Baaghi TV

Category: کراچی

  • فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کاالزام،پولیس ملازمین گرفتار،مقدمہ درج

    فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کاالزام،پولیس ملازمین گرفتار،مقدمہ درج

    کراچی:پولیس نے فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کے الزام میں سابق ہیڈ محرر اور ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا-

    باغی ٹی وی: فریئر پولیس نے فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور وہاں سے بھتہ وصول کرنے کے الزام میں سابق ہیڈ محرر اور ایک پولیس اہلکار کو گرفتار کر کے سرکار کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 12 سال 2024 بجرم دفعات 385 اور 384 چونتیس کے تحت درج کرلیا۔

    مدعی مقدمہ انسپکٹر حاجی احمد کی مدعیت میں درج کیے جانے والے مقدمے کے مطابق وہ تھانے میں موجود تھے کہ انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ تھانہ فریئر کے ہیڈ محرر ہیڈ کانسٹیبل مظہر اور پولیس اہلکار سہیل علاقے میں چلنے والے فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور اس کے عوض بھتہ وصول کرتے ہیں اس اطلاع پر ایس ایچ او فریئر کو آگاہ کیا اور بعدازاں دونوں پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کرلیا گیا ، درج کیے جانے والا مقدمہ تفتیش کے لیے ایس آئی یو (سی آئی اے) کے حوالے کر دیا گیاہے۔

    ہمسائیوں کا بچہ 2 لاکھ روپے میں فروخت کرنے والی خاتون سمیت 4 افراد …

    قبل ازیں لاہور پولیس نے پڑوسن کا بچہ 2 لاکھ روپے میں فروخت کرنے والی خاتون سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انوش کے مطابق پولیس نے 5 ماہ کا بچہ بازیاب کرکے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا، گرفتار ملزمہ آسیہ نے اپنی محلے دار تہمینہ کے گھر سے بچے کو اغوا کیا اور 2لاکھ میں فروخت کر دیا،ملزمہ آسیہ بہانے سے تہمینہ کے گھر گئی اور بچے کو کپڑوں کی گٹھڑی میں رکھ کر فرار ہو گئی، آسیہ نے اپنے خاوند شہباز سے مل کر بچے کو شہریار اور اس کے والد اشرف سے طے شدہ ڈیل کے مطابق 2لاکھ میں فروخت کر دیا۔

    شمالی وزیرستان، گولیاں چل گئیں، آزاد امیدوار جاں بحق

    رہنما ن لیگ دانیال عزیز کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے …

  • این اے 242، مصطفیٰ کمال امیدوار، کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں، ایم کیو ایم

    این اے 242، مصطفیٰ کمال امیدوار، کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں، ایم کیو ایم

    کراچی کے حلقہ این اے 242 سے مصطفیٰ کمال امیدوار ہیں ، ن لیگ سے اس حلقے میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی، ایم کیو ایم نے تردید کر دی

    ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ این اے 242 کراچی پر سیٹ ایڈجسمنٹ کی خبر کی تردید کرتے ہیں،این اے 242 کراچی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، این اے 242 سے مصطفیٰ کمال ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خبریں آئی تھیں کہ این اے 242 پر ن لیگ اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی ہے، مصطفیٰ کمال مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے لیے دستبردار ہو گئے ہیں

    سابق وزیراعظم شہباز شریف نے این اے 242 کراچی سے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں،اسی حلقہ سے مصطفیٰ کمال بھی امیدوار ہیں، ن لیگ کی کوشش ہے کہ اس حلقہ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے تا ہم ابھی تک ن لیگ ایم کیو ایم کو نہ منا سکی، شہباز شریف نے گزشتہ دنوں‌کراچی کے دورے کے دوران ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات بھی کی تھی

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • سابق وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر  شرجیل میمن کے اثاثوں کے تفصیلات سامنے آگئے

    سابق وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر شرجیل میمن کے اثاثوں کے تفصیلات سامنے آگئے

