Baaghi TV

Category: کراچی

  • طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس میں پائلپ کی فلائٹ سیفٹی ریگولیشن سے متعلق درخواست پر مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس میں پائلپ کی فلائٹ سیفٹی ریگولیشن سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔وفاقی حکومت اور پی آئی اے کی جانب سے تاحال کمنٹس جمع نہیں ہوئے۔ کمنٹس پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل پر برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ پی آئی اے 2 سال سے زائد مدت کے باوجود کیوں کمنٹس داخل نہ کرسکی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ عدالت نے ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جواب نا آنے پر سیکریٹری ایویشن کو ایک بار پھر نوٹس جاری کردیئے۔ سیکریٹری کو ذاتی طور پر بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔ قومی ایئر لائن کا طیارہ 22 مئی 2020 لاہور سے کراچی آتے ہوئے ائیر پورٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ حادثہ میں 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    پڑوسی کے گھر سے سونا چرا کر خاتون عمرے پر چلی گئی

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

  • ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

    ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

    ستمبر 2023 میں پاکستانی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کی واپسی کا حکم نامہ جاری کرنے کے بعد اب تک کم از کم ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق افغانستان واپس بھیجے گئے مہاجرین کی بھاری اکثریت (88 فیصد) بلاکاغذات مہاجرین پر مبنی تھی۔واپس جانے والے افغان مہاجرین میں صرف 10 فیصد رجسٹریشن کے ثبوت اور 2 فیصد افغان شہریت کارڈ کے حامل افراد تھے۔یہ اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں (یو این ایچ سی آر) اور مہاجرت (آئی او ایم) کے امور پر شراکتی اداروں نے حال ہی میں جاری کئے ہیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے ساتھ ساتھ اس رپورٹ میں ان کی گرفتاریوں اور حراست کے حوالے سے بھی اہم اعداد و شمار شامل ہیں، جن کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں پاکستانی قانون نافذ کرنے کے اداروں نے کم از کم اڑتیس ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو گرفتار کیا۔آئی او ایم نے مہاجرین کی گرفتاریوں سے منسلک اعداد و شمار جنوری 2023 میں اکٹھا کرنا شروع کئے (اس سے پہلے ایسی گرفتاریوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا) اور ان کے مطابق گرفتار شدہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔افغان مہاجرین کی ملک بدری اور گرفتاریوں کا عروج ستمبر 2023 کا حکم نامہ جاری ہونے کے فورا بعد نومبر 2023 میں دیکھا گیا جب تیئس ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا اور اڑھائی لاکھ سے زیادہ مہاجرین کو ملک بدر کیا گیا۔تاہم حالیہ دو ماہ میں سات لاکھ سے زائد لوگوں کی واپسی کے بعد اس قانون کے نفاذ کو عملی طور پر روک دیا گیا ہے اور مہاجرین کو اپنی بطور مہاجر رجسٹریشن کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کے لئے جون 2025 تک کا وقت دے دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے گزشتہ دو ماہ میں مہاجرین کی ملک بدری میں 54 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہے۔

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

  • میونسپل ٹیکس وصولی، سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کا جواب جمع

    میونسپل ٹیکس وصولی، سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک کا جواب جمع

    سندھ ہائی کورٹ میں کے الیکٹرک نے بلوں میں میونسپل ٹیکس کی وصولی سے متعلق جواب جمع کرادیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت عالیہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل جماعت اسلامی سیف الدین ایڈووکیٹ کی درخواست پر میونسپل ٹیکس وصولی کیس کی سماعت ہوئی۔کے الیکٹرک کے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ عدالتی حکم پر عمل کردیا ہے، کے ایم سی سے طے شدہ معاہدے کا جائزہ بھی لیا ہے۔جواب میں سندھ ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ معاہدے کے مطابق ٹیکس کی وصول شدہ رقم کے ایم سی کو ادا بھی کردی ہے۔اس موقع پر درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور اووربلنگ سے عوام پریشان ہیں، ایسے میں بلوں میں میونسپل ٹیکس بھی شامل کردیا گیا ہے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ میئر کراچی نے میونسپل ٹیکس کی وصولی کیالیکٹرک کو آوٹ سورس کردی ہے، مرتضی وہاب نے معاہدہ کرنے میں اپوزیشن سے مشاورتی عمل کو بائی پاس کیا ہے۔

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

  • وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

    وزیراعلی سندھ سے امریکی سیکریٹری کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور امریکی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ الزبتھ ہارسٹ کے درمیان وزیراعلی ہاس میں ملاقات کے دوران موسمیاتی تبدیلی، سماجی ترقی اور معیشت سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیکریٹری وزیراعلی رحیم شیخ، امریکی قونصل جنرل اسکاٹ اربام، سیاسی افسر جیراڈ ہانسن اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ نے 2022 میں بھاری نقصان اٹھایا جب موسلا دھار بارشوں اور سیلاب نے 21 لاکھ گھر تباہ کردیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امدادی اداروں اور 57 ارب روپے صوبائی حکومت نے ڈال کر اور وفاقی حکومت سے ملنے والی امداد کے ساتھ تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کا آغاز کیا گیا۔اب تک موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے والے 8 لاکھ سے زیادہ گھروں کی تعمیرنو مکمل کرلی گئی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ امدادی ادارے ان گھروں کیلیے پانی، نکاسی اورصفائی ستھرائی کی سہولیات فراہم کریں۔ ہم تمام گھروں کو سولرسسٹم بھی فراہم کرنا چاہتے ہیں جس کیلیے مالی امداد کی ضرورت ہے۔مہمان سفیر نے ساحلی شہر کراچی میں سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ کلک پروگرام کی مدد سے کراچی میں رہائشی سہولیات کی بہتری اور مسابقی ماحول پیدا کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے۔اداروں کی کارکردگی بڑھائی جا رہی ہے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کیلیے حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد سندھ کی کاروباری فضا کو بہتر بنانا ہے۔تعلیم پر بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے بجٹ کا بڑا حصہ شعبہ تعلیم کی ترقی پر خرچ کرنا شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے صحت کے شعبے میں بھی قابل قدر بہتری کی ہے تاہم شعبہ تعلیم میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔محترمہ ہارسٹ نے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ دیہی طرز زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ مراد علی شاہ نے اس مقصد کے لئے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کم خرچ اور زیادہ پیداوار دینے والی فصلیں کاشت کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ملاقات کے اختتام پر وزیراعلی نے الزبتھ ہارسٹ کو خصوصی بچوں کی طرف سے تیار کردہ سندھی اجرک پیش کیا جس پر انہوں نے وزریراعلی کا شکریہ ادا کیا۔

    کراچی ایئر پورٹ کے اطراف سیکیورٹی بڑھا دی گئی

  • پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال انارکی پھیلانے کی کوشش ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال کو اب کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کاکہنا تھا کہ لوگ عمران خان کی کال کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہے ہیں، سوائے ایک صوبے کے جہاں ان کی حکومت ہے اور وزیر اعلی خود لوگوں کو لاتا ہے ،26ویں آئینی ترمیم کے بعد کچھ چیزیں پی ٹی آئی کو اچھی نہیں لگیں، پوری دنیا میں رونا رو رہی ہے، کیا یہ وہی عمران خان نہیں تھے جنہوں نے 2018 کے جعلی انتخابات میں جعلی مینڈیٹ لینے کے بعد خود ایکسٹینشن نہیں دی تھی، جب عمران کا اقتدار جا رہا تھا اور انکو نظر آ رہا تھا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو رہی تو کیا عمران خان نے باجوہ کو نہیں کہا تھا کہ لائف ٹائم کی ایکسٹینشن دینے کوتیار ہوں، لوگ اب عمران خان کی کال پر نہیں نکل رہے، ایک صوبے میں جہاں انکی حکومت ہے وہاں سے وزیراعلی گاڑیاں بھر کر لاتے ہیں، کراچی میں جلسے جلوسوں پر کوئی سختیاں نہیں کی گئیں پھر بھی لوگ نہیں نکلتے، عمران خان کی کال کو اب لوگوں نے سیریس لینا بند کر دیا ہے، ہر مہینے اس طرح کی کال دے کر کیا ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کرنا چاہ رہے ہیں، جب ملک میں معیشت بہتر ہو رہی ہے اس موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو دوبارہ انارکی کی کوشش ناکام ہو گی، لندن میں قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ اور پھر کل خواجہ آصف کے ساتھ بدتمیزی کی گئی یہ کون سی سیاست ہے،

    پریمیم نمبر پلیٹوں کی دوسری نیلامی یکم دسمبر کو ہوگی،شرجیل میمن
    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کراچی اور حیدرآباد میں بڑا کریک ڈاؤن کرنے جارہے ہیں،کوئی بھی نان رجسٹرڈ گاڑی اب سڑکوں پر نہیں آسکے گی کراچی سے انٹر سٹی اور غیر قانونی بس اڈوں کا خاتمہ کر دیا کراچی میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کیا جارہا ہے،پریمیم نمبر پلیٹوں کی دوسری نیلامی یکم دسمبر کو ہوگی ،پریمیئم نمبر پلیٹوں کی آن لائن نیلامی سے 7 کروڑ روپے حاصل ہوئے،پریمم نمبر پلیٹوں سے حاصل ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کی ہاؤسنگ اسکیم کو دی جاتی ہے،سندھ حکومت کے منصوبوں کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے،

  • سندھی ٹی وی آواز کے دفتر پر یلغار شرمناک اقدام ہے کراچی جرنلسٹس

    سندھی ٹی وی آواز کے دفتر پر یلغار شرمناک اقدام ہے کراچی جرنلسٹس

    کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سندھی ٹی وی چینل آواز کے دفتر پر سادہ لباس میں ملبوس سرکاری الکاروں کی یلغار اور عملے کو حبس بے جا میں رکھنے کے شدید الفاظ مذمت کی اور اسے آزادی صحافت پر رات کی تاریکی میں حملہ قرار دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان جنرل سیکرٹری سردار لیاقت اور مجلس عاملہ نے کلفٹن میں واقع سندھی ٹی وی چینل آواز کے دفتر میں سادہ لباس میں ملبوس سرکاری اہلکاروں کی جانب سے دفتر میں موجود سٹاف کو حبس بے جا میں رکھنے کے عمل کو شرمناک اقدام قرار دیتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا اور یہ کہنا کہ مذکورہ کاروائی کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھی سراسر جھوٹ اور حقائق پہ پردہ ڈالنے کی بھونڈی حرکت ہے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس متعلقہ افسر کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز پر عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہے اور پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے کی فوری انکوائری کرائی جائے اور اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھی ٹی وی چینل آواز پر یلغارایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا ورنہ ایک گھنٹے تک دفتر میں موجود سٹاف کو ایک کمرے میں لے جا کر ان سے پوچھ کچھ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا بالفرض اگر یہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا تو سرکاری اہلکار اتنی دیر دفتر میں کس غرض سے متعلقہ اسٹاف سے معلومات لیتے رہے۔جاری شدہ پریس ریلیز من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلسِ عاملہ وزیر اعلیٰ وزیر داخلہ آئی جی سندھ اور ڈی ائی جی کراچی سے مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے ٹی وی چینل کے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ذمہ دار اہلکاروں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے دوسری صورت میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

    ضمنی انتخاب میں پولنگ اسٹیشنز پر رینجرز تعینات کی جائے: جماعت اسلامی

    اسسٹنٹ کمشنر ہاضم بھنگوار کی تبدیلی کا نوٹیفیکشن معطل

    کوتاہیوں کی وجہ سے آج روزگار اسکیمیں لانا پڑ رہی ہیں،گورنر سندھ

  • کراچی میں ملیریا اور ڈینگی شدت اختیار کر گئے

    کراچی میں ملیریا اور ڈینگی شدت اختیار کر گئے

    کراچی میں وائرل انفیکشنز میں تیزی جبکہ ملیریا اور ڈینگی کے کیسز شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق موسم کے بدلتے ہی کراچی میں ایک بار پھر وائرل انفیکشنز تیزی سے پھیلنے لگے ہیں۔طبی ماہرین نے شہر میں ملیریا اور ڈینگی کے کیسز میں شدت آنے کے بعد اسپتالوں سمیت دیگر مقامات پر اسپرے مہم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔مختلف اسپتالوں میں بخار اور وائرل انفیکشنز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔شہر میں چکن گونیا اور اس کی علامات والے بخار کے کیسز بھی کئی دنوں سے سامنے آرہے ہیں۔دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں کسی قسم کا کوئی اسپرے نہیں کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث اٹھنے والی گرد و غبار کی وجہ سے بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی وجہ سے بھی کھانسی اور نزلے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہاضم بھنگوار کی تبدیلی کا نوٹیفیکشن معطل

    فیصلہ عدالتوں کے بجائے سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، مرتضی وہاب

    کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز کی تیاریاں عروج پرپہنچ گئیں

  • وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر بحری امور قیصر شیخ کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر بحری امور قیصر شیخ کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، وفاقی وزیر بحری امور قیصر شیخ کی ملاقات میں ماہی گیروں کے مسائل کے حل، سمندری آلودگی پر قابو پانے اور کیٹی بندر کو نئی بندرگاہ بنانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوئی، سیکریٹری وزیراعلی رحیم شیخ اور چیئرمین پورٹ قاسم ایئرایڈمرل ناصر شاہ نے شرکت کی۔ملاقات میں گفتگو کا آغاز مچھلی کے ٹرالرز سے کیا گیا جو مچھلی کے بیج کو تباہ کرکے ماہی گیری وسائل ختم کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے باریک جال بلو اور گجو کے استعمال پر پابندی لگادی ہے تاہم ٹرالرز کو کون سی حکومت لائسنس جاری کرے گی یہ ابھی تک حل نہیں کیا گیا ہے۔ٹرالرز کا مسئلہ حل کرنے کیلیے وزیراعلی اور وفاقی وزیر کے درمیان وفاقی وزارت بحری امور، حکومت سندھ اور بلوچستان کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں نکاسی کا پانی ٹریٹ کیے بغیر سمندر میں چھوڑنے کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ویسٹ کراچی واٹر ری سائیکلنگ کا آغاز کیا ہے۔ منصوبے میں فیکٹریوں کے نکاس سے جڑی لائن، 35 ایم آئی جی ڈی ٹریٹمنٹ پلانٹ، دریا میں چھوڑنے کیلیے آر او پائپ لائن، ایک پمپنگ اسٹیشن، سائٹ کی انڈسٹریز کو ری سائیکل پانی کی فراہمی کیلیے 28سے 50ایم آئی جی ڈی کا پائپ نیٹ ورک شامل ہیں۔وزیراعلی نے بتایا کہ منصوبہ ٹینڈر کے اسٹیج پر ہے اور جلد ہی اس کا ٹھیکہ دے دیا جائیگا۔مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر نے صنعتوں کو ری سائیکل پانی کی فراہمی کیلیے مشترکہ پلانٹ لگانے پر بھی اتفاق کیا جس میں صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں اپنا حصہ ڈالیں گی۔دوران گفتگو یہ بات نوٹ کی گئی کہ اس وقت کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قام بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ہینڈل کر رہے ہیں تاہم بڑھتے ٹریفک کے پیش نظر کیٹی بندر جیسی نئی بندرگاہ کی ضرورت بڑھ رہی ہے تاکہ اس لوڈ کو بانٹا جا سکے۔کیٹی بندر نیشنل ہائی وے اور موٹروے کے ساتھ جڑا ہونے کے باعث اشیا کی اندرون ملک ترسیل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کیٹی بندر ابتدا میں پاک چین راہداری کا حصہ تھا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر نے عندیہ دیا کہ وہ اپنی وزارت میں معاملے پر تبادلہ خیال کریں گے اور پورٹ کی تعمیر کیلیے نجی پارٹنر تلاش کریں گے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملاقات میں کیے گئے فیصلوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلیے ایک اور ملاقات جلد ہوگی۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہاضم بھنگوار کی تبدیلی کا نوٹیفیکشن معطل

    فیصلہ عدالتوں کے بجائے سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، مرتضی وہاب

    کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز کی تیاریاں عروج پرپہنچ گئیں

  • کراچی ایئر پورٹ کے اطراف سیکیورٹی بڑھا دی گئی

    کراچی ایئر پورٹ کے اطراف سیکیورٹی بڑھا دی گئی

    کراچی میں سیکیورٹی خدشات پر ایئر پورٹ کے اطراف سیکیورٹی بڑھا دی گئی۔

    پولیس حکام کے مطابق ماڈل کالونی سے جناح ٹرمینل جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اسٹار گیٹ سے جناح ٹرمینل آنے والی سڑک اور پہلوان گوٹھ سے ایئر پورٹ آنے والی سڑک پر ناکہ لگایا گیا ہے۔پولیس حکام نے کہا ہے کہ ٹریفک کو ماڈل کالونی سے شارعِ فیصل کی طرف موڑا جا رہا ہے، جناح ٹرمینل جانے والی سڑک بند ہونے سے ماڈل کالونی روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔حکام کے مطابق ایئر لائن اسٹاف، مسافروں اور دیگر ملازمین کو ایئر پورٹ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پولیس حکام نے بتایا ہے کہ محلقہ علاقوں سے ایئر پورٹ جانے والے راستوں پر ناکے ہیں یا انہیں بند کر دیا گیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہاضم بھنگوار کی تبدیلی کا نوٹیفیکشن معطل

    کوتاہیوں کی وجہ سے آج روزگار اسکیمیں لانا پڑ رہی ہیں،گورنر سندھ

    فیصلہ عدالتوں کے بجائے سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، مرتضی وہاب

  • نشے کے عادی لڑکے نے تھانے سے پستول چرا لیا

    نشے کے عادی لڑکے نے تھانے سے پستول چرا لیا

    نیو کراچی پولیس کے شعبہ تفتیش کی جانب سے سنگین غفلت کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں نشے کے عادی لڑکے نے کیس پراپرٹی پستول اڑا لیا تھا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نیو کراچی پولیس اسٹیشن کے شعبہ تفتیش سے نشے کے عادی دو لڑکے کیس پراپرٹی پستول چوری کر کے فرار ہو گئے تھے، تاہم سیکٹر فائیو ڈی میں علاقہ مکینوں نے دونوں کو اتفاقا پکڑا اور ان کے قبضے سے پستول برآمد ہو گیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ انھیں پکڑے گئے نشے کے عادی افراد پر شک گزرا تھا، اس لیے جب انھوں نے انھیں پکڑ کر تلاشی لی تو ایک لڑکے کی کچرے کی بوری سے کیس پراپرٹی کا پستول برآمد ہو گیا۔پولیس حکام کے مطابق بوری سے نکلنے والا پستول گولیوں سے بھرا ہوا تھا، دراصل ملزمان کو تھانے میں صفائی کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن اس دوران تفتیشی افسر کسی کام سے باہر گیا تو لڑکے کمرے میں گئے، اور ایک لڑکے نے ٹیبل پر کیس پراپرٹی کا غیر قانونی اسلحہ اٹھایا اور بوری میں ڈال لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں نے ملزمان کو پکڑا تو پتا چلا کہ پستول چوری کر کے بھاگے ہیں، جس پر انھوں نے تھانے کو مطلع کر دیا، ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

    کوتاہیوں کی وجہ سے آج روزگار اسکیمیں لانا پڑ رہی ہیں،گورنر سندھ

    فیصلہ عدالتوں کے بجائے سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، مرتضی وہاب

    کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز کی تیاریاں عروج پرپہنچ گئیں