Baaghi TV

Category: کراچی

  • پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    سندھ ہائیکورٹ: طویل عرصے سے لاپتہ دس سے زائد افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ لاپتہ شہری کے حوالہ سے کتنی جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں ،پولیس حکام نے کہا کہ 16 جے آئی ٹیز اور پی ٹی ایف سیشن ہوچکے ہیں ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال سے لاپتا ریاست اللہ کا تاحال پتہ نا چل سکا، پولیس نے پیش رفت رپورٹ جمع کرادی،تفتیشی افسر نے کہا کہ ریاست اللہ کا کیس جبری گمشدگی کی کیٹیگری میں شامل کردیا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال ہوگئےہیں ہمارے حالات بہت خراب ہیں ، نوکری ملازمت بھی مل رہی ہے خدارا کچھ تو کیجیے ،واجد حسین سات سال سے لاپتا ہے کچھ تو کریں ، کیوں اغواء کرکہ لے جاتے ہیں جب قانون موجود ہے تو ،عدالت نے ایس پی انوسٹی گیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی، درخواست گزار نے کہا کہ اگر پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے ،جب تک ہم زندہ ہیں عدالت آتے رہینگے، عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • سیمنٹ کے ٹرک سے  3 کروڑ سے زائد کی منشیات برآمد

    سیمنٹ کے ٹرک سے 3 کروڑ سے زائد کی منشیات برآمد

    سندھ: جیکب آباد میں سیمنٹ کے ٹرک سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی گئی۔

    باغی ٹی وی: اینٹی نارکوٹکس فورس کے ترجمان کے مطابق جیکب آباد میں اے این ایف نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا،دوران آپریشن ضلع خیر پور جانے والے ٹرک کو پکڑا گیا، سیمنٹ کے ٹرک سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی منشیات ٹرک کے خفیہ خانوں میں رکھی گئی تھی، 620 کلو گرام منشیات کی مالیت 3 کروڑ سے زائد ہے۔

    قبل ازیں ڈائریکٹر کراچی زون ضعیم اقبال شیخ کی ہدایت پر انسانی سمگلرز کی گرفتاری کے لئے کریک ڈاؤن کیا گیا ،ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی بہاول اوستو کے احکامات پر چھاپہ مار ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلر کو گرفتار کر لیاگرفتار ملزم انسانی سمگلنگ کے گھناونے جرم میں ملوث تھاملزم حمزہ سہیل کو کراچی کے علاقے بہادرآباد سے گرفتار کیا گیا-

    ملزم بغیر لائسنس کے عجوہ ٹریول کے نام سے ایجنسی چلا رہا تھا،ملزمان سادہ لوح شہریوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم وصول کر رہے تھےابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے متعدد شہریوں سے بیرون ممالک بھجوانے کے نام پر پاسپورٹ وصول کئے چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے 13 عدد پاسپورٹس، 12 چیک بکس، لیپ ٹاپس اور دیگر دستاویزات برآمد کر لئے گئے ملزم لائسنس کے حوالے سے بھی حکام کو مطمئن نہ کر سکا ملزم کے خلاف کاروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں گزشتہ روز ترجمان ایف آئی اے ساہیوال پولیس نے ناجائز اسلحہ کی بڑی کھیپ پکڑ لی،ساہیوال پولیس نے ناکہ بندی کے دوران ناجائز اسلحہ کی بڑی کھیپ کی ترسیل ناکام بنا دی، ساہیوال پولیس نے ناکہ بندی کے دوران گاڑی کی تلاشی پر 114 پستول ، 18 رائفلز اور ہزاروں کی تعداد میں گولیاں برآمد کر لیں، ساہیوال پولیس نے اسلحہ قبضہ میں لیکر نوشہرہ کے رہائشی ملزم نعیم کو گرفتار کر لیا-

    دوسری جانب حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا چھاپے کے دوران ملزمان سے بھاری رقوم برآمد کی گئی گرفتار ملزمان میں فلک نیاز اور اسد اللہ شامل ہیں،ملزمان کو دین پلازہ پشاور صدر سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے مجموعی طور پر 45 لاکھ پاکستانی روپے، 550 سعودی ریال ، 900 اماراتی درہم اور 1200 ملائشین رنگٹ برآمد ہوئے۔ ملزمان سے ہنڈی حوالہ سے متعلق ریکارڈ بھی برآمد کر لیا گیا۔ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

  • ایم کیو ایم اور ن لیگ کا اتحاد نہیں ہوا،دونوں کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم اور ن لیگ کا اتحاد نہیں ہوا،دونوں کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی،خالد مقبول صدیقی

