Baaghi TV

Category: کراچی

  • تحریک انصاف کے 3 ارکان اسمبلی کو اغوا کرلیا گیا، خرم شیر زمان کاالزام

    تحریک انصاف کے 3 ارکان اسمبلی کو اغوا کرلیا گیا، خرم شیر زمان کاالزام

    XDتحریک انصاف سندھ نے 3ارکان اسمبلی کے اغوا کا الزام لگادیا.پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے دیگررہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ارکان اسمبلی سے ہمارا رابطہ نہیں ہو رہا ہے،ایم پی اے کی آخری لوکیشن الگ الگ علاقوں سے آرہی ہیں ،ایم پی ایز کی فیملی پریشان ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ ہمارے ارکان کو فون کرکے دھمکایا جارہا ہے،ہم نے پولیس کو بھی اس معاملے سے آگاہ کردیا ہے،ہمارے ایک رکن اسمبلی کریم بخش گبول کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے،کریم بخش گبول سے بھی ڈرا کر بیان کرایاگیا ہے،کریم بخش گبول اور دیگرایم پی اے کہاں ہیں معلوم نہیں؟ہمیں کریم بخش گبول پر یقین ہے وہ اپنی وفاداری نہیں بیچ سکتا۔خرم شیر زمان نے کہاکہ اس وقت صوبہ سندھ میں صورتحال بہت خراب ہے، وزیراعظم کو پہلے بھی اس حوالے سے آگاہ کیاگیاہے،انہوں نے کہاکہ ہمارے ایم پی اے راجا اظہراوردیگر کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے ،ہمیں خطرہ ہے، اگر کسی کو نقصان پہنچا تو سندھ حکومت ذمہ دار ہوگی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ ہم آج کے فیصلے پر سپریم کورٹ اور عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،آج آصف زرداری کو بڑا دھچکا لگا ہے،سینیٹ کے پچھلے الیکشن میں لوگوں کے ضمیر خریدے گئے ،اب جو ضمیر بیچے گا کم سے کم اس کا پتہ چل جائے گا ۔

  • لیاری نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے اس پر پورا اتریں گے، وزیراعظم

    لیاری نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے اس پر پورا اتریں گے، وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لیاری نےپی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہےاس پرپورا اتریں گے ‏کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے، کراچی پیکج شہر کو تبدیل کر دےگا۔ تفصیلات کے مطابق لیاری سے منتخب پی ٹی آئی ایم این اے شکور شاد نے اسلام آباد میں ‏وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیرپلاننگ اسدعمربھی شریک ہوئے۔شکورشاد نے وزیراعظم عمران خان کو لیاری کےمسائل سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبات سامنے رکھے۔ ‏شکور شاد نے کہا کہ لیاری میں نادرا کا میگا سینٹر قائم کیاجائے اور گیس کی بوسیدہ لائنز کو ‏تبدیل کیا جائے۔ شکورشاد نے مطالبہ کیا کہ آرسی ڈی شاہراہ سنگل ٹریک ہونےسےحادثات کاسبب بن رہی ہے ‏حادثات کی روک تھام کیلئےفوری اقدامات کئےجائیں۔ ‏ وزیراعظم عمران خان نے تمام مطالبات پر عملدر آمد کرانےکی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ لیاری ‏نےپی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہےاس پرپورا اتریں گے کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے، کراچی پیکج ‏شہر کو تبدیل کر دےگا۔ وزیراعظم سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ممبران قومی اسمبلی گل داد خان، گل ظفر خان، جواد حسین، ‏محمد اقبال آفریدی اور ساجد خان، عُظمی ریاض، ظل ہما، نفیسہ خٹک، شاندانہ گلزار ، فوزیہ ارشد ‏اور محترمہ سائرہ بانو سمیت دیگر کئی ارکان نے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

