Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ ہائیکورٹ: پولیس نے پی ایس ایل کے دوران سڑکیں کھلی رکھنے کی یقین دہانی کرادی

    سندھ ہائیکورٹ: پولیس نے پی ایس ایل کے دوران سڑکیں کھلی رکھنے کی یقین دہانی کرادی

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے پی ایس ایل کے دوران سڑکیں کھلی رکھنے کی پولیس کی یقین دہانی پر توہین عدالت کی درخواست نمٹادی سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان سپر لیگ کے دوران سڑکیں بند کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن و دیگر عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی جس پرعدالت نے پوچھا کہ سڑکوں سے متعلق کیا کہیں گے ؟ اس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ تمام سڑکیں کھلی ہوئی ہیں اور تمام کنٹینر ہٹا دیے گئے ہیں، صرف سوک سینٹر سے کارساز تک ایک روڈ جزوی طور پر بند ہے جہاں سے ایمرجنسی کی صورت میں جانے دیتے ہیں ایڈیشنل آئی جی کے جواب پر عدالت نے کہا کہ ٹریفک جام والی جگہوں پر پولیس کو تعینات کرایا جائے، شہر میں ہفتے کو اتنا ٹریفک جام تھا کہ کوئی پولیس والا نہیں تھا عدالت نے حکم دیا کہ ٹریفک جام والی جگہوں کی سخت نگرانی یقینی بنائی جائے بعد ازاں عدالت نے پولیس رپورٹس اور سڑکیں کھلی رکھنے کی یقینی دہانی پر درخواست نمٹادی۔

  • سندھ اسمبلی پی ٹی آئی والوں نے اپنے باغی ارکان کی پٹائی کردی

    سندھ اسمبلی پی ٹی آئی والوں نے اپنے باغی ارکان کی پٹائی کردی

    سندھ اسمبلی میں باغی ارکان کے آنے پر پی ٹی آئی کے پہلے سے موجود اراکین نے شور شرابا شروع کردیا اور آپس میں گتھم گتھا ہوگئے، پی ٹی آئی اراکین نے باغی اراکین کی خوب پٹائی لگائی جس پر پیپلزپارٹی اراکین بیچ بچاؤ کے لیے آگئے۔بعد ازاں اسپیکر نے ایوان میں ہلڑ بازی کے بعد اجلاس کل تک ملتوی کردیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کے لیے جمع ہوئے تو اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اور صحافیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی جس کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو نہیں کرسکے۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں منگل کو پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کریم بخش گبول،شہریارشراوراسلم ابڑو پیپلزپارٹی رہنما شرجيل ميمن کےساتھ ہال ميں داخل ہوئے۔ تينوں ارکان کےداخل ہوتے ہی پی ٹی آئی کےايم پی ايزنے انہيں گھيرليا۔ اس دوران شدید ہنگامہ آرائی اور پیپلزپارٹی اراکین اور پی ٹی آئی اراکین کےدرمیان تلخ کلامی ہوئی.

