کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے بعد موسم اچانک سرد ہو گیا ہے اور محکمہ موسمیات نے نئی پیشگوئی جاری کی ہے۔ محکمہ کے مطابق شہر میں دن کا درجہ حرارت 20 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ صبح سویرے کم سے کم درجہ حرارت 10.5 ڈگری تھا۔ شمال مغرب سے خشک اور ٹھنڈی ہوائیں 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کی یہ لہر ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے اور درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ تک گر سکتا ہے۔ آج کراچی میں مطلع ابرآلود رہے گا اور وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے، جس کے دوران گرد آلود تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش سرجانی میں 26.3 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 20 ملی میٹر اور گلشن معمار میں 17 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
Category: کراچی
-

راچی میں سردی کی نئی لہر، درجہ حرارت 10 ڈگری تک گرنے کا امکان
-

سندھ حکومت نے گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کا فیصلہ کر لیا
سندھ حکومت نے آگ سے متاثرہ گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تعمیرات کے لیے حکومت اپنے بجٹ کا استعمال کرے گی اور کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر ایک سال کے اندر مکمل کی جائے گی۔
تعمیر مکمل ہونے کے بعد دکانیں پہلے کے مالکان یا الاٹیز کو واپس دی جائیں گی۔ سندھ حکومت نے تعمیر کے عمل میں ماہرین تعمیرات کی مدد حاصل کر لی ہے تاکہ منصوبہ بروقت اور معیاری طریقے سے مکمل ہو۔
اس دوران متاثرین کے کاروبار کے تسلسل کے لیے حکومت نے عارضی طور پر تین جگہیں مختص کر دی ہیں تاکہ دکان دار اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ -

سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں
کراچی سانحہ گل پلازہ،انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مزید انسانی باقیات کو اسپتال لایا گیا ہے، مزید چار بیگ اسپتال لائے گئے ہیں،
انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی کا کہنا ہے کہ اسپتال لائی گئی باقیات کی جانچ کی جارہی ہے، ممکنہ طور پر یہ باقیات چار لوگوں کی ہوسکتی ہے، ممکنہ طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 71 ہوگئی،
دوسری جانب ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے سانحہ گل پلازہ کے سرچنگ آپریشن سے متعلق بتایا ہے کہ آج بلڈنگ کی سرچنگ مکمل کریں گے۔ 10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں نہیں پہنچ سکے تھے۔ آج وہاں بھی پہنچ کر سرچنگ کی جائے گی۔انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جس مقام پر آگ لگنی شروع ہوئی تھی وہاں سے لاشیں ملیں گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نےکہا کہ سانحے کو 7 روز ہوچکے ہیں۔ امید نہیں کہ زندگی یہاں کوئی موجود ہے۔ پچھلے تین دن سے جی پی ایس ریڈار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ریڈار کے ذریعے دیکھا گیا کہ کوئی ذندہ موجود ہے یا نہیں۔
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد انتظامی اداروں کو ہوش آگیا،شہر میں فائر سیفٹی انتظامات پر عملدرآمد کرانے کیلیے اقدامات کئے جانے لگے، گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل میں کے ایم سی کی معاوںت کیلیے ایس بی سی اے کی 4 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، چار ٹیموں میں ایس بی سی اے کے 16 افسران اور ملازمین شامل ہیں،ضلع جنوبی، شرقی اور وسطی میں عمارتوں میں آتشزدگی سے حفاظتی انتظامات کے سروے کیلیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،ضلع جنوبی میں سروے اور گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل کی نگرانی کیلیے ڈائریکٹر کی نگرانی میں چھ رکنی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دے دیا، ضلع جنوبی میں چھ رکنی ٹیم میں دو اسٹنٹ ڈائریکٹر ، ایک سنئیر بلڈنگ انسپکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع وسطی میں بھی عمارتوں کے سروے کیلیے 7 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں متعلقہ ٹیم آتشزدگی کے حوالے سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا جائزہ لے گئی ، ضلع شرقی میں بھی عمارتوں میں آتشزدگی سے واقعات سے نمٹنے کے اقدامات کے سروے کیلیے ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں چار اسٹنٹ ڈائریکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع شرقی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں دوڈپٹی ڈائریکٹر ، دو اسٹنٹ ڈائریکٹر اور دو بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ٹیمیں عمارتوں میں سے آ گ بجھانے کے آلات , ہنگامہ راستہ فعال ہونے کا جائزہ لے گی، ٹیمیں عمارتوں میں فائر الارم سمیت آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کیلیے عملہ کی تربیت کا بھی جائزہ لے گی.
-

فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ،گورنرسندھ
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا، سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو آج خط لکھنے کا اعلان بھی کردیا۔
پریس کانفرنس میں کہا کہ ریسکیو ٹیمیں اندر کیوں نہیں پہنچ سکیں؟، جن کو وہاں ہونا چاہئے تھا وہ نہیں تھے، سیاست ہورہی ہے کہ ملبہ کسی اور پر ڈال دیا جائے۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ سیاست نہ کریں، یہ بتائیں جانی نقصان کس کے سر ہے؟، وزیراعلیٰ سندھ بھی دیکھیں کہیں آپ کو گمراہ تو نہیں کیا جارہا،فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ہے۔ گورنر سندھ نے جاں بحق افراد کے ورثاء کو رہائشی پلاٹس دینے کا اعلان بھی کیا۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ گل پلازہ واقعے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں میں بعض عناصر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،کسی واقعے پر ہم پنجاب حکومت کو قصوروار نہیں ٹھہراتے، واقعے کی مکمل انکوائری کی جارہی ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ خاندان کےگھرپہنچے اور کہا کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے متاثرہ خاندان کےکاروبار کی بحالی کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
-

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا اہم اجلاس ہوا
اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فود غفار سومرو، پی ڈی یلو لائن بی آر ٹی ضمیر عباسی اور ایس ایم ٹی اے کے حکام شریک ہوئے،اجلاس میں مختلف منصوبوں، ریڈ لائن، یلو لائن بی آر ٹی کے کام میں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ،سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کراچی میں مزید نئی ای وی بسز اور ای وی ٹیکسی شروع کرنے سے متعلق آگہی دی ،سی او ٹرانس کراچی نے ریڈ لائن پر جاری کام پر اجلاس کو بریفنگ دی،اجلاس کو بتایا گیا کہ نیپا چورنگی کے پاس ریڈ لائن بی آر ٹی کے دونوں اطراف کام مکمل کرنے جا رہے ہیں،یلو لائن بی آر ٹی کے پروجیکت ڈائریکٹر نے اجلاس کو کام میں پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا ،سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے، جلد ہی دوسرے حصے پر بھی کام شروع کیا جائے گا،
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں،ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی شہر کے اہم مقامات اور کاروباری مراکز کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے، کام میں کسی بھی تاخیر سے گریز کے لئے فیلڈ لیول پر تمام مسائل کے حل یقینی بنایا جائے، جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں،بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی، پنک اسکوٹیز کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے، کراچی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی پنک اسکوٹیز کی تقسیم کے پروگرام منعقد کئے جائیں.
-

کراچی میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ، نوجوان جاں بحق، راہگیر زخمی
کراچی کے علاقے نارتھ کراچی خواجہ اجمیر نگری میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ایک اور نوجوان جان کی بازی ہار گیا جبکہ ایک راہگیر زخمی ہو گیا۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں 25 سالہ محمد عسکری موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک راہگیر بھی زخمی ہوا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کراچی کے علاقے ملیر، البدر سوسائٹی میں بھی ڈکیتی کے دوران فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 25 سالہ شعیب جاں بحق ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق شعیب شاپنگ بیگ فروخت کرنے کا کام کرتا تھا اور صبح دکان کھولتے ہی ڈاکو واردات کے لیے پہنچے۔ مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کر دی جس سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ایس ایچ او الفلاح راو عمیر کے مطابق دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ -

کراچی مین ہول میں گرنے والا شخص جاں بحق، لاش نکال لی گئی
کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں مین ہول میں گرنے والے شخص کی لاش نکال لی گئی ہے۔
ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے ترجمان کے مطابق دوپہر کے وقت ایک شخص کے مین ہول میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر واٹر ریسکیو ٹیم، غوطہ خور اور ایمبولینس فوری طور پر موقع پر پہنچے۔
ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے مین ہول سے لاش نکال لی۔ متوفی کی شناخت 70 سالہ عنایت کے نام سے ہوئی ہے۔ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ -

گھوٹکی میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری، 60 ڈاکو, 50 سہولت کار گرفتار
گھوٹکی کے علاقے رونتی میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کا مشترکہ آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے اور اب تک متعدد کامیابیاں حاصل ہو چکی ہیں۔
پولیس نے دو مزید مغویوں کو بازیاب کرا لیا ہے، جن کی شناخت سلطان اور محمد بشیر کے ناموں سے ہوئی۔ جنوبی پنجاب کے کچے علاقوں میں خوف کی علامت سمجھے جانے والے ڈاکوؤں کے خلاف سخت ایکشن جاری ہے، اور اب تک مجموعی طور پر 60 خطرناک ڈاکو اور 50 سے زائد سہولت کار گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
ایک کروڑ سے زائد قیمت والے وہاب لنڈ اور میرا لٹھانی نے بھی خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ لونڈ، کوش، لٹھانی اور سیکھانی گینگ کے دیگر ارکان نے بھی سرنڈر کر دیا۔
آپریشن میں دو ہزار سے زائد پولیس اہلکار، آٹھ ڈرون ٹیمیں اور درجنوں بکتر بند گاڑیاں حصہ لے رہی ہیں۔ حکام کے مطابق سندھ اور پنجاب کی پولیس اپنے اپنے علاقوں میں مشترکہ کارروائی کر رہی ہے تاکہ کچے علاقوں میں قانون و انتظام قائم رکھا جا سکے۔ -

شرجیل میمن کا مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل
کراچی:سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ آج جو باتیں مصطفیٰ کمال نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایک صاحب کی پریس کانفرنس سنی کہ 18ویں ترمیم خراب ہے لہٰذا کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، تو کیا اس سے ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو جلایا ہے۔
مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرس پر شرجیل میمن نے کہا کہ میں آپ کو جواب آپ کی باتوں سے دوں گا، بلدیہ فیکٹری کو بھتے کے چکر میں آگ لگائی گئی، 12 مئی کو انسانوں کا شکار کیا گیا اور معصوم جانیں لیں، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی،جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عاشورہ کے بعد بولٹن مارکیٹ میں جو آگ لگائی گئی آپ نے ان کا کاروبار چھینا، گل پلازہ کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں اور آپ کیا بات کر رہے ہیں میں آپ کو ان کی ریکارڈنگ سناتا ہوں۔
شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال کی ماضی کی پریس کانفرنس کے کلپ چلا دیے اور کہا آپ نے سنا کہ مصطفیٰ کمال نے اپنے قائد خالد مقبول کے بارے میں کیا کہا، انہوں نے اتحادی حکومت کے قائدین کو کیا کیا کہا وہ سب کے سامنے ہے، جب یہ کراچی کے میئر تھے ان کے لوگوں کے ساتھ رویے کیا تھے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ آج جو باتیں انہوں نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں،یہ صاحب خود کو کراچی کا دعوے دار کہتا ہے اور وفاقی وزیر صحت ہے، کیا یہ ابھی تک جائے وقوع پر پہنچے؟ کیا انہوں نے اس حوالے سے کسی سے رابطہ کیا؟ ایم کیو ایم کی اصلیت سب کے سامنے ہے، یہ اسکور کی طرح گن گن کر لوگ مارتے تھے۔
-

مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے اور اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں میری نسل کشی ہو رہی ہے، یہ جمہوری دہشت گردی ہے، کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے، اس کو وفاق کا حصہ بنایا جائے 18 سال حکومت کرنے کے بعد جب پیپلز پارٹی سے آگ کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگا دیے جاتے ہیں، آج کی ایم کیو ایم یہ کام نہیں کر رہی، یہ وہ ہوا تو آپ کے صدر اس وقت ایم کیو ایم کے مرکز پر گھٹنے ٹیکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، ایک دن میں 100 سو لوگ مرتے تھے، یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گرکرمریں، ہماری داد رسی کب ہوگی ؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں، ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، پورا شہر سوال کر رہا ہے کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہاہ کراچی کے عوام ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ان کی بات سنےکراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے اگر نظام کو بچانے کے لیے کراچی کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ریاست واضح طور پر بتا دے کہ مزید کتنی جانیں درکار ہیں ہمیں مار دیں، سولی پر لٹکا دیں، مگر ہماری نسل کشی بند کی جائے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی کو بھٹو کے دیے گئے آئین کے مطابق ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور اسے وفاق کے تحت لیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام میں یہ لوگ ٹھیک ہونے والے نہیں،انہوں نے الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کراچی کے عوام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور یہ ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کوئی مقدس شق نہیں، پاکستان کو بچانے کے لیے اسے واپس لینا ہوگا انہوں نے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایم کیو ایم صوبے میں اقلیت میں بھی رہے تو کیا شہریوں کو پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات نہیں دی جائیں گی؟
انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے وزیراعظم سے فنڈز حاصل کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ انہیں رکوا دیتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ جمہوری دہشت گردی ہے جسے سندھ میں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے امید ہے حکومتِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان ان کی بات سنیں گے اور کرا چی کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