کراچی(2021-3-27) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کو رہا کر دیا گیا۔حلیم عادل شیخ کو سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہونے کے بعد، جناح اسپتال سے رہا کیا گیا۔رہا ہوتے وقت حلیم عادل شیخ نے کہا کہ میرے 4 کارکنان جیل میں ہے رہائی کے بعد سب سے پہلے اپنے کارکنان سے ملنے جیل جاوَں گا،حلیم عادل شیخ پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا ۔حلیم عادل شیخ ڈیڑھ ماہ سے 2 مقدمات کی وجہ سے جیل میں تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پولیس نے سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما حلیم عادل شیخ پر پی ایس 88 کے ضمنی انتخابات کے دوران ‘تشدد، فسادات، قتل اور دہشت گردی’ کی ترغیب کے الزامات لگائے۔تفتیشی افسر (آئی او) کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے انتظامی جج (اے ٹی سی) کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں مسٹر حلیم عادل شیخ، رمضان، محمود، غلام مصطفی حفیظ، عبدالحسیب، شیخ سمیر اور غلام مصطفی کو ضمنی انتخابات کے دوران مبینہ تشدد سے متعلق کیس میں ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
Category: کراچی
-

پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کو رہا کر دیا گیا
-

کراچی اسٹیل ٹاؤن سے اجرتی قاتل ساتھی سمیت گرفتار
کراچی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا جارہا ہے کراچی اسٹیل ٹاؤن سے اجرتی قاتل ساتھی سمیت گرفتار کرلیا گیا گرفتار ملزمان سے دو پستول، اسپئیر بیرل، پسٹل سپریسر اور کیش برآمد کرلی گئی۔ گرفتار ملزمان نے انگریزی فلموں سے متاثر ہوکر قتل کی وارداتیں کی۔پولیس نے انٹیلیجنس اطلاعات پر چھاپہ مار کارروائی کی۔ گرفتار ملزمان انگریزی فلموں سے متاثر تھے۔ ملزمان نے دوران انٹیروگیشن 12 روز قبل کوہاٹ کالونی، شاہ لطیف میں رمبیل عرف طور نامی شخص کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ ملزمان نے شہری کو قتل کرنے کیلئے انگریزی فلموں میں استعمال ہو نے والا طریقہ کار استعمال کرنے کا انکشاف کیا۔دونوں ملزمان کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں صداقت اللہ عرف گوپی اور عبدالصمد شامل ہیں۔ ملزمان سے برآمد اسلحہ فارنزک کیلئے روانہ کر دیا گیا۔
-

کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی پانی کی طلب بڑھنے پر پانی چور مافیا بھی سرگرم
کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی پانی کی طلب بڑھنے پر پانی چور مافیا بھی سرگرم ہوگیا ہے،شہر کے مختلف علاقوں میں پانی نہ ارا۔ پانی چور مافیا کو مبینہ طو ر پر واٹر بورڈ کے سینئر افسران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ پانی چور مافیا وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا نام لے کر اپنا گھناؤنا دھندہ چلا رہا ہے، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر ایک ماہ قبل منگھوپیر میں غیرقانونی ہائیڈرنٹ مسمار کیا گیا تھا تاہم مبینہ طور پر واٹر بورڈ کے افسران کی ملی بھگت سے یہ ہائیڈرنٹ دوبارہ کھول دیا گیا ہے جو مرکزی لائن سے پانی چوری کرکے دھڑلے سے ٹینکروں کے ذریعے فروخت کررہا ہے۔منگھوپیر میں سروے نمبر937 پلاٹ نمبر 25 بی میں غیرقانونی ہائیڈرنٹ کو وزیر بلدیات کی ہدایت پر مسمار کیا گیا تھا تاہم پھر سے یہاں مرکزی لائن سے پانی چوری کرکے فروخت کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اسی پانی چور مافیا نے کرش ہائیڈرنٹ لانڈھی پر کئی دن شہریوں کے لیے دن کے اوقات میں پانی کی فراہمی بند کی ہوئی ہے جبکہ شہریوں دن کے بجائے رات کو پانی کے ٹینکر فراہم کیے جارہے ہیں لیکن وہ شہریوں کی ضرورت پوری نہیں کرپارہے ہیں، کرش ہائیڈرینٹ پہلے 18 گھنٹے چلتا تھا جس کو اب صرف رات کے اوقات تک محدود کردیا گیا ہے، کرش ہائیڈرنٹ لانڈھی پر دن کے اوقات میں سیکڑوں شہری احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔واٹر بورڈ کے ایک افسر نے واٹس ایپ میسج کے ذریعے دن کے اوقات میں شہریوں کو واٹر ٹینکر فراہم نہ کر نے کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ اس افسر کے پاس اس کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ یہ افسر اپنے آپ کو وزیر بلد یات ناصر حسین شاہ کا رائٹ مین ظاہر کرتا ہے پانی چور مافیا ڈیفنس، کلفٹن اور کورنگی کا پانی بھی بندکر کے ایک نجی کمپنی کو پانی فر اہم کررہا ہے ان علاقوں میں 15دن سے پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہے، شہر میں پانی چور مافیا نے گرمیاں شدید ہوتے ہی پانی کی تقسیم کے نظام درہم برہم کردیا ہے اس حوالے سے وزیر بلد یات ناصر حسین شا اور ایم ڈی واٹر بورڈ سے رابط کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے فون سننے سے گریز کیا۔
-

سندھ پولیس کی کارروائی، مغوبی پولیس اہلکار بازیاب، اغواکار گرفتار
کراچی اتحاد ٹاوٗن پولیس نے مغوی پولیس اہلکار کو بازیاب کراکر ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے علاقے اتحاد ٹاوٗن میں پولیس کی جانب سے اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کی گئی جس میں مغوی پولیس افسر کو بازیاب کرالیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یاسر ارباب نامی اہلکار کو کچاروڈ اتحاد ٹاوٗن سے اغوا کیا گیا تھا، جس کی اطلاع ملتے ہی گشت پر مامور پولیس اہلکاروں نے اغوا کاروں کی گاڑی کا تعاقب کیا۔ پولیس اہلکاروں نے محمد خان کالونی میں کار کا گھیراوٗ کرکے مغوی اہلکار کو بازیاب کرایا اور کارروائی کے دوران چار اغواکاروں کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کے زیر استعمال گاڑی سے منشیات بھی برآمد ہوئی جبکہ گرفتار ملزمان میں شامل کاشف بلڈر گٹکا مافیا سرغنہ ہے۔ پولیس کے مطابق کاشف بلڈر پر پہلے ہی 9 مقدمات کا چالان ہوچکا ہے۔
-

حق دو کراچی ریلی کی تیاریاں عروج پر،حافظ نعیم کے دورے اور عوامی رابطہ مہم جاری
جماعت اسلامی کے تحت شہر قائد کے مسائل کے حل اور تین کروڑ سے زائد عوام کے جائز حقوق کے لیے اتوار 28مارچ کو 2بجے دن شاہراہ فیصل پر قائد آباد تا گورنر ہاس حق دو کراچی ریلی کے انتظامات اور تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کے دوروں اور شہر بھر میں جاری عوامی رابطہ مہم میں مزید تیزی آگئی ہے،حق دو کراچی ریلی اور شہری حقوق کی تحریک کے مطالبات کی تشہیر بھی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے،شہر بھر میں کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی وصوبائی حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کی کراچی دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے،ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے مایوس عوام 28مارچ کو اپنے حق کے لیے جوق در جوق گھروں سے نکل کر ریلی میں شریک ہوں گے اور حق دو کراچی ریلی تین کروڑ اہل کراچی کی اصل قوت وطاقت اور حقیقی قیادت کا بھرپور اظہار ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق حافظ نعیم الرحمن نے تین تلوار پر استقبالیہ کیمپ کا افتتاح کیا اور ضلع جنوبی کے مختلف علاقوں، اختر کالونی، جہانگیر پارک و صدر کی مختلف مارکیٹوں کادورہ کیا۔علاوہ ازیں انہوں نے ضلع شمالی کا بھی دورہ کیا،
حافظ نعیم الرحمن نے علاقہ مکینوں،دکانداروں،ہوٹلوں اور بازاروں میں موجود لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو حق دو کراچی ریلی میں شرکت کی دعوت دی ،شہریوں نے بجلی،پانی،سیوریج و صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات،گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹرانسپورٹ کے مسائل اور گیس کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے عوام کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لئے بھرپور جدوجہد کرے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی،حکمرانوں پر عوامی دبا کے ذریعہ زور ڈالا جائے گا اور مجبور کیا جائے گا،اہل کراچی اپنی طاقت اور قوت کو منوانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور 28مارچ کی ریلی میں بڑی تعداد میں شریک ہوں۔ -

