Baaghi TV

Category: کراچی

  • کیا حکومت کے پاس عوام کا صحیح مینڈیٹ ہے؟ مولانا فضل الرحمان کا سوال

    کیا حکومت کے پاس عوام کا صحیح مینڈیٹ ہے؟ مولانا فضل الرحمان کا سوال

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس کا مسئلہ مرکز میں معاملہ حل ہو گیا، اب صوبوں میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے، صوبوں سے بھی یہ قانون بننا چاہئے تا کہ اطلاق پورے ملک میں ہو،ہم تنازعات سے نکلنا چاہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان صاحب کی جامعہ صدیقیہ آمد ہوئی،جے یوآئی مرکزی شوریٰ کے رکن سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی الحاج سید مطیع اللہ آغا اور دیگر قائدین جمعیت کی طرف سے پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ صوبائی حلقے میں نادرا نے الیکشن کھولا اور کہا کہ صرف دو فیصد ووٹ ویرفائی کیا، 98 فیصد کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں سے آیا،یہ نادرا کا تبصرہ ہے، اب حلقہ 45 کا 15 پولنگ سٹیشن ہوا، جس کوجتوایا گیا وہ ایک بھی پولنگ سٹیشن پر نہیں جیتا ، اس الیکشن پر کیسے اعتماد کیا جائے، ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ میں نے نتائج مرتب کرنے ہیں، اسکا مطلب جمہوریت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، پھر لوگ تنقید تو کریں گے،ہمارا اعتراض ہے اور رہے گا، 2018 میں بھی ہمارا مؤقف یہی تھا ، اب بھی یہی ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ محسن نقوی سے ملاقات ہوتی ہے، ہم سیاسی بات کر سکتے ہیں، ہمیں ملک کا نظام بہتر کرنا ہے، شکایت سیاستدانوں سے ہے جو جمہوریت، آئین، اصولوں پر کمپرومائز کرتے ہیں، صرف اسلئے کہ معتبری مل جائے، قوم میں معتبر نظر آئیں،قومی اتفاق رائے کے ساتھ معاملات طےہونے چاہئے،صوبو ں کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہئے،جہاں تک پارلیمنٹ کی سطح پر ہے قانون سازی مدارس کے حوالہ سے ہو چکی ہے، ایکٹ پاس ہو چکا، گزٹ ہو چکا، ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جو دوسرے بورڈ قائم کئے گئے تھے انکو ریلیف دیا گیا، ہمیں اس پر اعتراض نہیں،سرکار نے بھی تو کچھ مدارس کو کنٹرول کرنے کے لئے لائن بنانی تھی، سیاسی ہتھیار کے طور پر وہ استعمال کریں گے،مرکز میں معاملہ حل ہو گیا، اب صوبوں میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے، صوبوں سے بھی یہ قانون بننا چاہئے تا کہ اطلاق پورے ملک میں ہو،ہم تنازعات سے نکلنا چاہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذکرات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا ،مجھے اس کا علم نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں کیا کہہ رہے ہیں، مجھے کوئی معلومات نہیں،کہا جا رہا ہے معیشت سے متعلق اشارے مل رہے ہیں صرف معاشی اشاروں سے کام نہیں چلے گا ،میں بیان بازیوں کا ذمہ دار نہیں کہ کون کیا بیان دے رہا ہے، سیاستدانوں پر افسوس ہے کہ سمجھوتے کرلیتے ہیں ، خالد مقبول میرے لیے قابل احترام ہیں، وہ ایکٹ سمجھنے میرے گھر آئے تھے، وہ وزیرِ تعلیم ضرور ہیں لیکن میرے گھر پر زیرِ تعلیم ہیں ،مدتیں مارشل لاء بھی پورا کر لیتی ہیں، بنیادی بات یہ ہے کیا حکومت کے پاس عوام کا صحیح مینڈیٹ ہے،

    لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • وزیراعلیٰ سندھ  کی بیٹی کی شادی پر لی گئی بلاول بھٹو کی تصویر کے  سوشل میڈیا پر چرچے

    وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی کی شادی پر لی گئی بلاول بھٹو کی تصویر کے سوشل میڈیا پر چرچے

    کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں لی گئی بلاول بھٹو کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی کی شادی میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی شرکت کی بلاول بھٹو زرداری نے اس تقریب کے دوران اپنے والد کے ساتھ بنائی گئی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔

    تصویر میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو خوشگوار موڈ میں دیکھا جاسکتا ہے،تصویر پر صارفین کی جانب سے تعریفی کمنٹس کئے جا رہے ہیں،صارفین کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی پی پی نے واضح وزن کم کیا ہے جس کے بعد وہ پہلے سے زیادہ ہینڈسم اور خوبصورت نظر آ رہے ہیں،صارفین نے بلاول بھٹو کو مستقبل کا وزیراعظم قرار دیا-

    تمیم اقبال اورایلکس ہیلز کے درمیان جھگڑے کیوجہ سامنے آگئی

    جہاں پارٹی کے جیالوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جناب سے تعریفیں کی جارہی ہیں وہیں بلاول بھٹو زرداری کی بہنوں آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے بھی اس تصویر پر سرخ دل کے ایموجیز کے ساتھ کمنٹ کیے ہیں۔

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی بیٹی کی شادی کی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو شریک تھےتقریب میں وفاقی وزرا احسن اقبال، عطا تارڑ، رانا تنویر، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور سید خورشید شاہ موجود تھے پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما قمر زمان کائرہ، شہادت اعوان اور وقار مہدی بھی موجود تھے،ان کے علاوہ صوبائی وزرا سمیت دیگر شخصیات اور سرکاری افسران بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

  • آرمی چیف سرحدوں کے ساتھ معیشت کی بھی حفاظت کررہے ہیں، گورنر سندھ

    آرمی چیف سرحدوں کے ساتھ معیشت کی بھی حفاظت کررہے ہیں، گورنر سندھ

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ آرمی چیف سرحدوں کے ساتھ معیشت کی بھی حفاظت کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جاری بیان میں انکا کہنا تھا کہ مایوسی کے بادل چھٹنا شروع ہوگئے ہیں، آرمی چیف سرحدوں کے ساتھ معیشت کی بھی حفاظت کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی دور میں پی آئی اے بیرون ملک سفرنہیں کرسکتی تھی، وزیراعظم شہباز شریف کی محنت کے باعث مختلف روٹس کھل گئے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آج ٹریلر نے 3 افراد کو کچل دیا جب کہ 2 ماہ میں 23 لوگ حادثات کا شکار ہوچکے ہیں، پہلےبھی آئی جی سندھ سے بات کی تھی، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو خط لکھ رہا ہوں۔کراچی میں جو ہیوی ٹریفک چلائے گا اس کا لائسنس بھی کراچی کا ہونا چاہیے، کراچی میں دوسرے صوبے سے آکر ڈرائیورز ہیوی ٹریفک چلاتے ہیں۔گورنر سندھ مزید کہتے ہیں کہ دوسرے صوبے کے ڈرائیورز کو کراچی کے ٹریفک کی الف ب نہیں پتا، یہ ہائی ویز کے ڈرائیور ہیں جب کہ بعض نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہیں۔

    مسئلہ اختیارات اور فنڈز کا نہیں، محض نیتوں کا رہا ہے، میئر کراچی

    مسئلہ اختیارات اور فنڈز کا نہیں، محض نیتوں کا رہا ہے، میئر کراچی

    چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

  • مسئلہ اختیارات اور فنڈز کا نہیں، محض نیتوں کا رہا ہے، میئر کراچی

    مسئلہ اختیارات اور فنڈز کا نہیں، محض نیتوں کا رہا ہے، میئر کراچی

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ کراچی میں مسئلہ اختیارات اور فنڈز کا نہیں تھا، کراچی میں مسئلہ محض نیتوں کا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے فیریئر ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پھولوں کی یہ نمائش اگلے تین روز تک فریئر ہال میں جاری رہے گی، نمائش میں ایک لاکھ سے زائد پودے لگائے گئے ہیں، ہمیں ڈھائی ماہ لگے پھولوں کی نمائش کی تیاری میں، مختلف رنگوں کے میری گولڈ اور پیٹونیا کے پودوں سے فریئر ہال سج گیا ہے۔کراچی کے شہری نمائش میں آئیں اور اس سے لطف اندوز ہوں، نمائش کا مقصد شہر کی رونقوں میں اضافہ کرنا ہے، ہم شہر کی رونقوں میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ بدلتا ہوا، بہتر ہوتا کراچی چیئرمین بلاول بھٹو کا نعرہ ہے، شہرِ کراچی عقلمندوں اور دانش مندوں کا شہر ہوا کرتا تھا، بدقسمتی سے کچھ عناصر نے کراچی کو ٹی ٹی ، بوری بند اور خوف کے شہر میں تبدیل کیا۔میئر کراچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا وہ واحد شہر ہے جو ہر رنگ و نسل ، مذہب و لسانیت سے بالاتر ہوکر سب کو خوش آمدید کہتا ہے، کراچی ملک کا معاشی حب ہے، ہم پر تنقید کرنا بہت آسان ہے۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ لوگوں میں غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ حکومت اور شہری حکومت کام نہیں کر رہی، شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کا کل افتتاح ہونے جارہا ہے، اکتیس مارچ کو ایکپسریس وے کے دوسرے روڈز کا بھی افتتاح کردیا جائے گا، اکتیس دسمبر کو ملیر ایکسپریس وے کو کاٹھور تک کھول دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے وفاقی حکومت نے بنایا، جو نہ ہی معیاری ہے اور نہ ہی وہاں زیادہ گاڑیاں چلنے کی گنجائش ہے، وسائل اور نیت ہے تو ہم شہر بھر میں کام کر سکتے ہیں۔میئر کراچی نے یہ بھی کہا کہ ہم تو غریب کے لیے سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں، لاہور میں موسم خوشگوار کراچی میں تباہی، میں چاہتا ہوں اچھی اچھی باتیں کریں آپ، جان بوجھ کر ہم کوئی بد نیتی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ وسائل کے ایم سی کے اکانٹ میں آئیں، ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری پیپلز پارٹی نے کی، انتخابات ہوئے اور بد قسمتی سے وہاں ترازو آ گیا۔انہوں نے کہا کہ میں سوال کرتا ہوں لوگوں کے گھروں میں گیس ہے اور روڈ کٹنگ کی اجازت دیدی گئی، میں اینٹی کرپشن میں بھی جاں گا روڈ کٹنگ اجازت کی اجازت دیدی، ترازو بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے چاہتے ہیں شہر کے مسائل ہوں۔ مرتضی وہاب نے کہا کہ منفی پروپیگنڈا دور کر کے کام کرنے کی ضرورت ہے، وال چاکنگ کرنے سے لوگ اجتناب کریں اس سے شہر کا حسن تباہ ہوتا ہے۔

    سندھ میں فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

  • سندھ میں فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے نقصان کے ازالہ کیلئے فصلوں کا بیمہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت اجلاس میں سیکریٹری زراعت اور دیگر نے فصلوں کی انشورنس منصوبے سے آگاہ کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ سندھ میں ممکنہ سیلاب، بارشوں، بیماری، گرمی، کیڑہ لگنے اور موسمیاتی تبدیلی سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کی کراپ انشورنس ہونا ضروری ہے۔حکومت سندھ نے کسانوں کی مدد کے لیے بینظیر ہاری کارڈ متعارف کروایا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ بینظیر ہاری کارڈ کی مد میں کسانوں کو کراپ انشورنس کی سہولت بھی فراہم کریں۔ انشورنس کے ماڈل کو چلانے کے لیے پولا ایڈوائزرز سندھ کے کسانوں کو سپورٹ کرے گا۔سندھ حکومت چاہتی ہے کہ پولارڈ ایڈوائزرز چاول، کپاس اور گندم کی فصلوں کو انشورڈ کرے۔صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ محکمہ زراعت سندھ نے کراپ انشورنس کے ایک سال کے لئے پائلٹ پروجیکٹ منظوری دے دی جو کہ رواں سال خریف 2025 سے شروع ہوگا۔انشورنس کے ماڈل کو چلانے کے لئے پولار ایڈوائزرز سندھ کے کسانوں کو ایریا ییلڈ انڈیکس انشورنس کے تحت سپورٹ کرے گا۔ اگر کراپ انشورنس کا پائلٹ پروجیکٹ کامیاب ہوا تو مزید دیگر 27 اضلاع میں بھی شروع کرائیں گے۔ پائلٹ پروجیکٹ کامیاب ہونے کے بعد گنے اور دیگر فصلوں کو بھی کراپ انشورنس پروجیکٹ میں شامل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں دو اضلاع لاڑکانہ اور گھوٹکی میں ٹرائل کی بنیاد پر بیمہ پروگرام شروع کرایا جا رہا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات

  • پاکستان پیٹرولیم کا گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان

    پاکستان پیٹرولیم کا گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان

    معیشت کیلئے اچھی خبر، پاکستان پیٹرولیم نے گیس کی پیداوار شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس ضمن میں پاکستان پیڑولیم کی جانب سے کوٹری سے گیس پیداوار شروع کرنے کی اطلاع پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کردہ خط میں دی گئی ہے۔خط کے مطابق کوٹری نارتھ بلاک ون سے گیس کی یومیہ پیداوار 5.3 ملین میٹرک کیوبک فٹ پے۔
    خط میں بتایا گیا ہے کہ کنوئیں سے یومیہ گیس کا حصول 950 پانڈ فی مربع انچ کے ساتھ ہورہا ہے۔ خط کے مطابق کوٹری سے گیس پیداوار میں پاکستان پیڑولیم، یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ اور ایشیا ریسورسز آئل لمیٹڈ کے مشترکہ شئیرز ہیں۔خط میں بتایا گیا ہے کہ کوٹری میں ٹکری ون کنویں سے ملنے والی گیس کو علی آباد پراسیسنگ پلانٹ سے سوئی سدرن سسٹم میں شامل کیا جارہا ہے۔

    ٹیلی کام سیکٹر میں بہتری، پراجیکٹ کیبل 2 افریقا کا آغاز

    سولرپینل کی آڑ میں سینکڑوں ارب کی منی لانڈرنگ بے نقاب

    ڈی آئی خان میں 5 خوارج جہنم واصل ، وزیر اعظم ، وزیر داخلہ کا خراج تحسین

  • سولرپینل کی آڑ میں سینکڑوں ارب کی منی لانڈرنگ بے نقاب

    سولرپینل کی آڑ میں سینکڑوں ارب کی منی لانڈرنگ بے نقاب

    ایف بی آر کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ کسٹمز پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ساؤتھ نے 106ارب روپے کی منی لانڈرنگ بے نقاب کرتے ہوئے منی لانڈرنگ میں ملوث سات جعلی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان کمپنیوں میں میسرز اسکائی لنکرز ٹریڈنگ کمپنی پشاور، میسرز اسکائی لنکرز بزنس چین پرائیویٹ لمیٹڈ پشاور، میسرز برائٹ اسٹار بزنس سلوشن پرائیویٹ لمیٹڈ پشاور، میسرز مون لائٹ ایس ایم سی پرائیویٹ لمیٹڈ پشاور، میسرز پاک الیکٹرانکس لاہور، میسرز سولر سائٹ (پرائیویٹ)لمیٹڈ لاہور، اور میسرز رائل زون (پرائیویٹ)لمیٹڈ شامل ہیں۔ڈائریکٹر کسٹمز پوسٹ کلئیرنس آڈٹ ساتھ شیراز احمد کے مطابق منی لانڈرنگ کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائیوں سے منی لانڈرنگ کے بدنام زمانہ کارٹیل کو کامیابی کے ساتھ ختم کردیا گیا ہے جس نے 7 جعلی کمپنیوں کے ذریعے 106ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔تحقیقات کے دوران مذکورہ 7 جعلی درآمد کنندگان اوور انوائسنگ اور سولر پینل کی درآمدات کے عوض 106ارب روپے کے منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے حالانکہ درآمد کیے جانے والے سولرپینل کی مجموعی مالیت انکم ٹیکس ڈیکلریشن کے مطابق 11کروڑ 90لاکھ روپے تھی۔ذرائع کے مطابق رب نواز اور اس کے بھائی احمد نواز کی سربراہی میں سنڈیکیٹ نے جعلی کمپنیوں کے اس ویب کو اپنی غیر قانونی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔ مذکورہ کارٹیل نے اربوں کی لانڈرنگ کرکے ملک کو بھاری مالیت کا نقصان پہنچایا۔ لانڈر کیے گئے 106ارب روپے میں سے 42ارب روپے کمرشل بینکوں میں کیش ڈپازٹس کے طور پر جمع کیے گئے تاکہ مذکورہ فنڈز کی غیر قانونی ماخذ کو ظاہر کیا جاسکے۔

    ان بوگس کمپنیوں کی 85ارب روپے کی تمام مقامی فروخت غیر رجسٹرڈ اور ناقابل شناخت افراد کے نام پر ظاہر کی گئی۔ تحقیقات کے دوران اس بات کے واضح ثبوت ملے ہیں کہ درآمدی مرحلے پر بڑے پیمانے پر اوور انوائسنگ کی نشاندہی ہوئی ہے۔برآمد کنندہ ملک چین کی اصل کمرشل انوائس کے مطابق سولر پینلز کی حقیقی قیمت 0.15 سینٹ فی واٹ تھی، بعد ازاں پاکستان میں 0.35 سے 0.70 امریکی ڈالر فی واٹ کی ویلیو کے تناسب سے درآمد کیے گئے جو 235 فیصد سے 500 فیصد کے درمیان بڑے پیمانے پر اوور انوائسنگ کو ظاہر کرتا ہے۔
    مزید یہ کہ اس ادارے کے ڈمی مالک نے، جسے انکم ٹیکس ریٹرن میں تنخواہ دار شخص قرار دیا گیا، کی سالانہ آمدنی 250,000 روپے اور کاروباری سرمایہ 450,000 روپے ہے کی جانب سے حیران کن طور پر 2ارب 50کروڑ روپے کے سولر پینلز کی درآمد کس طرح کی گئی۔ پی سی اے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ غیر قانونی رقوم بالآخر چین میں قائم چار کمپنیوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی گئیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کمپنیاں رب نواز کی ملکیت میں تھیں جو پاکستان میں 7 جعلی کمپنیوں کا نیٹ ورک بھی چلاتا تھا۔چین میں قائم ان کمپنیوں نے سولر پینلز کی اصل برآمدی قدروں کو چھپانے میں بھی کردار ادا کیا، جس سے ناجائز کاموں میں ایک اور تہہ شامل ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی پی سی اے چوہدری ذوالفقار علی اور ڈائریکٹر پی سی اے سائوتھ شیراز احمد کی قیادت میں کسٹمز پوسٹ کلئیرنس آڈٹ کی ٹیموں نے اس دھوکہ دہی کی گہرائیوں سے پردہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔خصوصی ٹیموں کے متحرک ہونے اور تحقیقات میں تیزی کے ساتھ، ایف بی آر تمام مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔ ایف بی آر کی کوششوں نے اس بدنام زمانہ نیٹ ورک کو ختم کر دیا ہے اور اس سنڈیکیٹ کا خاتمہ مالیاتی جرائم کے خلاف جنگ میں ایک اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • 7 ممالک سے آج  258 پاکستانی نکالےگئے

    7 ممالک سے آج 258 پاکستانی نکالےگئے

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سمیت 7 ملکوں سے مزید 258پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے امیگریشن ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سعودی عرب سے بے دخل کیے گئے 7بھکاریوں سمیت 232 پاکستانیوں کو مختلف پروازوں سے کراچی منتقل کیا گیا۔ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں سے 2 بغیر پرمٹ حج کرنے پر پکڑے گئے تھے۔ انہیں سزا پوری ہونے پر وطن واپس بھیجا گیا۔ عمرے پر گئے 4 پاکستانیوں نے زائد المیاد قیام کیا۔ 27پاکستانی کفیل کے بغیر ملازمت کرتے پکڑے گئے۔ 16ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام پزیر تھے۔ 112 پاکستانیوں کو کفیلوں کی شکایت پر گرفتار کرکے پاکستان بھیجا گیا جبکہ 63 پر مختلف نوعیت کے الزامات عائد ہیں۔متحدہ عرب امارات سے 21 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا جن میں 4پاکستانی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ امیگریشن ذرائع کے مطابق چین، قطر، انڈونیشیا، قبرس اور نائجیریا سے ایک ایک پاکستانی کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔یو اے ای اور نائیجیریا سے ڈی پورٹ کیے گئے16افراد کے نام ایف آئی اے امیگریشن کی اسٹاپ لسٹ میں شامل تھے جنہیں پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا۔

    پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    پاکستان کے کاروباری اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن ایک اہم چیلنج

    کیسپرسکی آئی ٹی سیکیورٹی اکنامکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، بڑھتی ہوئی آئی ٹی سکیورٹی کی ضروریات اور تقاضوں میں عالمی سطح پر کمپنیوں کی اکثریت پیداواری صلاحیت میں کمی، پیچیدہ ٹیکنالوجی کے ماحول کو محفوظ بنانے، اور ڈیٹا کے تحفظ کو فعال کرنے کے بنیادی چیلنجز سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ڈیٹا کا تحفظ ایک اہم کاروباری چیلنجہے، جبکہ کاروباری عمل آؤٹ سورسنگ کے مسائل کو بھی کاروباری اداروںکی جانب سے سامنے رکھا گیا ہے۔

    کاسپرسکی آئی ٹی سیکیورٹی اکنامکس رپورٹ ہر سال بجٹ میں تبدیلیوں، مسائل اور آئی ٹی سیکیورٹی کے فیصلہ سازوں کو متاثر کرنے والے کاروباری چیلنجوں کا تجزیہ کرنے کے لیے جاری کی جاتی ہے۔یہ رپورٹ مختلف سائز اور صنعتوں کیے اداروں کے آئی ٹی اور آئی ٹی سیکیورٹی پروفیشنلز کے انٹرویوز سے مرتب کی گئی ہے۔ یہ سروے یورپ کے 27 ممالک، ایشیا پیسیفک ریجن، لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ، مشرق وسطیٰ، ترکی اور میٹا ریجن بشمول پاکستان میں کیا گیا۔ڈیٹا کا تحفظ ایک اہم تشویش ہے جس کا اظہار عالمی سطح پر 33 فیصد کمپنیوں اور پاکستان میں 61 فیصد کاروباری اداروں نے کیا۔ جواب دہندگان اس کے بارے میں فکر مند تھے کیونکہ انہیں باقاعدگی سے کارپوریٹ سسٹمز سے ڈیٹا کے اخراج کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو بیرونی اور اندرونی دونوں وجوہات کی وجہ سے ہوتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ڈاؤن ٹائم اور پیداواری صلاحیت میں کمی آئی ٹی کی غیر موثر سیکیورٹی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سب سے زیادہ کاروباری مسائل ہیں، جس کا اظہار عالمی سطح پر 38 فیصد کمپنیوں اور پاکستان میں 20 فیصد نے کیا۔انہیں اس مسئلے کا سامنا بنیادی طور پر خطرات کا پتہ لگانے اور ان کے تدارک کے لیے طویل وقت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں 19 فیصد ادارے بھی بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ کے مسائل کو اپنی بڑی تشویش کے طور پر ذکر کرتی ہیں۔عالمی سطح پر 33 فیصد اور پاکستان میں 9فیصد جواب دہندگان کے مطابق پیچیدہ ٹیکنالوجی کے ماحول کو محفوظ بنانا اور ڈیٹا کنیکٹیویٹی کو یقینی بنانا بھی خدشات کی فہرست میں شامل تھا۔کیسپرسکی میں انفارمیشن سیکیورٹی ڈائریکٹر الیکسی وووک کے مطابق کاروباری اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی آپریشنزکے ہر پہلو کو ممکنہ سائبر حملوںسے محفوظ رکھیں۔ حملہ آور اب مکمل طور پرزیرو ڈے کے معاملے پر بھروسہ نہیں کرتے، کیونکہ کسی نقصان دہ لنک پر ایک سادہ کلک یا بنیادی ڈھانچے میں کمزوری تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔یہ اس خیال کی نشاندہی کرتا ہے کہ معلومات کی حفاظت ایک جامع اور منظم انداز پر مبنی ہونی چاہیے، بجائے اس کے کہ انفرادی طور پر مخصوص اقدامات کے نفاذ تک محدود ہو۔ کیسپرسکی تمام جامع حل جیسے کہ کیسپرسکی نیکسٹ پروڈکٹ لائن کے استعمال کی تجویز کرتا ہے، جو کسی بھی سائز اور صنعت کی کمپنیوں کے لیے حقیقی وقت کا تحفظ، خطرے کی نمائش، جدید تحقیقات اور ردعمل کی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔کیسپرسکی یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ آپ کے انفارمیشن سکیورٹی پیشہ ور افراد کو آپ کی تنظیم کو نشانہ بنانے والے سائبر خطرات میں گہرائی سے مرئیت فراہم کریں۔ اگر کمپنیوں میں اہل انفارمیشن سکیورٹی پیشہ ور افراد کی کمی ہے، تو ایک منظم سیکیورٹی سروس کو اپنائیں۔

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    اسٹیٹ بینک کی ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این استعمال کرنے کی اجازت

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیز کو وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے استعمال کی اجازت دے دی ہے ۔

    اس اقدام کا مقصد کرنسی کے تبادلے، ترسیلات زر، اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی جیسے اہم آپریشنز کو محفوظ بنانا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مذکورہ آپریشنز کے لیے محفوظ نیٹ ورک کنکشن کی ضرورت ہوتی ہے، جسے یقینی بنانے کے لیے وی پی این کا استعمال ضروری ہے۔اسٹیٹ بینک نے مزید کہا ہے کہ تمام کمپنیز کو وی پی این کے استعمال میں دیے گئے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی تاکہ نیٹ ورک سیکیورٹی اور ڈیٹا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    مسلسل چوتھے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار