رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر کا وزیراعظم عمران خان کو خط.خط میں لکھا گیا کہ کراچی جناح ہسپتال اور دیگر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے عزیز و اقارب کیلئے شیلٹر ہوم بنانے کی درخواست کراچی جناح ہسپتال غریب عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار کررہا ہے،مریض علاج کیلئے زیادہ تر اندرون سندھ اور بلوچستان سے آتے ہیں،عموماً مریض کے ہمراہ آئے عزیز و اقارب کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی،مریض کے ہمراہ آئے لوگ سڑک پر رات گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں، ان غریب طبقے کے لوگوں کیلئے سندھ حکومت کی طرف سے کوئی شیلٹر ہوم نہیں بنایا گیا، یہاں تک کہ انہیں پینے کا پانی اور واش روم کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جاتیں، وفاق ان غریبوں کیلئے شیلٹر ہوم کی فراہمی یقینی بنانے جہاں وہ بآسانی آرام کرسکیں،وزیراعظم کا ریاست مدینہ کی جانب یہ بہترین قدام ثابت ہوگا.
Category: کراچی
-

کراچی فرنیچر کے کارخانے میں آتشزدگی، لاکھوں کا نقصان
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے گنجان آباد علاقے لیاقت آباد میں فرنیچر کے کارخانے میں آتشزدگی کےباعث لاکھوں روپے کا نقصان ہوگیا تفصیلات کے مطابق فرنیچر کے کارخانے کےتہہ خانے میں لگنے والی آگ نے تین منزلہ عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔گنجان علاقے اور تنگ گلیوں کے باعث فائر بریگیڈ کے عملے کو آگ بجھانے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا رہا تاہم فرنیچر مارکیٹ میں لگی آگ پر تین گھنٹے بعد قابو لیا گیا۔ فائر فائٹرز نے کولنگ عمل شروع کر دیا ۔ فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیوں نے آگ بجھانےکے عمل میں حصہ لیا۔
-

کراچی والوں ہوشیار ! سورج آج سے آگ برسائے گا
شہر قائد میں آج سے گرمی کی شدت کا امکان ہیں، ہیٹ اسٹروک ہوگا یا نہیں؟ اس معاملے پر محکمہ موسمیات نے اپنا موقف دے دیا ہے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آج سے شہر میں گرمی کی شدت میں اضافےکا امکان ہیں جس کے باعث زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، اس وقت ہوا میں نمی کا تناسب 78فیصد ہےموسم کا حال بتانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت شمال مغربی سمت سے ہوا کی رفتار 11کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے مگر دن کے وقت سمندری ہوائیں بند رہیں گی، ہوا کی سمت تبدیل ہونےسےگرمی کی شدت میں اضافےکا امکان ہیں۔محکمہ موسمیات کے واضح کیا کہ کراچی میں فی الحال ہیٹ ویو کا خدشہ نہیں ہے،گرمی کی شدت چار سےپانچ روز تک برقرار رہے گی۔
-