پاک سر زمین پارٹی کی این اے 249 میں انتخابی مہم زور و شور سے جاری
پاک سر زمین پارٹی کیجانب سے این اے 249 میں انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ چیئرمین پی ایس پی اور این اے 249 سے پی ایس پی کے امیدوار سید مصطفیٰ کمال نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور متعدد کارنر میٹنگز سے بھی خطاب کیا۔تفصیلات کے مطابق یوسی 33 نئی آبادی سیکٹر 4F بلدیہ ٹاؤن عوام اور بلدیہ ٹاؤن 24کی مارکیٹ یوسی 30 کا دودہ کیا اور صدر تاجر ایسوسی ایشن بلدیہ ٹاؤن عمران بٹ اور دیگر وفود سے ملاقاتوں کیں۔اس موقع پر پی ایس پی کے وائس چیئرمین سید حفیظ الدین، رکن نیشنل کونسل فرحان انصاری، نائب صدر ڈسٹرک کیماڑی محمد فیاض، ڈسٹرک و ٹاؤن ذمہ داران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر تاجر برادری نے اپنی جانب سے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔
-

نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں مارک اپ کی شرح مزید کم کردی گئی
کراچی حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں مارک اپ کی شرح مزید کم کردی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے نجی بینکوں کو فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کردیں۔ اعلامیے کے مطابق حکومتِ پاکستان نے کم لاگت اور سستے مکان کے سلسلے میں ہاؤسنگ فنانس کی مارک اپ شرح کم کردی۔ اسکیم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے مطابق پہلے اسکیم نے قرض لینے والوں کو تین سطحوں میں تقسیم کیا تھا۔ اب ایک نئی سطح ’سطح صفر‘ (Tier 0) اسکیم میں شامل کی گئی ہے تاکہ اسکیم کے تحت مائیکرو فنانس بینکوں کی شمولیت کو آسان بنایا جائے اور فی مکان 20 لاکھ روپے تک کا قرضہ جاری کیا جائے مائیکرو فنانس بینک کم آمدنی والے گھرانوں کو قرضہ دینے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں اسی لیے انہیں بھی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔ پہلے 5 سال کیلیے 3 فیصد اور آئندہ 5 سال کیلئے 5 فیصد مارک اپ سطح اول (نیفڈا کے منصوبوں کے تحت 5 مرلہ تک اور 850 مربع فٹ کورڈ رقبے والے ہاؤسنگ یونٹ) کے تحت حتمی صارف کا رعایتی مارک اپ ریٹ کم کر کے ابتدائی 5 برس کے لیے 3 فیصد اور اگلے 5 برس کے لیے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ قبل ازیں یہ ریٹ بالترتیب 5 فیصد اور 7 فیصد تھا۔ اسکیم کی سطح دوم اور سطح سوم کے تحت چونکہ خصوصاً ابتدائی برسوں میں ہاؤسنگ یونٹوں کی رسد محدود رہنے کی توقع ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ ایک سال پرانے ہاؤسنگ یونٹ کی شرط 31 مارچ 2023ء تک ختم کر دی گئی ہے۔ نیز، ہاؤسنگ یونٹ کی پہلی منتقلی پر پابندی اور ہاؤسنگ یونٹس کی زیادہ سے زیادہ مالیت کی شرط بھی ختم کر دی گئی۔ فلیٹ اور اپارٹمنٹ کے زیادہ سے زیادہ کورڈ رقبے کو بڑھا دیا گیا ہے جبکہ زمینی ہاؤسنگ یونٹس کے معاملے میں کورڈ ایریا کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ سطح دوم کے تحت زیادہ سے زیادہ منظور شدہ فنانسنگ کو بھی 30 لاکھ روپے سے دگنا کرتے ہوئے 60 لاکھ روپے اور سطح سوم کے تحت 50 لاکھ روپے سے دگنا کرتے ہوئے 1 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غیر نیفڈا (non-NAPHDA) منصوبوں کے تحت سطح دوم 5 مرلہ تک مکانات اور اپارٹمنٹس اور 1,250 مربع فٹ کے کورڈ ایریا کے لیے ہے جبکہ غیر نیفڈا منصوبوں کے تحت سطح سوم 10 مرلہ تک کے مکانات اور اُن اپارٹمنٹ کے لیے ہے جن کا کورڈ ایریا 2,000 مربع فٹ تک ہو۔مزید برآں اسکیم کے تحت ہاؤسنگ فنانس کی موجودہ کم سے کم مدت کو 10 سال سے کم کرکے 5 سال کردیا گیا ہے۔ اس سے ان افراد کو مدد ملے گی جو قلیل مدتی قرضے چاہتے ہیں۔ نظرثانی شدہ مارک اپ سبسڈی کی سہولت ملک بھر کے بینکوں کے ذریعے دستیاب رہے گی۔اسکیم کے بنیادی پیمانوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکومت نے 10 سالہ فنانسنگ کے حوالے سے مارک اپ سبسڈی ادائیگی کے لیے مختص مجموعی فنڈنگ بڑھا کر 36 ارب روپے کردی ہے اور اس سہولت کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
-

سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 293 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق
گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید ایک مریض نے دم توڑ دیا جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 4487 ہوگئی ہے اور 11134 ٹیسٹ کرانے سے 293 نئے کیسز سامنے آئے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعلی ہاوس سے جاری ایک بیان میں کہا کہ11134 نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا جس میں سے 293 کیسز کا پتہ چلا جوکہ موجودہ تشخیصی شرح کا 2.6 فیصد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 3253184 ٹیسٹ کرائے گئے ہیں جن کے نتیجے میں264354 کیسز کی تشخیص کی گئی ان میں سے 96.7 فیصد یعنی 255511 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 112 مریض بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 249 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں سے 39 کو وینٹیلیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق 293 نئے کیسوں میں سے 128 افراد کا تعلق کراچی سے ہے جن میں ضلع شرقی 61 ، ضلع جنوبی 37، ضلع وسطی 14 ، ضلع ملیر9، ضلع کورنگی 5، ضلع غربی 2شامل ہیں۔حیدرآباد 18، گھوٹکی 15، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد 13، مٹیاری 10، ٹھٹھہ اور خیرپور 7، ٹنڈو محمد خان اور قمبر 6، سجاول 5، نوشہروفیروز 4، جیکب آباد اور جامشورو 3، لاڑکانہ اور سکھر ایک ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں۔ -

