سے بند مارکیٹ کو کھلوانے کی یقین دھانی کرائی کراچی چیمبر کی کوششوں کے نتیجے میں شام پانچ بجے ڈی سی سینٹرل نے باذار فیصل اور عدیل سینٹر کو ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے اس موقع پر اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامد نے متاثرہ تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ چیمبر نے تاجروں کی نمائندگی کا حق اداکر دیا انہوں نے کراچی میں میں تاجروں کے ساتھ ظالمانہ رویے کی بھرپور مذمت کی اور سوال کیا کہ ملک کے خزانے میں 70 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے تاجروں کے ساتھ یہ ظلم کیوں روا رکھا جارہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کی رشوت ستانی جرمانے بند کیے جائیں ھفتہ میں دو دن کی تعطیل کا خاتمہ کیا جائے اور کاروباری اوقات رات 10 بجے تک بڑھائے جائیں محمود حامد نے کہا کہ جب پورے ملک میں کاروباری اوقات بڑھا دیئے گئے ہیں اور کرونا وبا کے کیسز میں واضح کمی آئی ہے تو پھر کراچی کی تجارت اور معیشت کو کیوں تباہ کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر اس ظلم و زیادتی کے خلاف اور اپنے روزگار کو بچانے کے لئے 3 جون کو تین بجے ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی دھرنا دینگے اسمال ٹریڈرز کے صدر نے تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ اس دھرنے میں بھرپور شرکت کریں۔

  • بجٹ میں کم آمدنی والا طبقہ عمران خان کے نشانے پر ہے

    بجٹ میں کم آمدنی والا طبقہ عمران خان کے نشانے پر ہے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بجٹ 2021 میں کم آمدنی والا طبقہ عمران خان کے نشانے پر ہے.

    پی ٹی آئی حکومت بجٹ میں بھاری ٹیکس لگا کر معمولی تنخواہیں وصول کرنے والوں پر معاشی بوجھ ڈالنا چاہتی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بجٹ میں عام آدمی کو معاشی طور پر کچلنے کی سازش کو ناکام بنائے گی، ایس پی آئی انڈکس کے تحت ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح 20 فیصد تک کی بلندی کو چھورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر بدترین مہنگائی کے دور میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں جکڑدیا گیا تو اس سے بڑا کوئی اور ظلم نہیں ہوگا، عمران خان امیروں کو ایمنسٹی اسکیمیں دے کر اور غریبوں سے ٹیکس وصول کرکے اپنی عوام دشمنی ثابت کر رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مہنگائی سے پریشان عام آدمی پر پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ میں اربوں روپے کے ٹیکس لگانے کی منصوبہ بندی کو مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت جس رفتار سے معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے، اس سے دگنی رفتار سے ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے.

    آئی ایم ایف کے ملازموں سے بجٹ تیار کرانے والے عمران خان بتائیں کہ ان کی معاشی ٹیم کہاں گئی۔

    پی پی چیئرمین نے کہا کہ چوتھا بجٹ پیش کرنے سے پہلے عمران خان تیسرا وزیر خزانہ اور پانچواں سیکریٹری تجارت لے آئے مگر وزیراعظم کی معاشی ٹیم کہیں نظر نہیں آئی۔

    پی ٹی آئی حکومت نے بجٹ سے چند دنوں قبل پہلے محکمہ خزانہ کے سیکریٹری کو بدلا اور پھر معاشی تباہی کو جعلی معاشی ترقی میں تبدیل کر دیا۔

    اعدادوشمار کا ہیر پھیر کرکے عمران خان اپنے مداحوں سے واہ واہ سمیٹ سکتے ہیں مگر عوام وزیراعظم کے معاشی خوش حالی کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، ایک کے بعد ایک ملکی تاریخ کے ناکام ترین بجٹ پیش کرنے والی پی ٹی آئی حکومت کے معاشی جرائم کبھی معاف نہیں کئے جائیں گے۔ایس پی آئی انڈکس کے تحت ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح 20 فیصد تک کی بلندی کو چھورہی ہے۔

