ین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لیے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے اور پیپلز پارٹی کے بعد پاکستان تحریک انصاف بھی کراچی میں سرگرم ہو گئی ہے۔پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں ایڈجسٹمنٹ کے امکانات پر پی ٹی آئی بھی سرگرم ہو گئی ہے اور تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں اتحادیوں کو شرکت کی دعوت دی گئی جس میں جی ڈی اے کے صدرالدین شاہ راشدی، حسنین مرزا، شہریار مہر اور دیگر شریک ہوئے مگر مدعو کیے جانے کے باوجود ایم کیو ایم پاکستان کے کسی رکن نے شرکت نہیں کی۔سینیٹ الیکشن پاکستان میں کاروبار بن گیا ہے، اسد عمرسینیٹ انتخابات، پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کیلئے 2 نشستوں پر امیدوار دستبردار کرنے پر رضامند دوسری جانب سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پیشکش پر ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سوچ بچار کے لیے آج شام رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس بلا لیا گیا ہے۔متحدہ قیادت نے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو کراچی پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے، اراکین اسمبلی کو تین روز تک کراچی میں مخصوص مقامات پر ٹھہرایا جائے گا اور تمام اراکین ووٹ ڈالنے ایک ساتھ اسمبلی پہنچیں گے۔ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ عمران خان پر عدم اعتماد کے مترادف ہو گا اور اس حوالے سے ایم کیو ایم اراکین کی رائے ہے کہ سینیٹ کی دو نشستوں کے لیے اتحاد قربان نہیں کیا جاسکتا۔
Category: کراچی
-

این اے 249 میں متوقع ضمنی الیکشن یوسی کے کارکنان و جیالوں سے ملاقات اور الیکشن کمپین کے حوالے سے بریفنگ.
آج مورخہ 27 فروری کو این اے 249 میں متوقع ضمنی الیکشن کے حوالے سے سابق صدر کراچی ڈیویژن اور انچارج الیکشن سیل کراچی نجمی عالم اور رابطہ سیکرٹری کراچی ڈیویژن عابد ستی کی دوارے روز بھی این اے 249 آمد اور یوسی 31، یوسی 32، یوسی 33 کے کارکنان و جیالوں سے ملاقات اور الیکشن کمپین کے حوالے سے بریفنگ… اس موقع پر جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ ویسٹ علی احمد جان، منیر خٹک، جنرل سیکرٹری پی ایس 115 آصف موسیٰ ، انفارمیشن سیکرٹری پی ایس 115 جمشید ترین، سابقہ امیدوار این اے 249 قادر خان مندوخیل، صدر پیپلز یوتھ پی ایس 115 خرم شریف، سینئر رہنما سلام آفریدی، راجہ حق نواز، اعظم شاہ، حنیف انگاریہ، کریم شانی،حاجی موسیٰ سموں، الطاف حالی، زبیر لاشاری، منیر آکاش، انجم عباس بھٹی،زاکر گجر، عامر لہری، راجہ شیراز و دیگر کارکنان و جیالے موجود..
-

کراچی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ملزم۔ واحد حسین
کراچی : سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ملزم واحد حسین کی جے ائی ٹی رپورٹ میں مزید اہم انکشافات کراچی : نارتھ ناظم آباد سیکڑ کا کارکن سلیم بیلجیئم ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا سرغنہ کیسے بنا ؟ کراچی : مفرور ملزم سلیم بیلجیئم اپنے ساتھی کے ہمراہ کراچی چھوڑ کر بینک کوک روانہ ہوئے ، جے ائی ٹی رپورٹ کراچی : بینک کوک سے یوگنڈا اور پھر بیلجیئم میں اسائلم لیا گیا ، رپورٹ کراچی : 5 سال گزارنے کے بعد مفرور ملزم سلیم بیلجیئم نے اپنی بیوی ، بچہ اور رشتہ دار کو بیلجیم بلوایا ، رپورٹ کراچی : 2013 میں سلیم بیلجیئم نے سلیم شہزاد کے ہمراہ ساوتھ افریقہ کا دورہ کیا کراچی : 1 سال میں سلیم بیلجیئم تھائی لینڈ ، برطانیہ ، افریقہ ، فرانس اور یورپ دس سے پندہ بار لازمی جایا کرتا تھا ، رپورٹ کراچی : سلیم بیلجئیم کی 2005 میں بانی ایم کیو ایم سے ملاقات ہوئی ، رپورٹ کراچی : سلیم بیلجیم نے بھارتی تاجر سنجے سے گہرے تعلقات قائم کیئے ، رپورٹ کراچی : دہلی کا تاجر سنجے چمڑے کا کاروبار کیا کرتا تھا، رپورٹ کراچی : سلیم بیلجیئم کی آدھی فیملی بھارت کے شہر جے پور میں آباد ہوئی ، رپورٹ کراچی : 2008 میں سلیم بیلجیئم کی کراچی واپسی ہوئی ، رپورٹ کراچی : سلمان بلوچ کی سرپرستی میں 9 افراد پر مشتمل کلنک ٹیم تیار کی گئی ، رپورٹ کراچی : سلیم بیلجئیم نے 22 اگست کے بعد 16 افراد پر مشتمل ٹارگٹ کلنگ ٹیم بنائی ، رپورٹ کراچی : ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا مقصد ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کی لیڈر شپ اور کارکنان کو نشانہ بنانا تھا ، رپورٹ کراچی : ٹارگٹ کلنگ ٹیم نے شہر میں 4 اہم دہشتگردانہ کاروائیاں کی ، رپورٹ کراچی : ویلکم ٹریول کے نام سے بنائی جانے والی ٹریول ایجنسی کے ذریعے ٹکٹوں کا بندوبست کیا جاتا ، رپورٹ کراچی : آر ائی اے نامی کمپنی فنڈز کی منتقلی حوالہ / ہنڈہ کے ذریعے کی جاتی ، رپورٹ کراچی : عارف اجاکیا نامی کارندہ بیلجیئم میں پیسہ لے کر جعلی دستاویزات بناتا تھا ، رپورٹ کراچی : حوالہ ہنڈی کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ ٹیم کو رقم کی منتقلی کی جاتی تھی ، رپورٹ کراچی : ایم کیو ایم لندن کے سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ سلیم بیلجیئم سے پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ۔ پارٹی کئی عرصہ قبل ہی سلیم بیلجیئم کو نکال چکی ہے ۔
-

گرمی سے پہلے ہی کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار لگا
گرمی سے پہلے ہی کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار لگا
باغی ٹی وی : کراچی کے لوگ گرمی کی آمدن سے پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہوگئے . اگر حالات اب ایسے ہیں تو گرمیوں کیا صورت حال ہوگی .
شہری مشکلات سے کیسے چھٹکاراپائیں گے بدقسمتی سے واٹربورڈ کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے ۔اس صورت حال کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجنے لگی، شہر قائد کے اہلیان کے لیے جہاں بہت سے مسائل ہیں وہاں پینے کا پانی کی قلت اور عدم فراہمی بھی بہت بہت بڑا مسئلہ ہے ت۔ ہردن بڑھتے ہوئے کراچی کو یومیہ پانی کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے اور ایسے میں کے فورسمیت فراہمی آب کے کسی اوراضافی ذریعہ کا شہر قائد کے لیے دورتک امکان نہیں۔
کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد ہے جبکہ دیگر ذرائع یہ آبادی دو کروڑ تک بتاتے ہیں . ہے۔ آبادی میں بڑھتا ہوا یہ سلسلہ تیزی سے وسائل کی محرومی کا شکار ہے . شہر کیلئےدرکار پانی کی طلب دن بدن بڑھ رہی ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ پندرہ سال سے شہرمیں پانی کی فراہمی میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
اسی لیے اب شہر کو اس کی ضرورت سے 56 فیصد پانی کم فراہم کیا جارہا ہے۔ کراچی کا تقریباً ہر دوسرا شہری پانی کے حصول کے لیے اپنا سکون،وقت اور پیسہ تینوں ہی صرف کر رہا ہے۔
کراچی کو اس وقت دو مختلف ذرائع سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک دریائے سندھ اور دوسرا حب ڈیم سے، اور وہ دونوں ہی شہر سے کم و بیش 150 کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ شہر میں پانی کی روزانہ ضروریات کا تخمینہ 1100 سے 1200 ملین گیلن ہے۔ لیکن ان دونوں ذرائع سے مجموعی طور پر کراچی کو550 سے 580 ملین گیلن کے لگ بھگ یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
فراہمی کے بوسیدہ نظام کی وجہ سے 174 ملین گیلن پانی ضائع ہو جاتا ہے اور بمشکل 406 ملین گیلن پانی ہی شہریوں کو میسر آتا ہےجو کہ شہرکی ضرورت کا محض 44 فیصد ہے۔
شہر کراچی کے باسیوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے درکار پانی کی طلب دن بدن بڑھ رہی ہے جب کہ دستیاب پانی کی مقدار میں کمی آ رہی ہے۔کراچی میں پانی کی قلت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً شہر کے ہر دوسرے شخص کو اس کی ضرورت کا پانی مل نہیں پا رہا، ایک طرف تو پانی کی قلت ہے اور دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی دستیابی کا بہت دشوار ہونا ہے،
13سال میں آبادی تیزی سے بڑھتی رہی، ضروریات کے مطالق پانی کی فراہمی میں اضافہ نہیں کیا گیا، قلت کے باعث پانی فروخت کا کاروبار بڑھنے لگا، اضافی پانی کی فراہمی کا منصوبہ ’’کے فور‘‘ تاخیر کا شکار ہے جبکہ شہری پانی کے حصول کے لئے اپنا سکون، وقت اور پیسہ تینوں ہی صرف کرنے پر مجبور ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 19برسوں سے شہر کی آباد ی میں سالانہ اوسطاً 2.4فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود 13 سال سے شہر میں پانی کی فراہمی میں کوئی
-

نیوکراچی سیکڑ الوین ایل میں جوڑے کا قتل پولیس نے معملہ حل کرلیا
نیوکراچی سیکڑ الوین ایل میں معمر جوڑےکےقتل واقعہ پولیس نے اندھےقتل کا معملہ حل کرلیا مقتول جمیل اور فرحت کوانکے قرض دار رفیع نےقتل کیا رفیع نےمقتول سےچودہ لاکھ روپے سودی قرض لیا تھا ،پولیس ملزم مقتول جمیل کو ماہانہ 72 ہزار ماہانہ ادا کرتا تھا کاروبار میں نقصان ہونےسےملزم رفیع پیسےادا نہں کررہا تھا مقتول کےباربار تقاضےسےپریشان ہوکر ملزم جمیل کےقتل کا منصوبہ بنایا ملزم پیسے ادا کرنے کے بہانے گھر گیا اورہتھوڑی سے جمیل کےسرپر وار کیے مقتول کی بیوی کے سامنے انے پر اس پر بھی وار کیےاور قتل کردیا ملزم نے اپنے حساب کی ڈائری اور چیک اور موبائل فون لیکرفرار ہوگیا ملزم نےبعد میں ڈائری جلا کر اورالہ قتل فلیٹ کےنالےمیں پھیک دیا پولیس نےملزم کی نشاہندہی پر الہ قتل برامد کروالیا
-

سندھ اسمبلی کے ارکان کی کراچی سے باہر جانے پر پابندی
جیسے جیسے سینیٹ انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے ہر جماعت اپنے امیدوار کی جیت کے لئے کوشاں اور اپنے ارکان پر نظر رکھتے ہوئے روابط کو تیز کررہی ہے۔ سینیٹ الیکشن میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپنے ارکان سندھ اسمبلی کے کراچی سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے تمام صوبائی وزراء کو کراچی سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی ہے اور ارکانِ سندھ اسمبلی کو عمومی سرگرمیاں بھی محدود رکھنے کا کہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی ارکانِ سندھ اسمبلی کو کراچی میں متحرک رکھنے کے لئے دعوتوں کا اہتمام کیا جائے گا، اس حوالےسے صوبائی صدر نثار کھوڑو 28 فروری کو سندھ سے سینیٹ امیدواروں اور ارکان اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے، یکم مارچ کو صوبائی وزیر امتیاز شیخ کی جانب سے دعوت کا انعقاد کیا جائے گا، جب کہ 2 مارچ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پیپلزپارٹی ارکانِ سندھ اسمبلی کو مدعو کیاگیا ہے۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی کی دو پارلیمانی جماعتوں لبیک پاکستان اور ایم ایم اے کے 4 ارکان سے بھی پیپلزپارٹی کی قیادت نے رابطہ کیا ہے، اور چاروں ارکان سے سینیٹ کی جنرل اور خواتین نشستوں پر ووٹ کی درخواست اور حمایت کی اپیل کی ہے۔
-

سندھ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے کورنگی کا انفرا سٹرکچر تباہ
یُوسی 36 کورنگی کرسچن ٹاؤن میں سیوریج کا کام جاری ہے۔ ممبر قومی اسمبلی فہیم_خان کے وفاقی ترقیاتی فنڈ اور ممبر صوبائی اسمبلی راجہ_اظہر_خان کی کاوشوں سے الحمدُاللہ کرسچن ٹاؤن کی سیوریج کی لائن کا کام ہورہا ہے اور اُن تنگ گلیوں میں بھی سیوریج لائن کا کام ہورہا ہے جہاں کوئی جاتا بھی نہیں تھا۔
آج الحمدُاللہ سے کورنگی ٹاؤن صدر راجہ_آصف_خان اور ایڈوائزر ٹو ممبر قومی اسمبلی اُویس_چوہدری نے کرسچن ٹاؤن کا دُورہ کیا اُنکے ہمراہ کورنگی ٹاؤن ایڈیشنل جنرل سیکریٹری جمیل قادری بھی تھے۔اور یُوسی 36 کے ذِمہ دار فراست علی سے کرسچن ٹاؤن کے سیوریج کے مسائل پر تفصیلی بات چیت بھی کی گئی۔اس موقعہ پر کورنگی ٹاؤن کے صدر راجہ_آصف_خان اور ایڈوائزر چوہدری_اُویس کا کہنا تھا کے بِلا تعصب ہمارے ممبر قومی و صوبائی اسمبلی ہر علاقے پر گہری نظر رکھتے ہیں اور کورنگی کی بربادی کی ذِمہ دار سندھ گورنمنٹ اور بلدیاتی ادارے جو کے کراچی کے دعوے دار کہلاتے ہیں آج ان دعوے داروں نے سُوچی سمجھی سازش کے تحت کراچی اور کورنگی کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے پورا انفرا اسٹرکچر تباہی کیطرف ہے ۔اب وفاق کے تعاون سے جو بھی کام ہورہے ہیں وہ ایک مثبت قدم ہے اور وزیر اعظم عمران خان جو کراچی کی عوام کا درد رکھتے ہیں اُنھوں نے ہے ایم این ایز کو فنڈ دیا خُواہ وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ اور کام علاقوں میں نظر آرہے ہیں۔ لیکن سندھ گورنمنٹ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے اور اتنا نہیں ہوا کے سندھ کے ہر صوبائی اسمبلی ممبرز کو کچھ نہ کچھ فنڈ دیا جاتا۔ تاکے کراچی میں کام ہوتے نظر آتے۔ -

سوئی سدرن گیس انتظامیہ ملازمین کیخلاف کارروائی سے اجنتاب کرے، وقار مہدی
Whatsapp
پیپلزپارٹی سندھ کےجنرل سکریٹری اور وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ ملازمین کو ہراساں نہ کرے اور اُن ہتھکنڈوں سے باررہے جو پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے سی کی انتظامیہ نے ملازمین کے خلاف استعمال کئے۔انھوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کی انتظامیہ لوئر رینکنگ اسٹاف اور افسران کو بلاوجہ ڈسپلینری ایکشن کے نام نوٹس کے ذریعے خوف زدہ کررہی ہے جس سے ملازمین میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دفتر میں آپس میں کی جانے والی گفتگو کو بھی جواز بنایا جارہا ہے جس کی مثال کسی بھی دوسرے ادارے میں نہیں ملتی۔ -

سینیٹ انتخابات، پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کیلئے 2 نشستوں پر امیدوار دستبردار کرنے پر رضامند
پاکستان پیپلزپارٹی نے سینیٹ انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کیلئے 2 نشستوں پر اپنے امیدوار دستبردار کرانے پر رضامندی ظاہر کردی۔پیپلزپارٹی کا وفد ایم کیوایم پاکستان مرکز بہادرآباد پہنچا جس میں ناصر حسین شاہ، شرجیل میمن، مرتضیٰ وہاب اور وقار مہدی شامل تھے۔ایم کیو ایم رہنماؤں اور پی پی وفد کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔
وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ کا کہنا تھاکہ ایم کیوایم کی دو نشستوں کیلئے اپنے امیدوار دستبردار کرانے کو تیار ہیں لیکن متحدہ کو بھی یوسف رضا گیلانی والی نشست پر مدد کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھاکہ بلاول بھٹو کی ہدایت پر یہاں آئیں ہیں، متحدہ نے کہا ہے کہ ہماری گزارشات کو رابطہ کمیٹی میں رکھیں گے۔ناصر حسین کا کہنا تھاکہ پنجاب میں تحریک انصاف بہت خوفزدہ تھی، تحریک انصاف کے امیدواروں پر ان کے ہی اراکین کو تحفظات تھے۔ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کا کہنا تھاکہ مرکز آمد پر پیپلزپارٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، تاخیر سے ہی صحیح لیکن پیپلزپارٹی نے گزارشات رکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے درخواست کی ہے کہ شہری سندھ سے احساس محرومی کو دور کیا جائے۔عامر خان کا کہنا تھاکہ احساس شراکت اور بلدیاتی اداروں کا بھی مسئلہ ہے، سینیٹ کا وقت تو گزر جائے گا لیکن مسائل حل کرنا ہوں گے۔
-

ڈی ایس پی اور دیگر اہلکاروں کے سامنے سانپ مارا، حلیم عادل نے بیان ریکارڈ کرالیا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کراچی پولیس کے افسران کو اپنا بیان ریکارڈ کرالیا۔حلیم عادل شیخ نے سینیئر سپرٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سٹی سرفراز نواز اور ایس ایس پی کورنگی فیصل چاچڑ کو بیان دیا۔حلیم عادل نے اپنے بیاں میں کہا کہ کمرے کے ساتھ ہی باتھ روم کے باہر سانپ برآمد ہوا جس پر انھوں نے پہلے چپل ڈھونڈی پھر سامنے چوکھٹ کی لکڑی کا ٹکڑا ملا۔ان کا کہنا تھاکہ الماری سے گرنے والے برتنوں کا شور سن کر ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) اور دیگر اہلکار آئے جب ڈی ایس پی اور عملہ کمرے میں آیا تو سانپ زندہ تھا اور ان سب کے سامنے سانپ مارا۔ میرے کمرے میں 4 فٹ لمبا کالا ناگ چھوڑا گیا: حلیم عادل شیخ حلیم عادل کا کہنا تھا کہ میں نے ڈی ایس پی کو کہا کہ اس کی ویڈیو اور تصاویر اپنے افسران کو بھیجیں۔انہوں نے کہا کہ باتھ روم کی چھت میں تین سے چار انچ کا سوراخ تھا، افسران نے بتایا ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں لیکن کمرے کے باہر کوریڈور اور سیڑھیوں پر کوئی کیمرا نہیں تھا۔پی ٹی آئی رہنما نے بیان میں مزید کہا کہ پولیس افسران کی اجازت سے گھر سے کھانا منگوانا شروع کیا تو افسران نے کھانا چیک کرانے اور ایک سپاہی کو ساتھ کھلانے کی ہدایت کی، تین مقامات پر تلاشی کے بعد کھانا پہنچایا جاتا تھا۔
