Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں بارش،پنجاب ، خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    کراچی میں بارش،پنجاب ، خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے

    کراچی کے علاقے گلشن اقبال،یونیورسٹی روڈ،صفورہ چورنگی، شاہ فیصل ٹاؤن میں بارش ہوئی ہے،آئی آئی چندریگر روڈ، صدر اور اطراف کے علاقوں میں بھی بارش کا آغاز ہوگیا ہے، بارش ہونے سے کراچی کا موسم خوشگوار ہو گیا ہے، کراچی کے شہریوں نے بارش کی وجہ سے سکھ کا سانس لیا، بڑی تعداد میں شہری بارش میں گھروں سےباہر نکل آئے اور خوشگوار موسم میں لطف اندوز ہوتے رہے،

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں بارش کے سبب بجلی کے 245 فیڈرز ٹرپ کرگئے ہیں، ترجمان پیسکو کے مطابق پشاور سرکل میں 83 اور خیبر سرکل میں 64 فیڈرزبارش سے متاثر ہوئے، مردان میں 21 اور صوابی میں بجلی کے 20 فیڈرز ٹرپ کرگئے، ایبٹ آباد سرکل 21، سوات سرکل 29 اور مانسہرہ میں بجلی کے 8 فیڈرز متاثر ہوئے فیڈرز متاثر ہونے سے کئی علاقوں میں بجلی کی ترسیل معطل رہی۔

    پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مزید بارشوں کی پیشگوئی
    آئندہ 24 / 48 گھنٹوں کے دوران مالاکنڈ، باجوڑ، مردان،چترال، دیر، سوات، ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان، مانسہرہ، ہری پور، بونیر، صوابی، نوشہرہ، مہمند، کوہاٹ، خیبر، کرم، کرک، بنوں، لکی مروت سمیت گردوں نواح کے علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ بالائی اضلاع میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش کی توقع ہے۔

    بالائی اور شمال مشرقی پنجاب بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، اٹک، چکوال، جہلم، مری، گلیات، گجرات، حافظ آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، شیخوپورہ، قصور، اوکاڑہ سمیت ملحقہ علاقوں میں بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش کے امکانات ہیں. سرگودھا، میانوالی، خوشاب، فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، پاکپتن، ساہیوال، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، بھکر، لیہ، ملتان، خانیوال، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، تونسہ، راجن پور، رحیم یار خان,ان علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔جنوبی اضلاع میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے۔ کوہ سلیمان اور ملحقہ شمال مشرقی/جنوبی بلوچستان ان پہاڑی علاقوں کے مقامی / برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے.

    بارش کے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں
    1. ندی نالوں کے قریب نہ جائیں اور سیلاب کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہوں۔
    2. موسلا دھار بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
    3. بجلی کی تاروں اور دیگر برقی آلات سے دور رہیں۔
    4. تیز ہواؤں اور گرج چمک کے دوران درختوں اور بلندی پر موجود چیزوں کے نیچے کھڑے نہ ہوں.

    کوہاٹ،بارشی پانی تہہ خانے میں‌جانے سے ایک ہی گھر کے 11 افراد کی موت

  • کراچی،چوری ہونے والی کار ایک گھنٹے میں برآمد

    کراچی،چوری ہونے والی کار ایک گھنٹے میں برآمد

    کراچی کے علاقےالفلاح شمسی سوسائٹی سے چوری ہونے والی کار ایک گھنٹے میں برآمد کرلی گئی.

    شاہ فیصل کالونی پولیس ٹریکر کی مدد سے موقع پر پہنچ گئی. ملزمان ملیر کے علاقے میں کار چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے. برآمد شدہ کار شہری کے حوالے کردی گئی. بزرگ شہری نے ایس ایس پی کورنگی توحید رحمان میمن اور شاہ فیصل پولیس سے اظہار تشکر کیا. فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا

    دوسری جانب اے وی ایل سی کی نارتھ کراچی میں کامیاب کاروائی،واٹر پمپ کے نزدیک سے چوری ہونے والی کار برآمد کر لی، شہری سمیع اللّٰہ ترین نے کار کی برآمدگی پر اے وی ایل سی کراچی پولیس کی کاوشوں کی تعریف کی.

    علاوہ ازیں ایسٹ، تھانہ سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے منشیات فروش ملزمان کو گرفتار کرلیا. پولیس نے آر پٹی فقیرہ گوٹھ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان اور ایک ملزمہ کو گرفتار کیا۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے آدھا کلو سے زائد (570 گرام) اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن، 70 گرام آئس اور فروختگی کی رقم برآمد کرلی گئی۔گرفتار ملزمان کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔گرفتار ملزمان میں ظاہر شاہ ولد فقیر محمد، غلام حسین ولد محمد عثمان اور ملزمہ عشرت زوجہ علی ڈنو شامل ہیں۔گرفتار ملزمان عادی جرائم پیشہ ور ہیں اور قبل از بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکے ہیں۔

  • عوام کو حقوق نہ ملے تو  ایوانوں کا گھیراؤ کریں گے،مرکزی مسلم لیگ

    عوام کو حقوق نہ ملے تو ایوانوں کا گھیراؤ کریں گے،مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم نے کہا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کرنے والے عوام کے مسائل کو نہیں جانتے۔مرکزی مسلم لیگ عوام کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے ۔اگر عوام کو حقوق نہ ملے تو مرکزی مسلم لیگ ایوانوں کا گھیراؤ کرےگی۔ مہنگائی و بجلی کے بلوں کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کررہے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاہراہ قائدین پرحقوق عوام مارچ و دھرنے کےشرکاء سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔مرکزی مسلم لیگ کراچی کے تحت مہنگائی کے خلاف حقوق عوام مارچ و علامتی دھرنہ دیاگیا۔ ہزاروں شرکا ءنے مسلم لیگ ہاؤس نرسری شاہراہ فیصل سے شاہراہ قائدین تک پیدل مارچ کیا۔ مارچ کی قیادت فیصل ندیم اور کراچی کےصدر احمد ندیم اعوان نے کی۔بعد ازیں شاہراہ قائدین پر دھرنا دیاگیا۔ اس موقع پر شرکا نے ٹیکس اور مہنگائی میں مسلسل اضافے کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خلاف جملے، مہنگائی نامنظور،عوام کا معاشی قتل بند کرو،بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافہ نامنظور، جیسے درج تھے۔دھرنے سے کراچی کےصدراحمدندیم اعوان ، سندھ کے نائب صدرسجاد اعوان ،رہنما انجینئر نعمان، مہدی اسحاق، چوہدری مدثر اقبال ایڈووکیٹ، فیصل علی بلوچ، محبوب علی وہ دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

    شاہراہ قائدین پردھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فیصل ندیم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے،ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمران ہمیں بدحال کرگئے۔ پاکستان کا نوجوان ملک سے مایوس ہوچکا ہے ۔حکمرانوں کی کرپشن و بدعنوانی کی وجہ سے ملک گھٹنوں پر آچکا ہے۔ آئی پی پیز کے ذریعے عوام پر ظلم کیا جارہاہے۔40 لوگوں کی وجہ سے ملک کی عوام کا جینا حرام کیاہوا ہے ۔بجلی کے بلوں کی وجہ سے بھائی بھائی کا خون بہا رہاہے۔بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہے ہیں ۔عوام کے ساتھ ظلم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اگر حکمرانوں نے عوام کے حقوق نہ دیے تو حقوق چھین کر لیں ۔

    کراچی کے صدراحمدندیم اعوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے،کراچی چلے گا تو پاکستان چلے گا،اس شہر کو حق دینا پڑے گا،اگر نہیں دیں گے تو چھین کر لیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے حکمرانوں نے ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا ہے۔آئے روز پیٹرول و بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو ظلم کی چکی میں پیسا جاتا ہے ۔عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کرنے والے عوام کے مسائل کو نہیں جانتے۔مرکزی مسلم لیگ عوام کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے ۔اگر عوام کو حقوق نہ ملے تو مرکزی مسلم لیگ ایوانوں کا گھراؤ کرئے گی ۔مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا، پاکستان کو لوٹنے والوں پر زندگی تنگ کردیں گے۔

    یہ دھرنا پاکستان کی تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے.حافظ نعیم الرحمان