  • پولیس نے موٹر سائیکل چور 14 سال کے 2 ملزمان گرفتار کر لیے

    پولیس نے موٹر سائیکل چور 14 سال کے 2 ملزمان گرفتار کر لیے

    پولیس نے دوکم سن موٹرسائیکل لفٹرز کو پکڑلیا، جن کی عمریں چودہ سال اور آٹھویں جماعت کےطالب علم ہیں، دونوں بچوں کوسی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سےگرفتارکیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں موٹرسائیکل چوری بچوں کا کھیل بن گیا ، فیروزآباد پولیس نے دو ننھے موٹرسائیکل لفٹرز کو دھرلیا ، حراست میں لینے والے پولیس عملے نے بچوں کی عمر دیکھ کرسرپکڑ لیا۔

    ایک بچہ دھوراجی دوسرا بہادرآباد چار مینار کے قریب سےحراست میں لیاگیا ، دونوں بچے کراچی کے معروف نجی اسکول میں پڑھتے ہیں ، زیرحراست عبدالرافع اپنے اسکول کا ہیڈ بوائے بھی ہے۔

    عبدالرافع کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حراست میں لیا گیا ، فوٹیج میں بچے کو مہارت سے موٹر سائیکل چراتے دیکھا گیا ہے۔

    گرفتاری کے بعد بچوں کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے، دونوں بچوں کی عمر 13 سال اور 7ویں جماعت کے طالبعلم ہیں ، بچے بہادرآباد اور دھوراجی سے 6،5چھ موٹرسائیکلیں چوری کر چکے ہیں۔

    بچوں کی نشاندہی پر پولیس نے 2 موٹرسائیکلیں برآمد کرلی ، دونوں موٹرسائیکلوں کی چوری کے مقدمات درج تھے ، عبدالرافع موٹرسائیکل چوری کرتا سدیف جی بھر کر چلاتا تھا ، دونوں بچے موٹرسائیکل استعمال کے بعد چھوڑ دیتے تھے۔

    بعد ازاں پولیس نے والدین کو طلب کرلیا اور اعلیٰ حکام سے مشاورت کے بعد بچوں کےمستقبل کے لیےایک موقع دینےکافیصلہ کیا ، فیصلہ بچوں کےوالدین اوراہل علاقہ سےملنےکےبعدکیا گیا۔

    بچوں کےاسکول اوردیگرطریقہ کارسےبھی بچوں کی ساکھ معلوم کی گئی ، جس کے بعد دونوں بچوں کوقانونی چارہ جوئی کےبعد والدین کےحوالےکردیاگیا، پولیس حکام نے کہا بچوں کےوالدین سےنظررکھنےکی ضمانت لی گئی ہے

  • کتے کاٹنے کے واقعات،کیا سب کام عدالتیں کریں؟ ججز کا متعلقہ محکموں پر اظہار برہمی

    کتے کاٹنے کے واقعات،کیا سب کام عدالتیں کریں؟ ججز کا متعلقہ محکموں پر اظہار برہمی

    سندھ ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کی بہتات اور ویکسینز کی عدم فراہمی سے متعلق کیس میں عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتے کاٹے کی اطلاع دینے والی ہیلپ لائن 109 کو تبدیل کر کے 7 ہندسوں کا نمبر کیوں رکھا گیا؟ عدالت نے پرانی ہیلپ لائن بحال کرنے کا فوری حکم دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں آوارہ کتوں کی بہتات اور ویکسینز کی عدم فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آوارہ کتوں کی ویکسی نیشن سے متعلق قانون سازی ہو رہی ہے، سندھ کابینہ نے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔

    عدالت نے ایڈیشنل سیکریٹری سے دریافت کیا کہ قوانین کی منظوری کا نوٹیفکیشن کب تک جاری ہوگا؟ عدالت نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دے دی۔

    عدالت نے کے ایم سی اور تمام ڈی ایم سیز کو قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے اور کنٹونمنٹ بورڈز میں آوارہ کتوں کی روک تھام کرنے کی ہدایت کی۔

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ بڑی مشکل سے بائی لاز بنائے گئے ہیں، اب عمل درآمد کا وقت ہے۔

    کنٹونمنٹ بورڈز کے وکلا نے کہا کہ آوارہ کتوں کو ویکیسن کے بعد ٹیگ لگایا جا رہا ہے، عدالت نے کہا کہ ڈی ایم سی ملیر میں کتوں کی بہتات ہے جس پر نمائندہ ڈی ایم سی ملیر نے کہا کہ بھینس کالونی میں کتوں کو ویکیسن لگائی جارہی ہے۔