  • کراچی: سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی دہشتگرد گرفتار

    کراچی: سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی دہشتگرد گرفتار

    کراچی: سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی یونیورسٹی روڈ موسمیات چورنگی سے سندھ ریولشنری آرمی (ایس آر اے) کا مبینہ دہشتگرد گرفتار ملزم سجاد عرف ببلو سندھ ریولوشنری آرمی کا تربیت یافتہ دہشتگرد ہے ملزم کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ برآمد، دوران تفتیش ملزم کے انکشافات 19جون 2020 کو ملزم نے لیاقت آباد میں رینجرز موبائل پر حملے میں معاونت کی حملے میں ایک شخص جاں بحق ،رینجرز اہلکار سمیت 7افراد زخمی ہوئے
    8جولائی 2020کو ملزم نے ریٹائرڈ رینجرز افسر ملک عاشق کی دکان پر حملہ کیا حملے میں ریٹائرڈ رینجرز اہلکار جاں بحق ہوا14 اگست کو قیادت کے احکامات پر چائنیز وین پر حملے کی منصوبہ بندی کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چھاپوں کی وجہ سے عمل درآمد نہ ہوسکا نیاز لاشاری کی ہلاکت کے بعد قیادت نے بدلہ لینے کے احکامات دیئے ملزم اور اس کے ساتھی جاوید منگریو کی بشیر شر سے محمد خان گوٹھ میں ملاقات ہوئی ائیرپورٹ کے قریب ملیر کینٹ پر رینجرز کی چیک پوسٹ پر حملہ کا منصوبہ بنایا جاوید منگریو کی جانب سے ہینڈ گرنیڈ فراہم نہ کرنے کی وجہ سے حملہ ملتوی کردیا تین روز بعد لیاقت آباد میں رینجرز کی موبائل پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا 11اگست2020کو غازی گوٹھ میں واقع اسٹیٹ پر کارروائی کی منصوبہ بندی کی ساتھیوں کے ہمراہ مبینہ ٹاون پولیس اسٹیشن پر حملے کا منصوبہ بنایا سیکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے کارروائی ترک کرناپڑی جوہر کمپلیکس پر آزادی اسٹال پر حملے کی منصوبہ بندی کی
    فیملیز اور بچوں کی وجہ سے حملے کا ارادہ ترک کیا کراچی میں جشن آزادی کی ریلیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی سجاد شاہ عرف سوڈھو کی ہدایت پر ایس آر اے کی مختلف ٹیموں کو ہدایت کی گئی 14اگست پر ریلیوں میں ہینڈ گرنیڈ ، بوتل بم اور فائرنگ کرنی ہے، ہدایت ملی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کی لیکن ساتھیوں کی گرفتاری کی وجہ سے کام نہ ہوسکا وارداتوں میں بشیر شر ،سجاد منگریو، سجاد منگیجو، جاوید منگریو، امام بخش عرف اڈھو انقلابی، سارن میرانی، انیس تنیو، سجاد شاہ عرف سوڈھو سندھی بھی بالواسطہ شامل رہے، ترجمان سی ٹی ڈی

  • اسٹیل ٹاؤن سے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ موٹرسائیکل/رکشہ لفٹر ساتھی سمیت گرفتار

    اسٹیل ٹاؤن سے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ موٹرسائیکل/رکشہ لفٹر ساتھی سمیت گرفتار

    اسٹیل ٹاؤن سے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ کی وردی میں ملبوس موٹرسائیکل/رکشہ لفٹر ساتھی سمیت گرفتار۔پولیس نے دوران گشت نیشنل ہائی وے کے قریب کارروائی کی۔گرفتار ملزمان اسلحہ دکھا کر شہریوں سے چھینا جھپٹی کی وارداتوں میں بھی ملوث تھے ۔پولیس نے ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمد۔گرفتار ملزمان نے دوران انٹیروگیشن 20 سے زائد موٹرسائیکلیں تھانہ اسٹیل ٹاؤن اور شاہ لطیف کی حدود سے چوری کرنے کا انکشاف کیا۔گرفتار ملزمان سے چوری شدہ موٹرسائیکلوں کے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ایک اور کارروائی میں اسٹیل ٹاؤن پولیس نے ریتی بجری کی چوری کی کوشش ناکام بنا دی۔گرفتار ملزم سے ریتی سے بھرا ٹرک تحویل میں لے لیا گیا۔گرفتار ملزمان کیخلاف مقدمات درج تفتیش جاری۔گرفتار ملزمان میں مجیب الرحمن، عرفان اور عمران شامل ہیں۔

  • سندھ میں کورونا صورتحال میں بہتری، پابندیوں میں مزید نرمی، نیا نوٹیفکیشن

    سندھ میں کورونا صورتحال میں بہتری، پابندیوں میں مزید نرمی، نیا نوٹیفکیشن

    کراچی سندھ میں کورونا صورتحال میں بہتری کے بعد لاک ڈاؤن میں لگائی گئیں پابندیوں میں مزید نرمی کردی گئی تاہم انڈور شادیوں،انڈور ڈائننگ اورسینما کھلنے کے بارے میں 10 مارچ کو این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ نے کورونا ایس او پیز سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام تجارتی مراکز اور پارکوں کے کھلنے اور بند ہونے کی وقت کی پابندی سمیت پچاس فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرانے کی پابندی ختم کردی گئی ہے نوٹیفکیشنن میں کہا ہے کہ تمام ہوٹلز بھی آوٹ ڈور ڈائنگ جاری رکھ سکتے ہیں تاہم بوفے سروس کی اجازت بھی نہیں دی گئی جبکہ انڈور شادیوں ،انڈور ڈائننگ اورسینما کھلنے کے بارے میں 10 مارچ کو این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ شادیوں میں 300افراد کو شرکت کی اجازت ہوگی اور رات دس بجے تک شادی کی تقریبات کی جاسکتی ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے علاقے جہاں کرونا کے کیسسز زیادہ رپورٹ ہوں گے وہاں مقامی انتظامیہ اسمارٹ لاک ڈائون لگا سکے گی ، محکمہ داخلہ کی نئی ہدایات کا اطلاق 31 مارچ تک نافذ العمل ہوگا۔

