کراچی میں ایرانی قونصل خانے میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا تھا، جبکہ ایران میں اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور پاکستان متحد ہو جائیں تو کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو یکجا ہو کر چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے۔
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پوری قوم متحد تھی اور اسی اتحاد کی بدولت کامیابی حاصل ہوئی۔
Category: کراچی
-

کراچی میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب، گورنر سندھ کی شرکت
-

آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے،شرجیل میمن
کراچی میں صوبائی وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ اور سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ اطلاعات سندھ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اطلاعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمن میمن، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات معیز پیرزادہ، ڈائریکٹر فلمز حزب اللہ میمن، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات سارانگ لطیف چانڈیو سمیت دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران میڈیا سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل، صحافیوں کے لیے سہولیات میں بہتری، بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی، اور محکمہ اطلاعات اور میڈیا کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر محکمہ اطلاعات کے جاری اور مجوزہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ، جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے حکومتی معلومات کی مؤثر ترسیل، فلم اور ڈاکومنٹری منصوبوں کی سرپرستی، اور عوام کو حکومتی پالیسیوں تک شفاف اور آسان رسائی کی فراہمی کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں اور میڈیا اداروں کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری جمہوری نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ان کے تحفظ اور پیشہ ورانہ سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے، اور سندھ حکومت میڈیا کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام تک درست اور بروقت معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
-

کراچی: ایک لمبے انتظار کے بعد جہانگیر روڈ کے تعمیراتی کام کا آغاز
کراچی کے شہریوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ طویل انتظار اور روزمرہ مشکلات کے بعد جہانگیر روڈ پر باقاعدہ تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ہے۔
سڑک کی تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار کے مطابق تین ہٹی سے گرومندر تک جہانگیر روڈ کو روایتی طریقے سے مختلف انداز میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس بار صرف ڈامر بچھا کر سڑک تیار نہیں کی جائے گی بلکہ پہلے مضبوط کنکریٹ ڈالا جائے گا اور اس کے بعد پیورز نصب کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ جہانگیر روڈ کی خستہ حالی اور سیوریج کے مسائل پر مکینوں کی جانب سے کئی بار شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ گرومندر سے تین ہٹی تک سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی جبکہ سیوریج کے پانی نے صورتحال مزید خراب کر دی تھی۔
ٹھیکیدار کے مطابق پہلے مرحلے میں گرومندر تک پیورز بچھانے کا کام ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں گرومندر سے تین ہٹی تک سڑک کی تعمیر شروع کی جائے گی۔
شہریوں کو امید ہے کہ نئی تعمیر کے بعد اس اہم شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور روزانہ کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ -

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عوام سے شواہد طلب
سانحہ گل پلازہ،جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس جسٹس آغا فیصل سربراہی میں ہوا
اجلاس میں کمشنر کراچی ،سیکریٹری قانون و داخلہ نے شرکت کی،جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات سے متعلق پبلک نوٹس جاری کردیا،کمیشن کی جانب سے سانحہ گل پلازہ سے متعلق عام عوام سے شواہد طلب کرلیے ،کمیشن نے کہا کہ کسی بھی شہری کے پاس سانحہ سے متعلق اہم معلومات ہوں تو کمیشن سے رابط کرسکتا ہے ،کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی،پبلک نوٹس میں کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل ہیں،سانحہ گل پلازہ سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد ای میل کے ذریعے کمیشن سے رجوع کرسکتے ہیں،سانحہ گل پلازہ سے متعلق حقائق، واقعاتی معلومات جوڈیشل کمیشن کو فراہم کی جاسکتی ہیں،جوڈیشل کمیشن سے 20 فروری سے قبل ای میل سے ذریعے رجوع کیا جاسکتا ہے، جوڈیشل کمیشن سے ای میل ایڈریس gpi-coi@shc.gov.com پر رجوع کیا جاسکتا ہے،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کمیشن کے لیے سیکریٹریٹ فراہم کردیا ،جوڈیشل کمیشن کا سیکریٹریٹ سندھ ہائیکورٹ میں ہی قائم کیا گیا ہے ،جوڈیشل کمیشن کے جج جسٹس آغا فیصل نے کمشنر کراچی کو اسٹاف نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کردی،اسٹاف میں رجسٹرار کمیشن ،فوکل پرسن،ماہرین شامل ہوں گے ،
-

اینکر مرید عباس قتل کیس،سات برس بعد مقدمہ حتمی مراحل میں داخل
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت،جیل کمپلکس،اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کا قتل ،سات برس بعد مقدمہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا
مقدمے کے آخری گواہ تفتیشی افسر عتیق الرحمان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا،تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد کیس کی تفتیش سپرد کی گئی،ملزم کی شناخت پریڈ اور گواہان کے 164 کے بیانات ریکارډ کروائے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور آلہ قتل برآمد کرکے فرانزک کروایا اور ملزم کے خلاف چالان جمع کروایا، عدالت نے ملزم کے وکیل سے تفتیشی افسر کے بیان پر جرح کے لئے تاریخ مقرر کردی،عدالت نے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی
اینکر مرید عباس اور خضر حیات کو 2019 میں قتل کیا گیا تھا،مقدمے میں ملزم عاطف زمان گرفتار اور جیل میں ہے،شریک ملزم عادل زمان 2020 میں سپریم کورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر مفرور ہوگیا تھا،شریک ملزم عادل زمان تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا،سیشن عدالت شریک ملزم عادل زمان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے،مدعی مقدمہ کی جانب سے جبران ناصر ایڈووکیٹ کیس کی پیروی کررہے ہیں
-

سپریم کورٹ کی ہدایات پر صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ سے 1 ارب کی عمارت واگزار
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے اور متروکہ وقف املاک بورڈ نے اسلام آباد کے آرام باغ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ملکیت 1 ارب روپے مالیت کی عمارت صارم برنی ویلفئیر ٹرسٹ سے واپس حاصل کر لی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ای ٹی پی بی کے زیر انتظام مذکورہ عمارت کافی عرصے سے ٹرسٹ کے غیر قانونی تسلط میں تھی، جس کا استعمال مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا تھا۔عمارت میں صارم برنی کی طرف سے کم عمر بچوں کی مبینہ اسمگلنگ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث وہ اس وقت جیل میں موجود ہیں،عمارت کو قبضے میں لینے کے بعد سیل کر دیا گیا اور بعد ازاں متروکہ وقف املاک بورڈ کے سپرد کر دیا گیا،حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد عمارت کا قانونی اور شفاف استعمال یقینی بنایا جائے گا، جبکہ غیر قانونی قبضے پر مزید سخت اقدامات جاری رہیں گے۔
-

شراب کی خریدوفروخت پر پابندی کی قرارداد سندھ اسمبلی سے مسترد
سندھ اسمبلی نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کو مسترد کردیا۔شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی حکومت نے مخالفت کی۔
ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار نے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ صوبے بھر میں شراب کی خرید اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کےتمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ وزیر قانون و داخلہ سندھ ضیا لنجار نے قرارداد کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے ایک بہت بڑا طبقہ محروم ہوجائے گا، آج میرے دوست تھوڑے سے جذباتی لگ رہے ہیں جس کے بعد ایوان نے قرارداد مسترد کردی۔
ایوان نے ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین خان کی بھی 2 قراردادیں مسترد کردیں، ایک قرارداد جنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کو روکنے کے لیے لائیف بیسڈ اسکل لرننگ سے متعلق جبکہ دوسری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی کو دیکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق تھی۔
-

مصطفیٰ عامر قتل کیس میں تاخیر کے خلاف والدہ سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئیں
مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں چالان جمع ہونے کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان پر فردِ جرم عائد نہ ہونے پر مقتولہ کی والدہ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ وکیل کے مطابق کیس انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 16 کے جج کے انتقال کے بعد زیر التوا رہا، اور بعد ازاں سندھ حکومت کی عدالتوں کی ری اسٹرکچرنگ کے باعث اے ٹی سی 6 کو انسداد منشیات کی عدالت میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے کارروائی میں مزید تاخیر ہوئی۔
سندھ ہائی کورٹ نے کیس ٹرانسفر کرنے کی منظوری دے دی اور نیا کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کی۔ وکیل نے کہا کہ تاخیر انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اور اہم ملزمان ارمغان اور شیراز اس وقت جیل میں قید ہیں۔ -
ڈاکوؤں کی فائرنگ، تین پولیس اہلکار شہید، تین زخمی
انڈس ہائی وے پر ڈاکوؤں نے مسافروں سے لوٹ مار کی کوشش کے دوران پولیس پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ایک اہلکار سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، تاہم ڈاکوؤں نے گولیاں چلائیں۔ شہید ہونے والے اہلکاروں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹنے والے مسافروں نے انڈس ہائی وے پر دھرنا دے کر احتجاج کیا، جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا اور شہید اہلکاروں کے لواحقین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے ساتھ زخمیوں کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ -

کراچی: انڈے کے تاجر سے 30 لاکھ روپے کی ڈکیتی
کراچی کے علاقے کورنگی زمان ٹاؤن میں ایک انڈے کے تاجر سے 30 لاکھ روپے کی ڈکیتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تاجر اصغر نے بتایا کہ دو ملازمین، عامر اور عمران، 30 لاکھ روپے تھیلے میں بھر کر بینک جمع کروانے جا رہے تھے کہ کورنگی ڈھائی نمبر کے مقام پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے انہیں روک لیا۔ ملزمان نے اسلحہ دکھا کر رقم سے بھرا تھیلا اور موبائل فون چھین لیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ڈاکوؤں نے شناخت چھپانے کے لیے ماسک اور ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