    عدالت نے ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہیلپ لائن 109 کو 7 ہندسوں کے نمبر کرنے پر اب شہریوں کو یاد ہی نہیں رہتا، آپ نے ہیلپ لائن 109 کو تبدیل کیوں کیا؟ آپ کے خاندان میں کسی کو کتا کاٹے تو پتہ چلے گا، آپ لوگ چاہتے ہیں شہری نمبر ملا ہی نہ سکیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں بلدیات کے محکمے کو ختم کردیتے ہیں، آپ چاہتے ہیں سب کام عدالتیں کریں۔ جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیے کہ نمبر تبدیل کرنے کا مقصد لوگوں کو صرف اور صرف تنگ کرنا ہے۔

    عدالت نے ہیلپ لائن نمبر 109 فوری بحال کرنے کا حکم دے دی اور کہا کہ ہیلپ لائن 109 کی بحالی کے لیے اخبارات میں اشتہارات دیے جائیں۔

    عدالت نے سیکریٹری بلدیات سے عمل درآمد کی رپورٹ بھی طلب کرلی، کنٹونمنٹ بورڈز اور ڈی ایم سیز سے بھی رپورٹ طلب کر کے کیس کی مزید سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

  • کراچی پولیس نے شہریوں کے مقدمات درج کرنے روک دیے

    کراچی پولیس نے شہریوں کے مقدمات درج کرنے روک دیے

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے شہریوں کے لیے بری خبر، کراچی پولیس نے از خود مقدموں کا اندراج روک دیا جس کے بعد سائلین مقدمہ درج کروانے کے لیے دھکے کھانے پر مجبور ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس کے افسران اور تھانیداروں نے از خود مقدموں کا اندراج روک دیا، شہریوں کو ایک بار پھر مقدمہ درج کروانے کے لیے دھکے کھانا پڑیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران نے سابقہ ایڈیشنل آئی جی کے احکامات پر عملدر آمد روک دیا، نئے ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے مقدمہ اندراج پر ہدایت نہیں دی گئی۔ افسران کا کہنا ہے کہ ہدایت نہ ملنے کو مقدمات کے اندراج کو روکنا سمجھا گیا۔

    سابقہ ایڈیشنل آئی جی نے کرائم رجسٹریشن فری پالیسی نافذ کی ہوئی تھی، سابق ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے مقدمہ فوری درج کرنے کے احکامات تھے۔ سابق ایڈیشنل آئی جی غلام نبی کے دور میں سب سے زیادہ مقدمات درج ہوئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس مقدمات کا اندراج روک کر کارکردگی میں بہتری کا تاثر قائم کرنا چاہتی ہے تاہم ان کی وجہ سے سائلین مقدمے کے اندراج کی درخواست دینے تک کے لیے خوار ہونے پر مجبور ہیں۔

  • کراچی:ضلع وسطی کے چار مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ

    کراچی:ضلع وسطی کے چار مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ

    کراچی:ضلع وسطی کے چار مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ، نوٹیفیکیشن جاری

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گلبرگ،نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور نارتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے-

    نوٹیفیکیشن کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 15 جون تک اسمارٹ لاک ڈاون کا نفاذ رہے گا متاثرہ علاقوں میں آنے اور جانے والے تمام افراد کو ماسک پہننا لازمی قرار ،اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی ہوگی-

    نوٹیفیکیشن میں مزید ہدایت کی گئی کہ علاقے میں تمام کاروباری سرگرمیاں مکمل کورونا ایس او پیز کے مطابق ہوں گی اور متاثرہ علاقوں میں فیملی اجتماع پر پابندی ہوگی-

    نوٹیفیکیشن کے مطابق متاثرہ علاقوں کے کورونا مثبت افراد اپنے گھروں میں قرنطینہ رہیں گے اور متاثرہ علاقوں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی-

  • ایم کیو ایم ارکان کا احتجاج، شور شرابہ، اجلاس ملتوی

    ایم کیو ایم ارکان کا احتجاج، شور شرابہ، اجلاس ملتوی

    سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔

    اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے ممبران کھڑے ہوگئے، جس کے بعد بات شور شرابے تک پہنچ گئی۔