  • بلاول بھٹو زرداری کا سینیئر صحافی محمد طاہر صدیقی سے تعزیت کا اظہار

    بلاول بھٹو زرداری کا سینیئر صحافی محمد طاہر صدیقی سے تعزیت کا اظہار

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا سینیئر صحافی محمد طاہر صدیقی سے تعزیت کا اظہار پی پی پی چیئرمین نے محمد طاہر صدیقی سے ان کے والد کی رحلت پر افسوس و دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم کے لیئے جنت الفردوس اور لواحقین کے لیئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.

  • تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی اسلم ابڑو نے اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا

    تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی اسلم ابڑو نے اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا

    تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی اسلم ابڑو نے اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔اپنے ویڈیو بیان میں اسلم ابڑو نے کہا کہ سينيٹ انتخابات ميں ووٹ صرف ضمير کی آواز پر ہی دوں گا۔ افسوس ہے اپنے شہر کے لیے کچھ نہيں کر پايا اگر پی ٹی آئی سندھ پر توجہ ديتی تو اچھا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ آئین بھی مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دو اپنے اغواء سے متعلق اسلم ابڑو نے کہا کہ خرم شیر زمان کی جانب سے میرے اغواء کا دعویٰ درست نہیں کیونکہ میں دودھ پیتا بچہ تو نہیں جو مجھے کوئی گاڑی میں بٹھا دے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے تین ایم پی ایز کو کراچی سے اغواء کرلیا گیا ہے اور ان اراکین میں اسلم ابڑو، شہریارشر اور کریم بخش گبول شامل ہیں۔خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ تینوں اراکین گزشتہ روز ان کے ہمراہ تھے تاہم اب ان سے رابطہ بلکل منقطع ہوگیا ہے.

  • سندھ ہائی کورٹ میں پی ایس ایل کے دوران سڑکیں بند کرنے سے متعلق  کیس کی سماعت ہوئی

    سندھ ہائی کورٹ میں پی ایس ایل کے دوران سڑکیں بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن و دیگر عدالت میں پیش ہوئے ،ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے رپورٹ پیش کردی گئی ،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ جو بچہ ڈکیتی کے دوران جاں بحق ہوگیا تھا اسکے بارے میں بتائیں، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک ملزم گرفتار ہو چکا ہے ،آج شناخت پریڈ ہے ،جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک موبائل چھیننے پر ایک بندے کی جان چلی گئی،ٹینکر خراب ہونے سے پورا سپر ہائی وے بلاک ہو جاتا ہے، ایڈیشنل آئی نے عدالت میں بیان دیا کہ تین ملزمان گرفتار ہوئے ہیں،سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری رہیں گی، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ سڑکوں کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ تمام سڑکیں کھلی ہوئی ہیں تمام کنٹینر ہٹا دئیے گئے،عدالت نے کہا کہ ٹریفک جام والی جگہوں پر پولیس کو تعینات کرایا جائے،ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا کہ ہم نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت جاری کی ہوئی ہیں ،کراچی میں منشیات کا مسئلہ ہے، منشیات کا تعلق کرائم سے ہے، بچےکے قتل میں گرفتار ملزم منشیات کاعادی ہے،عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سے استفسار کیا کہ منشیات کی زیادہ سے زیادہ سزا کتنی ہے؟ عدالت کو جواب دیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ سزا سزائے موت ہے جس پر عدالت نے کہا کہ کم سزا ہوئی ہے تو نظر ثانی کی اپیل دائر کریں، پورا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ ہے،آپ کا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کام ہی نہیں کرتا ہے ،دوسروں پر الزامات مت لگائیں اپنے محکموں کو مضبوط کریں، منشیات کی کیسز میں 99 فیصد سزائیں ہوتی ہیں ایڈیشنل آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ اگر لگا دوسروں پر الزام لگ رہا ہوں تو معذرت کرتا ہوں، جس پر جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ ہفتے کو اتنا ٹریفک جام تھا کوئی پولیس والا نہیں تھا لوگ ڈر کے مارے اپنے موبائل فون گاڑی کی سیٹ کے نیچے رکھتے ہیں تمام ایس ایچ اوز جہاں ٹریفک جام ہوتا ہے وہاں نفری تعینات کریں،ٹریفک جام والی جگہوں کی نگرانی یقینی بنائی جائے اور سیکیورٹی انتظامات کئے جائیں پولیس اپنی تفتیش کے نظام کو بھی بہتر بنائے ،عدالت نے پولیس رپورٹس اور سڑکیں کھلی رکھنے کی یقینی دہانی کے بعد درخواست نمٹادی.

  • کراچی میں لوگ ڈر کے مارے اپنے موبائل فون گاڑی کی سیٹ کے نیچے رکھتے ہیں،عدالت کے ریمارکس

    لوگ ڈر کے مارے اپنے موبائل فون گاڑی کی سیٹ کے نیچے رکھتے ہیں،عدالت کے ریمارکس

    سندھ ہائی کورٹ میں پی ایس ایل کے دوران سڑکیں بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن و دیگر عدالت میں پیش ہوئے ،ایڈیشنل آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے رپورٹ پیش کردی گئی ،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ جو بچہ ڈکیتی کے دوران جاں بحق ہوگیا تھا اسکے بارے میں بتائیں، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک ملزم گرفتار ہو چکا ہے ،آج شناخت پریڈ ہے ،جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک موبائل چھیننے پر ایک بندے کی جان چلی گئی،ٹینکر خراب ہونے سے پورا سپر ہائی وے بلاک ہو جاتا ہے، ایڈیشنل آئی نے عدالت میں بیان دیا کہ تین ملزمان گرفتار ہوئے ہیں،

    سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری رہیں گی، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ سڑکوں کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ تمام سڑکیں کھلی ہوئی ہیں تمام کنٹینر ہٹا دئیے گئے،عدالت نے کہا کہ ٹریفک جام والی جگہوں پر پولیس کو تعینات کرایا جائے،ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا کہ ہم نے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت جاری کی ہوئی ہیں ،کراچی میں منشیات کا مسئلہ ہے، منشیات کا تعلق کرائم سے ہے، بچےکے قتل میں گرفتار ملزم منشیات کاعادی ہے،

    عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سے استفسار کیا کہ منشیات کی زیادہ سے زیادہ سزا کتنی ہے؟ عدالت کو جواب دیا گیا کہ زیادہ سے زیادہ سزا سزائے موت ہے جس پر عدالت نے کہا کہ کم سزا ہوئی ہے تو نظر ثانی کی اپیل دائر کریں، پورا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ ہے،آپ کا پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کام ہی نہیں کرتا ہے ،دوسروں پر الزامات مت لگائیں اپنے محکموں کو مضبوط کریں، منشیات کی کیسز میں 99 فیصد سزائیں ہوتی ہیں

    ایڈیشنل آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ اگر لگا دوسروں پر الزام لگ رہا ہوں تو معذرت کرتا ہوں، جس پر جسٹس امجد علی سہتو نے کہا کہ ہفتے کو اتنا ٹریفک جام تھا کوئی پولیس والا نہیں تھا لوگ ڈر کے مارے اپنے موبائل فون گاڑی کی سیٹ کے نیچے رکھتے ہیں تمام ایس ایچ اوز جہاں ٹریفک جام ہوتا ہے وہاں نفری تعینات کریں،ٹریفک جام والی جگہوں کی نگرانی یقینی بنائی جائے اور سیکیورٹی انتظامات کئے جائیں پولیس اپنی تفتیش کے نظام کو بھی بہتر بنائے ،عدالت نے پولیس رپورٹس اور سڑکیں کھلی رکھنے کی یقینی دہانی کے بعد درخواست نمٹادی

  • پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان ٹوئٹر پر سینٹ سے متعلق بیان

    پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان ٹوئٹر پر سینٹ سے متعلق بیان

    پی ٹی آئی رہنماء خرم شير زمان ٹوئٹر بیان.سینیٹ میں سب سے بڑی منڈی سندھ میں لگی ہوئی ہے،جمہوریت کے دعویدار آئین و قانون کو روندتے ہوئے ذاتی مفادات کے لیے ضمیر فروشی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں،سندھ کے لوگوں کا لوٹا ہوا پیسہ ضمیر خریدنے پر لگایا جارہا بنارسی ٹھگوں کے استاد سندھ کے مستقبل پر سیاہ دھبا ہیں لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور خرید و فروخت کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کرانے کا سلسلہ جاری ہے، پی پی سندھ میں ہمیشہ چور اقتدار کے لیے چور دروازے ڈھونڈتی رہی ہے، پی پی سرپرائز کے لیے تیار رہے عمران خان کی قیادت میں اس نظام کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی.