Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج،  جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

    سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج، جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

    کراچی:جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہراحتجاج دھرنے اورہنگامہ آرائی کے خلاف آرام باغ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق مقدمہ 34 نامزد ملزمان سمیت 325 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا سرکارمدعیت میں مقدمے میں ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ،سڑک بند کرنے،کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اورانسداد دہشت گردی سمیت دیگردفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔

    احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس ایکشن کے دوران جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس افسران و ملازمان زخمی بھی ہوئے۔

    مقدمے متن کے مطابق جماعت اسلامی کی سینئیر قیادت صفیان دیلا،عثمان شریف ، فیضان ،جواد شعیب اوردیگرنامعلوم سینیئرقیادت دھرنے اوراحتجاج کی سرپرستی کررہے تھےاوراپنی تقریروں کے ذریعے اشتعال پھیلاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔

    احتجاج میں 300 سے 325 افراد شامل تھے دوران تقریراوردھرنے میں شامل افراد جو کہ ڈنڈوں ، لاٹھیوں اوراسلحہ سے مسلحہ ہوکراچانک مشتعل ہوگئے بلوا اورہنگامہ آرائی پراترآئے اورپولیس پرحملہ بول دیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر راجہ مسعود،ایس ایچ او پریڈی ایوب میرانی ،ایس ایچ او انسپکٹر شاہ فیصل خان ، پو لیس کانسٹیبل زوہیب زخمی ہوئے۔

    متن کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اینٹی رائٹ کا استعمال کیا گیا اورمیگا فون کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ ہنگامہ آرائی نہ کریں اور منتشرہوجائیں لیکن ہجوم مشتعل رہااس کے بعد گیس شیلوں کے ذریعے ہجوم کومنشر کیا گیا۔ دوران ہنگامہ آرائی 30 افراد کوگرفتار کیا گیا جبکہ دیگر نامعلوم موقع پر سے فرار ہو گئے۔

    موقع پرسے 30 بور پستول کے 5 چلیدہ خون ، نائن ایم ایم پستول کے 5 چلیدہ خول ، 15 ڈنڈے ، مختلف سائز کے 35 پتھر،79گیس شیل کے خول پولیس قبضے میں لیے گئیے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے جس سے گورئمنٹ پراپرٹی کو نقصان ہوا۔

  • کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    کراچی: جماعت اسلامی کا کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں کا اعلان

    کراچی: جماعت اسلامی نے کل شہر میں 10 مقامات پر دھرنوں پر اعلان کیا ہے۔

    کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج کی کال کے بعد سندھ اسمبلی کی طرف پیش قدمی اور دھرنے کی اجازت نہ ملنے کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جھڑپوں کے دوران شیلنگ، پتھراؤ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جب کہ پولیس نے 10 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا ہے۔

    پولیس کی شیلنگ کے دوران ایک شیل سندھ اسمبلی کے قریب مسجد کے پی ایم ٹی میں آگ بھڑک اٹھی اس دوران فائر بریگیڈ کی گاڑی آگ بجھانے پہنچی تو مظاہرین نے گاڑی کو قبضے میں لے کر پولیس پر پانی پھینکنا شروع کردیا انتظامیہ کی جانب سے علاقے میں بلیک آؤٹ کردیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے مسلسل شدید شیلنگ کے نتیجے میں کارکنان، مقامی آبادی کے علاوہ خود پولیس اہلکار بھی متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

    بنگلہ دیش انتخابات،نئے سیاسی دور کا آغاز،تحریر:کامران اشرف

    واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی نے 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا تھا۔ جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے سندھ اسمبلی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں،پولیس اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے، جس کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر، ایم پی اے محمد فاروق سمیت دیگر قائدین نے سندھ اسمبلی روڈ پر دھرنا دے دیا۔

    پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے اور رکاوٹیں توڑ کر اسمبلی کی جانب بڑھنے میں کامیاب ہوگئے-

    صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ آج شام 4 بجے مذاکرات ہونے تھے جماعت اسلامی کو بتا دیا تھا کہ انہیں سندھ اسمبلی آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو تماشہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    وفاق کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ، 2 رکنی میڈیکل ٹیم تشکیل

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کو بتا دیا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں پولیس اورمقامی انتظامیہ جماعت اسلامی کےساتھ رابطے میں تھی، مشتعل کارکنان نے ریڈ زون میں پتھراؤ کیا،جماعت اسلامی کو کہا گیا تھا پُرامن احتجاج کریں لیکن ریڈزون میں داخل نہ ہوں، جما عت اسلامی کارکنوں نے اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کی،سڑکیں بند ہونے سے عام شہری متاثرہوتا ہے جماعت اسلامی کبھی شارع فیصل بلاک کردیتی ہے تو کبھی اسمبلی میں داخل ہوجاتی ہے حکومت مذاکرات کرے گی لیکن جماعتِ اسلامی کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہئے۔

    ٹی 20 ورلڈکپ: پاک بھارت ٹاکرے سے قبل کولمبو اسٹیڈیم میں 4 فٹ لمبا سانپ نکل آیا

    دوسری جانب امیر جماعت اسلامی منعم ظفر کا کہنا ہے کہ ہم شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کے لیے نکلے تھے، ہمارے کارکنان پر تشدد اور شیلنگ کی گئی جبکہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی فسطائیت پورا ملک دیکھ رہا ہے، پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور دھرنےسے روکنا بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بااختیار شہری حکومت کراچی کا حق ہے اور اہل کراچی اپنا یہ حق لے کر رہیں گے۔

  • کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

    کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

    پولیس سے مذاکرات ناکام ہونے پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا ، پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

    پولیس انتظامیہ نے پہلے ہی راستے میں موبائل اور بسیں کھڑی کر کے کارکنان کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، اہلکاروں نے کورٹ روڈ اور نماز روڈ پر رکاوٹیں قائم کیں تاکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے،ابتدائی مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد اور پولیس انتظامیہ کے درمیان کوئی اتفاق نہ ہوسکا-

    کبوتر چوک اور متصل علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤاورتشدد کیا، اس کے نتیجے میں علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا اور پولیس کی نفری کچھ دیرکے لئے بھاگنے پرمجبورہوگئی۔

    اسلام آباد :مساجد کے باہر گداگری اور اشیا کی فروخت پر پابندی

    مظاہرین نے سندھ اسمبلی کی جانب پیش قدمی جاری رکھی، جس کے باعث پولیس نے بھاری نفری، اضافی دستے اور ایس ایس پی ساؤتھ کی ہدایت پر پریزن وین طلب کی،متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جبکہ کچھ پولیس اہلکار بھی مظاہرین کے حملے میں زخمی ہوئے پولیس نے مظاہرین کے ذریعے استعمال ہونے والے ٹرک اور ساؤنڈ سسٹم ضبط کر لیے تاکہ مذاکرات کے دوران امن قائم رہ سکے۔

    جھڑپوں کے دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان شیلنگ اور پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا، پولیس نے کبوتر چورنگی سے جامع مسجد اہلحدیث تک اپنی نفری پہنچائی لیکن مظاہرین اندرونی گلیوں اور دیگر راستوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اس دوران نعرے بازی اور مزاحمت جاری رہی، پولیس کی جانب سے علاقے میں بلیک آؤٹ بھی کروا دیا گیا۔

    ایس ایس پی ساؤتھ نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے مزید اقدامات کا عندیہ دیا اورکہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن قائم رکھنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گےاور صورتحال پر فوری کنٹرول کے لئے اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔

    ویلنٹائنز ڈے :میئر کراچی نے حافظ نعیم کو گلدستہ بھیج دیا

    جماعت اسلامی کے نائب امیر و رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ڈپٹی سیکریٹری کراچی عبد الرزاق خان راستے پر بیٹھ گئے اور پولیس سے راستہ کھولنے کی درخواست کی،محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور سندھ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دیا جائے گا، انہوں نے وعدہ کیا کہ دھرنے کے دوران کسی بھی قسم کا نقصان یا پتھر بازی نہیں کی جائے گی اور کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    پولیس اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ کشیدگی شہر کے اہم سیاسی اور حکومتی مرکز کے سامنے برقرار ہے، اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔

    ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی

  • ویلنٹائنز ڈے :میئر کراچی نے حافظ نعیم کو گلدستہ بھیج دیا

    ویلنٹائنز ڈے :میئر کراچی نے حافظ نعیم کو گلدستہ بھیج دیا

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ویلنٹائنز ڈے کی مناسبت سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم کو گلدستہ بھیج دیا۔

    بلدیہ عظمی کراچی (کے ایم سی) کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اپنے اعلان کے مطابق ویلنٹائن ڈے پر حافظ نعیم کو گلدستہ بھیج دیا ہےحافظ نعیم الرحمان کو ادارہ نور حق کے ایڈریس پر گلدستہ بھیجا گیا جبکہ میئر نے حافظ نعیم کو پاک بھارت میچ دیکھنے کی بھی دعوت دی ہے۔

    ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی

    عمران خان کی آنکھ کا علاج جاری، ذاتی مفاد کیلئے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، عطاتارڑ

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

  • ملک کے  مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی  پیشگوئی

    ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 16 فروری کو ملک کے مغربی علاقوں میں ایک کمزور موسمی سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث مختلف شہروں میں بارش ہو سکتی ہے،16 اور 17 فروری کے دوران کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین اور گردونواح کے علاقوں میں بارش متوقع ہے، 17 فروری کو کراچی، گوادر، پسنی، حیدرآباد، ٹھٹہ اور سکھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے16 فروری کی رات سے 17 فروری تک وزیرستان، بنوں اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش متوقع ہے، اس دوران ڈیرہ غازی خان اور شمالی بلوچستان کے بعض علاقوں میں ژالہ باری کا بھی امکان ہے-

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    آزادی پسند عوام نے بی این پی کو کامیاب بنایا،طارق رحمان

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

  • ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جرائم میں کمی اور امن و امان کی بہتری سندھ پولیس کی کامیابی ہے، حکومت سندھ پولیس کی بہتری اور فلاح کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    کراچی میں شاہد حیات پولیس ٹریننگ کالج سعیدآباد میں پولیس کے ریکروٹ ٹریننگ کورس کی 131ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے،انسپکٹر جنرل سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا استقبال کیا۔ آئی جی پولیس جاوید عالم اڈھو نے مہمانِ خصوصی کو یادگاری شیلڈ پیش کی،پولیس کے 889 اہلکاروں نے ریکروٹ ٹریننگ کورس مکمل کیا ہے، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے اہلکاروں میں انعامات تقسیم کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پاسنگ آؤٹ ہونے والوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پولیس ٹریننگ سعید آباد میں جدید تربیت دی جا رہی ہے، آپ عوام کے جان و مال کے محافظ ہیں، سندھ پولیس سے عوام کو بڑی توقعات ہیں، موجودہ حالات میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف سندھ پولیس نے بھرپور کارروائیاں کی ہیں،ہ سندھ حکومت پولیس کی بہتری اور حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، پولیس ٹریننگ میں جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، سندھ پولیس کے بہادر افسران و جوانوں کی وجہ سے صوبے میں امن قائم ہوا۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کچھ روز پہلے دادو میں 3 بہادر سپاہیوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا، صوبے میں چند ماہ میں پولیس کے افسران و جوانوں نے بہادری کی شاندار مثال قائم کی، کراچی میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا کو شہید کر دیا گیا۔ کراچی میں جب کچھ سال پہلے دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا تو کانسٹیبل شہید ہوئے، پچھلے سال جنوری سے دسمبر تک 1325 پولیس مقابلے ہوئے، 207 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا۔ پولیس نے 418 ڈاکوؤں کو زخمی کیا، 1138 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا جبکہ 114 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا، اس سال یکم جنوری سے آج تک 115 پولیس مقابلے ہوئے،27 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 82 زخمی ہوئے، پولیس نے 81 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا اور 153 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا،امید کرتا ہوں کہ سندھ پولیس ایسے ہی بہادری سے کام کرتے ہوئے کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کرے گی، ایک وقت تھا کہ دہشت گرد روزانہ کئی لوگوں کو شہید کر دیتے تھے، یہاں بم دھماکے ہوتے تھے، ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی،ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کر چکے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، سندھ پولیس نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ نئے جوان جذبے اور لگن کے ساتھ فرائض انجام دیں گے۔

  • سانحہ گل پلازا میں انتظامیہ کا بھی قصور تھا،شرجیل میمن

    سانحہ گل پلازا میں انتظامیہ کا بھی قصور تھا،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ میڈیا کی توجہ اصل معاملات سے ہٹ گئی ہے، میڈیا اور ٹی وی چینلز صرف سیاسی موضوعات پر بات کرتے ہیں، غیر نتیجہ خیز مسائل کو پیش کرتے ہیں اور عوام کے اصل مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں

    کراچی میں ایسوسی ایشن آف کنسلٹنگ انجینئرز پاکستان کی کانفرنس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ کانفرنس میں سندھ کے ترقیاتی منصوبوں اور انفراسٹرکچر کے مواقع پر اہم تبادلہ خیال ہوا۔شرجیل میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر کمیٹی بنائی گئی۔ وزیر اعلی سندھ کمیٹی کے سربراہ تھے، سانحہ گل پلازہ رپورٹ نیک نیتی اور ایمانداری سے شائع کی گئی، سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن بنایا۔ گل پلازہ میں آگ بجھانے کے آلات نہ ہونے کی 2 بار وارننگ دی گئی، حفاظتی انتظامات مکمل نہ ہونے پر عمارت کو سیل کردیا جائے گا،بلڈنگ بننے کی زمہ داری حکومت کی ہوتی ہے اگر کوئی بلڈنگ بننی ہے تو اس کی زمین کی سوائل ٹیسٹنگ ہونی لازمی ہے ۔سانحہ گل پلازا میں انتظامیہ کا بھی قصور تھا، 2 بار وارننگ دی لیکن انتظامیہ نے توجہ نہیں دی،اس سانحے میں 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، اور تحقیق سے ثابت ہوا کہ عمارت کے مالک نے غیرقانونی طور پر اضافی منزلیں تعمیر کیں اور منظور شدہ نقشے کی خلاف ورزی کی

  • پاکستان کی خطے میں منشیات فروش نیٹ ورکس کیخلاف ایک اور بڑی کامیابی

    پاکستان کی خطے میں منشیات فروش نیٹ ورکس کیخلاف ایک اور بڑی کامیابی

    بحیرہ عرب میں پاکستانی اداروں نے مشترکہ آپریشن کرکےاربوں روپے مالیت کی منشیات سمگل کرنیکی کوشش ناکام بنادی

    اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگرایجنسیاں منشیات کی روک تھام کیلئے بھرپور کردار ادا کررہی ہیں،اے این ایف کی فراہم کردہ اطلاع پربحریہ عرب میں کامیاب آپریشن ، منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی، آپریشن میں اے این ایف،پاک نیوی،میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی،جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سنٹرنے حصہ لیا، آپریشن میں کشتی کی تلاشی کے دوران 1300کلوگرام سے زائد چرس اور بڑی مقدار میں شراب برآمد کرلی گئی ،برآمد شدہ منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی مجموعی مالیت 20 ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے ، انسداد منشیات آپریشن متعلقہ پاکستانی اداروں کے مربوط باہمی رابطے،معلومات کے تبادلے اورموثرحکمت عملی کا مظہر ہے.

  • کراچی میں چور سنار کی دکان کا صفایا کر گئے

    کراچی میں چور سنار کی دکان کا صفایا کر گئے

    کراچی میں ایک بار پھر چوری کی بڑی واردات نے تاجروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں نامعلوم ملزمان نے سنار کی دکان کا صفایا کر دیا اور لاکھوں روپے مالیت کا سامان لے اُڑے۔

    پولیس کے مطابق واردات شہر کے علاقے ملیر سٹی میں قائم گھانچی مارکیٹ میں پیش آئی۔ ملزمان نے رات کی تاریکی میں دکان کے تالے کاٹ کر اندر داخل ہونے کے بعد سنار کی تجوری اٹھا لی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق چور انتہائی مہارت سے کارروائی کر کے فرار ہوئے۔
    تھانہ پولیس حکام کے مطابق تجوری میں تقریباً 850 گرام سونا اور 15 لاکھ روپے نقد رقم موجود تھی۔ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مارکیٹ کے چوکیدار کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ واردات میں کسی اندرونی مدد کے امکان کو بھی جانچا جا سکے۔

    دوسری جانب متاثرہ سنار کا کہنا ہے کہ اس کی دکان میں 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور دیگر قیمتی زیورات موجود تھے اور مجموعی نقصان پولیس کے ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ سنار نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا مال برآمد کیا جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کے لیے مارکیٹ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے جبکہ فرانزک ٹیم نے بھی شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ پانچ روز قبل بھی کراچی کے علاقے سعید آباد میں اسی نوعیت کی واردات پیش آئی تھی، جہاں ملزمان سنار کی دکان کے تالے کاٹ کر 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات لے گئے تھے۔ اس واقعے کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج ہے تاہم تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔تاجروں اور دکانداروں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی کے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
کراچی کے مسائل پر جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان

    
کراچی کے مسائل پر جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان

    ‎امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کل سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی، جس کا مقصد کراچی کے شہری مسائل اور حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج شام چار بجے شروع ہوگا اور ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق دھرنے کا مقصد شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا ہے۔
    ‎منعم ظفر نے کہا کہ احتجاج بااختیار میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ 18 برسوں کی نااہلی کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ “جینے دو کراچی مارچ” کے بعد یہ احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ ہے، جبکہ دھرنے کے اعلان کے بعد حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎امیر جماعت اسلامی کراچی نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ دھرنا ہر صورت ہوگا۔