    اجلاس کے شروع میں ایم کیو ایم رہنما محمد حسین اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی میں دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔

    ایم کیو ایم رہنما محمد حسین نے اسپیکر آغا سراج درانی سے بات کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمیں ایوان میں بات کرنے دی جائے۔

    اس پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے جواب دیا کہ ابھی وقفہ سوالات ہے، پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان کو سوال کرنے دیں۔

    محمد حسین نے جواباً کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کے لاک ڈاؤن سے متعلق تحفظات ہیں، لاک ڈاؤن کی آڑ میں لوٹ مار کی جارہی ہے۔

    اس پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہاکہ مجھے کوئی ڈکٹیٹ نہیں کراسکتا، میں آپ کو آخر میں بات کرنے کا موقع دوں گا۔

    ایم کیو ایم رہنما نے اس پر کہا کہ آپ ہماری آواز دبا رہے ہیں.

    جس پر آغا سراج درانی نے کہا کہ میں آپ کی آواز نہیں دبا رہا ہوں۔اس دوران مکیش کمار چاؤلہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب اس طرح ایوان نہیں چلے گا۔

    اسپیکر نےاپنی ڈائس کے سامنے پلے کارڈز اٹھاکر کھڑے ایم کیو ایم اراکین سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ ہاؤس چلے؟

    مکیش کمار چاؤلہ نے اس دوران کہا کہ یہ لوگ کورونا پر احتجاج کررہے ہیں اور انہوں نے ماسک تک نہیں پہنا ہوا ہے۔

    آغا سراج درانی نے ایم کیو ایم اراکین اسمبلی سے کہا کہ آپ لوگ جاکر اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔تاہم سندھ اسمبلی میں ارکان کا شور شرابہ جاری رہا ،جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعہ کو دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔

  • 72 گھنٹوں میں ہمارے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو راست اقدام اٹھائیں گے

    72 گھنٹوں میں ہمارے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو راست اقدام اٹھائیں گے

    کرونا پابندیوں سے مشکلات کا شکار کراچی کی تاجر برادری نے صوبائی حکومت کو 72 گھنٹوں کا وقت دیدیا، تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سرینا موبائل مارکیٹ کو ڈی سیل کرنے کےلیے ایک کروڑ روپے رشوت دی۔

    ان خیالات کا اظہار شہر قائد کی تاجر برادری نے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کرونا وبا کے باعث کاروبار کا طریقہ کار تبدیل ہوچکا ہے لیکن کراچی میں اب بھی کاروبار بندش کا شکار ہے۔

    تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کاروبار کے اوقات 6 بجے سے بڑھا کر 8 بجے تک مقرر کیے جائیں اور ہفتے میں دو چھٹیاں ختم کرکے صرف اتوار کی چھٹی دی جائے تاکہ نقصان کو کم کیا جاسکے۔

    تاجر رہنما جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے، اگر سندھ حکومت این سی او سی کے فیصلےکو نہیں مانتی تو تاجر برادری کراچی میں گورنر راج کا مطالبہ کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تاجر رمضان المبارک کا انتظار کرتے ہیں اور اپنی جائیدادیں گروی رکھ کر سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن حکومتی پابندیوں کے باعث تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، رمضان کے آخری عشرے میں کاروبار کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو آج چالیس لاکھ یومیہ کمانے والا طبقہ کام پر ہوتا۔

    تاجروں نے کرونا پابندیوں کے دوران پولیس گردی سے متعلق کہا کہ پولیس گردی میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ پولیس اہلکار کسی بھی دکاندار کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور ایف آئی آر کاٹ دیتے ہیں۔

    جمیل پراچہ نے بتایا کہ سرینا موبائل مارکیٹ کو ڈی سیل کرنے کےلیے ایک کروڑ روپے رشوت دی گئی، اور لاتعداد آئی فون 12 موبائل فون رشوت کی مد میں دئیے گئے، ضلع وسطی میں ٹارگیٹ کرکے رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، آج ہم نے پچاس ہزار روپے رشوت مانگی گئی ہے۔

