Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی بندرگاہ پر جہازوں کے تصادم کے بعد ’ایم وی پاپو‘ کی روانگی روک دی گئی

    کراچی بندرگاہ پر جہازوں کے تصادم کے بعد ’ایم وی پاپو‘ کی روانگی روک دی گئی

    کراچی بندرگاہ کے قریب دو بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے بعد حکام نے جدہ جانے والے لائبیریا پرچم بردار جہاز ’’ایم وی پاپو‘‘ کو مزید کارروائی تک روانگی سے روک دیا ہے۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) ذرائع کے مطابق جہاز کو تحقیقات مکمل ہونے اور ضروری قانونی و تکنیکی کارروائی کے بعد ہی بندرگاہ چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور حادثے کے ذمہ دار عناصر کا تعین بھی کیا جائے گا۔دوسری جانب زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل بچھانے اور ان کی مرمت کے لیے استعمال ہونے والا متحدہ عرب امارات پرچم بردار جہاز ’’ایم وی نیوا‘‘ اس وقت پورٹ کی برتھ پر موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز کو ہونے والے نقصان کی مرمت جاری ہے اور بڑی تکنیکی مرمت کے بعد ہی اسے دوبارہ سمندری سفر کے قابل بنایا جا سکے گا۔

    یاد رہے کہ جمعرات کی رات کراچی پورٹ کے داخلی راستے کے قریب فیئر وے بوائے کے باہر ’’ایم وی نیوا‘‘ اور ’’ایم وی پاپو‘‘ آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ حادثہ رات تقریباً 8 بجے پیش آیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔حادثے کے فوراً بعد کراچی پورٹ ٹرسٹ نے ہنگامی امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے اپنے چار بڑے ٹگز ایم ٹی میٹھادر، ایم ٹی کھارادر، ایم ٹی لیاری اور ایم ٹی کیماڑی کو موقع پر روانہ کیا۔ امدادی ٹیموں نے متاثرہ جہاز ’’ایم وی نیوا‘‘ کو بحفاظت کراچی ہاربر منتقل کیا، جہاں اسے مرمت کے لیے لنگر انداز کر دیا گیا۔کے پی ٹی کے اعلامیے کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث جہاز رانی کے نظام اور سمندری ماحول کو لاحق ممکنہ خطرات کو ٹال دیا گیا، جبکہ بندرگاہ کی سرگرمیاں بھی متاثر نہیں ہوئیں۔

    وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے واقعے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بحری حادثہ کراچی بندرگاہ کی حدود سے باہر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں، جبکہ چیئرمین کراچی پورٹ نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ کراچی پورٹ پر بحری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔

  • غیرت کے نام پر قتل کا بدلہ،کراچی میں گولیاں چل گئیں،2 افراد کی موت

    غیرت کے نام پر قتل کا بدلہ،کراچی میں گولیاں چل گئیں،2 افراد کی موت

    کراچی،سائیٹ ایریا لیبر چوک پر واقع گودام میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد کی موت ہو گئی

    فائرنگ کے نتیجے میں جانبحق ہونے والے افراد کی شناخت قدیر ولد دوست محمد اور علی گوہر ولد حکیم خان کے نام سے ہوئی جو کہ گودام میں چوکیداری پر مامور تھے۔ضلع کیماڑی تھانہ سائیٹ بی پولیس نے فوری و بروقت رسپانس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیڈ باڈیز کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا اور موقع سے شواھد اکٹھے کرنے سمیت ملزمان کی تلاش شروع کی گئی اور فائرنگ میں ملوث ایک مرکزی ملزم کو واقع کے چند گھنٹوں میں ہی حراست میں لے لیا گیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق 6 سے 7 افراد ایک کار اور دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور گودام میں موجود دونوں افراد پر شدید فائرنگ شروع کردی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق متوفی قدیر کے لواحقین کے مطابق متوفی نے غیرت کے نام پر اپنی بہن اور بہن کے آشنا ، لڑکے کو قتل کیا تھا اور مزکورہ دوہرے قتل کے بعد قدیر نے متوفی علی گوہر کے پاس پناہ لی ہوئی تھی اور مخالفین سے بچنے کے لئے روپوش تھا۔ابتدائی تحقیقات اور مدعیان کی نشان دہی کی روشنی میں ایک مرکزی ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کا عمل جاری ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔

  • 
کراچی کے کھلے سمندر میں دو جہاز ٹکرا گئے

    
کراچی کے کھلے سمندر میں دو جہاز ٹکرا گئے

    ‎کراچی بندرگاہ کے باہر کھلے سمندر میں دو بحری جہازوں کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک جہاز سے متعدد کنٹینرز سمندر میں گر گئے۔
    ‎پورٹ حکام کے مطابق حادثہ ایم وی نیوا اور ایم وی پاپو نامی جہازوں کے درمیان پیش آیا۔ تصادم کے بعد ایم وی پاپو کو نقصان پہنچا جبکہ اس پر لدا کچھ سامان سمندر میں جا گرا۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لیا اور حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے۔
    ‎چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احمد کے مطابق یہ حادثہ گزشتہ رات پیش آیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز حادثاتی طور پر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں۔
    ‎حادثے کے بعد ایم وی نیوا کو برتھ نمبر 5 پر منتقل کر دیا گیا جبکہ متاثرہ جہاز اور سمندر میں گرنے والے کنٹینرز کے حوالے سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
    ‎پورٹ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ تصادم کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری راستوں پر بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت میں احتیاط اور جدید نیویگیشن نظام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
    ‎تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ حادثہ انسانی غلطی، تکنیکی خرابی یا موسمی عوامل کی وجہ سے پیش آیا۔
    ‎کراچی بندرگاہ پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں ملکی اور بین الاقوامی بحری جہاز آمد و رفت کرتے ہیں۔

  • 
کراچی میں عید کے دوسرے روز مختلف حادثات، 6 افراد جاں بحق

    
کراچی میں عید کے دوسرے روز مختلف حادثات، 6 افراد جاں بحق

    ‎کراچی میں عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز مختلف ٹریفک اور حادثاتی واقعات میں کم از کم 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں تیز رفتاری، لاپرواہی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بنیادی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
    ‎ریسکیو ذرائع کے مطابق بعض حادثات موٹر سائیکل سواروں کے درمیان تصادم جبکہ کچھ واقعات گاڑیوں کی بے قابو رفتار کے باعث پیش آئے۔
    ‎حادثات کے بعد زخمیوں اور جاں بحق افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض افراد دوران علاج دم توڑ گئے۔
    ‎عید کے موقع پر کراچی میں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ معمول سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ شہری بڑی تعداد میں رشتہ داروں اور تفریحی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
    ‎ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دوران ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، رفتار پر قابو رکھیں اور ہیلمٹ و سیٹ بیلٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق کراچی میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ غیر محتاط ڈرائیونگ، کم عمر ڈرائیورز اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی کمی ہے۔
    ‎شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عید کے دنوں میں ٹریفک کنٹرول اور سڑکوں پر نگرانی مزید سخت کی جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • سندھ میں ہیٹ ویو کب تک برقرار رہ سکتی ہے؟ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

    سندھ میں ہیٹ ویو کب تک برقرار رہ سکتی ہے؟ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی

    ‎محکمہ موسمیات نے سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید ہیٹ ویو کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر اضلاع میں 31 مئی 2026 تک شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہ سکتا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا ہے کہ سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو اور خیرپور میں پارہ 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
    ‎اسی طرح تھرپارکر، حیدر آباد، میرپور خاص اور سانگھڑ میں درجہ حرارت 47 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی انسانی صحت، مویشیوں اور زرعی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎ادارے نے شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
    ‎محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک سورج کی تپش زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، اس لیے شہری زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور خود کو ٹھنڈی جگہوں پر رکھنے کی کوشش کریں۔
    ‎کسانوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر فصلوں اور مویشیوں کی حفاظت کیلئے ضروری اقدامات کریں۔
    ‎ماہرین صحت کے مطابق شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
    ‎دوسری جانب عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

  • 
عید پر بھی کراچی کے بیشتر علاقوں میں گیس غائب

    
عید پر بھی کراچی کے بیشتر علاقوں میں گیس غائب

    ‎شہر قائد کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی بیشتر علاقوں کے شہری گیس سے محروم رہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسز اور بل ادا کرنے کے باوجود عید جیسے اہم موقع پر بھی بنیادی سہولت دستیاب نہیں رہی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق شادمان ٹاؤن، یو پی موڑ، کیماڑی، جیکسن مارکیٹ، شیریں جناح کالونی، اختر کالونی، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں میں گیس کی بندش برقرار رہی۔
    ‎متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکایت کی کہ گھروں میں گیس پریشر انتہائی کم نہیں بلکہ پائپ لائنوں میں گیس مکمل طور پر غائب تھی، جس کے باعث کھانا پکانے اور قربانی کے گوشت کی تیاری میں شدید دشواری پیش آئی۔
    ‎شہریوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران گیس کی ضرورت معمول سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں مہنگی ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
    ‎واضح رہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے عید کے تینوں دن گیس لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم متعدد علاقوں کے صارفین اس دعوے سے محروم رہے۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں بار بار گیس بحران پیدا ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
    ‎شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوام سے بھاری بل اور ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔
    ‎دوسری جانب بعض علاقوں میں شہریوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے گیس بندش پر شدید احتجاج بھی کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق کراچی میں گیس فراہمی کا مسئلہ ہر سال عید اور سردیوں کے موسم میں شدت اختیار کر جاتا ہے، جس کیلئے مستقل اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

  • کراچی میں موسم گرم، حبس میں اضافے کا امکان

    کراچی میں موسم گرم، حبس میں اضافے کا امکان

    محکمۂ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ شہر قائد کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے، جبکہ شہر میں وقفے وقفے سے تیز ہوائیں بھی چلتی رہیں گی۔

    محکمۂ موسمیات کے مطابق شہر کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 35 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت اور حبس میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ادارے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا کم سے کم درجۂ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمۂ موسمیات نے مزید بتایا کہ شہر میں جنوب مغرب کی سمت سے 18 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے سبب شہریوں کو زیادہ حبس محسوس ہو سکتا ہے۔

    ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شدید گرمی اور مرطوب موسم کے پیشِ نظر غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔

  • 
چینی باشندے کے قتل میں ملوث کالعدم تنظیم کے 2 دہشت گرد گرفتار

    
چینی باشندے کے قتل میں ملوث کالعدم تنظیم کے 2 دہشت گرد گرفتار

    ‎کراچی میں ڈینٹل کلینک پر حملے اور چینی باشندے کے قتل میں ملوث کالعدم تنظیم سندھو دیش ریولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کے دو دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
    ‎انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کراچی اور وفاقی حساس ادارے نے حب ریور روڈ پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمان اللہ ڈینو اور فراز احمد سومرو عرف طوطو کو گرفتار کیا۔
    ‎ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق عیدالاضحیٰ کے موقع پر کراچی میں دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنایا گیا۔
    ‎حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد اللہ ڈینو تنظیم کی ہدایت پر کراچی میں دہشت گردی کیلئے آیا تھا اور وہ گوادر سے بارودی مواد لے کر بس کے ذریعے کراچی پہنچ رہا تھا۔
    ‎ترجمان نے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر یوسف گوٹھ بس ٹرمینل، حب ریور روڈ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
    ‎سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 10 رول نما بارودی مواد، 2 نان الیکٹرک ڈیٹونیٹرز اور 8 میٹر سیفٹی فیوز برآمد کیے گئے ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم فراز احمد سومرو پہلے سے سی ٹی ڈی کے مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھا۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ملزم فراز نے اپنے ساتھیوں وقار خشک، نبیل احمد گبول اور وزیر خشک کے ہمراہ صدر میں واقع ایچ یو ڈینٹل کلینک پر حملہ کیا تھا۔
    ‎اس حملے میں پاکستانی شہریت رکھنے والے چینی باشندے رونلڈ ریمنڈ پاؤ ہلاک جبکہ ڈاکٹر رچرڈ پاؤ اور فن نائن زخمی ہوئے تھے۔
    ‎سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق فراز احمد سومرو گرفتاری کے خوف سے روپوش تھا جبکہ اس کے قبضے سے 30 بور پستول اور گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔
    ‎حکام نے بتایا کہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان میں چینی شہریوں اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • 
پاکستان اسٹیل ملز اسکریپ چوری کیس میں 5 پولیس اہلکار گرفتار

