Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی سندھ کا دل،یہاں ہمارا کام بولتا ہے، شرجیل میمن

    کراچی سندھ کا دل،یہاں ہمارا کام بولتا ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی سنجیدہ اور فعال پالیسی کے تحت کراچی میں اس وقت 756ترقیاتی اسکیمیں جاری ہیں جن کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور جدید بنانا ہے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا دل اور ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،کراچی میں ہمارا کام بولتا ہےاربوں روپے کے منصوبے جاری ہیں، 756 ترقیاتی منصوبے سندھ حکومت کی عوام دوست ترجیحات اور شفاف حکمرانی کا ثبوت ہیں شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی ہمارا عزم ہے،کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کی 76 ترقیاتی اسکیموں پر 13 ارب روپے کی لاگت سے کام جاری ہے، جبکہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی 200 اسکیموں پر 18.36 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، حکومت شہر کو جدید، محفوظ اور سہولیات سے آراستہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے، صوبائی حکومت اہم منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے تاکہ شہر کا انفراسٹرکچر موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکے۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کی تکمیل شہریوں کے لیے بڑی سہولت کا باعث بنے گی، اور چیلنجز کے باوجود کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔

  • اسٹیل مل وفاقی ادارہ،بار بار چوری کی وارداتیں، سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے،وقار مہدی

    اسٹیل مل وفاقی ادارہ،بار بار چوری کی وارداتیں، سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے،وقار مہدی

    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے حکم پر سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے واٹر بورڈ کو ایک ہی روز میں این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرا دی، جس کے بعد اسٹیل ٹاؤن اور گلشنِ حدید کے رہائشیوں کو پانی کی فراہمی ایک ہفتے میں شروع ہوجائے گی۔

    کمشنر آفس کراچی میں سینیٹر خالدہ اطیب نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کی۔ دیگر کمیٹی ممبران میں سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر مسرور احسن اور سینیٹر حسنیٰ بانو شامل تھیں۔ اجلاس میں کمشنر کراچی سید حسن نقوی بھی موجود تھے۔ یک نکاتی ایجنڈا اجلاس کا مقصد اسٹیل مل کے مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ پانی نا ہونے کی وجہ سے گلشن حدید اور اسٹیل مل کی کالونیز چار مہینے سے سخت اذیت کا شکار ہیں، اس کیلئے کوئی متبادل سہولت دیں تاکہ اہلیانِ علاقہ کو پانی مل سکے۔ کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ میئر کراچی نے پانی کا متبادل پراجیکٹ دیا تھا لیکن کے-الیکٹرک کی وجہ سے وہ آپریشنل نہیں ہو پارہا کیونکہ کے الیکٹرک نے اس کیلئے ایک بڑا بل بنا دیا ہے، کے ای سے درخواست کی گئی تھی کہ اس بل کو کم کریں اور فوری طور پر کنکشن کو بحال کردیں، اگر ادھر کوئی ٹرانسفارمر لگانا ہے یا کوئی سب اسٹیشن فعال کرنا ہے تو فوری تنصیب کردیں، اس کے چارجز سندھ حکومت بعد میں ادا کردے گی۔

    چیف آپریٹنگ آفیسر واٹر بورڈ اسداللہ خان نے کہا کہ پانی کے جن عارضی کنکشن کی بات ہورہی ہے، وہ حدود اسٹیل مل کی ہے، ہمیں این او سی چاہیے کیونکہ درخواست گزار واٹر بورڈ ہے اور جس جگہ پر کنکشن لگنا ہے وہ اسٹیل مل کی جگہ ہے، فوری حل یہ ہے کہ سندھ حکومت کی ہدایت پر ہم نے پمپنگ اسٹیشن بنا دیا، ہم تین کلومیٹر طویل لائن لے کر آگئے، اب ہمیں ایک ریزروائر میں پانی بھیجنا ہے، اسٹیل مل نے اس کی لائٹ بند کی ہوئی ہے، عوام کی سہولت کیلئے سب سے پہلے اسٹیل مل اس کی بجلی بحال کردے، اس دوران کے الیکٹرک نے ہماری درخواست پر سروے کرلیا ہے، جب تک ان کو این او سی نہیں ملتا، کے ای نے ہم سے کہا کہ اسٹیل مل سے این او سی دلوا دے تو ہم وہاں پی ایم ٹی لگوا کر بجلی بحال کردیں گے۔

    سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے کہا کہ این او سی ہم آج ہی جاری کردیں گے جس پر کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ این او سی آج کی تاریخ میں جاری کرنے کے ساتھ ہی اس کی کاپی مجھے بھجوائی جائے، پانی بہت ضروری ہے، بنیادی ضرورت میں آتا ہے، یہ مسئلہ فوری حل کیا جائے۔ڈائریکٹر کےالیکٹرک نے کہا کہ سروے پہلے ہی ہوچکا ہے، ایک ٹرانسفامر آنا ہے، 11 کلوواٹ کی لائن جارہی ہے، اس سے ٹرانسفامر جوڑ دیا جائے گا۔ این او سی کے بعد ایک ہفتہ لگے گا ٹرانسفارمر آئے گا، کیبلنگ ہوگی۔ صوبائی محکمہ توانائی ہمیں ادائیگی کی یقین دہانی کرا دے تو ہم فی الفور کام کردیں گے۔

    اسٹیل مل کی اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کرانے کے معاملے پر سی ای او اسٹیل مل کا کہنا تھا کہ انہیں پولیس فورس کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان قابضین پر ایف آئی ار بھی ہونی چاہیے تاکہ ان کا کریمنل ریکارڈ بنے، اس کے بعد ان کے خلاف ٹھوس کارروائی ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ اینٹی انکروچمنٹ کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیں، میں ہوں، اگر ڈپٹی کمشنر ملیر ملاقات کیلئے آجائیں تو انہیں ناجائز قابضین کی تفصیلات بتا دی جائیں گی۔کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ اسٹیل مل کی اراضی پر کوئی ناجائز قبضہ کرلے تو اس پر فوری ایکشن ہونا چاہیے انہوں نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو ہدایت دی کہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور قبضہ مافیا سے سرکاری اراضی واگزار کرائیں۔اس موقع پر سی ای او اسٹیل مل اسد اسلام نے کہا کہ اسٹیل مل کے پاس 1675 ایکڑ اراضی ہے جو غیر انتقال شدہ ہے، وہ ہمارے نام پر منتقل نہیں ہوئی تھی، اس پر وفاقی حکومت اور اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل نے فیصلہ کردیا تھا کہ یہ اسٹیل مل کی زمین ہے، آپ اسے اسٹیل مل کے نام پر منتقل کرکے ریکارڈ میں ٹھیک کردیں، ہمیں خطرہ ہے کہ اس زمین بھی قبضہ نا ہوجائے۔

    سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ اس زمین کی دستاویزات ڈی سی ملیر سے اور کمیٹی سے شیئر کریں، انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ آپ لینڈ ایکویزیشن کی تفصیلات نکالیں، 70 کی دہائی میں کتنی اراضی اسٹیل مل کو دی گئی تھی، کتنی اراضی پر اسٹیل مل بنی اور کتنی اراضی خالی ہے، یہ تمام تفصیلات ہم سے بھی شیئر کیجیے۔ایک موقع پر سینیٹر مسرور احسن نے اعتراض اٹھایا کہ اسٹیل مل میں فنانس کا بیک گراؤنڈ رکھنے والا کوئی عہدیدار نہیں ہے، ہر اجلاس میں ایک نیا عہدیدار مالی معاملات کی تفصیل دینے بیٹھا ہوتا ہے۔ سینیٹر وقار مہدی نے اسفتسار کیا کہ مل سے ہونے والی چوری کی وارداتوں کے بعد ریکوری کتنی ہوچکی ہے؟ ڈپٹی کمشنر ملیر نے بتایا کہ 2024 میں 9 ایف آئی آر ہوئے جس میں 5 میں ریکوری ہوئی 4 میں کوئی نہیں جبکہ 2025 میں 29 ایف آئی آر میں سے 24 میں کچھ نا کچھ ریکوری ہوئی ہے جبکہ 5 میں کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔

    چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر خالدہ اطیب نے استفسار کیا کہ اسٹیل مل میں 10 ارب کی چوری ہوئی تھی جس میں ایک ہی شخص ملزم تھا، اس میں کتنی ریکوری ہوئی؟ کیا اس ملزم کو گرفتار کیا گیا؟ اسٹیل مل کے سی ایف او نے جواب دیا کہ وہ کیس ایف آئی اے کے پاس ہے، کیس پیپلز یونین نے داخل کیا تھا۔ سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کیس آپ لوگوں کو کرنا چاہیے تھا، مال اسٹیل مل کا چوری ہوا، آپ کو پتا ہوگا اس کی کتنی مالیت تھی۔

    سینیٹر خالدہ اطیب نے سوئی گیس حکام کی طرف سے کسی نمائندے کی اجلاس میں شرکت نا کرنے کا سخت نوٹس لیا، انہوں نے کہا کہ کچھ ہفتے پہلے ہی گیس کی ایک بڑی تنصیب چوری ہوئی ہے اور سوئی گیس سے کسی نے اجلاس میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔سینیٹر وقار مہدی نے سیکیورٹی افسر سے استفسار کیا کہ ایک ہی جگہ سے دس دفعہ چوری ہوئی، آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے ہدایت دی کہ اسٹیل مل کا مکمل سیکیورٹی آڈٹ کروایا جائے، بار بار چوری کی وارداتیں روکنے کیلئے سیکیورٹی خامی کا معلوم ہونا ضروری ہے، اسٹیل مل وفاقی ادارہ ہے، اگر اس کی حفاظت مشکل کام ہے تو ایف سی سے بات کرکے سیکیورٹی لے لیجیے۔

    اجلاس میں مختلف ورکرز یونین کے عہدیداران نے دیگر مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ٹاؤن میں ایک سال سے گیس، چار مہینے سے پانی بند ہے۔ ملازمت سے نکالے گئے افراد کو ان کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی، بجلی کے تین ہزار کے بل پر مختلف ٹیکسز لگا کر 72 ہزار روپے بھیجا جارہا ہے۔ کرایہ 805 روپے سے بڑھا کر 17 ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ ہمیں نوکری سے نکالا گیا، کیس عدالت میں ہے۔ اپیلیٹ کورٹ نے حکم دیا کہ جب تک آپ ان کو واجبات ادا نہیں کرتے تب تک ان کو ملازم تصور کیا جائے، ان کو تنخواہ جاری کی جائے، دونوں کام نہیں ہوئے۔ اسٹیل مل نے ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا۔ جن لوگوں کو واجبات ادا نہیں ہوتے تب تک ہمارے کرائے اور بل مناسب ہونے چاہئیں۔ واجبات ادا ہوجائیں گے تو ہم مکان بھی ان کے حوالےکرکے چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ نا ملنے کی وجہ سے محنت کشوں کے بچے کچرا چننے پر مجبور ہیں، فیس کی ادائیگی نا کرنے کی وجہ سے بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا، آپ ہمیں نکالنا چاہتے ہیں تو گولڈن ہینڈشیک دیں۔

  • پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے،عدالت پولیس پر برہم

    پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے،عدالت پولیس پر برہم

    کریڈٹ کارڈ بنانے والی خاتون سے زیادتی اور نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے کی کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش میں میری زیادہ دلچسپی نہیں۔ جسٹس نثار بھمبرو نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش سے انکار کیسے کرسکتی ہے؟، آپ کون ہوتے ہیں سرکاری کام سے انکار کرنے والے؟ عدالت نے کہا کہ مقدمے کے فیصلے تک پولیس کو کلین چِٹ نہیں ملے گی۔سندھ ہائی کورٹ نے پولیس افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کی تفتیش ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی ذاتی نگرانی میں تفتیش کروائیں، مفرور ملزم اور سہولت کاروں کو گرفتار کریں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے گئے ملزم گرفتار نہ ہوسکا۔

    قمر عباس ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے نہ ملزم پکڑا نہ ویڈیوز سوشل میڈیا سے ہٹائیں، مفرور ملزم نے مزید تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں۔عدالت نے پولیس افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی ہدایت بھی کردی۔

  • چور چوری کے دو دن بعد چوری شدہ سامان واپس پھینک گئے

    چور چوری کے دو دن بعد چوری شدہ سامان واپس پھینک گئے

    کراچی کے علاقے گلشن حدید میں چور گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹنے کے بعد وہی سامان واپس گھر میں پھینک کر فرار ہوگئے۔ اس انوکھے واقعے نے مکینوں سمیت پولیس حکام کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق یہ واقعہ گلشن حدید کے یوسی چیئرمین رضا جتوئی کے گھر میں پیش آیا، جہاں دو روز قبل چوری کی واردات میں ملزمان 40 لاکھ روپے نقد اور 20 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات لے کر فرار ہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق یوسی چیئرمین رضا جتوئی نے خود تھانے آکر رپورٹ درج کرائی تھی کہ ان کے گھر میں چوری ہوئی ہے اور قیمتی سامان اڑا لیا گیا ہے۔ تاہم صورتحال اس وقت حیران کن رخ اختیار کر گئی جب چوری کیا گیا سارا سامان اچانک گھر کے اندر واپس مل گیا۔

    رضا جتوئی نے پولیس کو بتایا کہ گزشتہ روز ان کی اہلیہ گھر کے صحن میں بلیوں کو کھانا ڈال رہی تھیں کہ اچانک ان کی نظر ایک تھیلے پر پڑی، جس میں وہی نقد رقم اور طلائی زیورات موجود تھے جو دو روز قبل چوری ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تھیلا اچانک صحن میں پڑا ملا جس پر گھر والے حیران رہ گئے۔یوسی چیئرمین نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ کوئی چور واردات کے بعد سامان واپس کردے، اس لیے یہ معاملہ مزید پیچیدہ لگ رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مختلف پہلوؤں سے مزید تفتیش جاری ہے، اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملزمان نے سامان واپس کیوں کیا اور آیا اس کے پیچھے کوئی دباؤ، خوف، غلط فہمی یا کوئی اور وجہ کارفرما تھی۔

  • بھارتی وزیر ناواقف اور غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ

    بھارتی وزیر ناواقف اور غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں: وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے تاریخی لاعلمی اور سفارتی غیر ذمہ داری کی مثال قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع سندھ کے حوالے سے بے بنیاد باتیں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تاریخ سے مکمل ناواقف ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی داخلی تقسیم، سیاسی انتشار اور معاشی چیلنجز پر توجہ دے، بجائے اس کے کہ پاکستان اور اس کے صوبوں کے متعلق دن میں خواب دیکھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ نے قیامِ پاکستان سے بھی پہلے، 1936 میں بمبئی پریذیڈنسی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، اور اس کے عوام نے ہمیشہ اپنی شناخت، خودمختاری اور وقار کو مقدم رکھا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے اور رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہیں، تاہم سندھ کے عوام اپنے وطن کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہیں گے۔مراد علی شاہ کے مطابق بھارتی حکام کا طرزِ عمل نہ صرف غلط فہمیاں پھیلاتا ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی نقصان دہ ہے

    نئے سال کا جشن: ڈاؤن ٹاؤن دبئی پہلی بار عالمی تفریح مرکز میں تبدیل

    آسٹریلوی سینیٹر کا برقع پہن کر پارلیمنٹ میں احتجاج

    اکتوبر 2023 حملے روکنے میں ناکامی، اسرائیل نے 3 جرنیل برطرف کر دیے

    امریکاکا میانمار کے شہریوں کا قانونی اسٹیٹس ختم کرنے کا فیصلہ

  • بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

    بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

    پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن (ٹی سی پی) نے بنگلادیش کو سپلائی کے لیے ایک لاکھ ٹن سفید چاول (ایری-6) کی خریداری کا ٹینڈر جاری کر دیا۔ بولیاں جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 نومبر مقرر کی گئی ہے۔

    چاول کراچی کی بندرگاہوں سے بریک بلک کارگو کی صورت میں بھجوایا جائے گا، جبکہ ہر بولی کم از کم 25 ہزار ٹن کی ہوگی۔ چاول تازہ پاکستانی فصل سے اور انسانی استعمال کے لیے موزوں ہونا ضروری ہے۔اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکا کے تعلقات بہتر ہونے سے دوطرفہ تجارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلادیش نے رواں سال پہلی بار جی ٹو جی بنیاد پر 50 ہزار ٹن چاول کی تجارت بھی کی تھی۔

    تاجروں کے مطابق یہ ٹینڈر بنگلادیش کی درآمدی سپلائی میں پاکستانی چاول شامل کرنے کوشش ہے، جب کہ مارکیٹ میں توقع ہے کہ حالیہ درآمدات کے لیے بھارتی چاول استعمال ہوگا۔چاول کی برآمدات کے حوالے سے مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی برآمدات میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ بھارت کی برآمدات کی بحالی اور مطابق پالیسی چیلنجز کو قرار دیا جا رہا ہے

    لاہور ، پشاور اور کوئٹہ کے پی ایس ایل معاہدوں میں مزید 10 سال کی توسیع

    2025-26 کے لیے گیس کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

  • 2025-26 کے لیے گیس کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    2025-26 کے لیے گیس کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مالی سال 26-2025 کے لیے گیس کی نئی قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے سوئی سدرن کی قیمت میں 8 فیصد اور سوئی نادرن کی قیمت میں 3 فیصد کمی کر دی ہے۔

    اوگرا کے مطابق 2025-26 کے لیے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کی اوسط مقررہ قیمتوں میں مجموعی کمی کی گئی ہے۔ نئی ریویژن کے بعد ایس این جی پی ایل کی اوسط قیمت 3 فیصد کمی کے بعد 1804.08 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے، جب کہ ایس ایس جی سی ایل کی اوسط قیمت 8 فیصد کمی کے بعد 1549.41 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ گیس کمپنیوں کے اخراجات اور آمدن میں بہتری کے بعد طلب کا ازسرنو جائزہ لیا گیا، جب کہ پی ایل ایل کے مؤخر شدہ کارگو کا فائدہ بھی صارفین کو منتقل کیا گیا۔ اس تحت ایس این جی پی ایل کے 13,565 ملین روپے اور ایس ایس جی سی ایل کے 47,315 ملین روپے ایڈجسٹ کیے گئے ہیں

    پاکستان–سعودی عرب اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

  • سندھ میں ڈینگی کے ایک دن میں 109 مریض، ایک جانبحق

    سندھ میں ڈینگی کے ایک دن میں 109 مریض، ایک جانبحق

    محکمۂ صحت سندھ کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں ڈینگی سے ایک موت رپورٹ ہوئی ہے، جبکہ 109 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں 77 نئے مریض داخل ہوئے۔نجی اسپتالوں میں مزید 54 مریض داخل ہوئے۔کراچی ڈویژن کے سرکاری اسپتالوں میں 32 نئے مریض رپورٹ ہوئے۔حیدرآباد کے سرکاری اسپتالوں میں 28 مریض داخل ہوئے۔صوبے بھر کی سرکاری و نجی لیبارٹریز میں 4,101 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 449 مثبت آئے۔کراچی میں سب سے زیادہ 215 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے

    افغانستان کا اصل چہرہ دکھانے آئے یوٹیوبر کی سیر خوف میں بدل گئی

    قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات آج

    گورنمنٹ کالج لاہور میں ٹیلی ویژن کا عالمی دن منایا گیا

  • عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی،پاکستان میں 6 سب میرین کیبل سسٹم فعال

    عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی،پاکستان میں 6 سب میرین کیبل سسٹم فعال

    پاکستان نے جنوب مشرقی ایشیا–مشرقِ وسطیٰ–مغربی یورپ (SEA-ME-WE) 6 سب میرین کیبل سسٹم کی تعیناتی کے ساتھ اپنی عالمی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی مزید مضبوط بنا لی ہے۔

    وزارت آئی ٹی کے مطابق 19 ہزار 200 کلومیٹر طویل یہ ہائی کیپیسٹی فائبر نیٹ ورک پاکستان کو سنگاپور سے فرانس تک متعدد ممالک سے جوڑتا ہے۔یہ نظام 100 ٹی بی پی ایس سے زیادہ مجموعی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان کم تاخیر والا اہم ترین راستہ مہیا کرتا ہے۔ وزارت کے مطابق اس کنسورشیم میں پاکستان کی ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس سمیت خطے کے 13 بڑے ٹیلی کام آپریٹرز شامل ہیں۔نیا سسٹم پچھلے SEA-ME-WE نیٹ ورکس کے مقابلے میں دوگنی صلاحیت، بہتر ریزیلینس، متنوع لینڈنگ پوائنٹس اور مضبوط فالٹ پروٹیکشن فراہم کرتا ہے، جو ایشیا–یورپ ڈیٹا ٹریفک کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ بناتا ہے۔

    پاکستان کے لیے اس کیبل میں 13.2 ٹی بی پی ایس مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ابتدائی طور پر 4 ٹی بی پی ایس فعال ہو رہے ہیں۔ اس سے ملک کی بین الاقوامی بینڈوڈتھ میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کلاؤڈ سروسز، ڈیٹا سینٹرز، فنٹیک، ای کامرس، اسٹریمنگ اور مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط سپورٹ ملےگی

    جی 20 اجلاس کا اعلامیہ جاری، عالمی تنازعات کے منصفانہ حل کا مطالبہ

    غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے ، مزید 14 فلسطینی شہید

    پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کا قانون کی بالادستی کے عزم کا اعادہ

  • ڈمپر سے ہلاکت اور فائرنگ،ضمانت منسوخ کے فیصلے کے بعد لیاقت محسود  فرار

    ڈمپر سے ہلاکت اور فائرنگ،ضمانت منسوخ کے فیصلے کے بعد لیاقت محسود فرار

    کراچی کی مقامی عدالت میں ڈمپر سے نوجوان کی ہلاکت اور ہنگامے کے دوران فائرنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود اور ان کے گارڈ کی عبوری ضمانت منسوخ کر دی۔

    فیصلے کے بعد لیاقت محسود عدالت سے فرار ہوگئے جبکہ ان کے گارڈ کی گرفتاری کے بھی احکامات جاری کر دیے گئے۔عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کے مطابق ملزم کے گارڈز نے عوام پر فائرنگ کی، جو دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ویڈیو میں ملزم کا ساتھی اسلحہ لیے فائرنگ کرتے واضح نظر آ رہا ہے، جبکہ پیش کردہ اسلحے کا پرمٹ واقعے سے قبل ہی ختم ہو چکا تھا۔مدعی کے وکیل کے مطابق فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا۔ عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد پہلے سے دیا گیا حفاظتی حکم واپس لے لیا۔

    یہ مقدمہ 3 نومبر کی رات اس حادثے کے بعد درج ہوا تھا جب نشتر روڈ پر ایک ڈمپر کی ٹکر سے ایک شہری جاں بحق اور اس کی اہلیہ زخمی ہوئی تھیں۔ بعد ازاں احتجاج کے دوران لیاقت محسود کے گارڈ نے مشتعل شہریوں پر فائرنگ کی، جس پر گورنر سندھ نے بھی سخت نوٹس لیا تھا۔ضمانت منسوخ ہونے کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں

    بھارت،دوسری جماعت کی طالبہ کے ساتھ سکول میں دو بار زیادتی،مقدمہ درج

    صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں