Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی،حادثات میں دو بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    کراچی،حادثات میں دو بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں دو بچوں سمیت 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق سرجانی ٹاؤن، تیسر ٹاؤن سیکٹر 36، کچی آبادی کے قریب: سانپ کے ڈسنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی کی۔سپر ہائی وے، چاکڑ ہوٹل کے قریب: نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے دس سالہ بچی جاں بحق ہوگئی جبکہ اس کی والدہ زخمی ہو گئیں۔ ریسکیو ٹیم نے زخمی خاتون کو ہسپتال منتقل کیا۔

    لیاقت آباد، ڈاکخانہ کے قریب ایک گاڑی کی ٹکر سے سترہ سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی کی۔منگھوپیر میں مائی گاڑی نہر میں ڈوب کر دس سالہ بچہ نہر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ ریسکیو حکام نے بچے کی لاش کو نہر سے نکال کر ضروری کارروائی کی۔

    عید کے باعث رش، موٹرویز کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری

    کاریں چرانے والا سب انسپکٹر گرفتار،بیٹا گینگ کا سرغنہ

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ کی اہم ملاقات

    ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار مہنگی پڑ گئی

  • تاجروں کا عید سیزن مایوس کن رہا؛ خریداری کی شرح میں  کمی

    تاجروں کا عید سیزن مایوس کن رہا؛ خریداری کی شرح میں کمی

    تاجروں کا 2025 عید سیل سیز ن بھی گذشتہ سالوں کی طرح انتہائی مایوس کُن رہا، ہولناک مہنگائی، معاشی تباہی اور قوتِ خرید میں حوصلہ شکن کمی نے تاجروں کے کاروبار اور غریب و متوسط طبقے کی عید کی خوشیاں منانے کے خواب بکھیر دیئے.

    باغی ٹی وی کے مطابق آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے میڈیا کو بتایا کہ تباہی سے دوچار کاروبار، محدود آمدنی اور تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی ہوشربا اور ناقابلِ برداشت مہنگائی عوام کی عید کی خوشیاں بھی نگل گئی، قوتِ خرید نہ ہونے کے سبب عید کی ذیادہ تر خریداری خواتین اور بچوں کے ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، پرس، کھلونے، ہوزری، آرٹیفیشل جیولری اور زیبائش کے سستے سامان تک محدود رہی، بیشتر خریداروں نے خواہشات کے برعکس صرف ایک سوٹ خریدنے پر اکتفا کیا، تاجروں نے عید سیل کے حوالے سے سال 2025کو 2024 سے بھی بدتر اور تباہ کن قرار دیا،عید شاپنگ کے حوالے سے مخصوص اور معروف تجارتی علاقوں کلفٹن، ڈیفنس، صدر، طارق روڈ، حیدری، گلشنِ اقبال، ناظم آباد، ملیر، لانڈھی، گلستانِ جوہر، لیاقت آباد، بہادر آباد، جوبلی، جامع کلاتھ، اولڈ سٹی اور دیگر علاقوں کی200سے زائد مارکیٹیں عید کی روائتی خریداری کی منتظر رہیں.

    عتیق میر نے کہا کہ ملک میں کسی غیرمتوقع سیاسی و معاشی بحران کے اندیشوں کا شکار تاجر مال منجمد ہوجانے کے خوف سے زیادہ اسٹاک جمع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے، انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے تاجروں کیلئے کاروباری و گھریلو اخراجات پورا کرنا مشکل اور ادھار پر لیئے گئے مال کی ادائیگیوں کے لالے پڑگئے ہیں، انھوں نے انتہائی افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حسبِ روایت رواں سال بھی ماہِ رمضان میں مصنوعی مہنگائی مافیا اور موقع پرستوں نے مہنگائی کی روک تھام کے حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچاکر غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی اور ان کیلئے زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول مشکل ترین بنادیا.

    انھوں نے شہر میں امن و امان کے ذمے دار اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں پولیس،ڈاکو اور لٹیرے ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے جو لٹیروں سے بچ گیا وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا، پارکنگ مافیا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور میئر کراچی کے احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے پارکنگ فیس وصول کی جاتی رہی، مقامی و غیر مقامی گداگروں کی فوجِ ظفر موج شہر میں دندناتی رہی جن کی روک تھام کیلئے سرکاری سطح پر کوئی بھی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔

    عید کے باعث رش، موٹرویز کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری

    کاریں چرانے والا سب انسپکٹر گرفتار،بیٹا گینگ کا سرغنہ

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ کی اہم ملاقات

    ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار مہنگی پڑ گئی

  • کاریں چرانے والا سب انسپکٹر گرفتار،بیٹا گینگ کا سرغنہ

    کاریں چرانے والا سب انسپکٹر گرفتار،بیٹا گینگ کا سرغنہ

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں کار لفٹر کو گرفتار کرلیا گیا جو ملیر کینٹ تھانے کا سب انسپکٹر نکلا۔

    سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل بشیر احمد کے مطابق گرفتار ملزم عرس ملیر کینٹ تھانے میں سب انسپکٹر (ایس آئی) تعینات ہے۔انہوں نے بتایا کہ گرفتار سب انسپکٹر کا بیٹا دانش گینگ کا سرغنہ ہے، گرفتار ملزم سے برآمد کار صبح سویرے چھینی گئی تھی۔ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ کار سوار فیملی کو بیدردی سے گھسیٹا تھا۔

    ایس ایس پی بشیر احمد کے مطابق کار لفٹر گینگ 10 سے زائد ملزمان پر مشتمل، گینگ سرغنہ کا 3 روز قبل بلدیہ میں اے وی ایل سی سے مقابلہ ہوا تھا، گینگ سرغنہ دانش سولنگی 2 ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا تھا۔ایس ایس پی اے وی ایل سی کا کہنا تھا کہ مقابلے کے دوران 2 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر داخلہ کی اہم ملاقات

    ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار مہنگی پڑ گئی

  • ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار مہنگی پڑ گئی

    ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار مہنگی پڑ گئی

    کراچی میں فیروز آباد کے علاقے طارق روڈ پر ڈاکووں کو سرکاری افسر سے لوٹ مار کی واردات مہنگی پڑ گئی ، ڈاکو سرکاری افسر سے اسلحے کے زور پر نقدی ، موبائل فونز اور دستی گھڑی چھین کر فرار ہوئے تھے.

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے ایس ایچ او بہادر آباد نوید سومرو نے بتایا کہ طارق روڈ متین سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار 2 ڈاکووں نے سرکاری افسر سید بدر شاہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے انسپکشن کر رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل سوار 2 ڈاکووں نے انھیں سرراہ یرغمال بنا کر لوٹ لیا اور موقع سے فرار ہوگئے اس دوران ان کے ہمراہ سیکیورٹی گارڈ بھی موجود تھا اور انھوں ںے ڈاکووں کا تعاقب کیا جبکہ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ بھی چلتا رہا اور اس دوران ایک ڈاکو گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا ، دونوں ڈاکو فرار ہوتے ہوئے کار ساز روڈ تک پہنچ گئے جہاں شدید زخمی ڈاکو سروس روڈ پر ایک دیوار کے قریب پڑا ہوا ملا جبکہ اس کا ساتھی موٹر سائیکل سمیت فرار ہوگیا .

    انھوں نے بتایا کہ زخمی کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور اسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا اور تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ زخمی والا ڈاکو سرکاری افسر سے واردات میں ملوث تھا ، نوید سومرو نے مزید بتایا کہ زخمی حالت میں گرفتار ڈاکو کی شناخت ساجد جبکہ فرار ساتھی کو اسامہ کے نام سے شناخت کیا گیا ہے جبکہ گرفتار ڈاکو کے قبضے سے لوڈ میگزین ، موبائل فونز ، دستی گھڑی اور نقدی برآمد ہوئی ہے جبکہ ابتدائی طور پر فرار ہونے والا ڈاکو بھی زخمی بتایا جاتا ہے جسے پولیس سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے ۔

    وزیراعظم پاکستانی قوم کو بڑی خوش خبری سنائیں گے، چیئرمین یوتھ پروگرام

    عمران خان نے علی امین اور بیرسٹر سیف کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا ٹاسک دیدیا

  • کورنگی میں زمین کے نیچے گیس کا دریا، آگ بجھانا چیلنج!

    کورنگی میں زمین کے نیچے گیس کا دریا، آگ بجھانا چیلنج!

    کراچی (باغی ٹی وی)کورنگی میں 5 دن سے لگی آگ کے بارے میں ماہرِ ارضیات ڈاکٹر عدنان خان نے حیران کن باتیں بتائی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آگ کئی مہینوں تک جل سکتی ہے کیونکہ زمین کے نیچے میتھین گیس کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ کورنگی کریک کے نیچے 2 کروڑ 50 لاکھ سال پرانی چٹانیں ہیں، جن میں دراڑوں کی وجہ سے گیس باہر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گیس پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔

    انہوں نے تجویز دی کہ آگ کو فوری طور پر محفوظ طریقے سے بجھایا جائے اور گیس کے دباؤ کو چیک کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنا ذخیرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چٹانوں میں گیس کے ساتھ کوئلے کے بھی آثار ہیں اور اگر ذخیرہ بڑا ہوا تو آگ لمبے عرصے تک جل سکتی ہے۔

    ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی بتایا کہ 1963 سے 2019 تک کے سروے سے پتا چلا ہے کہ کورنگی کریک میں تیل اور گیس کے ذخائر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ اس جگہ کا ارضیاتی جائزہ لیا جائے تاکہ گیس ضائع نہ ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

  • صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے،شرجیل میمن

    صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔

    انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر آصف زرداری کو دبئی منتقل کرنے کی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ صدر آصف زرداری جلد مکمل صحت یاب ہوں گے۔

    خیال رہے کہ صدر آصف زرداری کو گزشتہ دنوں نواب شاہ سے کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری کو انفیکشن اور بخار کی شکایت تھی، جس کے باعث انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔

    دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صدر آصف زرداری سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ "پوری قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، اللہ آپ کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے۔” وزیراعظم کے اس پیغام سے صدر زرداری کو عوام کی دعاؤں اور محبت کا احساس ہوا۔دوسری جانب، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے صدر آصف زرداری کے معالج ڈاکٹر عاصم کو ٹیلیفون کیا اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ کامران ٹیسوری نے ڈاکٹر عاصم سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب آپ کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔”

    اس تمام صورتحال میں سندھ کے سیاسی حلقوں اور عوام کی دعائیں صدر آصف زرداری کے ساتھ ہیں، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ جلد اپنی صحت بحال کر کے عوام کے درمیان واپس آئیں گے۔

  • کورنگی: گیس سے بھڑکی آگ پر قابو نہ پایا جاسکا

    کورنگی: گیس سے بھڑکی آگ پر قابو نہ پایا جاسکا

    کراچی (باغی ٹی وی رپورٹ)کورنگی کریک میں زیر زمین گیس کے اخراج سے شروع ہونے والی آگ کا معمہ 5 روز گزرنے کے باوجود حل نہ ہو سکا۔ یہ واقعہ 28 مارچ 2025 کو اس وقت سامنے آیا جب کورنگی کے سیکٹر 48 کے قریب زمین سے اچانک شعلے بلند ہونے لگے جو مبینہ طور پر زیر زمین گیس کے اخراج کی وجہ سے بھڑک اٹھے۔ ابتدائی طور پر مقامی لوگوں نے اسے معمولی واقعہ سمجھا لیکن چند گھنٹوں میں ہی آگ کی شدت بڑھ گئی اور اس نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی۔ پانچ دن گزر جانے کے باوجود نہ تو آگ کی وجوہات کا حتمی تعین ہو سکا اور نہ ہی اسے مکمل طور پر بجھایا جا سکا، جس سے حکام اور ماہرین کے لیے یہ ایک پیچیدہ چیلنج بن گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں 28 مارچ کو صبح کے وقت کورنگی کے ایک گنجان آباد علاقے میں زمین سے دھواں اور شعلے نکلنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قریبی پلاٹ میں پانی کی بورنگ کا کام جاری تھا۔ بورنگ کے دوران زمین سے گیس کا اخراج شروع ہوا جو ممکنہ طور پر کسی چھوٹے زیر زمین ذخیرے سے تعلق رکھتی تھی۔ گیس کے اخراج کے فوراً بعد آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلے کئی فٹ بلند ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن روایتی طریقوں سے اسے کنٹرول کرنا ممکن نہ ہوا۔

    حکام نے فوری طور پر علاقے کو سیل کر دیا اور سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے تاکہ آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے اور عوام کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ واٹر بورڈ، سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ماہرین کو طلب کیا گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے باوجود یہ واضح نہ ہو سکا کہ گیس کا اخراج کس وجہ سے ہوا اور اس کی نوعیت کیا ہے۔

    پانچ روز گزرنے کے باوجود آگ کی شدت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ رات کے وقت شعلے زیادہ واضح طور پر نظر آتے ہیں جو بعض اوقات 10 سے 15 فٹ تک بلند ہو جاتے ہیں۔ زمین سے سیاہ رنگ کا پانی بھی ابل کر باہر نکل رہا ہے جو آگ کے ساتھ مل کر ایک عجیب منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ پانی اطراف میں پھیل رہا ہے اور اس سے بدبو بھی پھیل رہی ہے، جس سے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ فائر فائٹرز نے واٹر کینن اور فوم کا استعمال کیا، لیکن زیر زمین گیس کے مسلسل اخراج کی وجہ سے آگ بار بار بھڑک اٹھتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گیس ممکنہ طور پر میتھین یا کوئی اور آتش گیر مادہ ہو سکتا ہے جو زمین کے اندر دباؤ میں موجود تھا۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ قدرتی گیس کا کوئی چھوٹا ذخیرہ ہو سکتا ہے جبکہ دیگر اسے صنعتی فضلے یا ناقص سیوریج سسٹم سے جوڑ رہے ہیں۔ نمونوں کو لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن رپورٹس ابھی تک موصول نہیں ہوئیں، جس کی وجہ سے آگ بجھانے کی حکمت عملی تیار کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    میئر کراچی نے 31 مارچ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آگ کو محدود کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر بجھانے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں زیر زمین گیس کے اخراج کو روکنے کے لیے سوراخ بند کرنا یا کیمیکلز کا استعمال شامل ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس عمل میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں بشرطیکہ کوئی نیا پیچیدہ مسئلہ سامنے نہ آئے۔

    کنٹونمنٹ بورڈ کورنگی کے حکام نے بھی اپنے وسائل بروئے کار لائے ہیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں۔ قریبی رہائشیوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، کیونکہ گیس کے اخراج سے دھماکے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ تاہم، اب تک کوئی بڑا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، سوائے چند افراد کے معمولی زخمی ہونے کے۔

    مقامی رہائشیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ آگ اور دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری اور بدبو کا سامنا ہے۔ کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ حکام کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، جس سے افواہوں کو ہوا مل رہی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گیس کا اخراج طویل عرصے تک جاری رہا تو اس سے مٹی اور زیر زمین پانی کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جو زراعت اور انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو گا۔

    آخری اطلاعات آنے تک آگ جل رہی ہے اور حکام اسے بجھانے کے لیے نئے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ ایک تجویز یہ ہے کہ متاثرہ جگہ پر کنکریٹ ڈال کر گیس کے اخراج کو روکا جائے، لیکن اس کے لیے درست مقام کا تعین ضروری ہے۔ دوسری طرف، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کو کنٹرول شدہ طریقے سے جلنے دیا جائے تاکہ یہ خود ختم ہو جائے۔ فی الحال، صورتحال غیر یقینی ہے اور شہریوں کو صبر سے کام لینے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

  • کراچی میں گیس اخراج سے لگنے والی آگ  5 دن بعد بھی نہ بجھی

    کراچی میں گیس اخراج سے لگنے والی آگ 5 دن بعد بھی نہ بجھی

    کراچی کے علاقے کورنگی میں چند روز قبل گیس کے اخراج کے باعث آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں آگ بدستور لگی ہوئی ہے۔

    کنٹونمنٹ بورڈ حکام کے مطابق آگ کی شدت میں ابھی تک کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔آگ کے مقام پر تیل، گیس اور پٹرول کے فائر ایکسپرٹ بھی دورہ کر چکے ہیں۔ سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے ملٹری لینڈز کینٹونمنٹ کراچی ریجن کے سینئر ٹیکنیکل اسٹاف سے بریفنگ بھی لی جارہی ہے۔دوسری جانب، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ کی ٹیمیں آگ کے مقام پر تعینات ہیں۔ ملٹری لینڈز کینٹونمنٹ کراچی ریجن کے تمام اسٹاف اور فائر ٹینڈر بھی موقع پر موجود ہیں۔

    کنٹونمنٹ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے ٹیمیں جائے وقوعہ کا دورہ کر رہی ہیں اور آگ سے متاثرہ مقام کو مکمل طور پر کارڈن کر دیا گیا ہے۔ سوئی گیس حکام اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی ٹیمیں بھی سروے کر رہی ہیں۔

    بھارت میں جرمن خاتون سیاح کا ریپ، ملزم گرفتار

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    مذاکرات، بلوچستان حکومت کا وفد اخترمینگل کے پاس پہنچ گیا

    جدہ جانے والی پرواز بڑے حادثے سے بچ گئی

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ رہا

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ رہا

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو کراچی کی جیل سے ایک ہفتے بعد رہا کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سمی دین بلوچ کو عوامی نظم و نسق آرڈیننس (ایم پی او) کے تحت ایک ہفتے کی حراست کے بعد رہا کر دیا گیا۔ سمی دین بلوچ اور پانچ دیگر افراد کو 24 مارچ کو نافذ کردہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔اقوام متحدہ کے ماہرین سے لے کر ایمنسٹی انٹرنیشنل، سول سوسائٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور اراکین نے نہ صرف ان کی رہائی بلکہ دیگر زیر حراست بلوچ حقوق کے لیے آواز بلند والے کارکنوں، بشمول بی وائی سی کے منتظم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

    عدالتی مجسٹریٹ کی جانب سے کارکنوں کو رہا کرنے اور اگلے دن ان کی رہائی کا حکم دینے کے باوجود، سمی دین بلوچ کو ایم پی او کے تحت 30 دنوں کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔تاہم محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے آج جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ سمی دین کا نام سابقہ ایم پی او حراستی حکم سے واپس لے لیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے کراچی سینٹرل جیل کے سینئر سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ اگر سمی دین کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہوں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔

    کراچی، عیدالفطر کے دوسرے روز بھی شہریوں نےبھرپور عید منائی

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی اور بڑھتا ہوا سیاسی و معاشی بحران

    پنجاب میں سکولوں کےاوقات کارکا نیا شیڈول جاری

    عید کا دوسرا روز، ملک میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا

  • کراچی، عیدالفطر کے دوسرے روز بھی شہریوں  نےبھرپور عید منائی

    کراچی، عیدالفطر کے دوسرے روز بھی شہریوں نےبھرپور عید منائی

    کراچی میں عیدالفطر کاپہلا روز گھروں میں گزارنے کے بعد شہریوں نے دوسرے روزبڑی تعداد میں مختلف تفریحی مقامات،پارکوں بشمول ساحلی علاقوں ،ہوٹلز اور ریسٹورنٹ کا رخ کرکے مزے مزے کے کھانے کھائے اور لطف اندوز ہوکربھرپور عید منائی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق منگل کوکراچی کے شہریوں نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ عید کے دوسرے روز اپنے عزیز واقارب اور دوستوں کے گھروں پر جاکر دعوتیں اڑاتے ہیں، مزے مزے پکوان کھاتے اور خوب تفریحی کرتے ہیں۔خواتین و بچوں نے ہلہ گلہ کیا ،کوئی گھوڑے پر سوار تو کوئی اونٹ پر بیٹھ گیا،بچوں نے بھی دن بھر کی عیدی مزے کرنے میں اڑا دی،کچھ بچے اونٹ گاڑی کی سواری کر رہے ہیں کوئی جھولا جھول رہا ہے تو کوئی آئس کریم ،گولگپوں اور مشروبات پر ہاتھ صاف کر رہا ہے جبکہ سیلفیاں بنا کر لمحات کو یادگار بھی بنایا جارہا ہے۔

    تفریح کے علاوہ شہری ملاقات کیلئے اپنے رشتے داروں کے گھروں پر بھی گئے جس کی وجہ سے بڑی شاہراہوں اور چھوٹی سڑکوں پر بھی ٹریفک کا رش دیکھنے میں آیا۔عید کے دوسرے دن بھی بڑوں کی جانب سے جہاں ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری رہا وہیںبچوں کی عیدی وصولی بھی جاری ہے۔ عید کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے خواتین کی جانب سے بھی گھروں میں مزے مزے کے پکوانوں کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ بچوں کی تفریح کیلئے مختلف مقامات پر میلے اور عید فیسٹیول لگائے گئے ہیں جہاں پر جھولوں اور دیگر تفریحی سامان کے ساتھ کھانے پینے کی اشیا ء کا بندوبست بھی ہے۔ کراچی کا چڑیا گھر بھی شہریوں سے کھچاکھچ بھرگیا۔

    پنجاب میں سکولوں کےاوقات کارکا نیا شیڈول جاری

    عید کا دوسرا روز، ملک میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا

    کینال منصوبہ، پیپلز پارٹی سندھ کا احتجاج کے دوسرے مرحلے کا اعلان

    گورنرسندھ کا صدر مملکت کے معالج کو فون، نیک خواہشات کا اظہار