لانگ مارچ اور استعفے دو الگ آپنشنز ہیں، شازیہ مری*چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ استعفے سلیکٹڈ کیلئے “ایٹم بم” کی طرح استعمال ہونے چاہئیں، شازیہ مری*سات ضمنی انتخابات میں فتح اور سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کی جیت ہمارے موقف کی کامیابی ہے، شازیہ مری*یہ تاثر غلط ہے کہ پی ڈی ایم ختم ہوچکی ہے، پی ڈی ایم میں کوئی تقسیم نہیں ہے، شازیہ مری* کراچی(18 مارچ 2021) مرکزی اطلاعات سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز اور رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور استعفے دو الگ آپنشنز ہیں اور پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے استعفوں کو آخری آپشن رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ استعفے سلیکٹڈ حکومت کیلئے “ایٹم بم” کی طرح استعمال ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پی ڈی ایم ختم ہوگئی ہے اور اس میں کوئی تقسیم ہے ، پی ڈی ایم میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں ایک ہی مقصد کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، اس پر مختلف رائے و سوچ اور مختلف جماعتوں کے اپنے منشور بھی ہے لہذا کئے باتوں پر اختلاف اور کئے باتوں پر ایک دوسرے کےساتھ رضامندی کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کے دوران کیا ہے۔مرکزی اطلاعات سیکرٹری پیپلز پارٹی نے کہا کہ لانگ مارچ کو استعفوں سے منسلک کرنا مناسب نہیں اور کہیں بھی پی ڈی ایم کے کسی فیصلے یا کسی ایکشن پلان کا یہ حصہ نہیں تھا جبکہ پی پی پی اس معاملے پر جلد سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس مدعو کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ ایک آپشن ہے اوراستعفیں ایک دوسرا آپشن ہے اورسینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ایک اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا تھا کہ کہا تھا کہ حکومت کو گرانے کے لیے استعفوں کے آپشن کو ایک ایٹم بم کے طور پر استعمال کریں گے ۔ شازیہ مری نے کہا کہ یہ جو باتیں پی ڈی ایم کے اجلاس کے اندر گفتگو کا حصہ تھی اس میں یہ بات کہی گئی کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف ملک واپس آئیں اور پی ڈی ایم تحریک کا وہ بھی حصہ بنے۔انہوں نے کہا حکمران جماعت کے بڑے دعووں اور حکومتی بیانات کے باوجود پی ڈی ایم امیدوار یوسف رضا گیلانی کو 3 مارچ کو فتح حاصل ہوئی اور اب حکمران جماعت یا ان کے وزراء کتنی بھی پریس کانفرنسز کریں لیکن سینیٹ انتخابات کے بعد ان کو عدم اعتماد کا ووٹ آچکا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ حکمران جماعت کی بنیادیں ہل چکی ہیں اور اب وہ ایک کمزور حکومت ہے اور یہ پی ڈی ایم کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم نے پارلیمان کے اندر رہ کر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کافیصلہ پیپلزپارٹی کے مشورے پر کیا جس پر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم جماعتوں کی مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے موقف کے تحت پی ڈی ایم نے سات ضمنی الیکشن میں فتح اور سینٹ میں یوسف رضا گیلانی کی جیت ہمارے موقف کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی مختلف جماعتوں نے پی پی پی کے پارلیمان کے اندر رہنے کے موقف کو بہت سراہا گیا اور دیگر جماعتوں نے بھی موقف کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جماعتیں پارلیمان کے اندر کی سیاست کامیابی سے کر رہی ہیں وہ اس سے حکومت کو شکست بھی دے رہی ہیں۔ شازیہ مری نے مزید کہا کہ اگر استعفی دے کر یہ حکومت گرائی جا سکتی ہے تو پیپلزپارٹی استعفون کا ایٹم بم استعمال کرنے کے لئے تیار ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ ورک اور ہوگا اور حکومت کو پھر کھلہ میدان مل جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا کہ لانگ مارچ کو استعفوں کے آپشن کے ساتھ جوڑا جائے اور یہ شرط لگائی جائے کہ استعفے دیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی تنقید کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹی رہی اور ثابت ہوا کہ پیپلز پارٹی کا پارلیمان کے اندر رہ کر حکومت کو مشکل وقت دینے کا موقف درست تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر حکومت کی بنیادیں ہلی ہیں یا وہ کمزور ہو رہی ہے تو وہ پارلیمان کے اندر رہ کرتمام فیصلے لینے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ شازیہ مری نے مزید کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے سارے آپشنز بہترین ہیں مگر جس ایک آپشن نے حکومت کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں وہ پارلیمانی سیاست ہے ۔
Category: کراچی
-