    جب جمہوری آزادی نہ ہو، پارلیمنٹ کام نہ کرے، تو پرامن مزاحمت ہی واحد راستہ ہے.حافظ نعیم الرحمان

    دھرنا حکومت گرانے کی تحریک بھی بن سکتی ہے،حافظ نعیم الرحمان

    جماعت اسلامی پی ٹی آئی کا متبادل،کامیاب دھرنے کے بعد نئی بحث

    جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل،کارکنان کے جذبےپرجوش

    کسی بھی وقت احتجاج کو آگے بڑھانے کا حکم دے سکتے ہیں،حافظ نعیم الرحمٰن

    تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا جائے ، بجلی کی قیمیتں کم جائیں اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔ حافظ نعیم الر حمن

    جماعت اسلامی کا دھرنا، ریڈ زون سیل، فیض آباد بند،گرفتاریاں

    فارم 47 کی نہیں فارم 45 کی حکومت بنائی جائے۔ حافظ نعیم الرحمان

    جماعت اسلامی کی 26 اپریل کو اسلام آباد میں دھرنا کی تیاریاں عروج پر

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

  • نوجوان پاکستان کا مستقبل: خود پر اور اپنے وقت پر سرمایہ کاری کریں، خالد مقبول صدیقی

    نوجوان پاکستان کا مستقبل: خود پر اور اپنے وقت پر سرمایہ کاری کریں، خالد مقبول صدیقی

    کراچی: چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو خود پر اور اپنے وقت پر سرمایہ کاری کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں اور ان کی محنت اور عزم ہی ملک کو موجودہ مسائل سے نکال سکتی ہے۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج پاکستان مختلف مسائل سے دوچار ہے، لیکن امید کی کرن صرف نوجوانوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان ہمارے اجداد نے بنایا تھا اور اس کے لئے انہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہوں نے پاکستان بنایا تھا وہی پاکستان چلا بھی سکتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ممالک اپنی آبادی کو اپنا سرمایہ بنا رہے ہیں اور ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سازش نہ ہوئی تو کراچی میں مزید 13 یونیورسٹیاں قائم ہونے والی ہیں جو آنے والے دس سالوں میں شہر کراچی اور اس کے عوام کے لیے بہتری کا باعث بنیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا مستقبل روشن ہے اور اس کے عوام کو تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لئے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نوجوانوں کی محنت، لگن اور عزم ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو خود پر اعتماد کرنا ہوگا اور اپنے وقت کو بہترین طریقے سے استعمال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ نوجوان اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں بہترین طریقے سے استعمال کریں۔
    انہوں نے تعلیم اور تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جس سے ہم اپنے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں مزید یونیورسٹیوں کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کو ہمیشہ سے سازشوں کا سامنا رہا ہے لیکن ہمیں اپنے عزم کو مضبوط رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے ملک کے لئے محنت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دن پاکستان کے لئے بہتری کے دن ہوں گے اگر ہم اپنے نوجوانوں کو صحیح راستے پر گامزن کریں۔
    انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا دل ہے اور اس کے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے ہمیں اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی ترقی کرے گا تو پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو مزید بہتر بنانا ہوگا اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہترین طریقے سے استعمال کر سکیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ نوجوان ہی پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کی محنت، لگن اور عزم ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صحیح سمت میں گامزن کرنا ہوگا اور ان کے لئے بہترین مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو صحیح راستے پر گامزن کر دیا تو پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔

  • کراچی سے لاپتہ صنعت کار ذوالفقار احمد  لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے

    کراچی سے لاپتہ صنعت کار ذوالفقار احمد لاہور میں اپنے گھر پہنچ گئے

    کراچی کے معروف کاروباری شخصیت ذوالفقار احمد، جو کولا نیکسٹ، میزان گروپ اور پراچہ انڈسٹریز کے مالک ہیں، 23 جولائی کو ایک دلخراش واقعے میں اغوا کر لیے گئے۔ کراچی کے علاقے ماڑی پور میں ان کی سفید ٹویوٹا سرف گاڑی کو آٹھ مسلح افراد نے روکا اور انہیں اغوا کر لیا جبکہ ان کے ایک دوست کو جانے دیا۔اغوا کی خبر سے ذوالفقار احمد کے اہل خانہ اور کمپنی انتظامیہ میں شدید پریشانی پھیل گئی۔ اسی دن کلری پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن پولیس نے شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا، جس سے ان کے اہل خانہ اور انتظامیہ کو سندھ ہائی کورٹ کا رخ کرنا پڑا۔ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو جمعہ کے دن مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

    پولیس نے تصدیق کی کہ کلری تھانے میں اغوا کا مقدمہ دفعہ 365 کے تحت ٹیکسٹائل کے منیجر عمران ملک کی جانب سے درج کیا گیا۔ دفعہ 365 کے تحت، یہ مقدمہ کسی شخص کو اغوا کرنے کے جرم میں درج کیا جاتا ہے جو کسی کو زبردستی قید یا اغوا کرتا ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ، اسد رضا نے بتایا کہ ذوالفقار احمد کو لاہور میں اپنے گھر پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کی بازیابی نے ان کے خاندان اور کاروباری حلقوں میں راحت کی لہر دوڑا دی۔ اسد رضا کا کہنا تھا کہ ذوالفقار احمد کی حالت بہتر ہے اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔اس سے قبل، ذوالفقار احمد کے وکیل نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ذوالفقار احمد کا اپنی فیملی سے رابطہ ہو چکا ہے اور وہ جلد اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ وکیل کے مطابق، ذوالفقار احمد کی بازیابی ان کی زندگی میں ایک نئی امید کی کرن لے آئی ہے۔

    یہ واقعہ کاروباری حلقوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے والا تھا، کیونکہ ذوالفقار احمد جیسے بڑے صنعتکار کا اغوا ایک سنگین مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ کاروباری کمیونٹی نے اس واقعے کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ذوالفقار احمد کی بازیابی کے بعد، ان کے اہل خانہ اور دوستوں نے پولیس اور عدلیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی بازیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعے نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدلیہ مل کر کسی بھی مشکل صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ذوالفقار احمد کا اغوا اور بازیابی ایک یاد دہانی ہے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کی بالا دستی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا کتنا ضروری ہے۔ اس واقعے نے کاروباری برادری کو مزید متحد کر دیا ہے اور انہوں نے حکومت سے مزید بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا  وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

    کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل نے ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسائل پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ بجلی کے بل کم کیے جائیں اور کے الیکٹرک کی اوور بلنگ کو ختم کیا جائے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو بل کم ہونا چاہیے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تین سو یونٹ فری دینے کا وعدہ کیا تھا، اگر یہ وعدہ پورا نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم بجلی کے ریٹ کو مناسب بنایا جائے۔ انہوں نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں، کیونکہ 2015 سے اب تک بجلی کے نرخوں میں تین سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس کی تنخواہ میں اتنا اضافہ ہوا ہے؟
    مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ عوام انتشار نہیں چاہتے، لیکن جب تک لیڈرز صحیح تربیت نہیں دیتے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بل آدھے کیے جائیں اور کمرشل بلوں پر 37 فیصد ٹیکس کو ختم کیا جائے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صدر، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اخراجات بڑھائے گئے ہیں جبکہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گھریلو صارفین پر ٹیکس نہ لگایا جائے اور صرف 50 ارب روپے کی کٹوتی سے جولائی سے ستمبر تک کے ٹیکس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو گھریلو صارفین کا ٹیکس ختم کرنا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ مفتاح اسماعیل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی زندگی آسان ہو سکے۔مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے عوام سے درخواست کی کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھائیں اور متحد ہو کر ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے جدوجہد کریں۔ عوام پاکستان پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو وہ اپنے احتجاج کو مزید وسعت دیں گے۔

  • حکومت سنجیدہ ہو تو اسٹیل مل کی بحالی کیلیے مدد  کو تیار ہیں،روسی قونصل جنرل

    حکومت سنجیدہ ہو تو اسٹیل مل کی بحالی کیلیے مدد کو تیار ہیں،روسی قونصل جنرل

    پاکستان اسٹیل مل کی بحالی کے لئے روس پاکستان کی مدد کو آ گیا، روس نے اسٹیل مل کی بحالی کے لئے پیشکش کر دی ہے

    یہ پیشکش روسی قونصل جنرل نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہی،کراچی کونسل آن فارن ریلیشن کی پاک روس تعلقات پرتقریب ہوئی،تقریب میں روسی قونصل جنرل وکٹرووچ شریک ہوئے اور گفتگو کی،روسی قونصل جنرل کا کہنا تھاکہ روس نے ہمیشہ جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دیاہے، پاکستان اسٹیل مل کا قیام دونوں ممالک کے تعاون کی مثال ہے، اسٹیل مل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم ہوئی، اسٹیل مل کی بحالی کیلئے مدد کرنے کو تیار ہیں، حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

    پاکستان پہلا ملک ہے جس کے ساتھ روس نے ڈپلومیٹک ویزا پر تعاون کیا، گزشتہ تین برسوں میں پاکستان میں تین مختلف حکومتیں رہیں لیکن پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،پاکستان اور روس کے سربراہوں میں متعدد شعبوں پر بات ہوئی تھی، ہمارے سربراہان پاکستان کو فوڈ سکیورٹی میں تعاون کیلئے بھی پیش پیش رہے ہیں، پاکستان اور روس کے درمیان حال ہی میں متعدد پروجیکٹس پر کام شروع ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہت چیزیں مماثلت رکھتی ہیں،پاکستان اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار میں سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ مارکیٹ میں پاکستان اسٹیل مل کا کوئی خریدار نہیں، حکومت نے اسے اسکریپ کرنے اور زمین کو دوسرے مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے، وفاقی کابینہ نے منظوری بھی دے دی ہے،

    پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کے حوالے سے سی ایف او پاکستان سٹیل ملز محمد عارف شیخ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے کے ہیں جن میں سے 2.12 ارب کے اثاثہ جات منقولہ اور 858 ارب کے غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ منقولہ اثاثہ جات میں 1.45 ارب کی مشینری اور گاڑیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین کا تخمینہ 2021 میں لگایا گیا تھا اور کمپنی نے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق یہ تخمینہ لگوایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی 500 گاڑیاں ہیں جن میں بسیں، کاریں اور سیکورٹی وینز وغیرہ شامل ہیں جن میں سے 350 ورکنگ حالت میں ہیں اور باقی ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ادارے کی 1500 ایکڑ زمین سی پیک میں استعمال ہو گی اور اس ادارے کی کل زمین 18 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں سے 8 ہزار ایکڑ پر رہائشی کالونیاں قائم ہیں باقی پر پلانٹ لگے ہیں۔ کمیٹی کو ادارے کے اثاثہ جات بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین622 ارب کی ہے جبکہ وہ زمین جو سرمایہ کاری کے لئے رکھی گئی ہے وہ 63 ارب کی ہے فیکٹری بلڈنگ کے اثاثہ جات 43 ارب کے ہیں نان فیکٹری بلڈنگ2 ارب کی ہے،2.2 ارب کی سٹرکیں، ریلوے ٹریک اور پلیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ریلوے ٹریک اور ریلوے انجن کی تفصیلات آئندہ اجلا س میں طلب کر لیں۔

