Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی: سانحہ گل پلازہ،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، ہلاکتوں کی تعداد 71 ہوگئی

    کراچی: سانحہ گل پلازہ،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، ہلاکتوں کی تعداد 71 ہوگئی

    کراچی میں گل پلازہ کے المناک سانحے کو 9 روز گزرنے کے باوجود سرچ اینڈ ریسکیو اور ریکوری آپریشن تاحال مکمل نہ ہوسکا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ رات عمارت کی تیسری منزل سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں، جنہیں شناخت کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ریکوری اور تلاش کا عمل آج مکمل کرلیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق آگ لگنے کے بعد سے ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل مسلسل جاری ہے، تاہم عمارت کے شدید متاثر ہونے کے باعث کارروائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ریسکیو ٹیموں نے نویں روز بھی کام جاری رکھا، اس دوران تیسرے فلور سے انسانی باقیات ملیں جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ طارق کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات سول اسپتال لائی جاچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 22 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہوچکی ہے، جن میں سے 6 لاشیں قابلِ شناخت تھیں جبکہ 15 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی۔ ڈاکٹر سُمعیہ کے مطابق ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی، جبکہ متعدد لاشوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔

    دوسری جانب سندھ حکومت نے آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی ازسرِ نو تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت اپنے بجٹ سے کثیر المنزلہ گل پلازہ کی تعمیر کرے گی، جو ایک سال کے اندر مکمل کی جائے گی۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد دکانیں الاٹیز کے حوالے کی جائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس منصوبے کے لیے ماہرینِ تعمیرات کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ ممکن بنایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں 17 جنوری کی رات شہر کے مشہور گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ متاثرہ خاندان تاحال اپنے پیاروں کی شناخت اور انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ شہر بھر میں واقعے پر گہرے رنج و غم اور غصے کی فضا پائی جاتی ہے۔

  • کراچی کے تین اضلاع میں عمارتوں کا فائر سیفٹی سروے شروع

    کراچی کے تین اضلاع میں عمارتوں کا فائر سیفٹی سروے شروع

    ‎سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے کراچی کے شرقی، وسطی اور جنوبی اضلاع میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کا فائر آڈٹ شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی سروے میں 90 فیصد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
    ‎ایس بی سی اے نے 300 سے زائد عمارتوں میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر نوٹسز جاری کیے ہیں اور تین روز کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ چند عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات ناکارہ اور ہنگامی اخراج کے راستے بند پائے گئے۔
    ‎حکام نے کہا کہ نوٹسز پر عمل نہ کرنے پر عمارتیں سیل کی جائیں گی اور مالکان و یونینز کو فائر بریگیڈ کا این او سی بھی لینا ہوگا۔ سروے میں فائر بریگیڈ عملہ بھی ایس بی سی اے کی ٹیم کے ساتھ موجود ہے۔

  • شہید فائر فائٹر فرقان علی کو ستارہ امتیاز سے نوازنے کے لیے سفارش

    شہید فائر فائٹر فرقان علی کو ستارہ امتیاز سے نوازنے کے لیے سفارش

    ‎گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے گل پلازہ سانحے میں شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان علی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے دوران انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
    ‎گورنر سندھ نے کہا کہ فرقان علی نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر فرض کی ادائیگی کی اور قوم کے لیے قربانی دی۔ گل پلازہ سانحے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد کے کاروبار تباہ ہو گئے، جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔
    ‎کامران ٹیسوری نے اعلان کیا کہ شہید فرقان علی کے نام سے ایک فائر اسٹیشن منسوب کیا جائے گا اور سرکاری رہائش بھی ان کے اہلِ خانہ کے نام منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر فرقان علی کو سول ایوارڈ (ستارہ امتیاز) کے لیے نامزد کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں صدر مملکت کو خط بھی بھیجا جائے گا۔
    ‎مزید براں، شہید کے اہلِ خانہ کو ایک پلاٹ فراہم کیا جائے گا جس پر بلڈرز کی مدد سے گھر تعمیر کر کے منتقل کیا جائے گا۔ فرقان علی کے نام سے ایک اسٹریٹ منسوب کرنے کے لیے میئر کراچی کو بھی خط لکھا جائے گا۔
    ‎گورنر سندھ نے گل پلازہ سانحے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاست یا الزام تراشی کے بجائے اس سانحے سے سبق سیکھنے اور مستقبل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سو سے زائد لواحقین اب بھی اپنے پیاروں کے ڈی این اے نتائج کے منتظر ہیں اور کئی خاندانوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں تک نہیں مل سکیں۔
    ‎کامران ٹیسوری نے کہا کہ شہر میں پہلے ہی بہت خونریزی ہو چکی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی بند ہونی چاہیے۔ ممکن ہے کہ شہید کے پاس جدید حفاظتی آلات نہ ہوں، جن سے وہ اپنی جان بچا سکتے۔

  • ضوابط کی خلاف ورزی پر ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ

    ضوابط کی خلاف ورزی پر ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے میسرز گلیکسی ایکسچینج (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے،جس کے بعد کمپنی اب کسی قسم کی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت نہیں کر سکتی-

    مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق لائسنس کی منسوخی کے بعد میسرز گلیکسی ایکسچینج (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اس کے صدر دفتر اور تمام آؤٹ لیٹس اب زرِ مبادلہ سے متعلق کسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمی انجام دینے کے مجاز نہیں رہے،اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ صارفین کے مفادات کے تحفظ اور فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضوابط کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

  • ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    ‎وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ فاروق ستار چاہے جتنی بھی فصیح و بلیغ اردو بول لیں، وہ حقائق کو مسخ نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کی لیز اور اس سے متعلق قانون شکنی میں بطور میئر فاروق ستار کا کردار رہا، جبکہ جماعت اسلامی کے بعض ناظمین بھی اس عمل میں شامل تھے۔
    ‎شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ فاروق ستار اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہی فیصلوں نے آگے چل کر گل پلازہ جیسے سانحے کو جنم دیا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں فاروق ستار کا براہ راست اور بالواسطہ کردار موجود ہے۔
    ‎پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ یہ تمام غیر قانونی اقدامات اٹھارہویں ترمیم سے قبل کیے گئے تھے اور اب فاروق ستار خود کو بری الذمہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ان غلط فیصلوں کی بنیاد رکھی، وہ آج ان سوالات سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔
    ‎شرجیل میمن نے کہا کہ آج کراچی کے عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر ابتدا ہی غلط بنیادوں پر کی گئی تھی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

  • انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارت نے ایک اور پاکستان مخالف فلم “بارڈر 2” بنائی ہے، جس میں سنی دیول مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق فلم میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور ٹیزر میں سنی دیول کو ایک بار پھر جنگی نعروں اور جارحانہ مکالموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،فلم کی پروموشن کے دوران سنی دیول نے ایک پاکستان مخالف ڈائیلاگ دیتے ہوئے کہا کہ “آواز کتنی دور تک جانی چاہیے؟ سیدھی لاہور تک!”

    ویڈیو میں سنی نے یہ ڈائیلاگ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،پاکستانی اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے سنی دیول کے پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر طنزیہ ردعمل دیا اور اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے”۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو دنیا بھر میں 23 جنوری 2026 کو ریلیز کرنے کا شیڈول تھا، تاہم ادیتیہ دھر کی فلم ‘دھریندر’ کی طرح بارڈر 2 بھی بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سینما ہالز میں نمائش کی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

  • سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نیتجے میں قیمتیں دھاتوں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی ہیں۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں مزید 65 ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی قیمت 4 ہزار 988 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    ملک میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 6 ہزار 500 روپے کے نمایاں اضافے سے 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 573 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 46 ہزار 812 روپے کی سطح پر آ گئی۔ جمعہ کو سونے کی فی تولہ قیمت 9 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے ہوگئی تھی۔

    اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت یکدم 526 روپے بڑھ کر 10 ہزار 801 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت 451 روپے کے اضافے سے 9 ہزار 260 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترامیم، گل پلازہ سانحے، اور عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق حالیہ قانون سازی کو ایک ہی تناظر میں جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کی کمی، عجلت میں فیصلے اور عوام کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے عوام کے سامنے ہوں، نہ کہ بند کمروں اور رات کے اندھیرے میں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہے اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہےاٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں، گل پلازہ جیسے سانحات میں حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سننا اور عملی حل تلاش کرنا ہے، بد قسمتی سے یہاں بھی سنجیدگی کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔

    انہوں نے نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی، عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی زندگی کا ہر پہلو عوام کے سامنے ہو اگر کسی نمائندے کو اپنی جان یا مال کا اتنا خوف ہے کہ وہ اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کے ٹیکس گوشوارے بھی عوامی سطح پر شائع ہوتے ہیں، لیکن اب اگلا قدم شاید یہ ہو کہ انہیں بھی خفیہ کر دیا جائےحقیقت یہ ہے کہ بہت کم ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جو اپنے اثاثے اور آمدن درست طور پر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اخراجات لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں اور ٹیکس چند ہزار یا چند لاکھ ادا کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ رویہ پورے نظام کو تباہ کر رہا ہے قومی اسمبلی نے عجلت میں یہ قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیار دے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ گوشوار ے عوام کے سامنے آئیں یا نہیں،اس قانون کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ پارلیمان کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے بدقسمتی سے ہم نے اتنے کالے دھبے قبول کر لیے ہیں کہ اب ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں اور ان کی رائے کی کیا اہمیت ہےمعاملہ گل پلازہ کے سانحے کا ہو یا آئینی ترامیم کا، مسئلہ آخرکار اسی جگہ آ کر رک جاتا ہے کہ فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    کراچی: سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ نہیں آئی اس لئے مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا،مقدے میں کہا گیا کہ بجلی بند کردی گئی تھی جس سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گل پلازہ کے کئی دروازے بند تھے جس سے صورتحال خراب ہوئی۔

    گل پلازہ واقعے کے مقدمے تاحال کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کاٹنے کے بعد گل پلازہ سیل کر دیا گیا ہے۔

  • وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہےحتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگاجب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا،وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