پی ڈی پی نے نے این اے 249کے امیدوار کے طور پر خالد صدیقی ایڈووکیٹ کو نامزد کر دیا
کراچی، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی بلدیاتی کمیٹی کے رکن سردار ذوالفقار نے کہا ہے کہ پی ڈی پی نے نے این اے 249کے امیدوار کے طور پر خالد صدیقی ایڈووکیٹ کو نامزد کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں کاغذات نامزدگی بھی الیکشن کمیشن آفس میں جمع کرا دیئے گئے ہیں۔ پاسبان کے تمام ورکرزپر عزم ہیں۔ روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے خدمت انسانی کے جذبہ کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔ امید ہے حلقہ NA 249 کے عوام ہمیشہ کی طرح پاسبان کا ساتھ دیتے ہوئے پاسبان کے امیدوار کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں گے۔ پاسبان نے ہمیشہ عوام خدمت کے لئے جدوجہد کی ہے اور ان شا ء اللہ کامیاب ہونے کے بعد اس سلسلہ کو مزیدآگے بڑھائیں گے۔
عوامی توقعات پر پورا اترتے ہوئے علاقہ کی تعمیر و ترقی اور مسائل کے ٹھوس حل کے لئے نہ صرف بھرپور آواز بلند کریں گے بلکہ ان کے حل کے لئے بھی کوشش کریں گے۔ پاسبان ورکرزماضی میں بھی بنا کسی اختیار ات و اقتدار کے مسائل کے لئے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی قیادت میں ہمیشہ ظلم و ستم اور جبر کے خلاف آواز بلند کی جاتی رہی ہے۔
کراچی کے عوام کے تمام دیرینہ مسائل بشمول ظالمانہ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، مردم شماری کے درست نتائج، رانگ وے پر کاٹی جانے والی ایف آئی آرز، سڑکوں کی بندش اور ڈبل سواری پر پابندی جیسے اہم ایشوز پر پاسبان آواز بلند کرتی رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ اسی عزم کے ساتھ ہمارے امیدوار میدان میں اترے ہیں۔اپنے حقوق کی حفاظت اور مسائل کے حل کے لئے پاسبان کے ہاتھ مضبوط کیجئے۔ ان خیالات کا اظہار سردار ذوالفقار نیالیکشن کمیشن آفس ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بلدیہ ٹاؤن کے ضمنی انتخابات میں خالد صدیقی ایڈووکیٹ کے اعلان نامزدگی کے موقعہ پر کیا۔
ان کے ہمراہ حامد صدیقی، خالد صدیقی ایڈووکیٹ، سجاول خان مروت ایڈووکیٹ، عمر عباسی، شاہد عباسی، انعام اللہ خان، آصف خان اور دیگر پاسبان ورکرز بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خالد صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم پاسبان کے منشور کے مطابق ہر طرح کی کرپشن، ظلم اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کریں گے۔ ظلم کے نظام کو ختم کریں گے اور یہ انتخابات اسی سلسلہ کی پہلی کڑی ہیں

-

کراچی میں سال کی پہلی بینک ڈکیتی، مسلح ڈاکو نجی بینک لوٹ کر فرار
کراچی کے علاقے نیو کراچی میں 4 مسلح ڈاکوؤں نے نجی بینک لوٹ لیا۔کراچی میں رواں سال کی پہلی بینک ڈکیتی ہوئی ہے اور چار مسلح ڈاکو نیوکراچی کے علاقے میں واقع نجی بینک پہنچے جہاں باہر موجود گارڈ کو ساتھ لیا اور اسلحہ لہراتے ہوئے بینک کے اندر داخل ہوئے۔ڈاکوؤں نے بینک کے اندر موجود گارڈ کو زخمی کیا، عملے کو یرغمال بنایا، ایک ڈاکو نے نقدی تھیلے میں ڈالی اور فرار ہوگئے جبکہ ڈاکوؤں نے جاتے ہوئے فائرنگ بھی کی۔ ڈاکو بینک سے 10 لاکھ 35 ہزارروپے لوٹ کر فرارہوئے جبکہ پولیس واقعے کے بعد پہنچی اور بتایا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد ملے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کا تعاقب کیا گیا مگر وہ موٹر سائیکل اور بینک گارڈ سے چھینا گیا اسلحہ چھوڑ کر گلیوں میں فرار ہوگئے۔ شہر میں ڈکیتی کی دوسری واردادت ملیر میں ڈاک خانہ اسٹاپ پر ہوئی جہاں چار ڈاکوؤں نے موبائل نیٹ ورک کمپنی کی فرنچائز کو لوٹ لیا۔ ملزمان نے یہاں بھی فرنچائز کے عملے اور کسٹمرز کو یرغمال بناکر ہزاروں روپے کی نقدی لوٹی اور فرار ہوگئے۔
-