    پاکستان سٹیل ملز کی مالی سال 2022-23 میں آمدن 5.65 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا پلانٹ اور مشینری 115.7 ارب روپے کے ہیں۔ گیس اور بجلی انسٹالیشن 2.7 ارب کی ہے۔پانی، سیوریج سسٹم 1.99 ارب کا ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے 200 ملین گیلن فی ماہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ سیوریج سسٹم بہت بہتر ہے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 30 جون2024 کے بعد گیس سپلائی بند کر دی گی ہے۔ادارے کی آمدن کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2022-23 میں ادارے کی آمدن 5.65 ارب روپے تھی جس میں سے2.71ارب روپے سکریپ فروخت کر کے حاصل کی گئی جبکہ اخراجات 33.11 ارب روپے رہے،25ارب کا مالی سال 2022-23 میں خسارہ رہا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ، سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے
    انتظامی اخراجات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ لیبر کاسٹ2.1 ارب روپے کی ہے جو گزشتہ برس 2.9 ارب کی تھی اور اس سے قبل برس 4.9 ارب کی تھی۔ ادارے کو صرف6 ارب کی گرانٹ ملی تھی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت سے 104 ارب اور نیشنل بنک پاکستان سے 38 ارب کا قرض لیا گیا۔ 103 ارب کا مارک اپ ادا کر چکے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 13 جون2024 کو ساڑھے پانچ سو سے زائد ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے ان کی تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں 12 ہزار382 ملازمین ادارے سے فارغ ہو چکے ہیں جن میں سے 5701 ریٹائرڈ ہوئے،128 نکالے گئے،359 نے استعفیٰ دیا،39 میڈیکل گراؤنڈ پر گئے،397 سکیم کے تحت رضا کارانہ چھوڑ گئے،577 انتقال کر گئے وغیرہ شامل تھے۔ 12 ہزار382 ملازمین سے 4 ہزار588 افسران جبکہ 7794 ورکرز تھے۔پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ہے جن میں سے 166 افسران اور2120 ورکرز ہیں۔ 2286 ملازمین کی سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ملازمین کو 32 ارب روپے کی تنخواہ ادا کی گئی اور گزشتہ 10 برسوں میں 7 ارب کی گیس ادارے میں استعمال کی گئی۔

    پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں سی ایف او عارف شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے 2011 میں پاکستان سٹیل ملز کو جوائن کیا تب یہ مل تقریبا بند ہو چکی تھی صرف 36 فیصد کپیسٹی پر چل رہی تھی۔2000 سے2008 تک یہ ملز اوسطا 80 فیصد کپیسٹی کے ساتھ منافع دے رہی تھی۔ 2009 میں بین الاقوامی مسئلہ آیا جو دنیا کے بڑے بنکوں کی وجہ سے تھا۔30 جون2009 کو یہ ملز 36 فیصد کپیٹی پر آ گئی اور 26 ارب کا نقصان ہوا جس کی انکوائری نیب اور سپریم کورٹ دونوں نے کرائی۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب کر لیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2009 میں ادارے نے حکومت سے کمرشل قرض 15 فیصد پر حاصل کیا اور 6.5 ارب کی ایل سی کی ادائیگی کی۔ کم فنڈز کی وجہ سے پیداواری کپیٹی کم سے کم ہوتی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس ادارے کے 27 ہزار ملازمین تھے جبکہ 2008 میں ملازمین کی تعداد 20 ہزار تھی اس وقت بھی ادارے کی ضرورت کل 7 ہزار ملازمین کی تھی۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 2010 میں ساڑھے 4 ہزار ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی حکومت نے ہدایا ت دیں۔ادارے کی جانب سے فنڈز کی کمی کا کہا گیا تو حکومت کی جانب سے فنڈز کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ان ملازمین کا بوجھ ادارے پر 12 ارب روپے کا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ اتنا منافع دینے والے ادارے کو مناسب حکمت عملی کے تحت چلانا چاہیے تھے ایک حکم نامے کے ذریعے اتنے ملازمین ریگولر کرنا ادارے کا تباہ کرنے کے مترادف تھا۔سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا گیا کہ حکومت کے حکم کے تحت کی گئی بھرتی غیر قانونی نہیں ہوتی۔

    سندھ حکومت 7 سو ایکڑ زمین پر نئی سٹیل مل بنائے گی
    سیکرٹری صنعت و پیدا وار نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نگران حکومت نے اس ادارے کی نجکاری کے حوالے سے کچھ ترامیم کی تھیں۔مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں ہے حکومت اس کو سکریپ کرنے اور زمین کو دوسرے مقصد میں استعمال میں لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور وفاقی کیبنٹ نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ زمین وفاق کی ہے یا سندھ حکومت کی اس کے لیز کاریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس زمین کو اسٹیٹ لینڈ کے طور پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی زمین کے دوسرے استعمال کے لئے صوبائی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس کی زمین پر ایکسپورٹ پروموشن زون / صنعتی زون کے استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نگران صوبائی حکومت نے نگران وفاقی حکومت کو اس کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ موجودہ حکومت نے نگران حکومت کے فیصلے کو رویو کیا ہے۔ سندھ حکومت ایک نئی سٹیل ملز قائم کرے گی اگر سندھ حکومت نئی سٹیل ملز بناتی ہے تو 7 سو ایکڑ پر قائم کی جائے اور باقی پاکستان سیٹل ملز کے نام زمین رہے گی۔ سندھ کیبنٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اعلیٰ معیار کے لوہے کو سی کیٹگری کے طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر فروخت نہیں ہوا۔

    پاکستان سٹیل مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے،یونین
    کمیٹی اجلاس میں سٹیل ملز سے تعلق رکھنے والے یونین کے نمائندے نے کمیٹی سے درخواست کی کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین 12 فیصد کے حقدار ہیں یا نہیں اور کیا یہ مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو اعداد شمار بتائے گئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں اور ایکسپورٹ پرومن زون کے لئے اس ادارے کی زمین استعمال نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ اس ادارے کا ابھی تک سی ای او کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ادارے کے بورڈ آف گورنر کا کیا اسٹیٹس ہے۔ ممبران بورڈ کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزرا پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ہم ہر طرح کی سہولت اور تعاون فراہم کریں گے جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو اور عوام کی حالت میں بہتری آئے۔ وزرا کی موجود گی میں کمیٹی اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی ہو جاتا ہے۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے کہا کہ سٹیل ملز کی گیس بند نہیں کرنی چاہیے ورنہ پلانٹ چلانے کے لئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکرٹری وزارت صنعت و پیدا وار پاکستان سٹیل ملز یونین کے نمائندوں سے ملیں اور معاملات کو بہتر بنائیں۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بجلی زیادہ مہنگی ہے۔مفتاح اسماعیل

    حکومت کی نااہلی کی وجہ سے بجلی زیادہ مہنگی ہے۔مفتاح اسماعیل

    عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کا بل پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، جولائی سے ستمبر تک گھریلو صارف پر سیلز ٹیکس اور ایڈوانس انکم ٹیکس ہٹادیں، گھریلو صارف کا بل 24 فیصد کم ہوجائے گا، حکومت اپنے اخراجات کم کرے تاکہ ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اوور بلنگ کہیں تو ہورہی ہے، بجلی بلوں سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے، بارہ بارہ گھنٹے بجلی نہیں لیکن بل زیادہ بھیجے جارہے ہیں، اوور بلنگ کو روکا جائے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کی جائے، دیہی علاقوں میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ ہے لیکن بجلی کے بلز کم نہیں ہو رہے ہیں،ہمیں پاکستان میں حکمرانی کا نظام بدلنا ہے، بجلی کے محکمے عوام کی خدمت کے لیے نہیں، حکومت کے لیے چلتے ہیں، ریلوے صارف کے فائدے کے لیے نہیں چل رہی،حکومت کو لوگوں کی بہتری کے لیے ایکشن لینے چاہئیں، پاکستان میں سوچ عوامی خدمت کے لیے بدلنے کی ضرورت ہے، ہم فکسڈ ریٹ پر چلے گئے ہیں جس پر نہیں جانا چاہیے، نیپرا کہہ رہی ہے 11 فیصد سے زیادہ نقصان نہیں ہونا چاہیے لیکن آج بھی 18 فیصد نقصان ہے یہ حکومت کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے بجلی زیادہ مہنگی ہے۔

    مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ایم این اے اور ایم پی ایز کے پروجیکٹ پر پیسے لگا رہی ہے لیکن بلوں میں کمی نہیں لارہی ہے ہم فرنس آئل پر ٹیکس دے رہے ہیں، ایل این جی پر چلنے والوں پر تو سیلز ٹیکس ہٹا دیں، گھریلو صارفین پر ٹیکس چار ماہ کے لیے ہٹا دینا چاہیے، یہ 50 ارب کا خرچ نہیں ہے، اسے پی ایس ڈی پی سے کم کردیں، گرڈ پر چل رہے ان کے ایندھن پر ٹیکس ختم کریں، کل کے الیکٹرک کے دفتر پر علامتی دھرنا دیں گے، ہم کے الیکٹرک کو تجاویز دیں گے یہ 31 ویں دن میٹر چیک کرنا بند کریں،جس طرح پولیس کا ادارہ پاکستان کے عوام کی خدمت کے لیے نہیں چلتا،اسی طرح بجلی کے ادارے بھی عوام کی خدمت کے لیے نہیں چلتے اور نہ ہی ریلوے پاکستان کے عوام کے فائدہ کے لیے نہیں چلتی،وہ ریلوے کی وزارت کے لیے چلتی ہے، ہم نے آئی پی پیز لگاتے وقت یہ سوچا تھا کہ ڈالر میں پیمنٹ کہاں سے کرنی ہے، شاہد خاقان عباسی کے دور میں پلانٹ لگانے کیلئے بڈنگ کا قانون پاس کروایا گیا، 2018 کا یہ قانون بانی پی ٹی آئی نے تبدیل کردیا،ہ سر چارجز دینے کے بعد بھی 24 فیصد ٹیکس لگایا جاتا ہے، 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے۔ 7.5 فیصد انکم ٹیکس لگایا گیا ہے، حکومت اگر گرمیوں کے چار ماہ ڈومیسٹک صارفین سے یہ ٹیکس نہ لے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ خراب کریں، حکومت صرف اپنے اخراجات کم کرے۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

  • کراچی سیاحوں کے لئے خطرناک ترین شہر

    کراچی سیاحوں کے لئے خطرناک ترین شہر

    معروف امریکی جریدے فوربس نے سیاحوں کے لیے خطرناک ترین شہر وں میں پاکستان کا ایک شہر بھی شامل کر دیا گیا ہے

    فوربس کی جانب سے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے جاری ایڈوائزی میں سال 2024 کے لیے دنیا کے خطرناک ترین شہروں کی فہرست جاری کی گئی ہے،جس کےمطابق دنیا کا سب سے خطرناک شہر کراکس کو پہلا نمبر دیا گیا ہے ،دوسرا نمبر کراچی اور میانمار کے شہر ینگون کو سیاحوں کے لیے تیسرا خطرناک شہر قرار کہا گیا ہے

    فوربس میگزین کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں سیاحوں کی سلامتی کو انتہائی درجے کے خطرات لاحق ہیں، کراچی میں جرائم بڑھ چکے ہیں، تشدد کے واقعات آئے روز رونما ہوتے ہیں، قدرتی آفات اور معاشی کمزوریوں کے شدید خطرات بھی موجود ہیں

    فوربس میگزین کی جانب سے جاری کی گئی اس فہرست میں سنگاپور کو سیاحوں کے لیے دنیا کا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا ہے، جاپان کا شہر ٹوکیو اور کینیڈا کا شہر ٹورنٹو بھی سیاحوں کے لیے محفوظ ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے 2024 کے لیے دنیا بھر میں رہائش کے لیے بہترین شہروں کی فہرست جاری کی تھی،اس فہرست میں کراچی بھی شامل تھا جو 169 ویں نمبر پر موجود ہے، گزشتہ سال بھی کراچی کے حصے میں یہی نمبر آیا تھا۔

  • پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ پولیس گردی کی جا رہی ہے. حلیم عادل شیخ

    پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ پولیس گردی کی جا رہی ہے. حلیم عادل شیخ

    حیدرآباد میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے پریس کلب کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ میں سیاسی حالات پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں مارشل لاء کی صورت حال ہے اور پی ٹی آئی کا پرامن احتجاج روکا جا رہا ہے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ "کیا سندھ میں مارشل لاء نافذ ہے؟ کیا ہمیں احتجاج کرنے کا حق نہیں ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ پولیس گردی کی جا رہی ہے اور سندھ میں آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی نکتہ چینی کی کہ حکومت گٹکا، ماوا، اور چھالیہ کی فروخت پر توجہ دینے کے بجائے پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے پر زیادہ زور دے رہی ہے۔

    شیخ نے الزام لگایا کہ نواز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، اور ایم کیو ایم مل کر عوام اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "وقت تبدیل ہونے والا ہے، کپتان باہر آنے والا ہے، اور پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت میں بیٹھی مافیا کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا سندھ میں واقعی مارشل لاء نافذ ہے، اور کہا کہ ان کے تمام کیسز بھی سیاسی وجوہات کی بنا پر معلق کر دیے گئے ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور احتجاج کرنے کے حق کو سلب نہ کیا جائے۔