Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں سگ گزیدگی کا شکار 5 سالہ بچی کا اسپتال میں علاج جاری

    کراچی میں سگ گزیدگی کا شکار 5 سالہ بچی کا اسپتال میں علاج جاری

    کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں گذشتہ روز سگ گزیدگی کا شکار 5 سال کی عائشہ سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہے پیر کو میڈیکل بورڈ دوبارہ معائنہ کرنے کے بعد سرجری کا فیصلہ کرےگا۔ گزشتہ رات پی ای سی ایچ ایس میں گلی میں کھیلنے والی 5 سال کی عائشہ کو آوارہ کتوں نے بھنبھوڑ ڈالا تھا، آوارہ کتوں کے حملے کے باعث عائشہ کے سر اور چہرے پر شدید زخم آئے تھے، عائشہ کو فوری طور پر جناح اسپتال میں طبی امداد دی گئی اور بعد میں این آئی سی ایچ میں منتقل کیا گیا۔ کراچی میں آوارہ کتے نے دو سالہ بچے کو بھبھوڑ ڈالا ڈائریکٹر این آئی سی ایچ جمال رضا نے بچی آئی سی یو میں زیر علاج ہے، انفیکشن کے باعث بچی کو بخار کی شکایت ہے تاہم اس کی حالت میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ ڈاکٹر جمال رضا کا کہنا ہے کہ پیر کو میڈیکل بورڈ بچی کا دوبارہ معائنہ کرے گا جس کے بعد بچی کی سرجری کا فیصلہ کیا جائےگا

  • بلاول نے ن لیگی سینیٹرز کے ووٹ نہ دینے کے تاثر کو مسترد کردیا

    بلاول نے ن لیگی سینیٹرز کے ووٹ نہ دینے کے تاثر کو مسترد کردیا

     پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی جانب سے اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کے تاثر کو مسترد کردیا۔
     بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’سب نے وفا کی‘ مجھے پتا ہے بلکہ ہم سب کو پتا ہے کہ ہم نے پی ڈی ایم کے متحد ہونے کی وجہ سے سینیٹ کی نشستیں جیتی ہیں جب کہ ہم اسی لیے اتنے ووٹ حاصل کرسکے کیوں کہ سب نے وفا کی اور سب نے ساتھ دیا ، جس کے ساتھ ہی گزشتہ سینیٹ انتخابات میں جو داغ لگا تھا اپوزیشن کے سینیٹرز نے وہ داغ حالیہ انتخابات میں اپنے کردار سے دھو دیا۔

  • کراچی کے ایک فائر اسٹیشن میں سبزیاں کیوں کاشت ہورہی ہیں ؟

    کراچی کے ایک فائر اسٹیشن میں سبزیاں کیوں کاشت ہورہی ہیں ؟

    قبضہ مافیا سے زمین بچانے کے توڑ پر بلدیہ ٹاؤن کراچی کے فائر اسٹیشن میں سبزیاں کاشت ہونے لگیں۔بلدیہ ٹاؤن کے فائر اسٹیشن میں دھنیہ، پودینہ، پالک، ساگ اور پیاز کی فصل تیار ہو رہی ہے جس کا مقصد عملے کی غذائی ضروریات پوری کرنا نہیں، بلکہ یہ سبزہ قبضہ مافیا کے خوف سے اُگایا گیا ہے۔ لاکھوں کی آبادی کے لیے قائم کیا گیا یہ فائر اسٹیشن ایک زمانے میں ساڑھے گیارہ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا تھا ، لیکن کراچی میں زمین کو قانونی طور پر خریدنے کے بجائے ، غیرقانونی قبضے کا چلن عام ہے، اس لیے یہاں بھی غیرقانونی تعمیرات کا عمل برسوں سے جاری ہے اور فائر اسٹیشن کی زمین سکڑتے سکڑتے محض4 ایکڑ رہ گئی ہے۔ یہاں پر سیکڑوں گھر بنائے جاچکے جب کہ چند سال پہلے لینڈ مافیا نے فائر اسٹیشن کی باقی ماندہ زمین بھی ہتھیانے کی کوشش کی مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے ناکام بنادیا۔محض چند سال میں یہ ویران جگہ ہرے بھرے کھیت میں تبدیل ہوگئی ہے، یہاں دھنیہ، پودینہ، پالک، ساگ اور پیاز سمیت موسمی سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ ان سب کے علاوہ بلدیہ ٹاؤن کا یہ فائر اسٹیشن ایک ایسی جگہ پر قائم ہے جہاں پہنچنے کے لیے آپکو کم از کم جیپ چاہیے کیونکہ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، دشوار راستے سے گزرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے، دوسری چیز یہاں پر پانی کی عدم موجودگی ہے، دنیا بھر کے فائر اسٹیشن میں اپنا پانی ہوتا ہے، یہاں نوے اور چوبیس ہزار گیلن کے دو ٹینک تو موجود ہیں لیکن پانی کی لائن نہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے دیا گیا فائر ٹینڈر تو ہے لیکن ڈرائیور صرف ایک ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ایک ڈرائیور 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی دے سکے، جب کہ آگ کسی بھی وقت لگ سکتی ہے۔فائر اسٹیشن میں لاکھوں روپے کی خراب مشینری بھی موجود ہے لیکن سیکیورٹی کا کوئی نظام نہیں، ان سب کاموں کو ٹھیک کرنے کی کی ذمہ داری ایڈمنسٹری کراچی لیئق احمد کی ہے مگر وہ اسے نبھانے میں بظاہر ناکام ہیں۔

  • حافظ نعیم کا اورنگی ٹاؤن کا دورہ، نالہ متاثرین کو متبادل رہائش دینے کا مطالبہ ویب ڈیسک

    حافظ نعیم کا اورنگی ٹاؤن کا دورہ، نالہ متاثرین کو متبادل رہائش دینے کا مطالبہ ویب ڈیسک

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اورنگی ٹاؤن نالے کے متاثرین ٹیکس ادا کرتے ہیں لہٰذا انہیں مکان کے بدلے مکان ملنا چاہیے۔حافظ نعیم نے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن ساڑھے گیارہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر لوگوں کو بے گھر کیا جارہاہے جبکہ اورنگی کے نالے پر رہنے والے بھی ٹیکس دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکام سہولت نہیں دے سکتے تو چھت کیوں چھینی جارہی ہے؟ متاثرین کو مکان کے بدلے مکان فراہم کیا جانا چاہیے۔حافظ نعیم نے مطالبہ کیا کہ لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کی طرح اورنگی نالے کے متاثرین کو بھی متبادل رہائش فراہم کی جائے۔

  • پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان کا صوبائی وزیر خوراک کی گرفتاری کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان کا صوبائی وزیر خوراک کی گرفتاری کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان کا صوبائی وزیر خوراک کی گرفتاری کا مطالبہ،لاڑکانہ سے 25 ہزار سانگھڑ سے 23 ہزار گندم بوریوں کی چوری کا کیس وزیر پر درج کیا جائے، سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی مقرر قیمت کو مسترد کرتے ہیں،محکمہ خوراک بلاول ہاؤس کے لوگوں کی خوراک پوری کرنے میں مصروف ہے،سرکاری گداموں میں گندم کی جگہ کچرہ بھر دیا گیا ہے، گداموں سے سندھ حکومت کی سرپرستی میں گندم چوری کی جارہی ہے، سندھ حکومت آٹے کی قیمتیں بڑھانے میں ملوث ہے،سندھ میں منافع خور سندھ حکومت کے آشرواد سے پل رہے ہیں، سندھ میں گندم کے گوداموں پر رینجرز مقرر کی جائے، گوداموں میں چوری یا خراب گندم پر مقامی افسران کو گرفتار کیا جائے.

  • سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار کا پی پی رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل

    سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار کا پی پی رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل

    سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار کا پی پی رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل پی پی رہنماؤں کیلئے بس اتنا کہیں گے آپ نے گھبرانا نہیں ہے سرپرائز اور بھی ہیں،بلال غفار پی پی نے سینیٹ کے بعد جلد سندھ اسمبلی میں بھی سرپرائز کا سامنا کرنا ہے،بلال غفار سینیٹ انتخابات میں پی پی پر جیسی کرنی ویسی بھرنی کی مثال پہاڑ بن کر ٹوٹی ہے، بلال غفار پی پی رہنماء ضیاع شدہ ووٹوں پر لیکچر کے بجائےعلی گیلانی سے جواب لیں، علی گیلانی کی ووٹ ضیاع کرنے کی تربیت کو پی پی کے سینیٹرز نے سنجیدہ لیا، بلال غفار پی پی اخلاقی جرت کا مظاہرہ کرے اوراپنی شکست تسلیم کرے، بلال غفار پیپلرزپارٹی ضمانتی مریم کے ہاتھوں استعمال ہورہی ہے پی پی کا نقصان یقینی ہے، بلال غفار نومنتخب چئیرمین سینیٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، بلال غفار چئیرمین سینیٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کی فتح عوام کی ہے،

  • کراچی میں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار

    کراچی میں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، 3 دہشت گرد گرفتار

    کراچی: شہر قائد کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں رینجرز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گرد گرفتار کرلیے۔ ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش سے ہے، دہشت گردوں سے اسلحہ، گولیاں، دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا گیا ہے۔ ترجمان رینجرز کے مطابق دہشت گرد فورسز پر کریکر، بم حملوں میں ملوث ہیں، گرفتار دہشت گرد حال ہی میں افغانستان سے کراچی پہنچے تھے۔ رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے، دہشت گردوں نے 2008 میں باجوڑ، عنایت قلعے بازار میں فورسز پر حملے کیے۔ ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے 2013-12 میں بھی سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے، حملوں میں فورسز اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے۔: شہر قائد کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکیورٹی ادارے متحرک واضح رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر قائد کے داخلی راستوں پر اچانک اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کو مانیٹر کیا جارہا ہے اور مشتبہ گاڑیوں کی تلاشی اور دستاویزات کو مکمل طور پر چیک کرنے کے بعد شہر میں داخلے کی اجازت دی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق شہر کے داخلی وخارجی راستوں پر اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ تینوں شفٹوں میں جاری رکھا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی اس ملک میں ایک بدنما داغ ہے،سعید غنی

