Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کے مسائل کا حل آرٹیکل 149 نہیں،اٹھارویں ترمیم میں ترمیم کی جائے، مصطفیٰ‌کمال

    کراچی کے مسائل کا حل آرٹیکل 149 نہیں،اٹھارویں ترمیم میں ترمیم کی جائے، مصطفیٰ‌کمال

    کراچی : کراچی کے مسائل کا حل آرٹیکل 149 کا نفاذ نہیں‌، ان خیالات کا اظہار پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس مین کیا ، مصطفیٰ‌کمال نے کہا کہ جب تک وفاق سے صوبوں کو ملنے والے این ایف سی ایوارڈ نچلی سطح پر پروونشیل فائنانس کمیشن کی صورت میں منتقل نہیں ہونگے اسوقت تک کراچی سمیت پاکستان کے کسی بھی علاقے کے نا تو مسائل حل ہونگے اور نا ہی کوئی بھلا ہوگا

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں مزید ترمیم کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت صوبائی حکومتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے پابند ہیں. آئین کی شق 149 کے مجوزہ نفاذ سے کراچی کے مسائل کا حل نہیں ہونگے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور نیشنل کونسل کے زمہ دران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں کراچی کے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے کیونکہ مسئلہ تو آج ہے، کچرا آج نہیں اٹھ رہا، پینے کا پانی آج نہیں ہے، بیماریاں آج پھیل رہی ہیں، انہیں آج حل ہونا ہے لیکن وفاقی حکومت جو راستہ اختیار کر رہی ہے وہ کافی طویل اور جانبدار ہے پہلی بات یہ کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت مانے گی نہیں جسکی وجہ سے وفاقی حکومت کو سپریم کورٹ جانا پڑے گا

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ کے دوسرے شہروں بشمول لاڑکانہ، نوابشاہ سکھر میں کونسی دودھ کی نہریں بہ رہی ہیں، وہ بھی تباہ حال ہیں، وزیر قانون کی مجوزہ تجویز سے پیپلز پارٹی کو سندھ کارڈ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کو کراچی لے کر آئیں اور وزیر اعلیٰ سندھ کیساتھ بٹھا دیں م، مسائل حل ہوجائیں گے، اب اگر وزیر اعلیٰ وزیر اعظم کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے تو سندھ حکومت خود ایکسپوز ہو جائیں گے. وزیراعظم پاکستان عمران جب مودی سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں تو وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کیوں نہیں کر سکتے۔

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نےکہا کہ اگر وفاقی حکومت کوشش کیے بغیر آرٹیکل 149 کی بات کرے گی تو مزید وقت ضائع ہوگا اور کراچی والوں کے مسائل میں مزید اضافہ اور پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کی اونر شپ لے اور اپنی انا و رنجشیں چھوڑ کر سندھ حکومت کے ساتھ بلا مشروط مسائل کو حل کرنے کا عندیہ دے۔ تب جاکر تمام مسائل کا حل موجود ہے۔

  • ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں ،پیپلز پارٹی نے مطالبہ کر دیا

    ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں ،پیپلز پارٹی نے مطالبہ کر دیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے معاشی بدحالی کومدنظررکھتے ہوئے وفاقی حکومت فوری مستعفی ہو، ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رضا ربانی کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری پر کوئی ضرب نہیں لگائی جاسکتی ،اٹھارویں ترمیم کو ہدف بناجارہا ہے ،آرٹیکل 149کےتحت انتظامی امور سنبھالنا غیر آئینی ہے،پارلیمان نے18ویں ترمیم پر واضح پیغام دیا ہے،آرٹیکل 149کےتحت صرف 3چیزوں پر ہدایات دی جاسکتی ہیں ،وفاق کی ہدایات پر عمل کرنا صوبے کی صوابدید ہے ،

    وزیر خارجہ نے اسمبلی میں بلاول کو جواب دیا تو شیری رحمان آئیں میدان میں، کیا کہا؟

     

    آرٹیکل 149 کا اطلاق کراچی کے مسائل کا حل نہیں ، رضا ہارون نے تحفظات پیش کردیئے

    کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتا ہے، سعید غنی

    کراچی کے مسائل،اراکین کے وزیراعظم کو شکوے،خود کراچی جاؤں گا ،وزیراعظم

    کمیٹیاں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،وزیراعظم کی کمیٹی نے تعاون مانگا تو کریں گے، سعید غنی

    رضاربانی کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاق کوامورسونپناچاہےتوصوبائی اسمبلی سےقرارداد منظورکرانی ہوگی،وفاق میں اس وقت مشرف کی ٹیم موجود ہے،وفاق کا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کا یہ پہلا قدم ہے،وفاق کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کوشش کررہی ہے،سندھ کے عوام کراچی کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے،سندھ کی تقسیم کےخطرناک نتائج نکلیں گے

    بلاول سن لے، سندھو دیش کی بات کرنے والے پٹ جائیں گے، وزیر خارجہ.

    کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

    اسپیکر قومی اسمبلی کا تمام اپوزیشن رہنماؤں کو ایل او سی کے مشترکہ دورے کا مشورہ

  • کراچی ، سندھ میں نام نہاد خدمت کی ضرورت نہیں ، اگر ایسی کوشش ہوئی تو سندھو دیش اور پختونستان بنا دیں گے ، بلاول کی دھمکی

    کراچی ، سندھ میں نام نہاد خدمت کی ضرورت نہیں ، اگر ایسی کوشش ہوئی تو سندھو دیش اور پختونستان بنا دیں گے ، بلاول کی دھمکی

    حیدرآباد : بلاول بھٹو وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کے لوگوں کو مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے دعوے کے بعد سخت اور لسانی تعصب پر مبنی دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں، اطلاعات کے مطابق بلاول نےکہا کہ کراچی اور سندھ میں اگر وفاقی حکومت نے خدمت کے نام پر مداخلت کی تو پھر یاد رکھیں اگر ہمیں نہ کھیلنے دیا گیا تو ہم بھی کھیلنے نہیں‌دیں گے ، اور اگر ایسا ہوا تو ہم اقتدار میں مداخلت کرنے والوں کو سندھو دیش اور پختونستان کا تحفہ دیں‌گے ،

    حیدرآباد میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت ملک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، پاکستان کو آج جمہوریت سے آمریت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جمہوریت کا سفر زوال کی طرف جا رہا ہے، غیر جمہوری قوتوں نے ہم سب پر حملے کیے، ہم سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے، کٹھ پتلی حکومت نے آئین پر حملے کیے، ملک کی معیشت کو کمزور کیا گیا، عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا۔

    ذرائع کےمطابق چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے 18ویں ترمیم کی صورت میں آئین کو بحال کیا، لیکن وزیراعظم نے سندھ میں کہا کہ 18ویں ترمیم کے باعث وفاق دیوالیہ ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وفاق کی وجہ سے صوبے دیوالیہ ہو رہے ہیں، وفاقی حکومت خود اپنا ٹیکس جمع نہیں کرتی، نااہل حکومت کی وجہ سے ہر صوبے کو کم پیسہ مل رہا ہے۔

    حسب عادت چیئرمین پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ آئین کی خلاف ورزی کرتے جا رہے ہیں، کیا کراچی کو اسلام آباد والے چلائیں گے، اس حکومت کو گھر جانا چاہیے، ایم کیو ایم کے ارکان بھی استعفیٰ دیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ غیر آئینی طریقے سے کراچی کو اسلام آباد سے کنٹرول کیا جائے۔

  • کراچی، رینجرز کی مختلف علاقوں میں کاروائیاں، 5 ملزمان گرفتار

    کراچی، رینجرز کی مختلف علاقوں میں کاروائیاں، 5 ملزمان گرفتار

    رینجرز نے کراچی کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 5 ملزمان گرفتار کئے ہیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان رینجرز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بلوچ کالونی اورکورنگی انڈسٹریل ایریاسے3ملزمان کوگرفتارکیا گیا ہے، گرفتارملزمان ڈکیتی کی متعددوارداتوں میں ملوث ہیں، گلبہارکےعلاقےسےملزم زاہدکوگرفتارکیاگیا، بلوچ کالونی سے منشیات فروشی میں ملوث ملزم جمیل احمد گرفتار کیا گیا،

    ترجمان رینجرز نے کہا ہے کہ گرفتارملزمان سےغیرقانونی اسلحہ، ایمونیشن، مسروقہ سامان اورمنشیات برآمد کیا گیا ہے،

  • مسلم لیگ ن  آرٹیکل 149 کے نفاذ کی مخالفت کرے گی. سابق گورنر سندھ

    مسلم لیگ ن آرٹیکل 149 کے نفاذ کی مخالفت کرے گی. سابق گورنر سندھ

    سابق گورنر سندھ، مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن آرٹیکل 149 کے نفاذ کی مخالفت کرے گی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہعلی زیدی کی کمیٹی کی وجہ سےمزید مسائل پیداہوگئے ،فروغ نسیم نےآرٹیکل 149نافذکرنےکی حیران کن بات کی،ن لیگ نےگورنرراج اورآرٹیکل 149کےبغیرکراچی میں امن بحال کیا ،چندہ لےکرکراچی کوصاف کرنابری طرح ناکام ہوا،

    آرٹیکل 149 کا اطلاق کراچی کے مسائل کا حل نہیں ، رضا ہارون نے تحفظات پیش کردیئے

    ن لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیوایم کویاد دلانا چاہیے کہ وہ کہتے تھےانکا مینڈیٹ چوری کیا گیا ،پی ٹی آئی تقسیم کےعلاوہ کیاچاہتی ہے؟یہ خطرناک کھیل ہے،پہلی مرتبہ کسی وفاقی حکومت نےآرٹیکل 149کی بات کی ہے،پہلی مرتبہ کسی وفاقی حکومت نےآرٹیکل 149کی بات کی ہے،اگرآرٹیکل 149 لگادیا گیا تو وفاق کا ڈھانچہ کمزور ہوگا

    کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتا ہے، سعید غنی

    واضح رہے کہ کراچی بالخصوص اور سندھ بالعموم اس وقت جس بدانتظامی کا شکار ہے اس کو بہتر کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے براہ چلانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا ہے ، اطلاعات کے مطابق کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا ہے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی میں آرٹیکل 149(4) نافذ کیا جائے گا۔

    کراچی کے مسائل،اراکین کے وزیراعظم کو شکوے،خود کراچی جاؤں گا ،وزیراعظم

    سندھ اور کراچی میں خصوصی پر معاملات کو بہتر انداز سے چلانےکے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آرٹیکل 149 کے نفاذ کا یہی درست وقت ہے، مسائل حل کرنے ہیں تو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

    کراچی میں مکھیاں اور گندگی، عدالت نے میئر کراچی سے ایکبار پھر جواب طلب کر لیا

    فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 149(4) کے نفاذ کے حق میں ہیں، کراچی میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا نفاذ بھی ضروری بن گیا ہے، دیکھنا ہوگا لوکل ایکٹ 2013 آرٹیکل 140 اے سے کتنا تضاد رکھتا ہے۔

    فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 149(4) گورنر راج کی بات نہیں کرتا، یہ وفاقی حکومت کو خصوصی اختیار دیتا ہے، اس سے متعلق شکایت کرنا پی پی کا حق ہے، ساری باتیں ابھی نہیں بتا سکتا، وقت آنے پر چیزیں سامنے آ جائیں گی، دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور چند اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے

    کمیٹیاں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،وزیراعظم کی کمیٹی نے تعاون مانگا تو کریں گے، سعید غنی

    کراچی کے مسائل، وزیراعظم ہفتہ کو کریں گے دورہ، علی زیدی کا اعلان

  • آرٹیکل 149 کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کے اندرریاست بنا دی جائے، وسیم اختر

    آرٹیکل 149 کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کے اندرریاست بنا دی جائے، وسیم اختر

    میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ آرٹیکل 149 کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کے اندرریاست بنا دی جائے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میئر کراچی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی کے پاس وہ وسائل نہیں کہ سب کچھ کرسکیں،کراچی میں بہت سے اجڑے ہوئے پارکس ہیں جنہیں ٹھیک نہیں کرسکتے،فنڈز کی کمی کے باعث کراچی کے پارکس پر کام نہیں کیا جاسکتا،

    آرٹیکل 149 کا اطلاق کراچی کے مسائل کا حل نہیں ، رضا ہارون نے تحفظات پیش کردیئے

    وسیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 149آئین میں موجود ہے ،18ویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس چلے گئے،18ویں ترمیم کے وقت آرٹیکل 149کو ختم کیاجاسکتا تھا،آرٹیکل 149کے تحت وفاق صوبے کو امن و امان اور فنانسنگ سے متعلق ہدایات دے سکتا ہے،کراچی میں سیوریج اور ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں،

    میئر کراچی نے مزید کہا کہ کراچی کے لوگ سوال کررہے ہیں ٹیکس کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟آرٹیکل 149 کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کے اندرریاست بنادی جائے،

     

    کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتا ہے، سعید غنی

     

    واضح رہے کہ کراچی بالخصوص اور سندھ بالعموم اس وقت جس بدانتظامی کا شکار ہے اس کو بہتر کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے براہ چلانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا ہے ، اطلاعات کے مطابق کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا ہے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی میں آرٹیکل 149(4) نافذ کیا جائے گا۔

    کراچی کے مسائل،اراکین کے وزیراعظم کو شکوے،خود کراچی جاؤں گا ،وزیراعظم

    سندھ اور کراچی میں خصوصی پر معاملات کو بہتر انداز سے چلانےکے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آرٹیکل 149 کے نفاذ کا یہی درست وقت ہے، مسائل حل کرنے ہیں تو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

    کراچی میں مکھیاں اور گندگی، عدالت نے میئر کراچی سے ایکبار پھر جواب طلب کر لیا

    فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 149(4) کے نفاذ کے حق میں ہیں، کراچی میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا نفاذ بھی ضروری بن گیا ہے، دیکھنا ہوگا لوکل ایکٹ 2013 آرٹیکل 140 اے سے کتنا تضاد رکھتا ہے۔

    فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 149(4) گورنر راج کی بات نہیں کرتا، یہ وفاقی حکومت کو خصوصی اختیار دیتا ہے، اس سے متعلق شکایت کرنا پی پی کا حق ہے، ساری باتیں ابھی نہیں بتا سکتا، وقت آنے پر چیزیں سامنے آ جائیں گی، دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور چند اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے

    کمیٹیاں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،وزیراعظم کی کمیٹی نے تعاون مانگا تو کریں گے، سعید غنی

    کراچی کے مسائل، وزیراعظم ہفتہ کو کریں گے دورہ، علی زیدی کا اعلان

  • کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتا ہے، سعید غنی

    کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتا ہے، سعید غنی

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ گر کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی بھی آرٹیکل 149 کو غیر آئینی نہیں کہا،اگر کسی شہر میں کچرا ہوگا تو کہیں نہیں لکھا کہ وفاق 149نافذ کرسکتی ہے،ایک سال میں وفاق نے کراچی میں کتنا پیسا خرچ کیا ؟

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری طرف سے کوئی الزام تراشی نہیں کی جاتی،کراچی کےمسائل ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں، صرف کراچی میں برائی نظر آتی ہے، ملک کے دیگر شہر بالکل ٹھیک ہیں؟وفاقی حکومت کراچی کےلیے پیسے دے ،جو کمیٹی بنائی گئی اس پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا،.

    آرٹیکل 149 کا اطلاق کراچی کے مسائل کا حل نہیں ، رضا ہارون نے تحفظات پیش کردیئے

    واضح رہے کہ کراچی بالخصوص اور سندھ بالعموم اس وقت جس بدانتظامی کا شکار ہے اس کو بہتر کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے براہ چلانے کے لیے اہم فیصلہ کرلیا ہے ، اطلاعات کے مطابق کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا ہے، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی میں آرٹیکل 149(4) نافذ کیا جائے گا۔

    کراچی کے مسائل،اراکین کے وزیراعظم کو شکوے،خود کراچی جاؤں گا ،وزیراعظم

    سندھ اور کراچی میں خصوصی پر معاملات کو بہتر انداز سے چلانےکے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آرٹیکل 149 کے نفاذ کا یہی درست وقت ہے، مسائل حل کرنے ہیں تو سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

    کراچی میں مکھیاں اور گندگی، عدالت نے میئر کراچی سے ایکبار پھر جواب طلب کر لیا

    فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 149(4) کے نفاذ کے حق میں ہیں، کراچی میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا نفاذ بھی ضروری بن گیا ہے، دیکھنا ہوگا لوکل ایکٹ 2013 آرٹیکل 140 اے سے کتنا تضاد رکھتا ہے۔

    فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 149(4) گورنر راج کی بات نہیں کرتا، یہ وفاقی حکومت کو خصوصی اختیار دیتا ہے، اس سے متعلق شکایت کرنا پی پی کا حق ہے، ساری باتیں ابھی نہیں بتا سکتا، وقت آنے پر چیزیں سامنے آ جائیں گی، دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور چند اتحادی جماعتوں کے رہنماوں نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے

    کمیٹیاں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،وزیراعظم کی کمیٹی نے تعاون مانگا تو کریں گے، سعید غنی

    کراچی کے مسائل، وزیراعظم ہفتہ کو کریں گے دورہ، علی زیدی کا اعلان

  • کراچی کے مسائل، وزیراعظم ہفتہ کو کریں گے دورہ، علی زیدی کا اعلان

    کراچی کے مسائل، وزیراعظم ہفتہ کو کریں گے دورہ، علی زیدی کا اعلان

    عمران خان ہفتہ کو کراچی کا دورہ کریں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے، وفاقی حکومت مداخلت نہیں سندھ حکومت کی مدد کرناچاہتی ہے،وزیراعظم کی کراچی آمدپرارکان اسمبلی سے ملاقات بھی ہوگی،وزیراعظم کی آمد سے پہلے اسٹریٹجک کمیٹی تجاویزتیارکر لے گی،

     

    وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل پر وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی بنائی ہے، گزشتہ گیارہ سال سے شہر قائد پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون نے ان خیالات کا اظہار شہر قائد کراچی سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں وفاقی وزراء خالد مقبول صدیقی، فیصل واوڈا، میئر کراچی وسیم اختر، حلیم عادل شیخ، خرم شیرزمان اور دیگر موجود تھے، اجلاس میں کراچی کے مسائل اوران کےحل کے لیے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔

    وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کچرے اور دیگر مسائل بے تحاشہ ہیں، کراچی کو تباہی سے بچانا ہے تو جلد یہ مسائل مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہونگے، شہر بھر کا کچرا اٹھانا اور اسے ڈمپنگ پوائنٹ تک پہنچانے کیلئے مستقل حل نکالنا ہوگا، اسی لیے آج ہنگامی بنیادوں پر اجلاس طلب کیا گیا ہے اور ان معاملات پر غور کیا گیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے مسائل کے حل کے لئے کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کریں گے، کمیٹی میں چھ اراکین حکومتی جماعت تحرہک انصاف اور چھ ایم کیو ایم کے شامل ہیں.

    وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر 14 ستمبرکو کراچی کا دورہ کریں گے اورخود کراچی آکرصورتحال کاجائزہ لیں گے ،وزیراعظم عمران خان کو کراچی کا فضائی دورہ بھی کرایا جائے گا،وزیراعظم دورہ کراچی میں اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کریں گے،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا معاشی حب ہونے کے ناطے پاکستان کا مستقبل کراچی کے مستقبل سے جڑا ہے، ماضی کی بد انتظامی اور غفلت کا خمیازہ کراچی کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، وزیرِ اعظم نے کلین کراچی مہم جاری رکھنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کراچی کی عوام کو درپیش مسائل کے حل کےلئے وفاقی حکومت کی جانب سے قلیل، وسط اور طویل المدت لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ۔

    ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے اپنی زیر صدارت کراچی صفائی مہم اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس کے دوران کیا ۔ اجلاس میں وفاقی وزراء بیرسٹر فروغ نسیم، مخدوم خسرو بختیار، خالد مقبول صدیقی، سید علی حیدر زیدی، معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، ممبر قومی اسمبلی آفتاب حسین صدیقی، ممبر ان سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی، حلیم عادل شیخ ، ڈی جی فرنٹیر ورکس آ رگنائیزیشن میجر جنرل انعام حیدر ملک اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

    اجلاس میں کراچی کی عوام کو درپیش مسائل خصوصاً پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیوریج، صفائی، ماس ٹرانزٹ سسٹم و دیگر اہم ایشوز پر تفصیلی گفتگو کی گئی.

     

    کمیٹیاں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے،وزیراعظم کی کمیٹی نے تعاون مانگا تو کریں گے، سعید غنی

  • قائداعظم اک عظیم اور دوراندیش رہنماتھے ، قوم قیامت تک ان کی احسان مند رہے گی ، مصطفی کمال

    قائداعظم اک عظیم اور دوراندیش رہنماتھے ، قوم قیامت تک ان کی احسان مند رہے گی ، مصطفی کمال

    کراچی : پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے بانی پاکستان و قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر پاکستان ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ قائد اعظم ایک عظیم دوراندیش لیڈر تھے۔

    سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ قائداعظم کے بعد پاکستان کو بد قسمتی سے ان کے معیار کی قیادت نصیب نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنی بیماری کو نظر انداز کر کے دن رات پاکستان کی تعمیر کے لیے محنت کی۔ ان کی جدوجہد کے بدولت ہم آج ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں۔ پاکستانی قوم تا قیامت قائداعظم کی احسان مند رہے گی۔

    سید مصطفیٰ کمال نےنے کہا کہ لسانیت، فرقہ پرستی اور بددیانتی کے خاتمے کے بغیر پاکستان حقیقی معنوں میں قائد اعظم کا پاکستان نہیں بن سکتا۔ بانی پاکستان کو انکی بے تحاشہ خدمات پر جتنی بھی خراجِ تحسین پیش کی جائے وہ کم ہے۔ آج پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان سے پہلے دے گی پیپلز پارٹی دھرنا.اعلان کر دیا

    مولانا فضل الرحمان سے پہلے دے گی پیپلز پارٹی دھرنا.اعلان کر دیا

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ فریال تالپور کو اسمبلی اجلاس میں نہ آنے دیا گیا تو وزیراعلیٰ پنجاب ہاؤس کے باہر دھرنا دیں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت فریال تالپور کو سندھ اسمبلی اجلاس میں نہیں آنے دے رہی ،ٹرائل شروع نہیں ہوا اور پیشہ ورمجرموں جیسا سلوک کیا جارہاہے،سعید غنی کا کہنا تھا کہ فریال تالپور کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ہے ،

    سعید غنی نے مزید کہا کہ 13 ستمبر کو سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے، اگر 13 ستمبر کے اجلاس میں فریال تالپور کو نہ آنے دیا گیا تو ہم پنجاب جائیں گے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دیں گے.

    آصف زرداری کو کچھ ہوا تو حکومت کو نہیں چھوڑیں گے، پیپلز پارٹی کی دھمکی

    جیل سے نکلنے کا بہانہ، سیاسی لیڈر ہوتے ہیں بیمار، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    واضح رہے کہ جعلی اکاونٹس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر فریال تالپور کو نیب نے گرفتار کیا ہے، نیب نے فریال تالپور کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا تھا ، جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد عدالت نے انہیں جیل بھجوا دیا، اب فریال تالپور اڈیالہ جیل میں قید ہیں،

    احتساب عدالت،زرداری غصہ میں سیکورٹی اہلکار کو ڈنڈہ ماردیا، بند کمرے میں سماعت

    سندھ اسمبلی اجلاس کے لئے اسمبلی نے پروڈکشن آرڈر جاری کئے لیکن جیل حکام نے اسمبلی اجلاس میں نہیں جانے دیا جس پر پیپلز پارٹی عدالت میں گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریال تالپور کے وکیل کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی ،فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فریال تالپور جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں،

    نواز شریف کے بعد آصف زرداری کا اے سی بھی بند

    نواز شریف سے جیل میں سہولیات واپس، نواز کی جیلر کی منتیں

    سہولتیں کون سی ہیں جو لے لیں گے، آصف زرداری کا شکوہ

     

    فریال تالپور کو جیل میں کونسی بیماری؟ اور کونسی سہولت؟ وکلاء نے بتا دیا