اگلے سال یوم تاسیس دو جگہوں پر نہیں ایک جگہ پر ہوگا، فاروق ستار کی پیشگوئی
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے یوم تاسیس کے جلسے میں پیش گوئی کی ہے کہ اگلے سال یوم تاسیس دو جگہوں پر نہیں بلکہ ایک جگہ پر ہوگا۔ایم کیوایم بحالی کمیٹی کے پی آئی بی میں یوم تاسیس کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب میں فاروق ستار کا کہنا تھاکہ آج ہم نظریہ ایم کیوایم کا 37 واں یوم تاسیس منارہے ہیں، وعدہ کیا تھا کہ نظریاتی تحریک اورنظریےکو قائم کروں گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بند دفاتر کھولے جائیں یا جہاں ہم چاہیں، وہاں ہمارے دفاتر کھلنے دیے جائیں۔فاروق ستار نے پیش گوئی بھی کہ اگلے سال یوم تاسیس دو جگہوں پر نہیں ایک جگہ پر ہوگا۔پورے ملک میں نئےصوبے بنائے جائیں، خالد مقبول صدیقی خیال رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے گزشتہ روز یوم تاسیس منایا تھا اور یوم تاسیس کا جلسہ نشتر پارک میں ہوا تھا جس میں خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔کراچی کے حوالے سے سربراہ بحالی کمیٹی کا کہنا تھاکہ تمام شہروں کے وسائل کے حساب سے پیکج ملنا چاہیے، جس دن درست مردم شماری ہوگی وڈیرہ شاہی کا خاتمہ ہوگا۔فاروق ستار کا کہنا تھاکہ کراچی ڈوبا تو 11 سو ارب کا اعلان ہوا، 6 ماہ گزرگئے رقم نہیں مل سکی، گجرنالہ اور اورنگی نالےکےاطراف لوگوں کےگھرتوڑےجارہےہیں، سندھ میں غیر آئینی کوٹہ سسٹم کو ختم کرائیں گے۔بحالی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا تھاکہ تیل کی قیمتوں کا بحران حکومت کی اپنی ٹیم نے کیا، ملک میں منہگائی نےعوام کی کمرتوڑدی ہے، بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کو تباہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت نے عوام کوپریشان کیا ہوا ہے، کراچی کے ساتھ پورے سندھ کے شہری علاقے تباہ ہوچکے، ملک کے بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ رمضان کے بعد کراچی کے مسائل پرتحریک چلائیں گے۔
-

متبادل فراہم کیے بغیر کراچی کے بڑے نالوں کے اطراف آباد لوگوں کو بے دخل کرنا ظلم ہے ،سید مصطفی کمال
تفصیلات کے مطابق پاک سر زمین پارٹی کے چئیرمین سید مصطفی کمال نے این اے 249 کی انتخابی مہم کے دوران عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متبادل فراہم کیے بغیر کراچی کے بڑے نالوں کے اطراف دہائیوں سے رہائش پذیر ہزاروں خاندانوں کو بےدخل کرنا انتہائی نامناسب اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
جن لوگوں کے گھر مسمار کئے جا رہے ہیں وہ ہوا میں تحلیل نہیں ہوجائیں گے۔ نااہل اور ظالم حکمران مسئلے کو ایک جگہ سے ہٹا کر پورے شہر میں پھیلا رہے ہیں جس سے امن و امان کے شدید مسائل پیدا ہونگے۔ مسئلے کو مستقل حل کرنے کے لیے میری دور نظامت سے سبق لیں جب لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے لیے 34 ہزار گھروں کو مسمار کرنے سے پہلے متبادل رہائش تمام تر بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ فراہم کی گئیں۔ 3 آبادیاں بمع بنیادی سہولیات بنائیں، 80 گز کا پلاٹ اور 50 ہزار روپے کا چیک دیا گیا۔ کسی نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔حکمران لیاری ایکسپریس وے کا طریقہ کار اپناتے ہوئے متاثرین کو متبادل فراہم کرتے ہوئے کراچی کی بہت زمین خالی ہے، علاقے مختص کریں، مہنگائی کا خیال کرتے ہوئے متاثرین کو ایک لاکھ روپے کا چیک اور 100 گز زمین دیں۔ موجودہ آپریشن میں حکومت کی جانب کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی، معزز عدلیہ معاملے کا فوری نوٹس لے اور حکمرانوں کو طلب کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزری پر باز پرس کرئے کیونکہ حکومت کے اس طرز عمل سے نہ صرف انتشار پیدا ہورہا ہے بلکہ نہ کبھی نالے صاف ہوسکیں گے نہ ہی ترقیاتی کام ممکن ہے جسکا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا بصورت دیگر شہر کے امن کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