    پی ٹی آئی اس ملک میں ایک بدنما داغ ہے،سعید غنی

    وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں گذشتہ روز چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں دن دھاڑے پڑنے والے ڈاکے اور چوری پر خاموش نہیں بیٹھیں گی اور ہم تمام قانونی اور سیاسی طور پر اس کا مقابلہ کریں گے۔ پی ٹی آئی اس ملک میں ایک بدنما داغ ہے، جس نے اس ملک کی جمہوریت، پارلیمنٹ اور سیاست کو بدنام کرنے میں پیش پیش ہے۔گذشتہ روز کے انتخابات پر کچھ نجی چینلز اور تجزیہ کاروں کے اس تاثر کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں کہ 7 ووٹ جان بوجھ کر ضائع کئے گئے ہیں۔ مظفر حسین شاہ نے جو کام کیا ہے وہ صرف فون پر نہیں بلکہ اور کچھ بھی ہوا ہے۔ عدالت اگر سینیٹ کی کارروائی جواز بناکر اس دن دھاڑے ہونے والے ڈاکے اور چوری پر کارروائی نہیں کرتی تو ہم انہیں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اسپیکر کی رولنگ اور ان کے خط کے باوجود ان کو نااہل قرار دینے پر بھی سوال اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں عدالتوں سے امید ہے کہ وہ ہمیں انصاف فراہم کریں گی۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے مشاورت کے بعد عدالت سے رجوع کیا جائے گا جبکہ دوسرے آپشن میں غیر آئینی اور غیر قانونی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی لایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز سینیٹ کے انتخابات سے قبل خفیہ کیمرے پکڑے گئے تو پہلے یہ کہا گیا کہ یہ سی سی ٹیوی کیمرے ہیں اور بعد ازاں یہ الزام اپوزیشن پر عائد کیا گیا۔ سعید غنی نے کہاکہ سینیٹ کا سیکرٹری سینیٹ ہال کا کسٹوڈین ہوتا ہے اور اگر رات کی تاریکی میں خفیہ کیمرے نصب ہوتے ہیں تو اس کے ذمہ دار سیکرٹری سینیٹ ہی ہوتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جو 7 ووٹ مہر کو امیدوار کے نام پر ہونے کا جواز بنا کر منسوخ کئے گئے، وہ سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے سیکرٹری سے اس ھوالے سے واضح طور پر فاروق ایچ نائیک جو کہ پولنگ ایجنٹ تھے یوسف رضا گیلانی کے اور بعد ازاں دوران ووٹنگ خود شیریں رحمان نے ایک ووٹرز کی نشاندہی پر کہ نام پر مہر لگائی گئی ہے، اس بات کو تسلیم کیا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور دئیے گئے خانہ میں اگر مہر ہوتی ہے تو وہ ووٹ قابل قبول ہوگا لیکن بعد ازاں جب سیکرٹری سینیٹ سے مسترد ووٹ پر کہا گیا تو اس کا جواب تھا کہ مجھے پریذائڈنگ آفیسر نے اوور رول کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سینیٹ کے چیئرمین کے لئے انتخابات الیکشن کمیشن نے نہیں بلکہ سینیٹ سیکٹریٹ کے زیر انتظام ہوئے ہیں اور اگر سیکرٹری سینیٹ یہ کہے کہ انہیں پریذائڈنگ آفیسر نے اوور رول کیا ہے اور اپنے ہاتھ اٹھالے تو یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ میں خفیہ کیمرے کا لگنا اور سینیٹ سیکرٹری کی جانب سے ووٹ کے اندراج کا طریقہ کار واضح طور پر لگا کر اس میں یہ کہنا کہ مہر امیدوار کے خانے کے اندر ہی لگی ہونی چاہیے اور بعد ازاں فاروق ایچ نائیک، شیریں رحمان، میں خود اور علی قاسم گیلانی سب کے سامنے اس بات کا اقرار کرنا کہ اگر مہر نام کے اوپر بھی لگی ہو تو ووٹ مسترد نہیں ہوگا اور بعد میں یہ کہہ دینا کہ انہیں پریذائڈنگ آفیسر نے اوور رول کیا اس تمام کے بعد سیکرٹری سینیٹ کا اس نوکری پر رہنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سیکرٹری سینیٹ کو فوری طور پر نوکری سے برطرف کرکے جیل میں بھیجا جائے کیونکہ ایسا شخص کسی سرکاری نوکری کا اہل ہی نہیں ہو سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس سارے ڈرامہ میں سیکرٹری سینیٹ اور مظفر حسین شاہ ملوث ہیں اور ہم ان کے خلاف تمام شواہد عدالت میں پیش کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مظفر حسین شاہ کو صرف فون ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ بہت کچھ آیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سے کمزوریاں اور دباؤ تھا اور وہ کون سے نوکریاں اور خدمت گزاریاں ہیں، جس پر انہوں نے یہ سب کچھ کیا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مظفر حسین شاہ کی گذشتہ کی 7 ووٹوں کو مسترد کرنے کی رولنگ مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی تھی اور یہ بددیانتی پر مبنی رولنگ تھی، جس کے تحت انہوں نے ایک ہارے ہوئے امیدوار کو کامیاب قرار دیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ایک پریذائڈنگ آفیسر شہنشاہ یا خدا نہیں ہوتا کہ جو مرضی چاہے وہ فیصلہ اور رولنگ دے۔ انہوں نے کہا کہ پریذائڈنگ آفیسر بھی آئین اور قانون کا پابند ہوتا ہے اور جو کچھ مظفر حسین شاہ نے گذشتہ روز اپنی رولنگ دی وہ آئین اور قانون کے برخلاف ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہان سے اس حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے اور اس سلسلے میں عدلیہ میں پٹیشن جلد دائر کی جائے گی۔