    اس موقع پر میرج ہال ایسوسی ایشن کے خواجہ طارق نے کہا کہ میرج ہال سے منسلک افراد کا کاروبار اور روزگار تباہ ہوچکا ہے، یہ تیسری عید تھی جس میں اس کاروبار کو بند رکھا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے مزدور فاقہ کشی کا شکار ہوگئے ہیں، ہم مسائل کا ہم شکار ہیں اس پر حکومت نے آنکھیں بند رکھی ہیں۔

    شہناز شجاع نے کہا کہ مینا بازار میں خواتین کی چھوٹی مارکیٹ ہے جس میں تین سو سیلون ہیں، ہمیں ہماری ضروریات کے تحت کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے، آخر کب تک ہم اپنی جیب سے کرایہ اور تنخواہیں دیتے رہیں۔

    شہناز شجاع نے مزید کہا کہ ہمارے 45 سال پرانے کاروبار سے مڈل کلاس خواتین منسلک ہیں جن کے گھر فاقہ کشی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

  • کراچی میں لڑکے نے محبت میں ناکامی پر لڑکی کو قتل کردیا

    کراچی میں لڑکے نے محبت میں ناکامی پر لڑکی کو قتل کردیا

    قیوم آباد سی ایریا بند سے ملنے والی لڑکی کا قتل محبت میں ناکامی کا شاخسانہ نکلا۔

    پولیس نے لڑکی کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتارکرلیا جو مقتولہ کا پڑوسی ہے اور اس نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرلیا۔ اس کا ویڈیو بیان بھی سامنے آگیا۔

    پیر کو زمان ٹاؤن تھانے کےعلاقے قیوم آباد سی ایریا مسیحی قبرستان کے قریب بند سے نوجوان لڑکی کی لاش ملی تھی جسے فائرنگ کرکےقتل کیا گیا تھا۔

    رات گئے لڑکی کی شناخت 22 سالہ انیتا کنول دختر محمد اعظم کے نام سےکرلی گئی تھی جو کورنگی سیکٹر 51 بی کی رہائشی تھی۔

    پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی تھی جس کے دوران زمان ٹاؤن پولیس نے 24 گھنٹے سے قبل مقتولہ انیتا کنول کے قتل میں ملوث ملزم حسن ولد شاہ محمد کو گرفتارکرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم مقتولہ کا پڑوسی ہے جس نے انیتا کنول کو محبت میں ناکامی پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔

    گرفتار ملزم حسن نے گزشتہ روز آخری مرتبہ مقتولہ کو بلایا تھا۔ انیتا نے شاکر نامی لڑکے سے دوستی کرلی تھی۔

    گرفتار ملزم حسن نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ شاکر سے متعلق اسے اور انیتا کے گھر والوں کو بھی پتا تھا، 12 سال سے انیتا اور میں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ میں نے اسے گھر سے ملنے کیلئے بلایا اور ساتھ لے گیا۔

    حسن نے کہا کہ میں نے انیتا سے پوچھا فیصلہ کیا کرنا ہے،میرے ساتھ رہنا ہے یا جانا ہےپستول میرے ہاتھ میں تھی اور چوٹ لگنے سے میرے پیر سے خون نکل رہا تھا.

    اس نے میرے پیرسے نکلتے خون پر ٹشو رکھا تو میرا دل موم ہوگیامیں نے پستول اپنے سینے پر رکھی۔

    ملزم نے کہا کہ انیتا نے اس سے کہا تمہارے اندر اتنی ہمت نہیں اسی دوران ہماری ہاتھا پائی ہوئی اور اسے دو گولیاں لگیں، میں وہاں سے اس کا پرس لیکر بھاگا.

    ایک جگہ پستول دوسری جگہ موبائل فون پھینکاپھر ایک گھنٹے بعد میں واپس گیا اور اس کی لاش کے پاس شناختی کارڈ پھینکے۔

    ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اسے لگا اگر انیتا کی لاش ایسی ہی پڑی رہی تو اس کو کوئی نہیں پہچانے گا اسے سکون نہیں آرہا تھا،اس لیے پہچان کی خاطر اس کا شناختی کارڈ لاش کے ساتھ رکھا۔

    ملزم کا کہنا ہے کہ اسے بہت پچھتاوا ہورہا ہے اس سے بہت بڑی غلطی ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے جس کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں ۔