    سابق وزیر اعلی سند ھ مراد علی شاہ کے رواں سال اثاثوں میں 10 کروڑ سے زائد کمی آئی ہے ۔ ان کے اثاثوں کی مالیت 24 کروڑ 75 لاکھ 88 ہزار 470 روپے ہے۔ دستاویز کے مطابق مراد علی شاہ کے پاس کراچی میں 16 کروڑ 66 لاکھ کا پلاٹ بھی ہے۔ اسکے علاوہ ان کے پاس ایک کروڑ 42 لاکھ روپے کی 2 گاڑیاں بھی ہیں۔ دستاویز کے مطابق مراد علی شاہ کو ایک کروڑ 75 لاکھ روپے مالیت کے تحفے ملے۔ ‎مراد علی شاہ کے اثاثوں میں51 ایکڑ زمین اور کراچی میں گھر شامل ہے۔دستاویز کے مطابق مراد علی شاہ کی اہلیہ کے پاس تحفے کا 100 تولہ سونا بھی ہے۔ مراد علی شاہ کے مختلف اکاؤنٹس میں21 کروڑ 88 لاکھ 38 ہزار 470 روپے موجود ہیں۔ دستاویز کے مطابق مراد علی شاہ نے سال 23-2022 میں1 کروڑ 22 لاکھ روپے سے زائد کا انکم ٹکیس ادا کیا۔ انہوں نے سال 23-2022 میں 80 لاکھ 45 ہزار روپے کا زرعی ٹیکس ادا کیا۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔دستاویز کے مطابق شرجیل میمن کے پاس کراچی میں 10 کروڑ روپے مالیت کا بنگلہ ہے، شرجیل میمن کی کراچی میں 44 لاکھ اور 97 لاکھ کی دو جائیدادیں ہیں۔
    تھرپارکر میں 11 ایکڑ سے زائد 16 لاکھ 80 ہزار کی زرعی زمین بھی ہے، شرجیل میمن کی راہوکی میں ایک کروڑ 12 لاکھ روپے مالیت کی زرعی زمین ہے۔دستاویز کے مطابق شرجیل میمن کا تھرپارکر میں 17 لاکھ روپے مالیت کا مکان بھی ہے۔پی پی رہنما کے پاس ساڑھے 4 کروڑ روپے کا پیٹرول پمپ بھی ہے، جبکہ انکا 1 کروڑ روپے مالیت کا پولٹری فارم بھی ہے۔ سابق صوبائی وزیر کے پاس ایک کروڑ 77 لاکھ 50 ہزار روپے کی 3 گاڑیاں ہیں، جبکہ انکی اہلیہ کے پاس 100 تولہ سونے کی مالیت 3 لاکھ روپے ظاہر کی گئی۔دستاویز کے مطابق شرجیل میمن کی اہلیہ کے نام پر یو اے ای میں 3 بزنسز ہیں۔شرجیل میمن اور انکی اہلیہ کے پاس ایک کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد کیش موجود ہے۔ علاوہ ازیں شرجیل میمن نے 75 لاکھ روپے مالیت کے ذاتی ہتھیار ظاہر کیے، شرجیل میمن کے مقامی اور بیرون ملک بینک اکاؤنٹس میں 17 کروڑ 7 لاکھ 94 ہزار روپے سے زائد موجود ہیں۔ پی پی رہنما نے سال 23-2022 میں 7 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا۔

  • شہباز شریف وزیر اعظم بن کر کراچی کے لئے کچھ  نہیں کر پائے ،تو ایم این اے بن کر کیا کر لے گے؟ عبدالقادر مندو خیل

    شہباز شریف وزیر اعظم بن کر کراچی کے لئے کچھ نہیں کر پائے ،تو ایم این اے بن کر کیا کر لے گے؟ عبدالقادر مندو خیل