کراچی میں شب برأت نہایت عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی
شہر کراچی میں شب برأت نہایت عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔مساجد میں شب برأت کے حوالے سے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے جس میں علمائے کرام نے شب برأت کی فضیلت بیان کی۔شہر کی مختلف مساجد میں پیر کو بعد نماز مغرب چھ خصوصی نوافل اداکئے گئے۔ سو رہ یسین کی تلاوت اور دعا ئے نصف شعبا ن کا ورد کیا گیا۔
بعد نماز عشاء مسا جد میں علمائے کرام نے شب برأت کے فضائل بیان کیے۔مساجد میں صلوة لتسبیح، محافل ذکر و نعت،درود شریف اور خصوصی دعائوں کااہتمام کیا گیا۔اس حوالے سے اللہ تعا لی کے حضو ر گنا ہوں سے تو بہ، بخشش ومغفر ت ، ایما ن و سلامتی ، رزق کی کشادگی ، آفات و بلیات ، مصیبت ، محتا جی ، تنگ دستی ، وبا سے صحت و عا فیت ، عالم اسلام ، مظلوم مسلمانوں اور پاکستان کی ترقی واستحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ شہر میں شب برأت کے بڑے اجتماعات میں فیضان مدینہ ، کنزالایمان مسجد ، میمن مسجد کھارادر، بہار شریعت مسجد ، نور مسجد کاغذی بازار سمیت مختلف مساجد میں منعقد ہوئے۔ شہریوں نے اپنے مرحومین کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے قبرستانوں کا رخ کیا۔ اپنے پیارے مرحومین کی قبروں کی ازخود صفائی کی اور ان پر پانی ڈالا ۔گلاب کے پھول ڈالے اور چاردیں چڑھائیں ۔ ۔قبرستانوں کے باہر بڑی تعداد میں گلاب، اگربتی ، عرق گلاب اور دیگر اشیا کی فروخت کے لیے عارضی اسٹالز لگائے گئے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو عارضی روزگار حاصل ہوا ۔ان اسٹالز پر گلاب کی پتیاں اور پھول 150 سے لے کر 300 سے زائد روپے فی کلو تک فروخت کی گئیں ۔ قبرستانوں کے باہر مختلف سماجی ،سیاسی اور مذہبی جماعتوں جن میں جماعت اہلسنت، پاکستان سنی تحریک، تحریک لبیک پاکستان، منہاج القرآن، عوامی تحریک، متحدہ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ، پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے سبیل اور رہنمائی کے لیے کیمپس لگائے گئے۔ مختلف عوامی رہنمائی کے کیمپس پر شہریوں کو شربت پلایا گیا اور پھولوں کی پتیاں بھی مفت تقسیم کی گئیں۔ شب برأت کے موقع پر بڑے پیمانے پر نظر ونیاز کا اہتمام اور لنگر تقسیم کیا گیا۔ -

کورونا وائرس،سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 مریض انتقال کرگئے
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 مریض انتقال کرگئے جبکہ 269 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ تشخیص کی شرح کا 3 فیصد ہے۔ اور 183 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 مریض انتقال کرگئے جس سے اموات کی مجموعی تعداد 4495 ہوگئی ہے جوکہ اموات کی شرح کا 1.7 فیصد ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس وقت 4710 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 4416 گھروں میں ،8 آئسولیشن سینٹرز میں اور 286 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 259 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں سی 39 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ 269 نئے کیسز میں سی99 کا تعلق کراچی سے ہے جن میں ضلع شرقی 34 ، ضلع جنوبی 24 ، ضلع وسطی 15، ملیر12 ، کورنگی اورضلع غربی سے 7 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے عوام کوتاکید کی پے کہ ایس او پیز پر عمل کریں اور محفوظ رہیں۔
-

نہم و دہم کے عملی امتحانات جون 2021ء میں لئے جائیں گے،ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے اعلامیہ کے مطابق گورنمنٹ آف سندھ کے دیئے گئے امتحانی شیڈول کے مطابق جماعت نہم و دہم کے عملی امتحانات جون 2021ء میں لئے جائیں گے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بورڈ سے الحاق شدہ اسکولوں کے سربراہان کوکہا جاتا ہے کہ جن اسکولوں نے ابھی تک عملی امتحانات 2021 ء کے پریکٹیکل پرفارما بورڈ میں جمع نہیں کروائے ہیں وہ جلد از جلد بورڈ کے متعلقہ سیکشن کمرہ نمبر47 دوسری منزل بلاک Bمیں لازمی جمع کرا دیں۔
-

گجر نالے کے اطراف میں مقیم مزید 34 مکینوں نے ٹربیونل سے رجوع کرلیا
تفصیلات کے مطابق پیرکواینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل میں تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات مسمار کرنے کے خلاف گجر نالے کے اطراف میں مقیم مزید 34 مکینوں نے ٹربیونل سے رجوع کرلیا،اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل نے فریقین سے 31 مارچ کو جواب طلب کرلیا ٹربیونل کا سندھ حکومت، کمشنر کراچی، محکمہ کچی آبادی اور دیگر کو جواب جمع کرانے کا حکم جاری۔ ٹربیونل نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بتایا جائے لیز مکانات کو کیوں توڑا جارہا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کے ایم سی اینٹی انکروچمنٹ نے گجر نالے پر تجاوزات کی آڑ میں لیز مکانات کو مسمار کرنا شروع کردیا لیز مکانات کو بغیر پیشگی نوٹس کے مسمار کیا جارہا ہے متعلقہ اداروں کو لیز گھروں کے خلاف غیر قانونی اقدام کرنے سے روکا جائے
-

کراچی میں فائیواسٹار چورنگی پر شہری سے مبینہ موٹرسائیکل چھیننے والا سب انسپکٹر نکلا
تفصیلات کے مطابق کراچی میں فائیواسٹارچورنگی پر پولیس اہلکار کی جانب سے موٹرسائیکل چھیننے کا معمہ حل ہوگیا ، شہری سے مبینہ موٹرسائیکل چھیننے والا سب انسپکٹر نکلا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر کامران کی حالیہ تعیناتی بلاول ہاؤس میں ہے ، ملزم نے پکڑے جانے پر خود کو ساؤتھ انویسٹی گیشن کا افسر ظاہر کیا۔تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملزم نے اپنا نام پہلے علی شاہ بتایا، تاہم مزیدتفتیش کرنے پر پتہ چلا ملزم کانام کامران ہے اور سیکیورٹی زون 2 میں سب انسپکٹر ہے ۔ شہری کے مطابق کامران اس سے موٹر سائیکل چھین رہا تھا اور شلوارقمیض میں ملبوس ایک اور شخص اس کے ساتھ تھا۔ سیکیورٹی زون ٹو کے مطابق مبینہ اہلکار ان کے پاس تعینات نہیں جبکہ مبینہ اہلکار ایس ایس یو کے ماتحت بھی کام نہیں کر رہا لیکن انکوائری کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی زون ٹو کا اہلکار ہے اور بلاول ہاؤس پر تعینات ہے، جلد تحقیقات کرکے اصلیت سامنے لائیں گے۔یاد رہے 5 اسٹار چورنگی پر پولیس اہلکار کی شہری سے مبینہ طور پر موٹر سائیکل چھیننے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی ، موٹر سائیکل چھیننے پر متاثرہ شہری نے شور مچایا تو عوام کا رش لگ گیا، جس کی وجہ سے شہری کی موٹرسائیکل بچ گئی۔
-

منشیات کو مختصر پیکنگ میں تیار کر کے فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار
محمد پور قصبہ کالونی سے منشیات کو مختصر پیکنگ میں تیار کر کے فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار۔ ایس ایس پی ویسٹ سوہائی عزیز ملزمان وافر مقدار میں لائی گئی منشیات کو وزن کے حساب سے چھوٹی پیکنگ میں کر کے فروخت کرتے تھے۔ملزمان پراچہ قبرستان میں چھپ کر منشیات تیار و فروخت کر رہے تھے۔ایس ایچ او پیر آباد نے انٹیلیجنس اطلاع پر کاروائی کر کے دو ملزمان کو گرفتار کیا۔گرفتار ملزمان سے وافر مقدار میں مختلف اقسام کی منشیات، چھرا/چاکو، پیکنگ میں استعمال ہونے والا سامان اور نقدی برآمد۔ملزمان کیخلاف مقدمہ الزام نمبر 206/2021 درج کر لیا گیا۔گرفتار ملزمان کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔گرفتار ملزمان میں زریں عرف کوکا اور انور خان عرف شاہ شامل ہیں۔ مزید فرار ساتھی ملزم عمیر ولد فرید کی تلاش جاری۔
-

کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مبینہ پولیس بھی سرگرم ہے، رکن سندھ اسمبلی ریاض حیدر
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء و رکن سندھ اسمبلی ریاض حیدر نے فائیوسٹار چورنگی کے قریب پولیس اہلکار کی جانب سے شہری سے موٹر سائیکل چھیننے کا معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ساتھ مبینہ پولیس بھی سرگرم ہے پولیس اہلکار کا شہری سے موٹر سائیکل چھیننا سمجھ سے بالاتر ہے عوام محافظین پر اعتبار نہیں کرسکتی،یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ معمول بن گیا ہے آئے روز ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کے واقعات زور پکڑ رہے ہیں ایسی صورتحال میں پولیس کی جانب سے جرائم کی وارداتوں میں خود ملوث ہونا قابل شرم ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اے آئی جی کراچی اور ڈی ائی جی ویسٹ واقعے کی شفاف تحقیقات کروائیں اور ملزم کی شناخت فوری یقینی بنائی جائے۔