کراچی کے ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ
کراچی میں ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق لاک ڈاؤن کا نفاذ17 مارچ سے 31 مارچ تک ہوگا،لاک ڈاؤن نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد اور گلبرگ کی 9 یوسیز میں لگایا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے تحت اسمارٹ لاک ڈاؤن ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی نشاندہی پر کیا گیا ہے،متاثرہ علاقوں میں آنے اور جانے والوں کو ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے، متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی ہوگی، علاقے میں تمام کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں فیملی اجتماع پر پابندی ہوگی، متاثرہ علاقوں کے کورونا مثبت افراد گھروں میں قرنطینہ رہیں گے، اس دوران حکومت مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کے اقدامات بھی کرے گی۔
-

ن لیگی رہنماء پیپلز پارٹی کو گھسیٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے
پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار کا ن لیگی رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل اسپیکر اور وزیراعظم کیخلاف لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں تلخ الفاظ کی مزمت کرتے ہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنی گفتگو میں ادب کے دائرے سے باہر نہ نکلیں، ن لیگی رہنماؤں کا اندازِ گفتگو پڑھے لکھے سیاستدانوں کی توہین کررہا ہے،ن لیگی رہنماء پیپلز پارٹی کو گھسیٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، احسن اقبال نے خود قبول کرلیا 2013 میں ملک تباہ حال ملا،ن لیگی رہنماء جاہل بھیڑیا جیسے الفاظ کا رخ لندن میں بیٹھے اپنے لیڈر کی جانب کریں،پاکستان کی معاشی تباہی کی ذمہ دار ن لیگ اور بحالی کی وجہ عمران خان ہیں، وزیراعظم نے اپوزیشن کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے، ڈھائی سال اپوزیشن ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ بنی رہی، اپوزیشن اب الیکشن ریفارم میں روڑے اٹکانا چاہتی ہے، وزیراعظم آئیندہ انتخابات میں شفافیت کیلئے اقدامات کررہے ہیں،الیکشن ریفارم سے تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں کو فائدہ ہوگا.
-

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی الیکشن کمیشن پر حکومت کی جانب سے متواتر حملوں کی شدید مذمت
پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن کمیشن پر حکومت کی جانب سے متواتر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
بلاول نے کہا دھاندھلی و انتخابی انجنیئرنگ میں پی ٹی آئی حکومت کا شراکت دار بننے سے انکار کو بغاوت کے طور پر لیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داریاں آئین و قانون کے مطابق نبھانی ہیں۔ پی ٹی آئی کی انتخابی فراڈ کے سامنے تسلیم خم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو دھونس دھمکیاں قابلِ مذمت ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک قومی ادارہ ہونے کی حیثیت سے پوری قوم اور آئین اُس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان سے استعفوں کا مطالبہ پی ٹی آئِ حکومت کی طرف سے بلیک میلنگ کا ہتھکنڈہ ہے۔ پی ٹی آئی ایک مشکوک جماعت، جس نے اقتدار پر قبضے کی خاطر فارن فنڈنگ کے ذریعے لاکھوں ڈالر بٹور چکی ہے۔ متحرک و حقیقی جمہوریت کے لئے ایک خودمختار الیکشن کمیشن کا ہونا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جھکانے یا یرغمال بنانے کے ہر حربے کے خلاف تمام جمہوری قوتیں مزاحمت کریں گی۔ -

پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کا سندھ میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کے متعلق سندھ سیکریٹریٹ میں اجلاس
اجلاس میں چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک ایم این اے شیر علی ارباب، چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی .اجلاس میں تھر کول، اکنامک زون، کے ٹی بندر، کراچی سرکیولر ریلویز، بی آر ٹی سمیت دیگر منصوبوں پر بریفنگ تھر کول سے پوری ملک کی بجلی کی ضروریات پوری ہوں گی۔ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ تھر بدلے گا پاکستان، تھر پورے ملک میں سستی بجلی پیدا کر رہا یے۔ دہابیجی اکنامک زون 1500 ایکڑ پر ہے، جس پر انڈسٹری لگے گی۔ ملیر ایکسپریس وے، بی آر ٹی اور کے سی آر سے شہر میں ماس ٹرانزٹ کا جال بچھایا جارہا ہے۔تھر سے 660 میگا واٹ بجلی مزید اسی سال نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ چیف سیکریٹری سندھ نے سی پیک پارلیمانی کمیٹی کو تھر کول کا دورا کرنے کی دعوت دے دی۔سی پیک منصوبوں کی وقت پر تکمیل قومی مفاد میں ہے۔ سندھ کے تھر کول، دہابیجی اکنامک زون اور ونڈ کوریڈور بہترین منصوبے ہیں۔ شیر علی ارباب چیئرمین سی پیک پارلیمانی کمیٹی پارلیمانی کمیٹی نے سی پیک منصوبوں پر سندھ حکومت کی کاوشوں کو سراہا پارلیمانی کمیٹی کا تھر کا دورا کرنے کا فیصلا۔
-