    
پاکستان اسٹیل ملز اسکریپ چوری کیس میں 5 پولیس اہلکار گرفتار

    ‎کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں اور اسکریپ چوری کرنے والے گروہ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
    ‎اے آر وائی نیوز کے مطابق بن قاسم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسٹیل ملز سے لوہا اور تانبا چوری کرنے والے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں عبدالکریم، عاشق علی، صدام حسین، جاوید، قاضی طاہر جبکہ پولیس اہلکار منیب، رحمت، محمد علی، سعد اللہ اور عرفان شاہ شامل ہیں۔
    ‎تحقیقات کے مطابق کانسٹیبل عرفان شاہ دیگر ملزمان کے ذریعے پاکستان اسٹیل ملز سے چوری کرواتا تھا جبکہ گروہ چوری شدہ سامان مختلف گوداموں اور اسکریپ ڈیلرز کو فروخت کرتا تھا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 30 کلو کاپر وائر، 3 موٹرسائیکلیں اور موبائل فونز برآمد کیے گئے۔
    ‎ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یہ گروہ کافی عرصے سے اس قسم کی وارداتوں میں ملوث تھا اور منظم انداز میں قیمتی دھاتیں چوری کر کے فروخت کر رہا تھا۔
    ‎پولیس کے مطابق گرفتار اہلکاروں میں سے 4 اہلکار بن قاسم تھانے جبکہ ایک اہلکار مددگار 15 میں تعینات تھا۔
    ‎حکام نے بتایا کہ چوری شدہ سامان “علی” نامی ایک اسکریپ ڈیلر کو فروخت کیا جاتا تھا جبکہ گروہ کے دیگر ممکنہ ساتھیوں کی تلاش کیلئے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎سیکیورٹی ماہرین کے مطابق سرکاری اداروں میں اس قسم کی چوری اور اندرونی ملی بھگت اہم صنعتی تنصیبات کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
    ‎عوامی حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • عید کے روز بھی سیاسی سوال کریں گے تو محبت کیسے بڑھے گی،مرتضیٰ وہاب

    عید کے روز بھی سیاسی سوال کریں گے تو محبت کیسے بڑھے گی،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کراچی کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے اور اس دوران پانچ روز تک تمام بلدیاتی ادارے متحرک رہتے ہیں۔

    پولو گراؤنڈ میں نمازِ عیدالاضحیٰ کی ادائیگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے جبکہ شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔مرتضیٰ وہاب کے مطابق شہر میں تین مقامات قائم کیے گئے ہیں جہاں قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 98 ٹن آلائشیں تلف کی گئی تھیں جبکہ اس سال اس سے بھی زیادہ مقدار متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آلائشوں کو ٹھکانے لگانا سالڈ ویسٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے۔

    میئر کراچی نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کسی علاقے سے آلائشیں بروقت نہ اٹھائی جائیں تو وہ 1128 ہیلپ لائن پر شکایت درج کروائیں تاکہ فوری کارروائی کی جا سکے۔ایک صحافی کے سیاسی سوال پر مرتضیٰ وہاب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “عید کے روز بھی سیاسی سوال کریں گے تو محبت کیسے بڑھے گی؟”انہوں نے مزید کہا کہ وہ فاروق ستار اور علی خورشیدی کی باتوں کا جواب دیتے رہتے ہیں، تاہم آج کے دن ان دونوں کو اپنی جانب سے عید مبارک دیتے ہیں اور دعا ہے کہ “دو کلیجیاں زیادہ کھائیں۔”