Baaghi TV

Category: کراچی

  • اب تک 41 انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرا کے سیل کر دیا گیا ہے،شرجیل  میمن

    اب تک 41 انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرا کے سیل کر دیا گیا ہے،شرجیل میمن

    کراچی:سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے مون سون بارشوں کے دوران عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس حوالے سے بلدیاتی اداروں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ بارش کا پانی فوری طور پر نکالنے کے انتظامات کیے جائیں نشیبی علاقوں میں ڈی واٹرنگ پمپس کی دستیابی ہر صورت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر لئے گئے ہیں بلدیاتی اداروں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ان کی 24 گھنٹے موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں 59 خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، 10 عمارتیں قومی ورثہ قرار دی گئی ہیں اسٹرکچرل انجینئرز پر مشتمل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تکنیکی کمیٹی شہر بھر میں مسلسل سروے کر رہی ہےجس کا مقصد ایسی عمارتوں کا پتا لگانا ہے جو شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اب تک 41 انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرا کے سیل کر دیا گیا ہےمتوقع بارشوں کے پیش نظر ایس بی سی اے میں ایک رین ایمرجنسی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے جو 24 گھنٹے فعال ہےحکومت سندھ عوام کی سلامتی کو اولین ترجیح دے رہی ہے، مون سون کے دوران کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی شہری خطرناک عمارتیں فوری طور خالی کریں اور حکام کے ساتھ تعاون کریں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

  • لیاری گینگ وار لیڈر رحمان ڈکیت کا بیٹا منشیات کیس میں گرفتار

    لیاری گینگ وار لیڈر رحمان ڈکیت کا بیٹا منشیات کیس میں گرفتار

    کراچی،کلاکوٹ پولیس کی ٹارگٹڈ کاروائی کے دوران رحمان ڈکیت کابیٹا منشیات سمیت گرفتار کر لیا گیا

    ملزم سے 210 گرام کرسٹال برآمد کیا گیا،پولیس حکام کے مطابق ملزم کو علاقہ تھانہ کلاکوٹ کی حدود سے گرفتار کیا گیا. ملزم کی شناخت سلطان کے نام سے ہوئی ہے. ملزم لیاری گینگ وار لیڈر رحمان ڈکیت کا بیٹا ہے. ملزم عادی/پیشہ ور ہے, ملزم اس سے قبل بھی کئی مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے.ملزم کے سابقہ کریمنل ریکارڈ کے مطابق مقدمہ الزام نمبر 148/2023 بجرم دفعہ 6/9-2(4) تھانہ کلاکوٹ (مفرور)،مقدمہ الزام نمبر 285/2024 بجرم دفعہ 6/9-2(3)تھانہ کلاکوٹ(مفرور)،مقدمہ الزام نمبر 31/2021 بجرم دفعہ 324/34 تھانہ کلاکوٹ،مقدمہ الزام نمبر 282/2021 بجرم دفعہ 6/9C تھانہ کلاکوٹ،مقدمہ الزام نمبر 77/2020 بجرم دفعہ 6/9C تھانہ کلاکوٹ،مقدمہ الزام نمبر 219/2021 بجرم دفعہ 4/5 ایکسپلوزو ایکٹ شامل ہیں، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاملزم کو مزید قانونی کاروائی کیلئے انویسٹیگیشن حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے.

  • بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع

    بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع

    پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان ایئر پورٹ اتھارٹی کی جانب سے نیا نوٹم جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹم کے مطابق بھارتی ایئر لائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود اب 23 اگست 2025 تک بند رہے گی۔ یہ پابندی ابتدائی طور پر 23 اپریل سے نافذ ہے اور اس میں مسلسل توسیع کی جا رہی ہے۔ایئر پورٹ اتھارٹی کے مطابق بھارتی رجسٹرڈ تمام طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے وہ مسافر بردار ہوں یا مال بردار۔اس کے ساتھ ساتھ بھارتی ملکیت یا لیز پر لیے گئے فوجی اور سول طیارے بھی اس پابندی کے دائرے میں شامل ہوں گے۔

    نوٹم کے مطابق یہ پابندی پاکستانی وقت کے مطابق 24 اگست کی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک برقرار رہے گی۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی پابندیاں بعض سیاسی و سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر عائد کی جاتی رہی ہیں، تاہم حالیہ بندش کی وجہ سرکاری سطح پر ظاہر نہیں کی گئی۔

    حماس کی اسرائیلی یرغمالیوں کی مشروط رہائی کی پیشکش

    بھارت: بہار میں آسمانی بجلی گرنے سے 33 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

  • کراچی میں آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروباری مراکز بند رہیں گے

    کراچی میں آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، کاروباری مراکز بند رہیں گے

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جاوید بلوانی نے ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ شہر بھر میں آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، تمام کاروباری مراکز بند رہیں گے۔

    جاوید بلوانی نے واضح کیا کہ یہ ہڑتال کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں بلکہ خالصتاً معاشی مسائل اور کاروباری تحفظات پر مبنی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت آئندہ اجلاس سے قبل تحریری یقین دہانی نہ دے، تو ہڑتال کا دائرہ پورے ملک تک بڑھایا جا سکتا ہے۔کراچی کی بڑی تجارتی انجمنیں بشمول ریسٹورینٹ ایسوسی ایشن، انجمن تاجران بولٹن مارکیٹ، موٹرسائیکل اسپئیر پارٹس ایسوسی ایشن، پاکستان ٹی ایسوسی ایشن اور آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس نے کراچی چیمبر کے فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

    صدر کراچی چیمبر نے مزید کہا کہ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو بزنس کمیونٹی بیرونِ ملک، خاص طور پر دبئی، میں اپنے کاروبار منتقل کرنے پر غور کرے گی۔علاوہ ازیں آل پاکستان ریسٹورینٹ ایسوسی ایشن کے صدر وقاص عظیم اور کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ندیم اختر آرائیں نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاشی قتل عام بند کیا جائے اور تاجروں کی آواز سنی جائے۔

    دوسری جانب آل سندھ ٹرک ڈمپر ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں جان نے کراچی کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) کے ملک گیر ہڑتال مؤخر کرنے کے فیصلے کو سراہا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کاروبار کو روکنے کے بجائے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں کے کئی تاجر بھی 19 جولائی کو ایف بی آر کے سخت قوانین کے خلاف ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

    بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    اسلام آباد ایکسائز کا نئی پالیسی کا نفاذ، ملکیتی نمبر پلیٹس کا اجراء

    بلوچستان ، سرکاری ملازمین کے لیے ایڈہاک الاؤنس کی منظوری

  • پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس

    پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل 14 سال خسارے میں رہنے کے بعد مالی سال 2025 میں سرپلس ہوگیا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 2 ارب 10 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔ اس سے قبل مالی سال 2010-2011 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 21 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فاضل تھا، جس کے بعد مسلسل سالوں تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار رہا۔رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، جبکہ جون 2024 میں یہ خسارہ 50 کروڑ ڈالر تھا۔ اسی طرح مالی سال 2023-24 میں پاکستان کو کرنٹ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ جاری کھاتے میں بہتری معاشی نظم و ضبط، درآمدات میں اعتدال اور ترسیلات زر میں اضافے کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

    لاس اینجلس میں زور دار دھماکا، بم اسکواڈ کمپاؤنڈ میں 3 افراد ہلاک

  • موت کیسے ہوئیَ؟ حمیرا اصغر کی لاش کے نمونوں کی کیمیکل جانچ رپورٹ آگئی

    موت کیسے ہوئیَ؟ حمیرا اصغر کی لاش کے نمونوں کی کیمیکل جانچ رپورٹ آگئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کے نمونوں کی کیمیکل جانچ رپورٹ آگئی جس میں ان کی موت کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔

    کراچی ڈیفنس میں فلیٹ سے مردہ پائی جانے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کے پوسٹ مارٹم کے دوران لاش سے نمونوں حاصل کیے گئے تھےپولیس ذرائع کے مطابق اداکارہ کی لاش کے نمونوں کی کیمیکل رپورٹس موصول ہوگئیں ہیں جن میں اداکارہ کی موت کو طبعی عوامل کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے اداکارہ کے پوسٹ مارٹم کے دوران کئی ٹیسٹس کے لیے نمونے حاصل کیے گئے تھے جنہیں جامعہ کراچی کی فرانزک لیبارٹری ارسال کیا گیا تھا، مزید رپورٹس آنا باقی ہیں۔

    واضح رہے کہ اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی کئی ماہ پرانی لاش 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی مکان مالک کی شکایت پر عدالت نے پولیس کو کرایہ ادا نہ کرنے پر فلیٹ خالی کرانے کا حکم دیا تھا، جس کے دوران اداکارہ کی لاش جو ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی برآمد کی گئی،ابتدائی طور پر بتایا جا رہا تھا کہ لاش ایک ماہ پرانی ہے، لیکن بعد ازاں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ لاش 8 سے 10 ماہ پرانی ہے۔

    ججز سنیارٹی کیس :عمران خان نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی

    دوسری جانب حمیرا اصغر کے بھائی نوید اصغر نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے واقعے پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اُن کی بہن کی موت حادثاتی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کی گئی واردات ہے ، پولیس افسران نے مجھے بتایا ہے کہ جب فلیٹ کا دروازہ توڑا گیا تو پچھلا دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا جبکہ چھت کی کھڑکی بھی مسلسل کھلی رہی جس کی وجہ سے بدبو نہیں پھیلی، یہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل لگتا ہے اور ہمیں 90 فیصد یقین ہے کہ یہ قتل ہے، میرے خیال میں اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، مکان مالک کا مکمل ڈیٹا، اس کا کال ڈیٹیل ریکارڈ حاصل کیا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ وہ کتنے عرصے سے کراچی میں رہ رہا ہے اور کہیں اس کا لاہور سے بھی کوئی تعلق تو نہیں۔

    اقدامِ قتل کیس: موسیٰ مانیکا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

    بھائی نے مطالبہ کیا کہ حمیرا کی ٹریول ہسٹری کی بھی مکمل چھان بین کی جائے، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ تنہا سفر کرتی تھیں یا کسی کے ساتھ، کیونکہ اس پہلو سے بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں، حمیرا کے آخری پروجیکٹس میں شامل ساتھی فنکار و عملہ بھی مکمل تعاون نہیں کر رہا، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھی کھل کر بات کیوں نہیں کر رہے؟ کیا وہ کسی سے ڈر رہے ہیں؟ اگر وہ بے گناہ ہیں تو تعاون کریں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے

  • یوسف رضا گیلانی سمیت ٹڈاپ کیس کے تمام ملزمان بری

    یوسف رضا گیلانی سمیت ٹڈاپ کیس کے تمام ملزمان بری

    کراچی کی انسداد بدعنوانی عدالت نے چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سمیت ٹڈاپ کیس کے تمام ملزمان کو بری کردیا ہے

    وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ میں ٹڈاپ کیسز کی سماعت کراچی میں ہوئیں جس دوران چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی بھی عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کرپشن کو 14 مقدمات سے بری کر دیا جبکہ کیس کے دیگر تمام ملزمان کو بھی بری کر دیا گیا،عدالت نے کہا کہ جو کیسز ہائیکورٹ کے تھے ہمارے پاس آئے اس میں بھی ہم فیصلہ کر رہے ہیں، ہم نے ہر ایک کو انفرادی طور پر سنا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ شواہد کے مطابق ملزمان کے اکاؤنٹس میں رقم نہیں آئی، کیس کے وعدہ معاف گواہ کو ملزم بنا دیا گیا، کچھ مقدمات کا ریکارڈ ہائیکورٹ میں موجود ہے،

    عدالت پیشی کے موقع پر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ جھوٹا کیس بنانے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، فاروق ایچ نائیک نے اچھے انداز میں مقدمہ لڑا،اللہ کا شکر ہے کہ آج عدالت نے تمام کیسز میں باعزت بری کر دیا ہے، جنہوں نے کیسز بنائے میں ان کا اتحادی ہوں، ان کو چھوڑ بھی نہیں سکتا، قانون سازی ہونی چاہیے، فیصلہ نہ ہو تو کیس ختم ہونا چاہیے

    ٹڈاپ کرپشن کیس کی تحقیقات کا آغاز 2009 میں ہوا تھا جبکہ ایف آئی اے نے مقدمات 2013 میں درج کرنا شروع کئے، یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں ان مقدمات کے حتمی چالان میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
    یادرہے کہ ملزمان کے خلاف بوگس کمپنیاں بنا کر فریٹ سبسڈی کی مد میں سات ارب روپے کی کرپشن کا الزام تھا۔

  • کروڑوں روپے کی مبینہ چوری کا ڈراپ سین، مدعی خود ہی واردات میں ملوث نکلا

    کروڑوں روپے کی مبینہ چوری کا ڈراپ سین، مدعی خود ہی واردات میں ملوث نکلا

    کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ہونے والی مبینہ کروڑوں روپے کی چوری کی واردات کا ڈراپ سین ہوگیا۔ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مدعی اور اس کے منہ بولے چچا خود ہی واردات میں ملوث نکلے، جنہوں نے چالاکی سے رقم، موبائل فون اور طلائی زیورات کو غائب کر کے چوری کا ڈرامہ رچایا تھا۔

    پولیس کے مطابق 16 جولائی کو سرجانی ٹاؤن سیکٹر 4 میں واقع ایک گھر میں بڑی مالیت کی چوری کی اطلاع موصول ہوئی۔ ابتدائی شکایت میں مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ نامعلوم چور اس کے گھر سے تقریباً 4 سے 5 کروڑ روپے مالیت کی رقم اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں۔مدعی کے مطابق واردات میں چور 15 تولے کے 15 طلائی بسکٹ، بھاری نقدی، اور قیمتی موبائل فون لے گئے۔ تاہم تفتیش کے دوران پولیس کو شک ہوا کہ واردات میں اندرونی افراد کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

    مزید تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ اصل میں صرف 25 لاکھ روپے کی رقم خردبرد کی گئی تھی، جسے مدعی کے منہ بولے چچا نے بڑھا چڑھا کر 4 سے 5 کروڑ روپے ظاہر کیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ طلائی بسکٹ کا دعویٰ بھی جھوٹ پر مبنی تھا۔پولیس کے مطابق مدعی اور اس کے منہ بولے چچا نے خود ہی رقم اور دیگر قیمتی اشیاء کو چھپا کر جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی تھی تاکہ کسی اور کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکے یا کوئی ذاتی مفاد حاصل کیا جا سکے۔

    پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مدعی اور اس کے شریک سازشی چچا کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں اور واردات کے تمام پہلوؤں کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

  • کراچی ،سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسی کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دہشت گرد ہلاک

    کراچی ،سی ٹی ڈی اور خفیہ ایجنسی کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 دہشت گرد ہلاک

    کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ایک خفیہ ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جن کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور بھاری اسلحہ برآمد ہوا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق حب ریور روڈ پر مشترکہ کارروائی کی گئی، جس میں موچکو تھانے کی حدود کے علاقے آسکانی محلہ میں ’فتنہ الخوارج‘ (ٹی ٹی پی ) سے وابستہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔مقابلے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دونوں مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، ایک کلاشنکوف، ایک پستول اور بارودی مواد برآمد کیا گیا۔

    بم ڈسپوزل اسکواڈ نے خودکش جیکٹ کو موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا۔لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں فوری طور پر ان کی شناخت نہ ہو سکی۔ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد شہر میں تخریبی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹال دیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے اور شہر میں امن و امان کو درہم برہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    راولپنڈی میں بارش کے بعد صورتحال کنٹرول میں، مرکزی سڑکیں کلیئر

    شام پر اسرائیلی حملے خطے کے لیے خطرہ ہیں، ترک صدر اردوان

    فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا، فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے: مولانا فضل الرحمان

    کوئٹہ اور قلات حملے: سی ٹی ڈی نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے

  • اداکارہ حمیرا اصغر کیس: بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے، موبائل اور زیور غائب

    اداکارہ حمیرا اصغر کیس: بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات سامنے، موبائل اور زیور غائب

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فلیٹ سے ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کے کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں، تفتیشی حکام نے اداکارہ کے بینک اکاؤنٹ اور دیگر شواہد کی جانچ شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق حمیرا اصغر کے زیر استعمال نجی بینک (ایچ بی ایل) کا کرنٹ اکاؤنٹ تھا جس میں 3 لاکھ 98 ہزار روپے سے زائد کی رقم موجود ہے۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ وہ اے ٹی ایم سے کبھی 25 ہزار اور کبھی 50 ہزار روپے نکلواتی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شدید مالی بحران میں نہیں تھیں۔اداکارہ کے دیگر بینک اکاؤنٹس کی معلومات کے لیے متعلقہ اداروں کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔

    تحقیقات کے دوران مزید انکشافات کے مطابق فلیٹ سے کوئی زیورات یا نقدی برآمد نہیں ہوئی، جو تفتیشی حکام کے مطابق ایک اہم نکتہ ہے۔حمیرا کے زیر استعمال ایپل موبائل فون بھی غائب ہے، تاہم یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہ فون ان کے استعمال میں تھا یا نہیں۔کیس میں مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور تحقیقاتی رپورٹ جلد اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو کراچی کے ڈیفنس میں واقع ان کے کرائے کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی، جہاں وہ 2018 سے مقیم تھیں۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت کو تقریباً 10 ماہ گزر چکے تھے، اور اکتوبر کے پہلے ہفتے میں موت واقع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    اسحاق ڈار کی افغان قیادت سے اہم ملاقاتیں، سیکیورٹی و بارڈر مینجمنٹ پر زور

    سانحہ سوات: سیالکوٹ کے لاپتہ بچے عبداللّٰہ کی لاش برآمد

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 7 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی کمی