    ایم کیو اور ایم اور پی ایم ایل این کا حلقہ 242 پر ایڈجسٹمنٹ کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما عبدالقادر مندوخیل کا دعوی سامنے آیا ہے جس میں انہوں کہا کہ کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 242 میں پاکستان تحریک انصاف کا ووٹ بھی انہیں ہی ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حلقے میں گیس، پانی سمیت اربوں روپے کے ترقیاتی کام ہم کر چکے ہیں۔ شہباز شریف نے وزیراعظم بن کر بھی این اے 242 میں ایک روپیہ کا کام نہیں کیا۔ جبکہ 2021 کو پوری پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو میرے جیالوں نے شکست دی۔
    عبدالقادر مندوخیل کا کہنا تھا کہ حلقے میں پی ٹی آئی کا ووٹ بھی مجھے پڑے گا۔ حلقے میں پی ٹی آئی کے ورکرز پہلے بھی میرے سپورٹرز تھے آج بھی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دنگل نہیں، این اے 242 کی سیٹ ہم آسانی سے نکال لیں گے۔ حلقے میں پی ٹی آئی کے ورکرز نے میرا کام دیکھا ہے۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ گیس کے میٹرز کے لیے اب لیز کے کاغذات کا پوچھ رہے ہیں۔ این اے 242 میں، میں گیس لائنیں اور 24 ہزار گیس میٹرز بھی لگوا رہا ہوں۔انکا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف وزیراعظم بن کر کام نہیں کرسکے ایم این اے بن کر کیا کرلیں گے؟پی پی رہنما نے کہا کہ شہباز شریف کے کاغذات کے خلاف ٹریبونل میں اپیل مسترد کی اب ہائیکورٹ جائیں گے۔ شہباز شریف کا اٹارنی ہی ان کا تائید کنندہ اور تجویز کنندہ ہیں۔

  • ایم کیو ایم اور پی ایم  ایل این  میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی

    ایم کیو ایم اور پی ایم ایل این میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گئی

    ایم کیو ایم این اے 242 شہباز شریف کو دینے پر آمادہ ہوگئی ہے تاہم این اے 242 کی صوبائی نشستوں پر ایم کیو ایم اپنا امیدوار کھڑا کرے گی۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ طے ہونے کے بعد این اے 242پرشہبازشریف الیکشن لڑیں گے۔ذرائع کا بتانا ہےکہ مسلم لیگ (ن) کراچی میں قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی 11 نشستوں پرامیدوارکھڑے کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ این اے 242 پر ایم کیوایم کی دستبرداری کے لیے شہباز شریف کے جلد خالد مقبول سے رابطے کا امکان ہے اور شہباز شریف سے بات چیت کے بعد معاملہ رابطہ کمیٹی میں رکھا جائے گا۔ذرائع کے مطابق رابطہ کمیٹی سے مشاورت کے بعد (ن) لیگ اور ایم کیوایم کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ کراچی کے حلقے این اے 242 سے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جاچکے ہیں۔

  • جی ڈی اے نے سندھ بھر میں 16 خواتین کو ٹکٹ جاری کر دئے

    جی ڈی اے نے سندھ بھر میں 16 خواتین کو ٹکٹ جاری کر دئے

    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی جانب سے سندھ بھر سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے سابقہ اسپیکر قومی اسمبلی سمیت قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر 16 خواتین کو ٹکٹ جاری کردیے گئے۔پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری جنرل اور جی ڈی اے سیکرٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم کی صدارت میں فنکشنل لیگ ہاؤس کراچی میں سندھ بھر کے مختلف حلقوں سے جنرل نشستوں پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کو پارٹی ٹکٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق آئین کا حصہ ہے، جی ڈی اے میں شامل تمام پارٹیاں پروگریسیو ہے پیر صاحب پگارا نے ہمیشہ بچیوں کی تعلیم پر زور دیا ہے ، اسلامی معاشرے کے دائرے میں رہتے ہوئے خواتین کے حقوق کی بات کرتیں ہیں ، جی ڈی اے کے منشور میں خواتین کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر اظلاع میں بھی خواتین کو جی ڈی اے کے ٹکٹ دیے ہیں، جوعام انتخابات میں باری اکثریت سے کامیاب ہوکر سندھ کی ترقی و خوشحالی اور خواتین کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی ۔سردار عبد الرحیم نے کہا ہے کہ ہمیں حیران گی اس بات پر ہے کہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے کاغذات نامزدگی مسترد کیو کیئے گئے ہیں ؟ اور 2018 کی الیکشن میں کاغذات نامزدگی درست قرار کیے گئے تھے اب سمجھتے ہیں کہ قبل از وقت الیکشن میں دھاندلی منہ ثبوت ہے

  • نقیب اللہ قتل کیس: سابق ایس ایچ او سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد

    نقیب اللہ قتل کیس: سابق ایس ایچ او سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد

    انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایچ او سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہائی پرفائل کیسز میں سے ایک نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔ملزمان نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کردیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر اور گواہوں کو طلب کرلیا ہے۔امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت، ریاض، راجا شمیم اور محسن عباس کو پیش کیا گیا۔ ضمانت پر رہا مقدمے کا مرکزی ملزم سابق پولیس افسر شعیب شوٹر بھی پیش ہوا۔عدالت کی جانب سے جیل حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ سماعت پر گرفتار ملزمان کو بھی پیش کیا جائے۔واضح رہے کہ نقیب اللہ کو جنوری 2018 میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

  • ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

    ساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں،حافظ نعیم

    کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی کے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس رپورٹ آئی جو پورے پنجاب سے زیادہ ہے، ٹیکس ہم دیتے ہیں ریونیو ہم جنریٹ کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: حافظ نعیم نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر توانائی نے کل کے الیکٹرک کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت 10 ہزار میگاواٹ بجلی کراچی کو دی جائے گی کراچی کی ضرورت 3000 میگاواٹ ہے، ہم 7000 میگا واٹ کے اضافی پیسے دے رہے ہیں،کراچی میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی مونوپلی ٹوٹنی چاہئے کوئی بھی حکومت ہو وہ کے الیکٹرک کے ساتھ ملی ہوتی ہےساری پارٹیاں کے الیکٹرک مافیا کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس رپورٹ آئی جو پورے پنجاب سے زیادہ ہے، ٹیکس ہم دیتے ہیں ریونیو ہم جنریٹ کرتے ہیں 2018 سے کے الیکٹرک نے نیشنل گرڈ کو بجلی کے بدلے کتنے پیسےجمع کرائے؟ نیشنل گرڈ کے 62 ارب روپے اور گیس کے بھی پیسے ہیں، ان کو گیس بغیر معاہدے کے ملتی ہے کراچی کو اس فراڈ کمپنی کی ضرورت ہی نہیں، خراب پلانٹ چلا کر فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر پیسے لئے جاتے ہیں عدالتیں بھی اس میں کام نہیں کر رہیں۔

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

    واضح رہے کہ تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس ادا کرنے میں دولتمند ایکسپورٹرز کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے،رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 38فیصد اضافے کے ساتھ 158ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا ہے، جو کہ ایکسپورٹرز کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کے مقابلے میں 243فیصد زیادہ ہے۔

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار

    دوسری طرف اس دوران ایکسپورٹرز نے 4.3ہزار ارب روپے کمائے ہیں، اور اس کا محض ایک فیصد یعنی46ارب روپے بطور ٹیکس جمع کرائے ہیں، جو کہ تنخواہ دار طبقے سے 243فیصد کم ہےاس طرح تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادا کرنے والا چوتھا بڑا طبقہ بن گیا ہے،جولائی تا دسمبر کے دوران گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے سے انکم ٹیکس وصولیوں میں 38فیصد اضافہ ہوا ہے، 158کا 42فیصد یعنی66ارب روپے ٹیکس صوبہ سندھ میں رجسٹرڈ ملازمت پیشہ افراد نے ادا کیا ہے،تنخواہ دار طبقہ کنٹریکٹرز، بینک ڈپازیٹرز اور امپورٹرز کے بعد ٹیکس ادا کرنے والا چوتھا بڑا طبقہ بن چکا ہے، امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک تنخواہ دار طبقہ 300ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کرا دے گا۔

    سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بیٹوں کے کاغذات نامزدگی منظور

  • ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید

    ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی کے بانی حکیم محمد سعید

    حکیم محمد سعید

    محمد سعید 9 جنوری 1920 کو دہلی میں پیدا ہوئے، وہیں طب کی تعلیم حاصل کی 1906 میں ان کے والد حافظ عبدالحمید نے ہمدرد دوا خانہ ک بنیاد ڈالی والد کی وفات کے بعد 1948 میں اپنا گھر، دواخانہ اور کاروبار چھوڑ کر اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے۔ آرام باغ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں مطب قائم کیا۔ جس مکان کو اپنا مسکن بنایا تھا، مرتے دم تک اسی میں مقیم رہے۔ نصف صدی میں جو کچھ کمایا، خلقِ خدا کیلئے وقف کردیا۔ اپنے نام کوئی اثاثہ نہیں رکھا۔ نصف کروڑ کے قریب مریضوں کا طبی معائنہ کیا، کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیاحکیم حافظ محمد سعید 1993 سے 1996 تک سندھ کے گورنر رہے اس دوران بھی وہ باقاعدگی سے اپنے مریضوں کو دیکھتے تھے، آخری مریض کو دیکھے بغیر نہیں جاتے تھے۔ وہ جلدی سوتے اور جلدی جاگتے تھے۔ جب انھیں گورنر بنایا گیا اور اس کی اطلاع دینے کے لیے ان کے گھر فون کیا گیا تو وہ سورہے تھے، حکام کو بتایا گیا کہ حکیم صاحب سورہے ہیں، صبح تہجد میں اٹھیں گے، اس سے قبل بات ممکن نہیں ہے۔ ان کے تعلیم سے لگاؤ کا یہ حال تھا کہ اپنی گورنری کے مختصر ترین دور میں 4 یونیورسٹیز کی منظوری دی۔

    بارہ روپے سے ہمدرد کےادارے کی بنیاد رکھی، بیوی کا زیور بیچ کر اس کی ترقی و ترویج کی اور اسے وقف برائے پاکستان کردیا۔ حکیم صاحب ایک درویش صفت انسان اور پکے پاکستانی تھے طب اور تعلیم ان کے بنیادی ہدف تھے دو سو سے زائد کتابیں اور ریسرچ پیپرز لکھے، شام ہمدرد کے ذریعے آگہی پھیلائی۔ ہمدرد رسائل و جرائد کے ذریعے فکر و عمل کی دعوت دی۔

    ہمدرد فاؤنڈیشن شاید پاکستان کا واحد ادارہ ہے جہاں ادارے کے سربراہ سے لے کر چپڑاسی تک تمام خط و کتابت، دفتری اور انتظامی امور اردو میں سرانجام دیتے ہیں حکیم صاحب ہر خط کا جواب خود تحریر کرتے تھے جہاں دوست، جواناں امروز، ہمدرد مجلسِ شوریٰ، بزمِ ہمدرد نونہال کے ذریعے علم و آگہی پھیلائی، کتابیں اور کتب خانے ان کی شناخت تھیں مدینۃ الحکمت میں سب سے پہلے بیت الحکمت لائبریری تیار کرائی گئی جو پاکستان کی بڑی جدید اور سائنٹیفک لائبریری ہے۔

    حکیم صاحب کا ادنیٰ و اعلیٰ سے ایک جیسا رویہ تھا، انھیں ستارۂ امتیاز اور نشانِ امتیاز جیسے تمغوں سے بھی نوازا گیا لیکن ان تمغوں نے ان کی نہیں بلکہ حکیم صاحب کی شخصیت نے انھیں توقیر و افتخار بخشا،ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے قائم کردہ اہم ادارے ہیں جو آج تک پاکستان کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ حکیم محمد سعید بچوں سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ بچوں کے ساتھہ اسٹول پر بیٹھہ جایا کرتے تھے۔ بچوں کیلئے1953 میں ہمدرد نونہال جیسا معلوماتی رسالہ جاری کیا جو اب تک جاری ہے۔

    [ نصف صدی سے زیادہ اس کےمدیر رہنے والے مسعود احمد برکاتی صاحب نے بتایا ایک بار ہمدرد کی انتظامی میٹنگ جاری تھی۔ اکائونٹنٹ کے پاس ایک موٹی سی فائل رکھی تھی۔ حکیم صاحب نے اسے مخاطب کیا اور پوچھا، اس فائل میں کیا ہے۔ اکاؤنٹنٹ نے فائل حکیم صاحب کو پیش کی اور بولا: ہم نے ہمدرد نونہال کی آمدنی اور خرچ کا دس سالہ گوشوارہ بنایا ہے ، اس کے اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کروڑ سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ آمدنی صرف چند لاکھہ ہے۔ یہ رسالہ مسلسل خسارے میں ہے اس لیے ہماری تجویز ہے کہ اسے بند کردیا جائے، حکیم صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری اور اکائونٹنٹ کو مخاطب کرکے بولے: اس رسالے سے جو منافع ہوتا ہے اسے سمجھنا آپ کے بس کی بات نہیں، آگے چلیے۔ راوی:عقیل عباس جعفری]

    تراجم سمیت مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر کتابیں اور مجلے شائع کئے جاتے ہیں۔17اکتوبر 1998 کی صبح بھی وہ آرام باغ میں واقع اپنے مطب پہنچے ہی تھے کہ دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا ان کے قتل کا شک ایم کیو ایم کے کچھ رہنماؤں پر ظاہر کیا جاتا ہے حکیم سعید کو انہی کی قائم کردہ ہمدرد یونیورسٹی میں سپرد خاک کیا گیا۔

    ہمدرد نونہال میں قلمی دوستی کیلئے تعارف چھپتے تھے جن بچوں نے اپنا مشغلہ ٹکٹ جمع کرنا لکھا ہوتا تھا، حکیم صاحب انہیں ذاتی خط لکھتے ، ٹکٹ جمع کرنے کے مشغلے کے فائدے بتاتے کہ ٹکٹوں سے یہ یہ معلومات حاصل ہوتی ہیں ساتھہ ہی کچھ غیر ملکی ٹکٹوں کا تحفہ ہوتاہمدرد کے بچوں کے ٹانک کے ساتھہ ایک کارڈ ہوتا تھا، جس پر بچے کے کوائف لکھ کر بھیجنا ہوتا تھا پھر اس بچے کی ہر سالگرہ پر حکیم صاحب کا مبارک باد کا کارڈ ملتا رہتا تھا۔

    منقول

  • جعلی اکاؤنٹس کیس :آصف زرداری اور فریال تالپور کو نوٹس جاری

    جعلی اکاؤنٹس کیس :آصف زرداری اور فریال تالپور کو نوٹس جاری

    کراچی: جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو نوٹس جاری کردیا گیا-

    باغی ٹی وی : کراچی کی بینکنگ کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے دوران سماعت فاروق نائیک نے عدالت کو بتایا کہ جن ملزمان کو نوٹسز ملے تھے وہ آج عدالت میں پیش ہوئے ہیں لیکن آصف زرداری اور فریال تالپور کو نوٹس موصول نہیں ہوئے تھے ،جس پر عدالت نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت دیگر کو 19 فروری کے لیے نوٹس جاری کردیا۔

    واضح رہےکہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف زرداری اورفریال تالپور سمیت دیگر ملزمان نامزد ہیں جن پر 4 ارب روپے کی منی لانڈرنگ سمیت دیگر الزامات ہیں جب کہ کیس میں نامزد ملزم انور مجید ملک سے باہر ہیں-

    لاپتہ افراد کمیشن نے تمام تفصیلات اٹارنی جنرل کو جمع کرا دیں

    ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری

    سانحہ 9 مئی:عمران خان جی ایچ کیو حملہ کیس میں بھی گرفتار