Baaghi TV

Category: کراچی

  • غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم کیسے حاصل کریں؟

    غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم کیسے حاصل کریں؟

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے غیر فعال بینک اکاؤنٹس سے رقم حاصل کر نے کا طریقہ کار جاری کر دیا ہے-

    بینکوں میں موجود وہ رقوم جن پر گزشتہ 10 سال سے کوئی لین دین نہیں ہوا، انہیں غیر دعویٰ شدہ ڈپازٹس قرار دیا جاتا ہے ایسے اکاؤنٹس جن میں نہ کوئی ٹرانزیکشن ہوئی ہو اور نہ ہی اکاؤنٹ ہولڈر نے اسٹیٹمنٹ حاصل کی ہو، قانون کے مطابق اسٹیٹ بینک کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔

    بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے سیکشن 31 کے تحت تمام بینکوں اور ڈی ایف آئیز پر لازم ہے کہ وہ ایسے فکسڈ ڈپازٹس، دیگر رقوم، چیکس، ڈرافٹس اور بلز آف ایکسچینج جو 10 سال تک غیر فعال رہیں، انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کریں تاہم کم عمر افراد، حکومتی اداروں یا عدالتوں کے نام پر موجود اکاؤنٹس اس میں شامل نہیں ہوتے۔

    شادی کے بعد عورت بدل جاتی ہے، گوہر رشید کا کبریٰ خان سے متعلق دلچسپ بیان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شہریوں کی سہولت کے لیے غیر دعویٰ شدہ رقوم کی فہرست جاری کر رکھی ہے، جسے متعلقہ سال اور بینک کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے اس فہرست میں برانچ کا نام، صوبہ، اکاؤنٹ ہولڈر کا نام، شناختی کارڈ نمبر، پتہ اور رقم کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں شہری اپنی مطلوبہ معلومات کمپیوٹر پر Ctrl+F کے ذریعے تلاش کر سکتے ہیں۔

    اگر کوئی شہری اپنی یا اپنے مرحوم عزیز کی غیر دعویٰ شدہ رقم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے متعلقہ بینک برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا جہاں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا یا جہاں سے متعلقہ مالی دستاویز قابلِ ادائیگی تھی اگر وہ برانچ بند یا منتقل ہو چکی ہو تو اسی بینک کی قریبی برانچ سے رجوع کیا جا سکتا ہے،رقم کی واپسی کے لیے درخواست گزار کو دستخط شدہ درخواست، شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔

    زارا نور عباس اور سجل علی کی دوستی ختم؟

    اگر اکاؤنٹ ہولڈر کا انتقال ہو چکا ہو تو جانشینی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا، جبکہ ایک لاکھ روپے سے کم رقم کی صورت میں تمام ورثاء کا حلف نامہ اور دیگر دستاویزات بھی درکار ہوں گی،بینک برانچ درخواست اور متعلقہ ریکارڈ اسٹیٹ بینک کو بھجوائے گی، جہاں تصدیق کے بعد رقم متعلقہ بینک کو واپس کی جائے گی اور پھر درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔

  • شادی کے بعد عورت بدل جاتی ہے، گوہر رشید کا کبریٰ خان سے متعلق دلچسپ بیان

    شادی کے بعد عورت بدل جاتی ہے، گوہر رشید کا کبریٰ خان سے متعلق دلچسپ بیان

    پاکستان کے معروف اداکار گوہر رشید نے کہا ہے کہ شادی کے بعد لوگ واقعی بدل جاتے ہیں۔

    اداکارہ کبریٰ خان اور گوہر رشید نے گزشتہ سال فروری 2025 میں مکہ مکرمہ میں نکاح کیا تھا جس میں ان کے قریبی اہلِ خانہ اور دوستوں نے شرکت کی،جوڑے کی شادی کو ایک سال سے زائد ہوچکا ہے اور دونوں نے نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن ’محفلِ رمضان‘ میں شرکت کی۔

    میزبان رابعہ انعم اور دانش تیمور کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر گوہر رشید اور کبریٰ خان نے شادی کے بعد کی زندگی اور مکہ مکرمہ میں اپنے نکاح کے بارے میں کھل کر گفتگو کی،شادی کے بعد خواتین میں تبدیلی کے حوالے سے گوہر رشید کا کہنا تھا کہ جی ہاں، ہم قریبی دوست تھے اور ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے، لیکن سچ پوچھیں تو شادی کے بعد لوگ بدل جاتے ہیں۔

    زارا نور عباس اور سجل علی کی دوستی ختم؟

    اداکار نے کہا کہ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو محسوس ہوتا ہے جیسے آپ نے کسی نئی شخصیت کے ساتھ زندگی شروع کی ہو انہوں نے اس تبدیلی کو نکاح کی خوبصورتی قرار دیا اور کہا کہ شادی کے بعد ایک دوسرے کے بارے میں ہر روز نئی باتیں سامنے آتی ہیں۔

    اداکارہ کبریٰ خان نے بھی اس موقع پر کہا کہ شروع میں ہمارے درمیان اس موضوع پر بحث ہوتی تھی، جب گوہر کہتے تھے کہ تم بدل گئی ہو اور روایتی بیوی بن گئی ہو۔ تو اداکارہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ہاں، کیونکہ میں تمہاری بیوی ہوں۔

    روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار کا دعویٰ</a،

    مکہ میں نکاح کے بارے میں بات کرتے ہوئے کبریٰ خان نے کہا کہ ہم دوست تھے اور شادی کے حوالے سے ہر بات پر گفتگو کرتے تھے جب کہ پہلے دن سے میں نے انہیں کہا تھا کہ میں اپنا نکاح مکہ میں کرنا چاہتی ہوں گوہر نے کہا کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں، آخرکار ہماری شادی ہوگئی اور تو یہ طے تھا کہ ہمارا نکاح مکہ میں ہی ہوگا جس پر بہت سے دوستوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی تقریب میں شامل ہونا چاہتے ہیں، جس سے یہ لمحہ اور بھی خاص بن گیا۔

  • زارا نور عباس اور سجل علی کی دوستی ختم؟

    زارا نور عباس اور سجل علی کی دوستی ختم؟

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ زارا نور عباس نے اداکارہ سجل علی کے ساتھ دوستی ختم ہونے کے حوالے سے خاموشی توڑ دی۔

    زارا نور عباس نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں میزبان احمد علی بٹ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سجل علی سے اپنے تعلقات کے بارے میں بات کی، میزبان نے سوال کیا کہ سجل کیسی ہیں اور آپ نے ان سے کتنے عرصے سے بات نہیں کی؟ جس پر زارا نے جواب دیا الحمداللہ وہ اچھی ہیں اور ہم نے ابھی بات کی ہے اس پر میزبان نے کہا کہ ’یہ جھوٹ ہے‘۔

    زارا نور عباس نے کہا کہ لوگ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اگر دو افراد نے ایک دوسرے کو ان فالو کر دیا تو وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے حالانکہ ایسا ضرو ری نہیں،لوگ ہمیشہ میرے بارے میں منفی باتیں کرتے ہیں اور یہاں ہر کوئی ہر کسی کے بارے میں بات کرتا ہے،

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    اداکارہ نے کہا کہ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ شاید انہوں نے کچھ کہا ہو گا حالانکہ انڈسٹری میں ہر کوئی ایک دوسرے کے بارے میں بات کرتا ہے اس تجربے سے انہیں یہ سیکھنے کو ملا کہ ہر ہاتھ ملانے والا شخص آپ کا دوست نہیں ہوتا۔ خاص طور پر شوبز انڈسٹری میں جہاں ہر کسی سے ہاتھ ملایا جاتا ہے تو دیکھنا پڑتا ہے کہ میری انگلیاں واپس آئی ہیں یا نہیں-

    زارا نور عباس نے بتایا کہ ان کے دوستوں کے کئی گروپس تھے اور وہ ہر کسی کو دوست سمجھ لیتی تھیں، لیکن اسد مجھے تنبیہ کرتے تھے اب سمجھ آیا کہ اسد ہمیشہ صحیح کہتے تھے-

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

  • کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

    سینئر وزیر سندھ صوبائی وزیراطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو جاری رکھنا ایک اہم کام تھا۔ حکومت سندھ خود اس پورے پروجیکٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ عید سے پہلے اطراف کی سڑکوں پر موجود مسائل ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔کوشش ہے کہ پورا پروجیکٹ، خاص طور پر یونیورسٹی روڈ والے علاقے کو جلد مکمل کیا جائے۔

    سینئر وزیر نے کہا کہ کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں۔ شارعِ بھٹو پر دی گئی سہولت مارچ کے آخر یا اپریل کے پہلے ہفتے تک قائد آباد تک مکمل ہو جائے گی اور بعد میں اس کو ایم نائن تک بڑھایا جائے گا۔ یہ ٹریفک کے مسائل کے لیے ایک بڑی سہولت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مایوسی پھیلانے یا سیاست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ٹارگٹ یہی ہے کہ ہر حال میں پروجیکٹس مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کی زندگی آسان اور معیاری ہو۔ دیگر اضلاع میں بھی ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں اور حکومت تمام چیلنجز حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

    ایم کیو ایم کی سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست مسترد

    ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست کردی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے فی الحال درخواست لینے سے معذرت کرلی۔

    سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشنل کمیشن کی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں جاری ہے، ایم کیو ایم نے کمیشن سے فریق بننے کی درخواست کردی۔جسٹس آغا فیصل نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کی درخواست لینے سے فی الحال معذرت کرلی۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔ جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ فی الحال معذرت چاہتے ہیں، سماعت جاری ہے، آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں۔وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ درخواست اس سے پہلے ہی دائر کردی گئی ہے۔ جس پر جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ درخواست آپ نے دی، فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا،

    ایم کیوایم پاکستان نے گل پلازہ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کردہا،فاروق ستار نے کہا کہ سب سے پہلے ایم کیوایم نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم جس طرح تحقیقات ہورہی ہیں ہم مطمئن نہیں ہیں،

    ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی،ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے،انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزیں انکوائری کا حصہ ہیں،ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔

    کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں،ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے، ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔

    ڈائریکٹر سول ڈیفنس کا گل پلازہ کمیشن تحقیقات کے دوران انکشاف، اپنے ادارے کی حالت زار بتادی،جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کیا ہر سال عمارتوں کی انسپکشن کرنی ہوتی ہے؟ ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے کہا کہ سول ڈیفنس کے پاس عملے اور گاڑیوں کی کمی ہے، سالانہ انسپکشن نہیں کرسکتے ،

  • رونتی کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن: بدنام زمانہ ڈاکو ثنا اللہ گرفتار

    رونتی کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن: بدنام زمانہ ڈاکو ثنا اللہ گرفتار

    گھوٹکی پولیس کو رونتی کے کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ بدنام زمانہ ڈاکو ثنا اللہ، جس کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی، نے پولیس کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔
    ‎ثنا اللہ قتل، اقدامِ قتل اور اغوا برائے تاوان سمیت سینکڑوں سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن گزشتہ ایک ماہ سے رونتی کے کچے میں جاری ہے، جس کے باعث دہشت کی علامت سمجھے جانے والے ڈاکو ثنا اللہ نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

  • نارتھ ناظم آباد میں گیس سلنڈر دھماکا، آتشزدگی سے لڑکا جاں بحق

    نارتھ ناظم آباد میں گیس سلنڈر دھماکا، آتشزدگی سے لڑکا جاں بحق

    ‎کراچی: نارتھ ناظم آباد میں گیس سلنڈر دھماکے سے ایک رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں ایک لڑکا جاں بحق ہو گیا ہے۔ دھماکا گیس کے اخراج کے باعث ہوا، جس کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں ایک بچی اور ایک خاتون شامل ہیں۔
    آئی جی سندھ نے پولیس حکام کو فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچنے کا حکم دیتے ہوئے متاثرہ عمارت، رہائشیوں اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کی ہدایت کی ہے۔

  • کراچی کے سرکاری اسپتال میں سرنجوں کے غلط استعمال سے 84 مریضوں میں ایڈز کا انکشاف

    کراچی کے سرکاری اسپتال میں سرنجوں کے غلط استعمال سے 84 مریضوں میں ایڈز کا انکشاف

    ‎کراچی کے سرکاری اسپتال ولیکا ہسپتال میں غلط سرنجوں کے استعمال سے 84 مریضوں کو ایڈز ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ مریض گزشتہ برس مختلف امراض کے علاج کے لیے اسپتال آئے تھے اور انہیں استعمال شدہ سرنج سے انجکشن لگائے گئے تھے۔
    اسپتال حکام نے متاثرہ مریضوں کو تلاش کر کے انہیں مختلف اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ جیسے ہی اس کا پتہ چلا تو ڈی جی ہیلتھ کو بھیجا اور متاثرہ لوگوں کو تلاش کر کے ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور اب انہیں دوائیں دے رہے ہیں۔
    ایڈز ایک سے دوسرے شخص تک پھیلنے والا مرض ہے، جس کا علاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ یہ موذی مرض غیر محفوظ ازدواجی تعلقات، ہم جنس پرستی، استعمال شدہ سرنج، بلیڈ، استرے کا استعمال، دانتوں کے نان اسٹرلائزڈ آالات سمیت دیگر ذرائع ہیں

  • کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں،شرجیل میمن

    کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ حکومت سے کمی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے،کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں-

    شرجیل میمن نے یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی روڈ کو کلیئر کریں، اس پروجیکٹ کی مالیت بڑھ گئی ہے اسے بند کریں، تمام چیلنجز کے باوجود اس پروجیکٹ پر کام جاری رکھا گیا، اس پروجیکٹ کا جو کام رُکا تھا وہ انتظامی معاملات کی وجہ سے تھا۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ عید سے پہلے یونیورسٹی روڈ کی سائیڈ کی سڑکوں پر کام مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، مقصد عوام کو سہولت دینا ہے، اس وقت کراچی میں بڑی تعداد میں میگا پروجیکٹ چل رہے ہیں، حکومت سندھ کی انتظامیہ اور میئر کراچی بھی دن رات کام کر رہے ہیں ریڈ لائن بی آر ٹی پراجیکٹ کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، یہ پراجیکٹ اگلی نسلوں کے کام آئے گاہمیں لوگوں کو ایسے پراجیکٹس دینے ہیں جس سے انہیں سہولت ہو، حکو مت سے کمی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے،کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ کسٹمز نے پنجاب حکومت کو ایک فیصد اور ہمیں 17 سے 18 فیصد چارج کیا، ابھی بھی ہماری بسیں کسٹمز میں پھنسی ہوئی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ دونوں صوبوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ ہونا چاہیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق کہا کہ ان کی لمبی عمر کے لیے دعاگو ہوں، جہاں تک رہائی کی بات ہے تو رہائی ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کےحواری اداروں کو نشانہ بناتے ہیں، اگر یہ لوگ اپنے الفاظ کا چناؤ بہتر کریں تو معاملات میں بہتری آئے گی۔

  • کراچی:رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

    کراچی:رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

    کراچی:رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران مسافر بس میں جیب تراشی اور لوٹ مار کی متعدد وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا-

    ترجمان رینجرز کے مطابق بلدیہ ٹاؤن مواچھ موڑ کے قریب مسافر بس میں لوٹ مار کی اطلاع پر رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے 4 موبائل فونز اور نقدی برآمد کرلی گرفتار ملزمان کا گروہ 10 سے 12 افراد پر مشتمل ہے جو پچھلے دو سال سے کراچی کے مختلف علاقوں سے موبائل فون چھیننے اور جیب تراشی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

    ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 موبائل فونز چھین کر انھیں فروخت کے بعد رقم آپس میں تقسیم کرلیا کرتے تھے گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں پولیس کے معطل اہلکار انہیں چھڑوانے میں کردار ادا کرتے ہیں جس کے عوض اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم فراہم کی جاتی ہےگرفتار ملزمان کو برآمد کیے جانے والے مسروقہ سامان کے ہمراہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