Baaghi TV

Category: کراچی

  • سانحہ بلدیہ فیکٹری ،مجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا چیلنج کردی

    سانحہ بلدیہ فیکٹری ،مجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا چیلنج کردی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا چیلنج کردی

    زبیر چریا ، رحمان بھولا ، علی محمد ، فضل محمد ، شاہ رخ اور ارشد محمد نے سزا کو چیلنج کردیا ،تین فیکٹری ملازمین کی جانب سےشوکت حیات اور فاروق حیات ایڈووکیٹ نے اپیل دائر کی ،مجرم رحمان بھولا اور زبیر چریا کی جانب سے ایڈووکیٹ عامر منسوب نے اپیل دائر کی،درخواست میں کہا گیا کہ دہشت گردی عدالت کےفیصلے میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا،

    واضح رہے کہ 22 ستمبر کو اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سنایا تھا،رحمان عرف بھولا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہو گیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی گئی اے ٹی سی کراچی نے ایم کیو ایم کے رہنما روَف صدیقی کو بری کردیا،سانحہ بلدیہ کیس میں 400گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے

    عدالت نے ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبد الستارکو بھی بری کردیا ،اس کے علاوہ باقی چار ملزمان کو سہولت کاری میں سزا سنائی گئی ہے،سزا پانے والے سہولت کاروں میں ارشد محمود ، فضل، شاہ رخ اورعلی احمد شامل ہیں

    اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ 8سال بعد سنایا،آگ لگانے کی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بھتہ تھا،رحمان عرف بھولا اورزبیر چریا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہوا،2014میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ،شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز دبئی چلے گئے

    سانحہ بلدیہ، تفتیشی افسر کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،

    سانحہ بلدیہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا،رحمان بھولا ،زبیر چریا کو سزائے موت، ایم کیو ایم رہنما بری

  • سابق وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون کا صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم کے بیان پر رد عمل،بڑا مطالبہ کر دیا

    سابق وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون کا صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم کے بیان پر رد عمل،بڑا مطالبہ کر دیا

    سابق وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون کا صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم کے بیان پر رد عمل،بڑا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ میری طبیعت صحیح نہیں تھی اسلئے کچھ دن تک بات نہیں ہو سکی آج بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے پاکستان میں جو خطرے کا باعث بن سکتا ہے،پاکستان کے بنانے سے پہلے میرے دادا سر عبداللہ ہارون پہلے اور آخری انڈیا میمن فیدریشن کے صدر رہے ہیں، جناح صاحب نے انکو ذمہ داری دی کہ آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مائل کریں پاکستان کی طرف،72 میں عبداللہ ہارون مر گئے،اور انکے بیٹے یوسف ہارون نے کام اپنے کندھوں پر اٹھایا، جام نگر جہاں جہاں کا بھی نام لیں، وہ میمنوں کے پاس گئے،اور وہ بڑی تعداد میں پاکستان آئے، پاکستان میں بزنس مینوں کا سرکل بنایا، انہوں نے کہا کہ یوسف ہارون صاحب کراچی میں سٹاک ایکسچینج نہیں تو یوسف ہارون نے دوستوں کے ساتھ ملکر کراچی میں سٹاک ایکسچینج قائم کیا اور وہ کراچییسکچینج کے پہلے صدر رہے،ادارہ بنانے میں بھی، لوگوں کو لانے میں بھی، پاکستان پر خرچہ کرتے ہوئے ہم نے اپنی خدمات پاکستان کے لئے سرانجام دیں

    آج میرے بہت ہی پرانے دوست سراج قاسم تیلی نے بیان دیا، ان میں ملک کا درد اتنا تھا کہ انہوں نے کھل کر وہ باتیں کیں جو لوگ کہتے ہوئے گھبراتے ہیں ،میں کئی سالوں سے یہ باتیں کر رہا ہون، ان حالات میں کیا کر رہے ہیں، میری مراد وہ لوگ ہین جنکو پاکستان کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہے، آج انہوں نے ایک ٹیپ ریلیز کی ہے، ہمت کی بات کی ہے. میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی تو آگے چل کر مسئلے مسائل پیدا ہوں گے انکا کون ذمہ دار ہو گا، وہ تو کہہ چکے ہیں، کچھ حصے سنانا چاہ رہا ہوں،

    سب سے پہلے انہوں نے کراچی کے بزنس مینوں کو جمع کیا اور کہا کہ ہماری ہر مہینے کے پہلے اتوار میٹنگ ہوتی ہے جس میں‌ بڑے بڑے تاجر اور انڈرسٹری مالکان شریک ہوتے ہیں. . سراج قاسم نے کہا ہے کہ اس اجلاس میں ملک کے بڑے بڑے تاجران اور انڈسٹری مالکان نے فیصلہ کیا ہے . کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے اور اسی طرح اب ان کی طرف سے ملک کو بند کرنے اور اس میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی جو باتیں‌کی جارہی ہیں‌، اس وجہ سے بزنس کمیونٹی بہت پریشان ہے .پھر مولانا فضل الرحمان نے پاکستان آرمی کے خلاف ببانگ دہل بات کی، سراج قاسم نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کار بالکل خوف زدہ ہے کہ آئندہ دنوں میں‌ ملک میں‌ انویسٹمنٹ کے حوالے سے کیسی صورت حال ہو گی ، انہوں‌نے کہا کہ اگر چور ڈاکو اسی طرح وطن کو لوٹ کر بیرون ملک چلے جایا کریں گے اور ان باہر بیٹھ کر اداروں اور پاک فوج کو دھمکیاں دیتے رہیں‌گے ، تب ہم نے اس ملک میں‌ کیوں اپنا پیسہ ضائع کرنا ہے .ان چوروں کو اگر سزا نہیں ملتی اور یہ چور پھر سے ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں جو کہ لگ رہا ہے . تو پھر ہم نے کیوں‌ دوخ خریدنی ہے ہمارے لیے دنیا بھی دوزخ‌ بن جائے اور آخرت کو بھی ہم سے اللہ پوچھے کہ صاف ستھرا کام کیوں‌ نہیں ‌کیا .

    سراج قاسم کا کہنا تھا کہ اگر انہی چوروں کو دوبارہ لانے کی کوشش کی گئی تو ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے، فارن انویسٹرز کوئی انویسمنٹ نہیں کریں گے،سراج قاسم نے اپنے ایک پیغام میں‌کہا کہ کیا ہم ان چوروں کو اپنا لیڈر مان سکتے ہیں.کیا ہم فضل الرحمنٰ کو اپنا لیڈر مان سکتے ہیں.کیا الطاف حسین،محمود اچکزئی،اسفند یار، آصف زرداری نواز شریف اور دیگر ملک کی دولت دو دو ہاتھوں سے لوٹنے والے ہمارے لیڈر ہوسکتے ہیںِ ؟ کیا محمود خان اچکزئی کو لیڈر مان سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں . ایسا کبھی نہیں‌ ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی فوج نے پھر انہی لوگوں کو واپس لانا ہے تو پھر یہ ملک آپ کا ہے جو مرضی کریں اور آپ چلائیں ‌اس کو . ہم اپنی ساری دولت یہاں سے لے جائیں ‌گے. پھر یہاں‌ پھر سے نواز زرداری اور اسفند یار ولی اور فضل الرحمن جیسے بلیک میلر اور ملکی دولت کو لوٹنے والے اپنے اپنے کاروبار چلائیں گے.ہمارا یہاں ‌کوئی کام نہیں‌ ہے .

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1313389424323985408

    انہوں نے بڑے دردمندانہ اور افسوس ناک بیان میں کہا کہ شریف آدمی اور بدمعاش ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے . آئی ایس پی آر کو لاؤڈ اینڈ کلیئر یہ کھل کر بیان کرنا چاہیے کہ ان لوگوں کو دوبارہ نہیں‌لایا جائے گا یا انکی دوبارہ آمد کی راہ ہموار نہیں‌ کی جائے گی، قوم اور بزمین کمیونٹی اس بارے شدید تحفظات کا شکار ہے . ان کے ان تحفظات کو دور کیا جائے اور ملک کو بہتر صورت چلنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کو پروان چڑھایا جائے .اگر یہی چور دوبارہ آئے تو پھر ملک مبارک ہو، دنیا علاقے ہمارے لئے کھلے ہوئے ہیں

    عبداللہ حسین ہارون کا کہنا تھا کہ میں سراج‌ صاحب کو ساٹھ سال سے جانتا ہوں کھل کر بات کر رہے ہیں،بزنس والے کراچی والے انکی بڑی عزت کرتے ہیں، اگر انکی بات نہ مان گئی تو پھر یہ اپنا پیسہ بھی نکال کر کہیں اور لے جا کر بیٹھ جائیں گے، خیال رکھیں اس ملک کا، ہم سب کیا کر رہے ہیں، خدارا کچھ کریں، اگرہم نہیں‌ کریں گے تو ملک کو تہس نہس کر کے چھوڑیں گے، کچھ لوگوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی وارث نظر نہیں آتا، کوئی اپنی ذمہ داری پر کام کرنے کو تیار نہین ہوتا، یہ مزید برا ہوتا جائے گا ،جیسا سراج نے کہا کہ اگر اآپ چاہتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتیں ہوں تو کیا نظارہ ہے، ہر آدمی دو لاکھ کا مقروض ہے ،ہر انسان کے لئے مصیبتیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ بول نہیں پاتے، لوگ ڈر گئے ہین، اگر ہم ذرا سی توجہ دیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں

    عبداللہ حسین ہارون کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سے محبت کرنے والون کی یہ آواز ہے، اسکا جواب دیں، ایک بزنس مین کو اتنا بولنا ایسا پیغام ہے کہ جسکو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، آپ نے پاکستان کے لئے کرنا ہو گا کیونکہ آپ ہی ذمہ دار ہیں اسکے، ملک میں انکو موقع دیں جو محبت سے پیش آتے ہیں

    اگر ملکی دولت لوٹنے والے دوبارہ اقتدار میں‌ آئے تو پاکستان میں بزنس میں کمیونٹی انوسٹمنٹ نہیں‌ کرے گی، صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم

  • ہمارا کراچی تکلیف میں ہے ہم مدد کے لیے آواز بُلند کر رہے ہیں لیکن ہماری آواز سُننے والا کوئی نہیں ہے  شنیرا اکرم

    ہمارا کراچی تکلیف میں ہے ہم مدد کے لیے آواز بُلند کر رہے ہیں لیکن ہماری آواز سُننے والا کوئی نہیں ہے شنیرا اکرم

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کاموں میں ہمیشہ سب سے آگے رہنے والی اور معاشرتی مسائل پر اپنی آواز بُلند کرنے والی شنیرا اکرم کراچی کے ساحل پر موجود گندگی کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھنے کے بعد سی ویو پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی : ٕشنیرا اکرم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ کراچی کے ساحل پر موجود ہیں جبکہ تصویر میں ساحل پر موجود کچرہ اور گندگی بھی دکھائی دے رہی ہے۔

    شنیرا اکرم نے تصویر شئیر کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارا شہر روزانہ ہمیں بتا رہا ہے کہ وہ تکلیف میں ہے ہم مدد کے لیے اپنی آواز بھی بُلند کر رہے ہیں لیکن ہماری آواز سُننے والا کوئی نہیں ہے۔


    سماجی کارکن نے لکھا کہ اس گندگی نے ہمارے شہر ہمارے لوگوں اور ہماری ثقافت کو شرمندہ کیا ہے یہ ہم نہیں ہوسکتے-

    شنیرا نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ گندگی صرف ساحل پر موجود نہیں بلکہ شہر میں ہر جگہ ہی کچرا موجود ہے گلی کوچوں اسکولوں کے باہر، خالی مکانوں، دفاتر کے باہر، گھروں کے سامنے اور یہاں تک کہ ہمارے واحد ساحل پر بھی گندگی کے ڈھیر ہیں۔


    اُنہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو ہم کچرے کے ڈھیر میں تیراکی کر رہے ہیں۔

    شنیرا اکرم نے لکھا کہ میں جس طرح کوڑا کرکٹ کے ڈھیر دیکھ رہی ہوں لوگ قانون توڑ رہے ہیں۔ کچرے کے ڈھیروں والی دکانیں ، سیوریج ٹینکر سمندر میں اتر رہے ہیں-


    انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ بلاکس ایسا لگتا ہے جیسے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی ان کو پینٹ یا ٹھیک نہیں کرنا چاہتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہم نے اس خوبصورت شہر کی نگہداشت ترک کردی ہے-

    شنیرا اکرم نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ جب میں پاکستانی لوگوں کے بارے میں سوچتی ہوں تو فخر سے سوچتی ہوں۔ ہم ہر چیز پر فخر کرتے ہیں اپنے کنبے ، پڑوسی ، دوست ، آفس ، گھر ، باغات ہر چیز پر فخر کرتے ہیں-


    انہوں نے کہا کہ کراچی کی برادری کو اس طرح زندگی گزارتے ہوئے دیکھ کر بہت افسوس ہوا کھنڈرات والے شہر میں بسنا ٹھیک ہے یہ ہماری فطرت میں نہیں ہے-


    شنیرا اکرم نے لکھا کہ ہمارا شہر بیمار ہے ہماری سمندری زندگی دم گھٹ رہی ہے ، ہمارے لوگ رو رہے ہیں ، ہمارے بچے کچرے میں کھیل رہے ہیں اور دنیا ہمیں کچھ نہیں کرنے کے لئے! دیکھ رہی ہے!

    دوسری جانب سابق کرکٹر وسیم اکرم بھی کراچی سی ویو کی حالت دیکھ کر مایوس ہوگئے، اُنہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہفتے کے پہلے روز اہلیہ کو سی ویو پر لا کر بہت بڑی غلطی کی۔


    وسیم اکرم نے کہا کہ ہمیں کسی پر الزام نہیں لگانا کیونکہ اس سب گندگی کے ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ ہم سمندر میں گند پھینکتے ہیں تو ساحل پر آتا ہے-

    سی ویو پر گندگی کے ڈھیر دیکھ کر شنیرا اکرم کا برہمی کا اظہار

    کراچی سی ویو کی حالت دیکھ کر وسیم اکرم کا مایوسی کا اظہار،کہا اہلیہ کو سی ویو پر…

  • سی ویو پر گندگی کے ڈھیر دیکھ کر شنیرا اکرم کا برہمی کا اظہار

    سی ویو پر گندگی کے ڈھیر دیکھ کر شنیرا اکرم کا برہمی کا اظہار

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ و سماجی کارکن شنیرا اکرم کراچی کے ساحل سمندر پر موجود گندگی کو دیکھ کر شدید برہم ہو گئیں-

    باغی ٹی وی : شنیرا اکرم نے کراچی کے ساحل پر موجود کچرے اور گندگی کو دیکھنے کے بعد گذشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم کراچی کے ساحل کو بار بار صاف کرکے تھک چکے ہیں۔


    شنیرا اکرم نے لکھا کہ ہر بار صاف کرنے کے باوجود بھی شہر بھر کا کچرا اور سیوریج کا گندا پانی کراچی کے ساحل میں شامل کردیا جاتا ہے۔

    شنیرا نے کہا کیا ہم ساحل کو بار بار صرف اس لئے صاف کرتے ہیں کہ شہر کا کوڑا کرکٹ ہمارے سمندر اور سیوریج کی لائنوں میں پھینک دیا جائے-

    اُنہوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بس اب بہت ہوگیا ہے میں اب کراچی کے ساحل پر نہیں جا رہی ہوں۔

    شنیرا اکرم نے لکھا کہ یہ ہمارے ملک پاکستان کے لیے شرمندگی کی بات ہے ہمیں شرم آنی چاہیے –

    واضح رہے کہ گزشتہ سال شنیرا نے کراچی کے ساحل پر گندگی اور سرنجوں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد کراچی کے ساحل پر پھینکی گئیں سرنجیں اُٹھالی گئی تھیں۔

  • کراچی سی ویو کی حالت دیکھ کر وسیم اکرم کا مایوسی کا اظہار،کہا اہلیہ کو سی ویو پر لا کر بہت بڑی غلطی کی

    کراچی سی ویو کی حالت دیکھ کر وسیم اکرم کا مایوسی کا اظہار،کہا اہلیہ کو سی ویو پر لا کر بہت بڑی غلطی کی

    قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کراچی سی ویو کی حالت دیکھ کر مایوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہفتے کے پہلے روز اہلیہ شنیرا کو سی ویو پر لا کر بہت بڑی غلطی کی۔

    باغی ٹی وی :سوئمنگ کے سلطان وسیم اکرم نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر جاری 45 سیکنڈ پر مبنی پیغام میں وسیم اکرم نے کہا کہ میں نے سوچا تھا ہفتے کے پہلے روز ساحل سمندر پر مزہ آئے گا لیکن شنیرا اکرم کو سی ویو لا کر بہت بڑی غلطی کی ہے میں نے-
    https://www.instagram.com/p/CF8n0vdAUq-/?igshid=jxagvymsf2nd


    وسیم اکرم نے کہا کہ ہمیں کسی پر الزام نہیں لگانا کیونکہ اس سب گندگی کے ذمہ دار ہم خود ہیں کیونکہ ہم سمندر میں گند پھینکتے ہیں تو ساحل پر آتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ شنیرا پوری دنیا کو کہتی ہے کہ پاکستان خوبصورت ملک ہے پاکستانی خوبصورت ہیں لیکن یہ بات بھی مانیں کہ لوگ گندے بھی ہیں۔

    ‏وسیم اکرم نے کہا کہ جنہیں سوشل میڈیا پر نصیحتیں کرنے کا شوق ہے اب نصیحتیں کریں اور بتائیں کہ ان لوگوں کا مائنڈ سیٹ کیسے تبدیل کریں-

    وسیم اکر م نے کہا کہ یہ وہ گند ہے جو ہم سمندر میں پھینکتے ہیں اور پھر لہروں کے ساتھ باہر آتا ہے-

    وسیم اکرم نے مزید کہا کہ ہمیں یہ ٹھیک کرنے کا دعوی کرنا چھوڑنا چاہئے کیونکہ ایسا نہیں ہے!

    وسیم اکرم نے انسٹاگرام اسٹوریز میں بھی ویڈیو شئیر کیں اور کہا کہ ساحل سمندر کی حالت دیکھ کر مجھے بہے مایوسی ہوئی ہے اور شنیرا کو بھی انہوں نے کہا یہاں تک کہ یہ سب دیکھ کر شنیرا آبدیدہ ہو گئیں ہیں-

  • کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی بحالی میں اب تک پیشرفت کی تفصیلات جاری

    کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی بحالی میں اب تک پیشرفت کی تفصیلات جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی بحالی میں اب تک پیشرفت کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں

    رپورٹ کے مطابق کے سی آر کے مجموعی طور پر20 اسٹیشن ہیں، 15 لوپ لائن اور5 مین لائن پر ہیں، کے سی آر منصوبے کو 3 مراحل میں بحال کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں اورنگی سے گیلانی اسٹیشن تک 7 کلومیٹرتک بحال کیاجائے گا، تیسرے مرحلے میں گیلانی اسٹیشن سے ڈرگ کالونی تک 9 کلومیٹر ٹریک بحال ہوگا، پہلےکراچی سٹی سے لے کراورنگی اسٹیشن تک 14 کلومیٹر ٹریک بحال ہوگا،پورے ٹریک پر 24 لیول کراسنگ یعنی پھاٹک قائم ہیں،

    رپورٹ کے مطابق کے سی آر 30 کلومیٹر لوپ لائن اور14 کلومیٹر مین لائن پر بنا ہے، کے سی آر ٹریک 44 کلو میٹر پر مشتمل ہے،پہلے مرحلے یعنی کراچی سٹی سے اورنگی تک ٹریک کی بحالی کا کام شروع کردیا، کراچی سٹی سے منگھو پیر تک 12 کلومیٹر ٹریک مکمل بحال ہوچکا،پہلے مرحلے میں 9 اسٹیشنز اور پلیٹ فارم ہیں،15 لیول کراسنگ کی مرمت کیلئے 15.25 کروڑ روپے خرچ ہوں گے،الیکٹریکل سگنل اور ٹیلی کمیونی کیشن کیلئے 5 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ ہے، دونوں منصوبوں کے ٹینڈررواں مالی سال جولائی میں جاری کیے جاچکے ہیں،

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لیا

    سانحہ تیزگام بارے کیا کرنے جا رہے ہیں؟ آڈٹ رپورٹ کس کی عدالت پیش کی گئی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    ن لیگ عورت مارچ کی حمایت کرے گی یا مخالفت،شاہد خاقان عباسی نے اعلان کر دیا

    خلیل الرحمان قمر لاکھوں مولویوں سے آگے نکل گیا،خادم رضوی بھی بول پڑے، مزید کیا کہا؟

    رپورٹ کے مطابق 10 انجن اور40 کوچز کے سی آرمنصوبے کیلئے کیرج فیکٹری کے سپرد کر دیئے گئے ہیں ،انجنوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام بہتر طریقے سے جاری ہے،وزیر ریلویز نے حالیہ شاہ عبدالطیف اسٹیشن کے دورے پر ایک تیارشدہ کوچ کینٹ اسٹیشن پر رکھنے کا بھی اعلان کیا،پرانے کے سی آر نظام کو بحال کرنے کیلئے 1850 ملین کی لاگت آئے گی،یومیہ 32 ٹرینیں 16 ہزار مسافروں کو اپنی منزل پر پہنچائیں گی،پہلی سے آخری منزل تک کا فاصلہ صرف آدھے گھنٹے میں طے ہوگا، پاکستان ریلویز کے سے آر منصوبے کی بحالی کے بعد دوسرے مرحلے میں اس کی اپ گریڈیشن کرے گی کے سی آر کی اپ گریڈیشن کیلئے 8705 ملین روپے درکار ہوں گے،اپ گریڈیشن کے بعد ٹرینوں کی تعداد 32 سے بڑھ کر 48 ہوجائے گی، اپ گریڈیشن کے بعد مسافروں کی گنجائش 16 ہزار سے بڑھ کر 24 ہزار ہوجائے گی، اپ گریڈیشن کےبعد سفر کا دورانیہ 30 منٹ سے کم ہوکر 19 منٹ رہ جائے گا،تیسرے مرحلے میں اس منصوبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پرجدید اربن ماس ٹرانزٹ سسٹم کا درجہ دیا جائیگا،

    کراچی والوں کے لئے بڑی خوشخبری، کراچی سرکلرریلوے کے لیے ہوں گی 40 کوچز تیار

  • جناح اسپتال کا ہیلی پیڈ ایئرایمبولینس کے لیے 20 برس بعد بحال

    جناح اسپتال کا ہیلی پیڈ ایئرایمبولینس کے لیے 20 برس بعد بحال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال کراچی کا ہیلی پیڈ ایئر ایمبولینس کے لیے بحال ہوگیا

    سندھ حکومت کے ہیلی کاپٹر نے جناح اسپتال کے ہیلی پیڈ پر لینڈنگ کی ہے،سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جناح اسپتال میں ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی اجازت دے دی، جس کے بعد آج ہیلی کاپٹر نے آزمائشی لینڈنگ کی، اب ہیلی کاپٹر کے ذریعے مریضوں کو جناح اسپتال لایا جا سکے گا،

    سربراہ جناح ہسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال میں ایئر ایمبولینس کیلیے ہیلی پیڈ فعال کر دیا گیا ،دودہائیوں کے بعد سندھ حکومت کا ایک ہیلی کاپٹرہیلی پیڈ پراترا ہے،سرکاری اورنجی ہوائی ایمبولینس کے ذریعے مریض لائے جاسکیں گے،

    واضح رہے کہ جناح ہسپتال شہر قائد کراچی کا بڑا سرکاری ہسپتال ہے جہاں مریضوں کا رش ہوتا ہے اور نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ سے بھی مریض جناح ہسپتال علاج کے لئے آتے ہیں

  • کراچی میں‌ کورونا ایس و پیز کی خلاف ورزی پر  مزید ریسٹورانٹ سیل

    کراچی میں‌ کورونا ایس و پیز کی خلاف ورزی پر مزید ریسٹورانٹ سیل

    کراچی میں‌ کورونا ایس و پیز کی خلاف ورزی پر مزید ریسٹورانٹ سیل

    باغی ٹی وی : کراچی میں کورونا وبا کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد شہری انتظامیہ کے آپریشن کا تیسرا روز مکمل ہو گیا جس کے تحت 3 روز میں اب تک 9 شادی ہالز اور 159 ریسٹورنٹس سیل کیے جا چکے ہیں۔

    کراچی میں کورونا وائرس ایس او پیز کی خلاف ورزی پر شہری انتطامیہ کا آپریشن جاری ہے جس کے تحت شہر کے 6 اضلاع کے 225 شادی ہالز میں سے 26 کا معائنہ کیا گیا، جس میں سے 7 کو وارننگ اور 2 کو سیل کیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق 3 روز میں اب تک 9 شادی ہالز کو ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کیا جا چکا ہے۔دوسری جانب شہری انتظامیہ کے آپریشن کے تیسرے روز 181 ریسٹورنٹس کا بھی معائنہ کیا گیا جس میں سے 131 ریسٹورنٹس ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے جب کہ 67 ریسٹورنٹس کو وارننگ دی گئی اور 41 کو سیل کر دیا گیا.
    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا کے بعد کاروبار زندگی اور تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں‌. لیکن اس کے بعد پھر سے کیسز سامنے آگئے ہیں. حکومت خلاف ورزی کرنے والے سکولز اور ہوٹلوں‌کو سیل کر رہی‌ ہے.

  • سندھ میں‌ سیاسی درجہ حرارت تیز، دوبڑی پارٹیوں کا آج پاورشو

    سندھ میں‌ سیاسی درجہ حرارت تیز، دوبڑی پارٹیوں کا آج پاورشو

    سندھ میں‌ سیاسی درجہ حرارت تیز، دوبڑی پارٹیاں پاورشو کریں‌ گی

    باغی ٹی وی : کراچی اور شہر قائد میں سیاست کا بازار پھر سرگرم ہے، کراچی اور حیدرآباد میں آج پاور شو کئے جائیں گے، پیپلز پارٹی شہر قائد میں ریلی نکالے گی، ایم کیو ایم حیدرآباد میں طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت آج کراچی میں یکجہتی ریلی نکالی جائے گی، پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کہتے ہیں پیپلزپارٹی کراچی میں لسانی سیاست کی سازش کو ناکام بنائے گی، سعید غنی کا کہنا تھا کہ ریلی اتوار کی دوپہر دو بجے عائشہ منزل ڈسٹرکٹ سینٹرل سے نکالی جائے گی جو لیاقت آباد، تین ہٹی، گرومندر، پیپلز سیکریٹریٹ، لائنز ایریا سے ہوتی ہوئی ایمپریس مارکیٹ صدر پر اختتام پذیر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلی کا مقصد سندھ میں رہنے والی تمام قومیتوں اور زبانیں بولنے والوں کےخلاف سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ سندھ میں رہنے والے تمام سندھی ہیں، چاہے وہ کسی بھی قومیت، زبان یا ملک کے کسی بھی حصے سے یہاں آباد ہوئے ہوں۔ سعید غنی نے ریلی کے شرکاء سے کورونا وائرس کے تناظرمیں ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کی اپیل بھی کی۔

    ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے آج سہ پہر حیدرآباد مارچ کا انعقاد کیا جارہا ہے جس سے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی اور مقامی رہنما خطاب کریں گے۔ حیدر آباد مارچ کا آغاز آج سہ پہر سٹی گیٹ سے کیا جائے گا۔ مارچ کے شرکاء جیل روڈ، لبرٹی چوک، تلک چاڑی سے اسٹیشن روڈ کے راستے مارچ کرتے ہوئے زنانہ ہسپتال پہنچیں گے۔ حیدرآباد مارچ کی تیاریاں جاری ہیں، حیدرآباد مارچ کے حوالے سے شہر بھر میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور کارکنان پارٹی ترانوں کی دھنوں پر رقص کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے رات گئے حیدرآباد مارچ کے حوالے سے نوجوانوں کا اجلاس ہوا جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اجلاس سے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما سابق مئیر وسیم اختر نے خطاب کیا۔

  • بینک میں کرونا کے 5 مریض سامنے آنے پر بینک سیل

    بینک میں کرونا کے 5 مریض سامنے آنے پر بینک سیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں تعلیمی اداروں، ریسٹورینٹس کے بعد نجی دفاتر میں بھی کورونا پھیلنے لگا

    شہر قائد کراچی میں کورونا کی دوسری لہر شروع ہوتے ہی کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز5 میں نجی بینک کی برانچ کے 5ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی نے نجی بینک کی برانچ غیرمعینہ مدت کیلئے بند کرا دی ہے

    ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کا کہنا ہے کہ شہرمیں کورونا مثبت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، نجی بینک برانچ کے دیگرملازمین کے بھی کورونا ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب ضلع کورنگی کے بھی مختلف مقامات پر مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا گیا ہے ، ڈپٹی کمشنر ضلع کورنگی کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 15اکتوبر تک کورنگی کے مختلف علاقوں میں لاک ڈاون ہوگا، کورنگی نمبر2، الفلاح سوسائٹی ،شادمان ٹاور ملیر،درخشاں سوسائٹی ملیر میں بھی لاک ڈاون کا نفاذ ہوگا جبکہ قائد پارک ملیرسے متصل گلی میں بھی لاک ڈاون ہوگا۔

    لاک ڈاون والے علاقوں میں 9افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ، لاک ڈاون والے علاقوں مین نقل وحرکت پر پابندی،صرف کریانہ ،اشیائے ضرورہ کی دکانیں کھولی جاسکیں گی ،