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کرونا وائرس سے متعلق بیان
وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان سامنے آیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10590 نمونوں کی جانچ کی گئی۔ جن میں مزید 384 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ان میں 1 مریض انتقال کرگیا۔ اموات کی مجموعی تعداد 4469 ہوچکی ہے۔
آج مزید 196 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 253237 ہوچکی ہے۔
اب تک 3172228 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے۔ ب تک 262206 کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں۔ اس وقت 4500 مریض زیر علاج ہیں۔ 4206 گھروں میں ،9 آئسولیشن سینٹرز میں اور 285 مریض مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 256 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ 40 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں ۔
صوبے کے 384 نئے کیسز میں سے 150 کا تعلق کراچی سے ہے۔ ضلع شرقی 41،ضلع جنوبی 35، ملیر27، ضلع وسطی 24، کورنگی21 اور ضلع غربی میں سے 2 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
۔ بدین 39،حیدرآباد 27،مٹیاری 22،سانگھڑ14،ٹنڈو الہیار13، میرپورخاص 11،قمبر10، جیکب آباد8،نوشہروفیروز، سجاول، سکھر، عمرکوٹ اور شکارپور7۔7، گھوٹکی اور جامشورو6۔6،خیرپور5،لاڑکانہ3،کشمور2، دادو میں سے1 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ -

مرتضٰی وہاب کے بیان پر ترجمان پی ٹی آئی کراچی جمال صدیقی کا ردعمل
مرتضٰی وہاب کے بیان پر ترجمان پی ٹی آئی کراچی جمال صدیقی کا ردعمل مرتضیٰ وہاب وزیراعظم کے سہانے سپنوں کی ایک اور تعبیر انشاءاللہ کل ضرور ملاحظہ فرمائیں گے،غریب دوست وزیراعظم کل اسلام آباد میں مزدور طبقے کو 15 ہزار فلیٹس فراہم کریں گے،یقیناََ وزیراعظم کا خواب مرتضیٰ وہاب کی معلومات میں مزیداضافہ کریگا گا، مہنگائی پر سندھ حکومت کی ثابت قدمی عوام مرغی کے پرائسز پر بخوبی دیکھ چکے ہیں، صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ صوبائی حکومت کی چوری اور ذخیرہ اندوزی ہے، ملک میں مہنگائی کی اصل وجہ 70 سالہ دو جماعتوں کی غلط پالیسیاں ہیں،پی پی کی تمام تر توجہ صوبے کے بجائے پی ڈی ایم پر رہیں،پی ڈی ایم کی ہنڈیا کل بیچ چوراہے پر پھوٹ چکی ہے، سندھ حکومت کی لاڑکانہ میں مریض کے ساتھ زیادتی پر خاموشی شرمناک ہے.
-

سندھ میں جائز مطالبات پر احتجاج کرنے والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے
پی ٹی آئی رہنما دعا بھٹو نے محکمہ تعلیم کے ہیڈماسٹرز کو سندھ اسمبلی کے باہر تشدد کا نشانہ بنانے پر ساخت مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں اپنے جائز حقوق مانگنے پر بھی سڑکوں پر گھیسٹا جارہا ہے۔اساتذہ معاشرے کا معتبر پیشہ ہے۔ سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے آج سراپا احتجاج ہیں۔ پر امن اساتذہ کو جبر کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔جس کی سخت مزمت کرتی ہوں۔ پیپلزپارٹی جمہوریت اور انسانی حقوق کی جھوٹے دعویدار پارٹی بن چکی ہے۔ سندھ میں جائز مطالبات پر احتجاج کرنے والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ملازم خواتین کو آج تشدد کا نشانہ بنوایا گیا ہے جس کی سخت مزمت کرتی ہوں۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ کے ساتھ ہیں جائز مطالبات منظور کئے جائیں۔احتجاج میں چادر چار دیوار کا تقدس پائمال کرکے خواتین ملازمین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی نظر میں خواتین کی کوئی عزت نہیں رہی خواتیں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے پی پی کے وزراء کی نظر میں عزت صرف انکے اپنے گھر کی خواتین کی ہے شاید۔
