Baaghi TV

Category: کراچی

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار ، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا –

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں استحکام دیکھا گیا ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 389 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 51 ہزار 215 پوائنٹس پر پہنچ گئی، گزشتہ روز بھی ہنڈریڈ انڈیکس تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ ، 51 ہزار کی حد عبور کر گیا تھا۔

    دوسری جانب انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 5 پیسے کمی ہو گئی ،ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 281 روپے 90 پیسے ہو گئی ہے۔

    2 منشیات فروش گرفتار،لاکھوں روپیہ کی منشیات پکڑی گئی

    گھوٹکی کا نوجوان فوجی اہلکار ڈیوٹی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے شہید

    اوکاڑہ : سیلاب متاثرین کا انخلاء جاری، 468 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا

  • حج 2026: سرکاری اسکیم میں صرف 1640 نشستیں باقی

    حج 2026: سرکاری اسکیم میں صرف 1640 نشستیں باقی

    وزارتِ مذہبی امور نے حج 2026 کے حوالے سے تازہ اپڈیٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سرکاری حج اسکیم میں اب صرف 1640 نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔

    خالی نشستوں پر درخواستیں جمع کرانے کا عمل کل (جمعرات) 21 اگست کو بھی جاری رہے گا۔بارشوں اور ہنگامی صورتحال کے باعث عازمین کو مشکلات پیش آنے پر یہ فیصلہ کیا گیا۔نشستیں مکمل ہوتے ہی نامزد بینکوں میں درخواستوں کی وصولی کا عمل فوری روک دیا جائے گا۔اب تک صرف 13 دنوں میں ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔گزشتہ روز تقریباً ساڑھے 3 ہزار نشستیں باقی تھیں، جو گھٹ کر اب 1640 رہ گئی ہیں۔وزارت نے نامزد بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ وقت تک درخواستوں کی وصولی جاری رکھیں۔

    محمد رضوان پہلی بار کیریبئن پریمیئر لیگ کھیلیں گے

    نائجیریا: مسجد پر مسلح افراد کا حملہ، 50 سے زائد افراد شہید

    اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

  • اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    حیدرآباد، سجاول، جامشورو، سیہون اور ٹنڈوآدم سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے اور کئی مقامات پر بجلی معطل ہوگئی۔

    بارش شروع ہوتے ہی حیسکو کے 223 فیڈرز ٹرپ کر گئے۔نشیبی علاقوں اور کچی آبادیوں میں پانی جمع ہونے سے گھروں، دکانوں، مارکیٹوں اور دفاتر میں پانی داخل ہوگیا۔سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک حادثات پیش آئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔بلدیاتی ادارے نکاسی آب کے انتظامات کرنے میں مکمل ناکام رہے۔

    جامشورو میں کوہستانی علاقے میں 10 سالہ لڑکا برساتی پانی میں ڈوب کر جاں بحق، لاش اسپتال منتقل، سیہون میں پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی، دو یوسیز کا زمینی رابطہ منقطع، جہانگارا روڈ: زیر آب آنے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔دادو: کاچھو اور کیرتھر پہاڑ پر تیز بارش سے ندی نالے بھر گئے، کئی دیہات کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا۔

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی عدالت کے 4 اہلکاروں پر پابندیاں عائد کردیں

    بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ توسیع

  • کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو یقین دہانی کروائی تھی کہ شہر کے تمام فیڈرز رات ساڑھے 9 بجے تک بحال کر دیے جائیں گے، مگر ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کراچی کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم رہا۔

    ممبر نیپرا رفیق احمد شیخ نے کے الیکٹرک کو اضافی وقت بھی دیا، لیکن انتظامیہ فالٹ دور نہ کر سکی۔شہر کے کئی علاقوں میں 36 گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہو سکی۔بارش کے بعد متعدد فیڈرز دوبارہ ٹرپ کر گئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔گلشن اقبال بلاک 5، ڈی ایچ اے، سرجانی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، کورنگی، گلستان جوہر، ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، معین آباد، حسرت موہانی کالونی، پہاڑ گنج، بنارس اور بلدیہ سمیت کئی علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے۔

    صرف تھوڑی بارش کے بعد بھی 415 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔گزشتہ روز ریکارڈ 900 سے زائد فیڈرز بند ہوئے، جس کے باعث تقریباً آدھا شہر بجلی سے محروم رہا۔شہری بجلی بحالی کے بجائے عملے کے رویے پر بھی برہم، کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز پر دھرنے دے بیٹھے۔ے الیکٹرک کا بوسیدہ نظام اور آپریشنل ٹیمیں فالٹ دور کرنے میں مکمل ناکام نظر آئیں، جس کے باعث کراچی کے عوام کو دوسری رات بھی اندھیرے میں گزارنی پڑی۔

    کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

  • کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

    کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

    چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری کے مطابق کراچی میں کل بھی بارش کا امکان ہے اور یہ سلسلہ 23 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مختلف حادثات میں گزشتہ روز سے اب تک 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ناردرن بائی پاس پر پانی کے جوہڑ میں نوجوان ڈوب گیا۔پی ای سی ایچ ایس میں گھر کے اندر جمع پانی سے ایک شخص کی لاش ملی۔سپر ہائی وے پر گڑھے میں گرنے سے ایک شخص جاں بحق۔گلستان جوہر میں دیوار گرنے سے 3 بچے اور 2 خواتین جاں بحق ،اورنگی ٹاؤن میں دیوار گرنے سے بچی جاں بحق،شاہ فیصل کالونی، شارع فیصل، ڈیفنس، نارتھ کراچی اور گزری میں کرنٹ لگنے سے 6 افراد جاں بحق جبکہ نیو کراچی، خمیسو گوٹھ اور گرومندر ندی و نالے سے 2 لاشیں برآمد ہوئیں۔

    پروازیں متاثر، بجلی کی فراہمی معطل

    بارش اور طوفانی ہواؤں کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر 16 پروازیں منسوخ جبکہ 70 میں تاخیر ہوئی، ایک پرواز کو ملتان میں اتارنا پڑا۔ے الیکٹرک کے مطابق بارش کے دوران 500 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہوئے، شہر کے 94 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی جبکہ 150 فیڈرز پر کام جاری ہے۔ وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے کے الیکٹرک انتظامیہ کو فوری بحالی کی ہدایت دی۔

    تعلیمی ادارے اور امتحانات ملتوی

    مزید بارشوں کے پیش نظر محکمہ تعلیم سندھ نے آج سرکاری و نجی اسکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان کردیا۔جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے بھی تمام امتحانات ملتوی کردیے جبکہ کچھ اداروں نے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت دی ہے۔

    ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان

  • فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے لیکن غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے،شرجیل میمن

    فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے لیکن غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ذاتی شکوے کو سیاسی ایجنڈے میں بدلنا فاروق ستار کی پرانی روایت ہے۔

    ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے بیان پر شرجیل میمن نے ردعمل دیا اور کہا کہ فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے ہے لیکن وہ غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے ہیں، ذاتی شکوے کو سیاسی ایجنڈے میں بدلنا فاروق ستار کی پرانی روایت ہے، ایم کیو ایم کو نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ طویل عرصہ تک اقتدار میں شریک رہے ہیں،بارش کو جواز بنا کر 17سال کی بدعنوانی کا الزام لگانا ایم کیو ایم کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے،کراچی میں بہت ہی کم وقت میں اتنی زیادہ بارش ہوئی، شہر میں کچھ جگہوں پر 145 ملی میٹر تک بارش ہوئی، شہر میں کافی مقامات سے پانی کی نکاسی کر دی گئی ہے،

  • کراچی بارش،وزیراعظم کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

    کراچی بارش،وزیراعظم کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    کراچی سے جاری کیے گئے ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں بارش اور اربن فلڈنگ کی صورتِ حال پر گفتگو کی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں وفاقی اداروں کو مکمل فعال کرنے کی اپیل کی،وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو کراچی میں مکمل فعال رہنے کی ہدایت دے دی۔

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے آج کراچی میں پریس کانفرنس کی اور بارش کے دوران بحالی کے کاموں پر میڈیا کو بریف کیا،مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس کے دوران تیز بارش شروع ہوگئی۔ پہلے تو مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر میڈیا والوں کو کوئی مسئلہ نہیں تو وہ بیٹھے ہیں، بارش کے دوران بھی بات کریں گے۔ تاہم اس دوران بارش کا سلسلہ تیز ہوگیا تو بالآخر انہیں پریس کانفرنس ختم کرنا پڑی،میئر کراچی نے کہا کہ کل شہر میں 12 گھنٹوں کے دوران 170 سے لے کر 235 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔ شہر کے برساتی نالوں میں صرف 40 ملی میٹر تک بارش جھیلنے کی گنجائش ہے

    علاوہ ازیں ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فرخ علی کا کہنا ہے کہ کورنگی کریک کی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، پانی کا بہاؤ بہت زیادہ ہے جس کے باعث کورنگی کریک اور کازوے بند ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ علی نے کراچی کے علاقے کورنگی کا دورہ کیا ہے،اس موقع پر ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فرخ علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹریفک پولیس سمیت علاقہ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے،ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 10 سے 11 ہزار کے قریب نفری نے ساری رات کام کیا ہے، مختلف جگہوں پر کھدائی کے باعث گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، کورنگی کی مین سڑک کو کھولنا تھوڑا خطرناک ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو کھول دیں، بارش ہوئی تو کورنگی کی مین سڑک کو دوبارہ بند کر دیں گے، ایئرپورٹ روڈ کھلا ہوا ہے، کئی افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

  • سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،فاروق ستار

    سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش سے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،طوفانی بارش کے دوران میئر کراچی اور سندھ حکومت فیلڈ سے غائب رہی۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ میئر کراچی 40 ملی میٹر بارش کی گنجائش والے نالوں کے بہانے بنا رہے ہیں، اگر شہر سے بروقت کچرا اٹھا لیا جاتا تو 40 کیا 400 ملی میٹر بارش کا پانی بھی انہی نالوں سے 2 سے 3 گھنٹوں میں نکل جاتا، کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے،،شہر قائد میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش نے نظام زندگی مفلوج کر دیا، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے گورنر سندھ نے بارش کے دوران مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو یقین دلایا کہ مشکل وقت میں وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ روز کی بارش سے تاجروں کو ہونے والے نقصان کون پورے کرے گا، دکانوں میں پانی داخل ہوا، اس کا ازالہ کون کرے گا، کراچی کے لیے کوئی رین ریلیف فنڈ نہیں اور نہ ہی کسی پیکج کا اعلان کیا گیا،مرتضیٰ وہاب لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، اب تو سب کچھ آپ کا ہے، وسائل، زمینیں، ایس بی سی اے، سسٹم بھی تمھارا، وزیر اعلیٰ آپ کا ، کراچی پر قبضہ بھی آپ کا، کراچی تمھاری کالونی، اب کیا بہانہ ہے، 40 ملی میٹر کے چکر میں جان بچا کر نکل گئے۔

    مرتضیٰ سولنگی صدر مملکت کے ترجمان مقرر

    فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرے کہ کچرا وقت پر نہیں اٹھایا گیا اور اسی وجہ سے نالے بلاک ہوئے، ورنہ یہ پانی ندیوں کے ذریعے سمندر تک جا سکتا تھاجب وسیم اختر میئر تھے تو 50 کروڑ روپے نالوں کی صفائی پر دیے جاتے تھے، لیکن اب تو حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور وسائل بھی اسی کے پاس ہیں، پھر بھی نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ حکمران چھپنے کے بجائے سامنے آئیں اور ایم کیو ایم و پیپلز پارٹی کے دو دو سابق میئرز ٹی وی پر مناظرہ کرلیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ شہر کیسے چلایا جاتا ہے؟

    انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں 175 سگنلز ہوتے تھے، آج 69 سگنلز ہیں، 106 کہاں گے، اس میں بھی آپ کے سپاہی سائڈ پر کھڑے ہوں گے تو ٹریفک تو جام ہوگا، شہید ملت پر آج بھی پانی جمع ہےہم میئر کراچی پر تنقید نہیں بلکہ جائزہ رپورٹ پیش کر رہے ہیں، بہانے نہ کریں، کچرا وقت پر اٹھ،جائے تو 40 ملی میٹر کی گنجائش والے نالے 400 ملی میٹر بارش کا پانی بھی نکال دیں گے۔

    موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    ڈاکٹر فاروق ستار نےکہا کہ وزیراعلیٰ صاحب ایک سڑک سے ہو کر آگئے اور کہا کہ شہر سے پانی نکال دیا گیا، پاکستان کو بچانا ہے تو کراچی کو بچانا ہوگا، وزیراعظم شہباز کو فون کر کے وزیراعلیٰ کی اپنی زمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، سندھ حکومت گزشتہ 17 برسوں کے دوران ملنے والے 22 ہزار ارب روپے کا حساب دے، میئر کراچی بھی ساڑھے 6 سال کا حساب عوام کو دیں، شہر کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کو بلائیں، بیٹھ کر بات کرتے ہیں، شہر کے مسائل کا حل نکالتے ہیں،مرتضیٰ وہاب، بارش سے قبل رین ایمرجنسی سینٹر بناتے، متعلقہ افسران کے نمبرز شیئر کرتے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، کراچی کو آپ نے سندھ سے الگ کر دیا ہے، مرتضیٰ وہاب بول نہیں سکتے ، ہمیں انداز ہ،ہے کہ ان کی کیا مشکلات ہیں۔

    فاروق ستار نے جماعت اسلامی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی والے کہاں ہیں، انہوں نے شہریوں کے لیے کیا اقدامات اٹھائے، جاگتے ہوئے بھی ان کے اعصابوں پر ایم کیو ایم سوار ہے، سلیبس بدل گیا کوچ بدل گیا لیکن جماعت اسلامی اسی پرانے کورس پر چل رہی ہے۔

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    فاروق ستار نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں اب درست ثابت ہو رہی ہیں۔’اللہ کرے کہ اگلا اسپیل نہ ہو، کیونکہ جتنی بارش ہوگئی ہے وہی حکومت سے نہیں سنبھالی جارہی اور پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگلے اسپیل کے لیے تیار ہیں۔‘

  • حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو شہریوں کو چاہیے اس پر عمل کرے، حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن جب پانی میں پھسنتے ہیں تو حکومت پر تنقید کی جاتی ہے-

    کراچی میں میڈیا سے گفتگومیں مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں کل شدید بارش ہوئی، شہر میں 180 سے 185 ملی میٹر کے قریب بارش ہوئی جب کہ ممبئی میں کراچی سے 10 گنا زیادہ بارش ہوتی ہے اور اس وقت ممبئی مکمل ڈوبا ہوا ہے اور لاہور بھی بارش سے ڈوب گیا تھا، جب بھی اتنی بارش ہوتی ہے تو فلڈنگ ہوتی ہے لیکن کل بارش کے دوران ہی تنقید کی گئی کہ سڑکوں پر پانی ہے، میڈیا پر بھی کہا گیا کہ انتظامیہ تیار نہیں تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر نالے صاف نہیں ہوتے تو یہ پانی کہاں جارہا ہے، کیا نالے راتوں رات صاف کرلیے گئے، یہ نالے صاف تھے، تبھی پانی اس سے گزرا ہے ورنہ کل یہ جگہ ڈوبی ہوئی تھی لیکن رات کو 12 سے ساڑھے 12 کے درمیان میں نے خود دیکھا کہ روڈ کلیئر تھا اور پانی نکل چکا تھا اسی مقام پر 2020 میں بارش کے 4 سے 5 گھنٹوں بعد میں آیا تھا لیکن آگے نہیں جاسکا تھا اور اس وقت گھروں کی چھتوں تک پانی تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہے، یہ ہمارا کام ہے، ہم اپنی ذمہ داری بخوبی سمجھتے ہیں، اس لیے کل بھی انتظامیہ نکلی ہوئی تھی اور میں اس وقت بھی شارع فیصل پر کھڑا ہوا ہوں۔

    آئی سی سی نے نئی ون ڈے رینکنگ جاری کر دی ،رضوان اور شاہین کی تنزلی

    انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھے اینکرز نے کہا کہ سڑکوں پر کوئی انتظامیہ دکھائی نہیں دے رہی جس پر شرجیل میمن نے انہیں جواب دیا ہم تو سڑکوں پر ہی لیکن آپ کے رپورٹرز دکھائی نہیں دے رہے، ابھی بھی ٹی وی چینل کل والے مناظر دکھاکربولیں کہ شہر پورا ڈوبا ہوا ہے اور وزیراعلیٰ یہاں پریس کانفرنس کررہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ رات کو ہمیں بریفنگ دی گئی کہ اگلے دن تیز بارش ہونے کا امکان ہے جس پر ہم نے پہلے صرف اسکولوں کی چھٹی اور پھر عام تعطیل کا اعلان کیا، لیکن آپ مجھے بتائیں کیا اس وقت شہر میں عام تعطیل ہے، عام تعطیل کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں، ان سب کو گھروں میں ہونا چاہیے تھا لیکن ہمارے شہریوں کو احساس نہیں۔

    ربیع الاول کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 24 اگست کو طلب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اب جیسے ہی بارش شروع ہوئی لوگ دفاتر سے بھاگنا شروع ہوگئے ہیں، اگر خدانخواستہ بارش تیز ہوگئی تو یہ لوگ سڑکوں پر پھنس جائیں گے اور پھر یہ حکومت اور اتنظامیہ کو کہیں گے، بارش کا پانی منٹوں میں تو نہیں نکلے گا، سب کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے، حکومت اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو شہریوں کو چاہیے اس پر عمل کرے، حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن جب پانی میں پھسنتے ہیں تو حکومت پر تنقید کی جاتی ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے میں اس سے انکار نہیں کررہا لیکن شہریوں کو بھی احساس کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم،فیلڈمارشل کا خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ،ریسکیوآپریشن کا جائزہ

  • کراچی،مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گر گئی

    کراچی،مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گر گئی

    کراچی کے علاقے مومن آباد میں ایک تین منزلہ عمارت اچانک گر گئی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے ملبے سے 4 افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اس لیے ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور دیگر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔واقعہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی نے بتایا کہ عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے ایک دھماکہ ہوا، جس کے فوراً بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے کے باعث ایک شخص آگ سے جھلس کر زخمی ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں ایک سیاسی جماعت کا دفتر قائم تھا، ریسکیو حکام اور پولیس واقعہ کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ دھماکے کی اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے اور متاثرین کو جلد از جلد امداد فراہم کی جا سکے۔

    موقع پر موجود ریسکیو اہلکار اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ متاثرہ شخص کی فوری مدد کی جا سکے اور علاقے میں مزید حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