    کراچی: ایم کیو ایم کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور ن لیگ کا اتحاد نہیں ہوا-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے ٔروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینئر خالدمقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اللہ کرے انتخابات کی تاریخ پتھر پر لکیرہی ثابت ہو، کراچی کو سب سے زیادہ انتخابات کی ضرورت ہےانتخابات فوری، صاف اورشفاف ہونا چاہئیں، لیکن انتخابات صاف اور شفاف ہوتے نظر نہیں آرہے، پھر بھی عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے-

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم اور ن لیگ کااتحاد نہیں ہوا، دونوں کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی، ہمارے درمیان تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہم جمہوریت کو بچانے کیلئے کوششیں کریں گے، ابھی تک سیٹ ایڈجسمنٹ پر کوئی بات نہیں ہوئی، کوئی دوسرے کے حق میں بیٹھ جائے تو ووٹر مایوس ہوتا ہے، ہم اپنے حصے سے زیادہ کی قربانی دے چکے ہیں، ایم کیوایم اصول ہار کر الیکشن نہیں جیتنا چاہتی نوازشریف کراچی آئیں گے، لیکن ابھی تاریخ نہیں دی گئی، ہر کسی کو کراچی میں آکر الیکشن لڑنے کا حق ہے، ہم مریم نوازکوکراچی میں خوش آمدید کہیں گے، کوئی آئےاورکراچی کوتبدیل کرے، ہم آج بھی سڑکوں پر اپنے ووٹرز گنوا رہے ہیں، کراچی میں 75 لاکھ افراد کو کم گنا گیا ہے، آنے والے وقت میں 75 لاکھ افراد کو بھی بازیاب کروالیں گے-

    بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    سراج الحق کا ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان

    اگر ثقافت کو بچانا ہے تو… ایلون مسک کا اٹلی کی ماؤں کو …

  • بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ہدایت کی ہے کہ بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں-

    باغی ٹی وی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرسربراہی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے زرعی شعبے میں نمو کی ضرورت پر زور دیا کہا کہ بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں، 2023 میں زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف 97.6 فیصد حاصل کیا، 2024 میں زرعی شعبہ مزید مستحکم ہونے کی امید ہے، 2024 میں زرعی قرضوں کی تقسیم کا ہدف2250 ارب ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ہر بینک کےساتھ رابطہ رکھے گا، بینک زراعت اور دیہی قرضوں کی رسائی بڑھانے کے لیے مائیکرو فنانس اداروں کے ساتھ بھی اشتراک کریں، بینک کسانوں کو کرایہ پر زرعی مشینری اور آلات دینے والے اداروں کو قرضے دینے کی فیزیبلٹی کاجائزہ لیں،اور ماحولیاتی تبدیلی کےخطرات کو کم کرنےکے آلات اور بیمہ اسکیموں پرمتوجہ ہوں اور بین الاقوا می ڈونر ایجنسیو ں سے اشتراک کریں، تمام بینکس زرعی قرضوں کی پروسیسنگ کے لیے پنجاب کا لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جون 2024 تک پوری طرح اپنالیں، دیگر صوبے بھی لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن میں تیزی لائیں تاکہ قرضوں کی فوری پروسیسنگ کے لیے وہ بینکوں کے ساتھ مربوط ہو سکیں۔

    قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک نے اسٹرٹیجک پلان برائے 2023 تا 2028 جاری کیا تھا گورنر جمیل احمد نے کراچی میں منعقدہ تقریب میں اسٹیٹ بینک کا اسٹرٹیجک پلان برائے 2023 تا 2028’’ایس بی پی وژن 2028‘‘ جاری کیا، ’’اسٹیٹ بینک وژن 2028‘‘ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم کے بعد جاری کیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے، اس میں مرکزی بینک کا نصب العین، مشن اور اگلے پانچ سال کے لیے متعین کلیدی اہداف بتائے گئے ہیں، اسٹریٹجک پلان اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ ایک مشاورتی اور جامع عمل کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ ’’اسٹیٹ بینک وژن 2028 ‘‘ اسٹیٹ بینک کے اس عزم کا اظہار ہے کہ قیمتوں کا استحکام اورمالی استحکام حاصل کیا جائے گا اور ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی میں حصہ لیا جائے گا، ’’ایس بی پی وژن 2028‘‘ میں چھ اہم اسٹریٹجک مقاصد کا احاطہ کیا گیا ہے۔

  • کراچی  دنیا کے تمام  آلودہ ترین شہروں  سے نمبر لے گیا

    کراچی دنیا کے تمام آلودہ ترین شہروں سے نمبر لے گیا

    کراچی صبح کے اوقات میں دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر ہے،شہر کی کھلی فضا میں شہریوں کا سانس لینا محال اور صحت کے لیے خطرہ بن گیا ہے جبکہ فضائی آلودگی کنٹرول کرنے کے اقدامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔کراچی میں دن کی سرگرمیاں شروع ہونے سے پہلے ہی صبح سویرے پارٹیکولیٹ میٹر کی تعداد 332 ریکارڈ ہوئی۔شہر میں جگہ جگہ سڑکوں اور گلیوں میں پڑی مٹی اور گندگی کے باعث بھی شہری پریشان ہیں۔دوسری جانب کراچی میں آج سے سردی کی شدت بھی بڑھنے کا امکان ہے اور سرد ہوائیں چلنے کے باعث کم سے کم درجہ حرارت 10 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔علاوہ ازیں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث موٹر ویز بند کردی گئی ہیں۔

  • بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن
    شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    فرزانہ نیناں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف پاکستانی شاعرہ فرزانہ نیناں کراچی میں پیدا ہوئیں تعلیم بھی یہیں پر حاصل کی رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد وہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں۔جہاں پہلے انھوں نے شعبہ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویڑن سے بھی وابستگی ہوئی، ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں۔

    شاعری کا رجحان انھیں اپنے چچا سے ملا۔ ان کے چچا محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے۔ابتدا میں انھوں نے نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے شاعری کا آغاز کیا۔ فرزانہ نیناں اپنی اسی نثری خصوصیات کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے ہیں۔ نیناں نے اپنے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی کی بدولت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے۔

    ان کے ہم عصر شاعروں کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”درد کی نیلی رگیں“ جب سے منظرعام پر آیا ہے نے تخلیقی چشمے میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے۔ ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے منفرد ہوا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں پیش کیا۔ پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصویروں کی طرح اجاگر کیا گیا ہے۔ اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے۔ ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا

    میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا

    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

    میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

    روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
    گنگناتی سی کوئی شام مجھے بھیجو نا

    چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائے گی
    تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

    پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لوں نیناںؔ
    کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آدھی رات کے سپنے شاید جھوٹے تھے
    یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے

    جس دن گھر سے بھاگ کے شہر میں پہنچی تھی
    بھاگ بھری کے بھاگ اسی دن پھوٹے تھے

    مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئی
    ہم سایوں نے ہم سایے ہی لوٹے تھے

    شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
    ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے

    اوڑھ کے پھرتی تھی جو نیناںؔ ساری رات
    اس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
    پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا

    پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روئی کیوں ہے
    موسم اس نے تو نشہ بار ذرا کرنا تھا

    تلخ لمحے نہیں دیتے ہیں کبھی پیاسوں کو
    سانس کے ساتھ نہ زہراب روا کرنا تھا

    کس قدر غم ہے یہ شاموں کی خنک رنگینی
    مجھ کو لو سے کسی چہرے پہ روا کرنا تھا

    چاند پورا تھا اسے یوں بھی نہ تکتے شب بھر
    یوں بھی یادوں کا ہر اک زخم ہرا کرنا تھا

    دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب
    ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا

    کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی
    درد کی نیلی رگیں دل میں رکھا کرنا تھا

    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا

    میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا

    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

    میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

    روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
    گنگناتی سی کوئی شام مجھے بھیجو نا

    چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائے گی
    تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

    پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لوں نیناںؔ
    کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

    Copied

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی

    کراچی: ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1800روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1800روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ملک میں 24 قیراط کا سونا 1800 روپے کی کمی کے بعد 2 لاکھ 16 ، ہزار 800 روپے جبکہ 1543 روپے کی کمی کے بعد 24 قیراط کا 10 گرام سونا 1 لاکھ 85 ہزار 871 روپے کا ہو گیا ہے، دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کی قیمت 15 ڈالر کم ہو کر 2020 ڈالر فی اونس ہے۔

  • محفوظ مستقبل کیلئے دہشتگردی کے خلاف ہمیشہ متحد رہنا ہوگا،شرجیل میمن

    محفوظ مستقبل کیلئے دہشتگردی کے خلاف ہمیشہ متحد رہنا ہوگا،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس نے ہمارے اجتماعی شعور پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ سانحہ میں شہادت پانے والوں اور ناقابل تصور نقصان کا سامنا کرنے والے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اے پی ایس پشاور میں شہادت پانے والے معصوم ہمیشہ ہمارے دلوں میں نقش رہیں گی, اے پی ایس پشاور حملے کے بعد قوم نے بے مثال اتحاد کی طاقت کا مظاہرہ کیا،سانحہ اے پی ایس کے نتیجے میں قوم تفرقوں سے بالاتر ہوکر دہشتگردی کے خلاف اکٹھی ہوئی،ہمیں ایک روشن، محفوظ مستقبل کے لئے دہشتگردی کے خلاف ہمیشہ متحد رہنا ہوگا، دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی رواداری، افہام و تفہیم اور مکالمے کو فروغ دینا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، آج کے دن عہد کریں کہ سانحہ اے پی ایس کی یاد مثبت تبدیلی کی ترغیب کا باعث بنے, آئیے ہم سب آج کے دن دہشتگردی، انتہا پسندی، تشدد اور نفرت سے پاک پاکستان کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں،

    16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی، دہشت گردوں نے سکول پر حملہ کیا اورعلم کے پروانوں کے بے گناہ لہو سے وحشت و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

    شاہ محمود قریشی سانحہ اے پی ایس کی ذمہ دار ٹی ٹی پی قیادت سے قطر میں ملتے رہے، شرجیل میمن

    سانحہ اے پی ایس،سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن رپورٹ بارے بڑا حکم

    سانحہ اے پی ایس، آرمی چیف میدان میں آ گئے، قوم کو اہم پیغام دے دیا

    سانحہ اے پی ایس، وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اہم ترین پیغام

    سانحہ آرمی پبلک سکول: 3 ہزار صفحات پر مشتمل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کے سپرد

    حکومت جواب دے ،پشاوردھماکے میں کون ملوث ہے،سراج الحق

  • کراچی،پریذیڈنٹ ٹرافی کے شیڈول اور سکواڈ کا اعلان کر دیا گیا،

    کراچی،پریذیڈنٹ ٹرافی کے شیڈول اور سکواڈ کا اعلان کر دیا گیا،

    پریذیڈنٹ ٹرافی کا آغاز 16 دسمبر 2023 یعنی کل ہونا ہے۔ یہ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ 31 جنوری 2024 تک چلے گا اور اس کی میزبانی کراچی کے تین مقامات نیشنل بینک اسٹیڈیم، یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس، اور ایس بی پی اسپورٹس کمپلیکس پر ہو گی،سات ڈپارٹمنٹل ٹیمیں راؤنڈ رابن میچوں میں حصہ لیں گی، جن میں کل 22 گیمز ہوں گے۔ یہ میچز لیگ مرحلے کے مقابلوں کے سات راؤنڈز میں تقسیم کیے جائیں گے، جس کا اختتام 27 سے 31 جنوری 2024 تک ٹاپ دو ٹیموں کے درمیان پانچ روزہ فائنل میں ہوگا۔پریذیڈنٹ ٹرافی پی سی بی 2014 کے آئین کے دوبارہ نفاذ کے بعد، ڈومیسٹک ڈھانچے میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی واپسی کا اعلان کرتی ہے۔ پریذیڈنٹ ٹرافی کا پچھلا ایڈیشن 2018-19 کے ڈومیسٹک سیزن میں ہوا تھا، جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان فاتح بن کر ابھرا۔
    ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا دوبارہ آغاز کھلاڑیوں کو کمائی کا ایک اضافی موقع فراہم کرتا ہے، کیونکہ وہ ریجن پر مبنی ڈومیسٹک ٹورنامنٹ سائیکل کے اختتام کے بعد سپلیمنٹری ٹورنامنٹس میں حصہ لے سکیں گے۔ اس سائیکل میں قائداعظم ٹرافی (کراچی وائٹس نے جیتا)، پاکستان کپ (پشاور نے جیتا)، اور نیشنل T20 کپ (کراچی وائٹس نے جیتا) جیسے ایونٹس شامل تھے،
    آئندہ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی سات ٹیمیں درج ذیل ہیں:
    سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL)، پاکستان ٹیلی ویژن (PTV)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (WAPDA)، خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL)۔ ، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، اور غنی گلاس۔
    ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز ندیم خان نے کہا: "ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی واپسی سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ ہوگا۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ پریذیڈنٹ ٹرافی ہمارے ڈومیسٹک سرکٹ میں مزید گہرائی اور مقابلہ لائے گی۔ہم نے پروبیشنری بنیادوں پر اس فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں HEC اور غنی گلاس کو شامل کیا ہے۔ ہم اس ایڈیشن میں ان دونوں ٹیموں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھیں گے اور فرسٹ کلاس سطح پر ان کی مسابقت کی بنیاد پر سیزن میں ان کی شمولیت کے بارے میں فیصلے کریں گے۔

    پریذیڈنٹ ٹرافی کے اسکواڈز
    پی ٹی وی: محمد عزیر ممتاز، ہمایوں الطاف، محمد شہزاد، محمد سلیمان، محمد حسن نواز، ناصر نواز، محمد تیمور خان، وقار حسین، محمد جنید، فیصل اکرم، عالیان محمود، احمد صفی عبداللہ، دانیال حسین راجپوت، عادل ناز، محمد ابتسام رحمان، سدیس الفت، اسرار حسین، جہانداد خان، محمد حسن محسن، محمد صداقت شامل ہیں، ایس این جی پی ایل: صاحبزادہ فرحان، شاہ زیب خان، صائم ایوب، اظہر علی، اسد شفیق، سعود شکیل، عمیر بن یوسف، مبصر خان، علی وقاص، محمد رضوان، حسیب اللہ، عباس آفریدی، میر حمزہ، محمد علی، محمد وسیم، بلاول بھٹی، اویس انور، حنین شاہ، یاسر شاہ، مہران ممتاز شامل ہیں جبکہ غنی کلاس: شان مسعود، شرجیل خان، کاشف علی، طیب طاہر، محسن رضا، فرحان سرفراز، حسین طلعت، شاداب خان، سعید ملک، نعمان علی، محمد عرفان، شہباز جاوید، سعد نسیم، شیراز خان، موسیٰ خان، معیز غنی ، نیاز خان، غلام مدثر، احد ملک، غلام حیدر شاملایچ ای سی: محمد ہریرہ، سعد خان، انس مصطفیٰ، جہانزیب سلطان، وسیم اکرم، محمد اویس ظفر، محمد محسن خان، وہاج ریاض، عبید شاہد، محمد غازی غوری، زید بن ندیم، عاقب لیاقت، حارث خان، محمد جنید، عمر لوہیا محمد عزاب، وسیم اکرم، عبدالرحمن، اسد اللہ حمزہ، کاشف علی،اورکے آر ایل: عبدالفصیح، علی زریاب آصف، محمد عمران ڈوگر، عمران رفیق، سرمد بھٹی، محمد شرون سراج، وقار احمد، اسرار اللہ، معاذ احمد صداقت، کاشف علی، احمد بشیر، سراج الدین، محمد عمران جونیئر، محمد عامر خان، ارشاد اللہ، روحیل نذیر، جمال انور، روحان قادری، عمر خان، شایان شیخ اور
    واپڈا: محمد سعد، بسم اللہ خان، ایاز تساور، عمر عابد کیانی، خالد عثمان، طاہر حسین، عرفان اللہ شاہ، احمد شہزاد، افتخار احمد، محمد سلیم، عمر اکمل، محمد باسط علی، نقیب مسعود، محمد نوید، محمد عارف، حسن۔ عابد کیانی، علی رضا، احمد خان، آصف آفریدی، محمد اخلاق جبکہ اسٹیٹ بینک: عثمان صلاح الدین، عمر امین، آغا سلمان علی، زین عباس، رضوان حسین، محمد محسن، رمیض عزیز، محمد عرفان خان، علی شان، امیر حمزہ، نثار احمد، کاشف بھٹی، محمد عمران، سمین گل، زاہد محمود، محمد الیاس، علی عثمان، آفتاب ابراہیم، محمد عباس، آفاق آفریدی شامل ہیں،

  • کراچی صارفین کیلئے بجلی  کی قیمت میں اضافے کی درخواست

    کراچی صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست

    کراچی صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری کر لی گئی،وزارت توانائی نے کےالیکٹرک کیلئےٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دی ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ نیپرا میں ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پرسماعت 20 دسمبر کو ہوگی، الیکٹرک کیلئے دوسری، تیسری سہ ماہی کیلئے 40 پیسے اور ایک روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافہ کےدرخواست دی گئی ہے،ملک بھر میں تقسیم کار کمپنیاں ریگولیٹڈ نظام کےتحت کام کرتی ہیں، تمام بجلی تقسیم کارکمپنیز حکومت اور نیپرا کی ہدایات پرعمل کی پابند ہیں-

    مغربی ہواؤں کا سسٹم پاکستان میں داخل،پنجاب میں بارش کی پیشگوئی

    نیپرا کے مطابق درخواست گزشتہ مالی سال کی دوسری اور تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی، گزشتہ مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں فی یونٹ بجلی 47 پیسے اور تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ بجلی ایک روپے 25 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی ہےے الیکٹرک کیلئے بجلی مہنگی کرنے کی درخواست ملک میں یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت دائر کی گئی۔

    دل اپنا اور پریت پرائی