  • خرم شیر زمان کا سپریم کورٹ کےسینٹ انتخابات پرصدارتی آرڈیننس کےفیصلے پر بیان

    خرم شیر زمان کا سپریم کورٹ کےسینٹ انتخابات پرصدارتی آرڈیننس کےفیصلے پر بیان

    ‏پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان کا سپریم کورٹ کےسینٹ انتخابات پرصدارتی آرڈیننس کےفیصلے پر بیان سینٹ انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں، عادت سے مجبور اپوزیشن نے عدالتی فیصلے کو پڑھے بغیر ہی بیان بازی شروع کردی‏الیکشن کمیشن کورٹ کےفیصلےپرعملدرآمد کرتےہوئےانتخابات کاعمل شفاف بنائےگا، اپوزیشن ڈھول نہ بجائےبلکہ اپنےاراکین کی فکرکرے،‏فیصلے میں واضح ہےانتخابات کی شفافیت کیلئےالیکشن کمیشن ہر ممکن اقدامات کرے، ہمیں یقین ہےاپوزیشن سینٹ میں اپنےسیاسی گھوڑوں کو نہیں دوڑاسکےگی، اپوزیشن کے سیاسی گھوڑے عوام کی نمائندگی کیلئے نہیں بلکہ مال بنانے ایوان میں پہنچے گے، ٹیکنالوجی ہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ کا واحد ذریعہ ہے اوپن بیلٹ تجویز پی ٹی آئی کی کرپشن فری آئیڈیالوجی کی عکاسی ہے، ہمیں کپتان کاکھلاڑی و پارٹی کےنظریاتی ہونےپر فخرہے۔

  • میں جا رہا ہوں مجھے تیرا چچا بھی نہیں روک سکتا،معروف سیاسی شخصیت کے رشتہ دار کی ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی

    میں جا رہا ہوں مجھے تیرا چچا بھی نہیں روک سکتا،معروف سیاسی شخصیت کے رشتہ دار کی ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی

    کراچی میں ایک شخص کی ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس کے بعد ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ ویڈیو ٹریفک پولیس کے افسر نے خود بنائی ہے اور ان کے مطابق مذکورہ شخص کو گاڑی کے بلیک شیشوں کی وجہ سے روکا گیا تھا اس ویڈیو میں مذکورہ شخص کو ٹریفک پولیس کے شناختی کارڈ مانگنے اور گاڑی کے بلیک گلاسز پر سوال پوچھنے پربحث کرتے دیکھا جا سکتا ہے اور وہ شخص خود کو گورنر کا رشتہ دار بتاتا ہے-


    ویڈیو کے آغاز میں پولیس اہلکارنے شخص کو روکاتو اس سے شناختی کارڈ کا مطالبہ کیا جس پر اس شخص نے شناختی کارڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہتا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے-

    جس پر اہلکار نے شخص سے پوچھا کہ جیٹ گلاسز ہیں آپ کی گاڑی کے کیا اس کا اجازت نامہ ہے آپ کے پاس جس پر اس شخص نے کہا کہ یہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہیں ان کا کل پرمیشن لیٹر مل جائے گا آپ کو میں نے اپلائی کیا ہے میں نے گورنر ہاؤس میں کر دی ہے اطلاع-

    تاہم پولیس اہلکار نے کہا کہ ابھی چالان ہو گا اور ٹینٹ ہٹایا جائے گا ورنہ گاڑی کو بند کر دیا جائے گاجس پر شخص نے کہا کہ چالان نہیں کیا جائے گا تاہم گاڑی میں سائیڈ پر کھڑی کر دیتا ہوں مجھے رسید بنا دیں-

    بعد ازاں خود کو گورنر کا رشتہ دار بتانے والے شخص نے گاڑی کو سائیڈ پر کھڑی کر کے چابی اہلکار کے حوالے کر دی جس پر پولیس اہلکار اس شخص کو کہا کہ یہ چابی انہوں نے اپنی مرضی سے ان کے حوالے کی ہے اور آپ گاڑی کے ساتھ یہاں موجود رہیں گے-

    جس پر اس شخص نے پولیس اہلکار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں جا رہا ہوں یہاں سے مجھے چچا بھی نہیں روک سکتا تیرا میں جا رہا ہوں یہاں سے میری دوسری گاڑی آ رہی ہے-

    پولیس اہلکار نے کہا چچا بھتیجے کی بات نہیں ہو رہی یہاں آپ سے صرف عرض ہے کہ آپ کی گاڑی کے جیٹ گلاسز ہیں آپ گاڑی کی رسید ، لائسنس یا شناختی کارڈ دے دیں جس پر اس شخص نے کہا کچھ نہیں ہے میرے پاس آپ رسید دے دیں-

  • معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لئے خدمات، دنیا کے لئے ایک مثال

    معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لئے خدمات، دنیا کے لئے ایک مثال

    گزشتہ روز معروف سماجی کارکن عبد الستار ایدھی کا یوم پیدائش منایا گیا۔

    باغی ٹی وی :عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کپڑےکے تاجر تھے جو متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے وہ پیدائشی لیڈر تھے اور شروع سے ہی اپنے دوستوں کے چھوٹے چھوٹے کام اور کھیل تماشے کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

    جب ان کی ماں ان کو اسکول جاتے وقت دو پیسے دیتی تھی تو وہ ان میں سے ایک پیسہ خرچ کر لیتے تھے اور ایک پیسہ کسی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کے لیے رکھ لیتے گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنی ماں کی دیکھ بھال کا کام سنبھالا جو شدید قسم کے ذیابیطس میں مبتلا تھیں۔ چھوٹی عمر میں ہی انہوں نے اپنے سے پہلے دوسروں کی مدد کرنا سیکھ لیا تھا، جو آگے کی زندگی کے لیے کامیابی کی کنجی ثابت ہوئی۔

    1947ء میں تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوئے۔ 1951ء میں آپ نے اپنی جمع پونجی سے ایک چھوٹی سی دکان خریدی اور اسی دکان میں آپ نے ایک ڈاکٹر کی مدد سے چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی جنہوں نے ان کو طبی امداد کی بنیادی باتیں سکھائیں۔ اسکے علاوہ آپ نے یہاں اپنے دوستوں کو تدریس کی طرف بھی راغب کیا۔ آپ نے سادہ طرز زندگی اپنایا اور ڈسپنسری کے سامنے بنچ پر ہی سو لیتے تاکہ بوقت ضرورت فوری طور پر مدد کو پہنچ سکیں۔

    1957ء میں کراچی میں بہت بڑے پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی جس پر ایدھی نے فوری طور پر رد عمل کیا۔ انہوں نے شہر کے نواح میں خیمے لگواۓ اور مفت مدافعتی ادویہ فراہم کیں۔ مخیر حضرات نے انکی دل کھول کر مدد کی اور ان کے کاموں کو دیکھتے ہوئے باقی پاکستان نے بھی مدد کی امدادی رقم سے انہوں نے وہ پوری عمارت خرید لی جہاں ڈسپنسری تھی اور وہاں ایک زچگی کے لیے سنٹر اور نرسوں کی تربیت کے لیے اسکول کھول لیا، اور یہی ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز تھا۔

    آنے والوں سالوں میں ایدھی فاؤنڈیشن پاکستان کے باقی علاقوں تک بھی پھیلتی گئی۔ فلو کی وبا کے بعد ایک کاروباری شخصیت نے ایدھی کو کافی بڑی رقم کی امداد دی جس سے انہوں نے ایک ایمبولینس خریدی جس کو وہ خود چلاتے تھے۔

    آج ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس600 سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں، جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئیں ہیں۔ کراچی اور اندرون سندھ میں امداد کے لیے وہ خود روانہ ہوتے ہیں اور ایدھی فاؤنڈیشن کی حادثات پر ردعمل میں رفتار اور خدمات میونسپل کی خدمات سے کہیں زیادہ تیز اور بہتر ہے۔

    ہسپتال اور ایمبولینس خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن نے کلینک، زچگی گھر، پاگل خانے، معذوروں کے لیے گھر، بلڈ بنک، یتیم خانے، لاوارث بچوں کو گود لینے کے مراکز، پناہ گاہیں اور اسکول کھولے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ فاونڈیشن نرسنگ اور گھر داری کے کورس بھی کرواتی ہے۔

    ایدھی مراکز کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر ایدھی مرکز کے باہر بچہ گاڑی کا اہتمام ہے تا کہ جو عورت بچے کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اپنے بچے کو یہاں چھوڑ کر جا سکے۔ اس بچے کو ایدھی فاونڈشن اپنے یتیم خانہ میں پناہ دیتی ہے اور اس کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

    عبدالستار ایدھی صاحب کو بہت سے بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا۔

    1986ء عوامی خدمات میں رامون مگسےسے اعزاز Ramon Magsaysay Award ،1988ء لینن امن انعام lenin peace prize

    1992ء پال ہیریس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاونڈیشن Paul Harris Fellow RotaryInternational Foundation ،دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس – گینیز بک ورلڈ ریکارڈز (2000) ، ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات 2000ء متحدہ عرب امارات

    بین الاقوامی بلزان اعزاز 2000ء برائے انسانیت، امن و بھائی چارہ، اطالیہ ،انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری (2006) ، یونیسکو مدنجیت سنگھ اعزاز 2009ء ، احمدیہ مسلم امن اعزاز (2010)

    قومی اعزازات مندرجہ زیل ہیں۔

    کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ (1962–1987) ، حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمتگزار برائے بر صغیر کا اعزاز (1989) ، نشان امتیاز، حکومت پاکستان کا ایک اعلیٰ اعزاز (1989) ، حکومت پاکستان کے محمکہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز (1989)

    پاکستان سوک سوسائٹی کی جانب سے پاکستان سوک اعزاز (1992) ، پاک فوج کی جانب سے اعزازی شیلڈ ، پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے اعزازِ خدمت ، پاکستانی انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانسی حقوق اعزاز ، 26 مارچ 2005ء عالمی میمن تنظیم کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز (Life Time Achievement Award)

    عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016ء کو گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے 88 سال کی عمر میں رحلت کرگئے تھے پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انیس توپوں کی سلامی دی۔ ان کی میت کو گن کیرج وہیکل کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا۔

    انہوں نے وفات سے قبل یہ وصیت کی تھی کہ ان کے دونوں آنکھیں ضرورت مندوں کو عطیہ کر دی جائیں۔

  • وفاق اور سندھ حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے

    وفاق اور سندھ حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے

    سندھ حکومت نے پولیس سے ٹرانسفر کیے جانے والے پانچوں افسران کو چارج نہ چھوڑنے کا حکم دیاہے۔وفاق اور سندھ حکومت ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سندھ پولیس سے ٹرانسفر کیے جانے والے 20 گریڈ کے پانچوں افسران کو چارج نہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ صوبائی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ پانچوں افسران اپنے عہدوں پر کام جاری وفاقی حکومت کی جانب سے روٹیشن پالیسی کے تحت پانچوں افسران کا سندھ سے تبادلہ کیا گیا تھا۔ افسران میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ، اقبال دارا، منیر شیخ جونیئر، فدا مستوئی اور قمر زمان شامل ہیں۔صوبائی حکومت نے سوال اٹھایا ہے کہ کس میرٹ کے تحت روٹیشن پالیسی میں افسران کی تبدلی کی گئی ہے، اس سلسلے میں چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے وفاق کو خط لکھے جانے کا بھی امکان ہے۔

  • سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی درخواست ضمانت مسترد کردی

    سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی درخواست ضمانت مسترد کردی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی۔کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حلیم عادل شیخ کی دو مقدمات میں درخواست ضمانت پر پہلے سے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے دونوں مقدمات میں حلیم عادل شیخ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔دوسری جانب عدالت نے کیس میں نامزد سمیر شیخ سمیت دیگر 6 ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 50، 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف ملیر میمن گوٹھ تھانے میں مقدمات درج ہیں، حلیم عادل شیخ پر پی ایس 88 کے ضمنی الیکشن کے دوران کار سرکار میں مداخلت اور ہنگامہ آرائی سمیت دیگر الزامات ہیں۔

  • پیپلزپارٹی کی پیشکش پرایم کیوایم پاکستان کی باہمی مشاورت جاری ہے،

    پیپلزپارٹی کی پیشکش پرایم کیوایم پاکستان کی باہمی مشاورت جاری ہے،

    وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی پیشکش پرایم کیوایم پاکستان کی باہمی مشاورت جاری ہے، ایم کیوایم پاکستان کے دروازے تمام جماعتوں کیلئے کھلے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم کیوایم میں تمام فیصلے جمہوری طریقے سے ہوتے ہیں، ایم کیوایم سے بہت ساری جماعتیں مل رہی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان تحریک انصاف کی اہم اتحادی ہے تنظیمی مصروفیات کے باعث ایم کیوایم پاکستان کے ارکان مصروف تھے ایم کیوایم پاکستان پی ٹی آئی کے ظہرانے میں مصروفیت کے باعث شریک نہ ہوسکی مصروفیت سے متعلق پی ٹی آئی کوآگاہ کردیاتھا۔امین الحق نے کہا کہ ایم کیو ایم کا پی ٹی آئی سے معاہدہ ہے پی ٹی آئی سے جوبھی نامزدہوگااسے ووٹ دیاجائے گا ایم کیوایم کے نامزدامیدوارکوپی ٹی آئی کی طرف سے بھی ووٹ دیاجائے گا ایم کیوایم کے تمام ارکان پرپورایقین ہے قیادت کے کہنے پرہی ووٹ دیں گے۔

  • اہم وفاقی وزراء کو عہدے سے ہٹانے جانے کا امکان عمران خان

    اہم وفاقی وزراء کو عہدے سے ہٹانے جانے کا امکان عمران خان

    سینیٹ کے انتخابات کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان کئی وزراء کی کارگردگی سے خوش نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈیلیور نہ کرنے والے وزراء کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلیور اور کارکردگی ہی وہ چیزیں ہیں جس میں وزیراعظم دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ وہ کسی وجہ سے منصوبوں کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کے بعد بہانے سننے کو اچھا نہیں سمجھتے۔
    اہم وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم کو یہ احساس ہو گیا کہ پارٹی حلقوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔وزیراعظم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ وزراء کو کسی عذر پیش کیے بغیر کارکردگی دکھانا ہو گی ۔وزیر نے انکشاف کیا کہ کابینہ میں وہی لوگ رہیں گے جو کارگردگی دکھائیں گے۔

  • *کراچی کا معروف علاقہ ‘ڈینسوہال’ واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل*

    *کراچی کا معروف علاقہ ‘ڈینسوہال’ واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل*

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے اولڈ ایریاز کے معروف کاروباری علاقے ’ڈینسو ہال‘ کو بھی عام ٹریفک کے لیے بند کرکے واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کردیا گیا ’ڈینسو ہال‘ کی واکنگ اسٹریٹ کو لینڈ اسکیپ راہ گزر کا نام دیا گیا ہے اور اسے ثقافتی فلاحی تنظیم نے مختلف اداروں کی معاونت سے تیار کیا ڈینسو ہال راہ گزر کو ’ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان‘ نے کراچی کے اولڈ ایریاز اور قدیم عمارتوں کو محفوظ بنانے کے منصوبے کے تحت واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیا ڈینسو ہال کے علاقے کو واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیے جانے کے موقع پر 28 فروری کو وہاں 150 کے قریب درخت بھی لگائے گئے جب کہ راہ گزر میں کراچی کی 12 قدیم عمارتوں کے تیار کیے گئے ماڈل بھی رکھے گئے ہیں تاکہ پیدل چلنے والے افراد کراچی کی قدیم ثقافت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ مذکورہ منصوبے کے تحت واکنگ اسٹریٹ کو تیار کرنے کے لیے مکلی میں تیار کی گئی خصوصی ٹائلز لگائی گئی ہیں، جنہیں خواتین نے تیار کیا تھا۔ مکلی میں تیار کی گئی خوبصورت ٹائلز کو تیار کرنے والی خواتین کو بھی پہلے ’ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان‘ سے ٹائلز کی تیاری کی تربیت دی گئی تھی اس حوالے سے ’ہیریٹیج فاؤنڈیشن آف پاکستان‘ کی سربراہ یاسمین لاری نے بتایا کہ مکلی میں تیار کی گئی ٹائلز کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سیمنٹ کا استعمال نہیں کیا گیا بلکہ مذکورہ ٹائلز مٹی، ریت اور پتھر کے خام مال سے تیار کی گئی ہیں ان کے مطابق مذکورہ ٹائلز جہاں دکھنے میں خوبصورت ہیں، وہیں وہ ثقافت کو بھی پیش کرتی ہیں جب کہ ان ٹائلز کی تیاری سے قبل ان کا ٹیسٹ سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کی لیبارٹریز میں بھی کیا گیا۔ ڈینسو ہال کو واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیے جانے سے قبل وہاں درخت لگائے گئے تھے اور 28 فروری کو بھی روٹری کلب پاکستان اور اسٹار لنکس جیسی تنظیموں کی معاونت سے مزید درخت لگائے گئے ڈینسو ہال کو واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیے جانے کے حوالے سے یاسمین لاری نے بتایا کہ منصوبہ شروع کرنے سے قبل علاقے سے تمام تاروں اور پولز کو ہٹایا گیا ہے تاکہ وہ درختوں کے پنپنے میں رکاوٹ نہ بن سکیں انہوں نے بتایا کہ واکنگ اسٹریٹ منصوبے کے لیے انہیں کراچی کشمنر کے دفتر سے اچھی مدد ملی ہے جب کہ ڈینسو ہال علاقے کے کاروباری و دکاندار حضرات نے بھی ان کی مدد کی اور مقامی لوگ بھی اس پر بہت خوش ہیں کہ علاقے میں ٹریفک کو آمد و رفت کو بند کرکے اسے واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیا گیا ہے ڈینسو ہال کو واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیے جانے کے موقع پر 28 فروری کو مزید 150 درخت لگائے گئے اور اس موقع پر شہری جنگلات کلفٹن منصوبے کے شہزاد قریشی بھی موجود تھے علاقہ مکینوں اور ڈینسو ہال کے دکانداروں و دیگر کاروباری افراد نے بھی علاقے کو واکنگ اسٹریٹ میں تبدیل کیے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