  • آرٹس کونسل کراچی میں 3 روزہ سندھ ادبی میلہ جاری

    آرٹس کونسل کراچی میں 3 روزہ سندھ ادبی میلہ جاری

    کراچی آرٹس کونسل میں چوتھا 3 روزہ سندھ ادبی میلہ جاری ہے۔ آرٹس کونسل کراچی میں تین روزہ سندھ ادبی میلے کے دوسرے روز جہاں ایک جانب سندھی ادب ،تاریخ اور تعلیمی اداروں کی صورتحال پر گفتگو ہوئی وہی ڈیجیٹل سندھ اور نوجوانوں کی اس شعبے میں کھپت پر سیر حاصل بحث و مباحثہ بھی کیا گیا۔ادبی میلے میں مختلف کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی اور اس کے علاوہ میلے میں سندھ کی تاریخ، تعلیم اور سیاست پر نشستیں جاری ہیں، رات میں میوزیکل ایونٹ بھی ہوگا ۔سندھ ادبی میلے میں جدید سندھ کے نوجوان اور ڈیجٹل سندھ کے سیشن میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جس میں مقررین نے تمام جامعات کو انکیوبیشن سینٹر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔

  • سندھ میں اہم شخصیات اور بااثر افراد کو کورونا ویکسین لگائے جانے کاانکشاف

    سندھ میں اہم شخصیات اور بااثر افراد کو کورونا ویکسین لگائے جانے کاانکشاف

    کراچی سندھ میں اہم شخصیات اور بااثر افراد کو فرنٹ لائن ورکرز ظاہر کرکے کورونا ویکسین لگائے جانے کاانکشاف ہوا، لوگوں کو ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل عملہ اور ایمبولینس ڈرائیور ظاہرکیا جارہا ہے۔سندھ میں اہم شخصیات اور بااثر افراد کو کورونا ویکسین لگائے جانے کاانکشاف سامنے آیا، کراچی میں بااثر افراد کو فرنٹ لائن ورکرز ظاہر کرکے کورونا ویکسین لگائی جارہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ویکسین کیلئے لوگوں کو ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل عملہ اور ایمبولینس ڈرائیور ظاہرکیا جاتا ہے.دوسری جانب مارچ کے 12 روز میں کراچی میں 1298 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے جبکہ 83 افراد کورونا وائرس سے جان کی بازی ہار گئے۔محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ افراد ضلع شرقی میں 574 کورونا وائرس کا شکار ہوئے، دوسرے نمبر پر ضلع جنوبی میں 235 افراد اور ضلع وسطی تیسرے نمبر پر رہا جہاں 158 افراد کورونا کا شکار ہوئے۔
    کورنگی میں 133 ،ملیر میں 126 افراد کورونا سے متاثر ہوئے جبکہ سب سے کم ضلع غربی میں 72 افراد کورونا میں مبتلا ہوئے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع شرقی میں 34 رپورٹ ہوئیں، ضلع وسطی میں 27، ضلع جنوبی میں 16 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے جبکہ ضلع ضلع غربی میں 3 ، کورنگی میں 2,اور ضلع ملیر میں 1 فرد کورونا سے انتقال کرگیا۔یادرہے سندھ میں دوسرے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی کورونا ویکسی نیشن جاری ہے ، چند روز قبل صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کرونا ویکسین لگوائی تھی۔خیال رہے پاکستان میں ساٹھ سال سےزائدعمرکے افرادکی ویکسی نیشن جاری ہے، ویکسین لگوانے کے خواہش مند افراد آن لائن رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