کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ہاشو سینٹر میں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر ضلعی انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 200 دکانوں کو سیل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اور مختار کار نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ہاشو سینٹر پر چھاپہ مارا اور مارکیٹ میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق مارکیٹ کے اندر آگ سے بچاؤ کے لیے کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا، جبکہ دکانوں اور فلور پر گیس سلنڈرز، تھنر اور دیگر آتش گیر مواد بھی رکھا گیا تھا جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اس مارکیٹ کو اس سے قبل 3 فروری کو بھی سیل کیا گیا تھا، تاہم انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کے بعد سات دن کی مہلت دی گئی تھی تاکہ فائر سیفٹی کے اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔
باوجود اس کے کہ دوبارہ نوٹس جاری کیے گئے، دکانداروں اور مارکیٹ انتظامیہ نے مطلوبہ حفاظتی اقدامات نہیں کیے، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جب تک تمام فائر سیفٹی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، مارکیٹ کو ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔
Category: کراچی
-

فائر سیفٹی نہ ہونے پر ہاشو سینٹر کی 200 دکانیں سیل
-

پاکستان میں سونا مزید مہنگا
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2800 روپے کا اضافہ ہوگیا،ملک میں فی تولہ سونا 2800 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 78 ہزار 762 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 2401 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 10 ہزار 461 روپے کا ہو گیاہے،جبکہ عالمی بازار میں سونا 28 ڈالر اضافے کے بعد 44560 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا اور نئی قیمت 73 ڈالر فی اونس ہوگئی جب کہ مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی 260 روپے مہنگی ہوکر 7784 روپے اور فی 10 گرام چاندی 223 روپے بڑھ کر 6673 روپے کی سطح پر آ گئی۔
-

ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات سے بھاگ جاتی، فاروق ستار پریشان ہیں، شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اسکول، کالجز اور جامعات میں تدریسی عمل کل سے بحال ہو جائے گا۔
سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آن لائن کلاسز کے بجائے فزیکل کلاسز ہوں گی، صوبے میں ہفتے کے دن تعلیمی ادارے بند رہیں گے ایم کیو ایم بلدیاتی اداروں کے اختیارات کی بات کرتی ہے لیکن بلدیاتی انتخابات سے بھاگ جاتی ہے، فاروق ستار کی باتوں کو اہمیت نہ دیں، وہ آج کل پریشان ہیں،خواتین کی فلاح کیلئے 5 کروڑ گرانٹ، تفریحی دوروں پر پابندی، سکھر و روہڑی کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، عوامی ریلیف پر فوکس اور SDGs کی 98 اسکیمز کیلئے 4.33 ارب مختص کئے گئے ہیں،سندھ حکومت عوام کو بروقت ریلیف دینے کے لیے ایمرجنسی سروسز کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔سندھ ہمیشہ سے صحت کے شعبے میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔ عوام کی صحت سندھ حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے ، جلد ہی حاملہ خواتین کی بیماریوں سے متعلق قانون سازی کرنے جارہے ہیں۔سندھ کابینہ نے گندم خریداری کی پالیسی 2026کی منظوری دے دی ہے حکومتِ سندھ کے پاس ہاری کارڈ کے تحت تمام کسانوں کا ڈیٹا ہے جن سے گندم خریدی جائے گی اس پالیسی کے تحت گندم خریداری کا عمل شفاف ترین ہوگا،سندھ کابینہ کے اجلاس میں صورتحال کے پیشِ نظر مزید کفایت شعاری اپنانے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کےاستعمال کو محدود رکھا جائے گا،غیر اہم بجٹ منظورنہیں ہوگا اور نہ ہی تفریحی دورے کیے جائیں گے،ثقافت کو اُجاگر کرنے کے لیے کراچی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ میوزیم بنایا جا رہا ہے جس کے لیے کے ایم سی نے تین ایکڑ زمین فراہم کر دی ہے یہ میوزیم پاکستان کا سب سے بڑا اور بہترین میوزیم ہوگا
اس موقع پر صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء لنجار نے بتایا کہ آپریشن نجات مہران کی بدولت امن قائم ہوا۔ گھوٹکی، کشمور، شکارپور اور دیگر اضلاع سے انتہائی مطلوب ڈاکو ہتھیار ڈال چکے ہیں، اب آپریشن کے دوسرے فیز میں جارہے ہیں، تمام ہائی ویز پر سیکیورٹی کے بغیر گاڑیاں چل رہی ہیں،
-

سکھر ایکسپریس میں جدید سہولیات کی حامل نئی کوچز شامل
سکھر ایکسپریس میں جدید سہولیات کی حامل نئی کوچز شامل کر دی گئیں-
ترجمان ریلوے کراچی کے مطابق وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی خصوصی ہدایات اور وژن کے تحت مسافروں کو جدید، آرام دہ اور معیاری سفری سہولیا ت کی فراہمی کے سلسلے میں سکھر ایکسپریس میں نئی ریکس شامل کر دی گئی ہیں،سکھر ایکسپریس کے لیے دو نئی ریکس آج کراچی اور جیکب آباد پہنچ جائیں گی، جس سے ٹرین کی سروس میں بہتری اور تسلسل یقینی بنایا جا سکے گا۔
سکھر ایکسپریس کی نئی ریکس کا افتتاح گورنر سندھ نہال ہاشمی کریں گے، جبکہ افتتاحی تقریب جلد متوقع ہے نئی شامل کی جانے والی ریکس جدید طرز کی کوچز پر مشتمل ہوں گی جن میں اکانومی، اے سی اسٹینڈرڈ اور اے سی بزنس کلاس کوچز شامل ہیں اس کے علاوہ بہتر نشستوں، صفائی کے اعلیٰ معیار، جدید واش رومز اور بہتر لائٹنگ و وینٹیلیشن جیسی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، تاکہ مسافروں کو ایک محفوظ، آرام دہ اور خوشگوار سفر میسر آ سکے۔
-

کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال
کویت سے پاکستانی جہازوں کے ذریعے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے، جس سے ایئرلائنز کے لیے جیٹ فیول کی دستیابی یقینی ہو گئی ہے جس کے بعد ہوائی جہازوں کے کرا ئے بھی کم ہو جائیں گے-
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستانی آئل کارگو کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا ہے اور اب تک محدود تعداد میں کارگو گزر چکی ہیں، جبکہ مرحلہ وار تقریباً 20 ٹینکر آنے کا امکان ہے، کویت سے روزانہ کی بنیاد پر 1 سے 2 ٹینکر آئیں گے، کویت کے ساتھ موجودہ 50 سالہ سپلائی معاہدہ اب بھی فعال ہے، تاہم نیا معاہدہ نہیں ہوا پاکستان سعودی عرب سے ماہانہ 3 تا 5 اور یو اے ای سے 2 تا 4 کارگو تیل حاصل کرتا رہا ہے سپلائی کی بحالی سے بجلی، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کمی کے خدشات کم ہو جائیں گے اور عوامی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی، توانائی اور ایوی ایشن شعبے میں ضروری اصلاحات کے ساتھ قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
-

کراچی میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ
کراچی میں رواں سال منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت نے صورتحال پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق مریض کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ایم پاکس کی تصدیق ہوئی، جس پر اسے فوری طور پر سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ بہتر طبی نگہداشت فراہم کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریض بیرون ملک سے سفر کرکے پاکستان پہنچا تھا، جس کے باعث کیس کو سفری ہسٹری سے جوڑا جا رہا ہے۔ بعد ازاں مریض کی حالت بہتر ہونے پر اسے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور مزید دیکھ بھال کے لیے دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق رواں سال مختلف اسپتالوں میں ایم پاکس کے کئی مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، تاہم تصدیق شدہ کیسز کی تعداد محدود ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس ایک متعدی بیماری ہے، تاہم بروقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ -

ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، تفرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے: مفتی منیب
تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کی تفرقہ بازی کی گنجائش نہیں اور ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سرگودھا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی کوششیں نقصان دہ ہیں، اس لیے مسلمانوں کو باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کو مسترد کرنا ہوگا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے قائم کیا گیا ادارہ اپنے مقاصد میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات اس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔
مفتی منیب الرحمان نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور امید ہے کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی یہ کاوشیں مثبت نتائج دیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی سیز فائر کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اس وقت اہمیت رکھتے ہیں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہو اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہو۔ -

کلفٹن سپر اسٹور میں آگ بے قابو، 9 گھنٹے بعد بھی جاری
کراچی کے علاقے کلفٹن میں زمزمہ پارک کے قریب واقع ایک سپر اسٹور میں لگنے والی آگ پر کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو نہیں پایا جا سکا، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ عمارت کے بیسمنٹ میں لگی جہاں اسٹور کا گودام موجود ہے، جس میں موجود سامان کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کو عمارت کے دیگر حصوں میں پھیلنے سے روک لیا گیا ہے، تاہم بیسمنٹ میں آگ بدستور جل رہی ہے۔
ریسکیو آپریشن میں فائر بریگیڈ کی 15 گاڑیاں حصہ لے رہی ہیں اور عملہ مسلسل آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دھوئیں کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم حکام نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اطراف کے علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیسمنٹ میں لگنے والی آگ اکثر زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ وہاں ہوا کی کمی اور آتش گیر مواد کی موجودگی آگ کو مزید شدت دے سکتی ہے، جس کے باعث آگ بجھانے کا عمل طویل ہو جاتا ہے۔ -

کراچی میں لاپتہ بچہ مین ہول سے مردہ ملا
کراچی کے علاقے فقیرا گوٹھ میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں گزشتہ شام لاپتہ ہونے والا تین سالہ بچہ احسن مردہ حالت میں قریبی مین ہول سے مل گیا۔
اہل خانہ کے مطابق احسن شام چھ بجے کے قریب گھر کے باہر دیگر بچوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا اور اچانک لاپتہ ہو گیا۔ اہل محلہ اور گھر والوں نے کافی تلاش کے بعد قریبی مین ہول میں بچے کی لاش دیکھی جس سے کہرام مچ گیا۔
احسن کے چچا کا کہنا ہے کہ بچے کی گمشدگی کے بعد فوری تلاش شروع کی گئی تھی، تاہم کچھ ہی فاصلے پر اس کی لاش ملنے سے سب صدمے میں ہیں۔
واقعے کے بعد ورثا نے بچے کی لاش اسپتال منتقل کرنے سے انکار کر دیا اور شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ شہری علاقوں میں کھلے مین ہولز اور ناقص حفاظتی انتظامات کی سنگین غفلت کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے، جس کے باعث معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ -

ام رباب چانڈیو کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان
دادو کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ کی جانب سے آٹھ سال پرانے تہرے قتل کیس میں تمام ملزمان کی بریت کے بعد مدعیہ ام رباب چانڈیو نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک جائیں گی۔
عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے شدید ردعمل دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ایسا لگتا ہے جیسے بااثر افراد کو کھلی چھوٹ مل گئی ہو۔ ان کے مطابق اس طرح کے فیصلے انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔
یاد رہے کہ عدالت نے سندھ اسمبلی کے رکن نواب سردار خان چانڈیو، ان کے بھائی برہان خان چانڈیو سمیت دیگر نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ بری ہونے والوں میں مرتضیٰ چانڈیو، علی گوہر چانڈیو، سکندر چانڈیو، ذوالفقار چانڈیو، ستار چانڈیو اور سابق ایس ایچ او عبدالکریم چانڈیو بھی شامل ہیں۔
یہ مقدمہ جنوری 2018 میں درج کیا گیا تھا جب ام رباب چانڈیو کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کو ایک مسلح حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ام رباب چانڈیو گزشتہ کئی برسوں سے اپنے اہل خانہ کے لیے انصاف کی جدوجہد کر رہی تھیں اور اس دوران ان کی استقامت اور عزم نے ملک بھر کی توجہ حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق اب یہ کیس اعلیٰ عدالتوں میں جانے کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا، جہاں فیصلے کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