Baaghi TV

Category: کراچی

  • ویڈیو:وزیراعلیٰ سندھ نے تینوں شہداء کی میتوں پر پھول چڑھائے

    ویڈیو:وزیراعلیٰ سندھ نے تینوں شہداء کی میتوں پر پھول چڑھائے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی آئی جی آفس آمد ہوئی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ نے کے پی او حملے میں شہید ہونے والے 2 پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی؛ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کے پی او حملے میں کانسٹیبل غلام عباس اور سعید نے جامِ شہادت نوش فرمائی؛وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں شہداء کی نمازِ جنازہ کے بعد اُن کے جنازے کو کاندھا بھی دیا  وزیراعلیٰ سندھ نے کے پی او کے خاکروب امجد مسیح کی آخری رسومات میں بھی شرکت کی  وزیراعلیٰ سندھ نے تینوں شہداء کی میتوں پر پھول چڑھائے

    اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی پولیس فورس پر فخر ہے جس نے بہادری سے دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا؛ہم کے پی او کے خاکروب امجد مسیح کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛امجد مسیح نے جان کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ ہمارا ہر شہری دشمنوں سے لڑنے کے لیے تیار ہے؛

    نمازِ جنازہ میں آئی جی پولیس اور ڈی آئی جیز اورپولیس کی بھاری نفری نے شرکت کی؛ شہداء کو سلامی دے کر سرکاری اعزاز کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا کی گئی؛چیف سیکریٹری سہیل راجپوت ، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کی؛ ایک پولیس اہلکار کی لاڑکانہ اور دوسرے کی کراچی میں تدفین ہوگی؛ امجد مسیح کی جسد خاکی فیصل آباد بھیجی جائے گی؛ امجد مسیح کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی؛

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

     قاری کی جانب سے بچوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے پر گھر والوں نے تشدد کیا

  • دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم کوملا ریلیف

    دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم کوملا ریلیف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم کو ریلیف مل گیا

    محکمہ داخلہ سندھ نے عدالت میں جواب جمع کروایا جس میں عدالت نے ڈاکٹر عاصم کو کلین چٹ دے دی،محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے عدالت میں دیئے گئے جواب میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم اور دیگر کیخلاف کوئی گواہ نہیں ملے، محکمہ داخلہ سندھ نے ساتھ درخواست میں استدعا کر دی کہ کیس واپس لیا جائے، تفتیشی افسر نے ابتدائی مراحل میں بھی عدم شواہد پر کیس اے کلاس کردیا تھا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 494 کے تحت ملزمان پر کیس ختم کیا جائے عدالت نے محکمہ داخلہ کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مارچ کے دوسرے ہفتے میں جواب طلب کرلیا

    واضح رہے کہ ضیا الدین اسپتال میں دہشتگردوں کے علاج معالجے کا مقدمہ 2015 میں رینجرز کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر عاصم، انیس قائمخانی، قادر پٹیل، وسیم اختر، رؤف صدیقی، عثمان معظم اور سلیم شہزاد کوبھی نامزد کیا گیا تھا، ڈاکٹر عاصم گرفتار بھی ہو چکے ہیں تا ہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہائی ملی،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

  • نیب کو ختم کردیں ورنہ حکومت نہیں چلے گی:شاہد خاقان عباسی

    نیب کو ختم کردیں ورنہ حکومت نہیں چلے گی:شاہد خاقان عباسی

    کراچی: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نیب کو ختم کیا جائے ورنہ حکومت نہیں چلے گی۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے3جمہوری حکومتیں گزرنےکےباوجودیہ ادارہ قائم ہے۔ نیب پاکستان کاسب سےکرپٹ اورمعاملات خراب کرنےوالاادارہ ہے۔ جب کوئی حکومت فیصلہ نہ کرسکےتوملکی معاملات نہیں چل سکتے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کا بہت بڑا واقعہ پیش آیا، ایک ایسا وقت بھی آیا تھا کہ دہشتگردی کے واقعات ختم ہوگئے تھے، اب دوبارہ دہشتگردی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ نیب کا ادارہ بن گیا ہے۔ جو ظلم نیب کے ادارے نے کیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ نیب سب اداروں کا نظام خراب کرنے والا ادارہ بن گیا ہے۔ معیشت میں بہتری نہ آنے کی ایک وجہ نیب کا ڈر ہے۔

    ملک بھر میں شب معراج آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے گزارش کروں گا کہ وہ نیب کے ادارے کو ختم کریں۔ میں اور میرے وکیل بھی 23 سالوں سے نیب کی عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ جو لوگ اس ملک کی خدمت کرتے رہے ہیں آج وہ عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ کبھی کیس میں کوئی نہیں آتا تو کبھی کوئی نہیں آتا۔

    زرداری پر قتل کی سازش کا الزام،شیخ رشید پرفردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب تک جاوید اقبال کا احتساب نہیں ہوتا اس وقت تک کچھ اچھا نہیں ہوسکتا۔ اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے ملک میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ ملک کے معاملات میں کسی بھی غیر آئینی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں نے اگر ن لیگ کو چھوڑا تو میں پھر گھر ہی جاؤں گا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے کئی برس تک پارٹی میں کوئی بھی عہدہ نہیں رکھا تھا۔ میں اپنی جماعت کے ساتھ ہوں، میرے لیڈر نواز شریف ہیں۔ میرے مریم نواز سے کوئی تحفظات نہیں ہیں۔ ملاقات کے دوران انہیں اپنے تجربے سے مشورے دیے۔انہوں نے مزید کہا کہ انصاف کے بھی دہرے معیار ہیں۔ بار بار ایسا دیکھا گیا ہے۔ ہمیں کسی قانون کا سہارا نہیں چاہیے۔ ہمارے خلاف کیس چلایا جائے۔ جس آئی جی نے کراچی میں امن قائم کیا وہ بھی 7 سالوں سے عدالتوں میں دھکے کھا رہا ہے۔

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    قبل ازیں احتساب عدالت میں پی ایس او میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر پیش ہوئے۔ عدالت نے سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی۔

  • کراچی پولیس آفس حملہ:وزیراعظم کا جام شہادت نوش کرنیوالوں کوشہداپیکج دینے کااعلان

    کراچی پولیس آفس حملہ:وزیراعظم کا جام شہادت نوش کرنیوالوں کوشہداپیکج دینے کااعلان

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر حملے میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو شہدا پیکج دینے کا اعلان کیا ہے۔

    شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید 2 پولیس، ایک رینجر اہلکار اور ایک سویلین کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی بھی کی جب کہ آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو شہدا پیکج دینے کا اعلان کیا۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تینوں افواج، رینجرز، پولیس سمیت مشترکہ آپریشن میں شریک تمام فورسز کو خراج تحسین کرتا ہوں، ایک گھنٹے طویل آپریشن میں فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مستعدی کا مظاہرہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشنل تیاری، پولیس کی استعداد میں اضافے پر فوری توجہ دینا ہوگی، دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پوری ریاستی قوت اور اشتراک عمل کو بروئے کار لانا ہو گا۔وزیراعظم نے حملے کے زخمیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    یاد رہے کہ کل شامکراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

     

     

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    کراچی:کراچی پولیس آفس میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے ناکام حملے میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ پولیس آفس کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔کلیئرنس آپریشن میں شریک اہلکاروں نے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد اللہ اکبر کے بلند نعرے بھی لگائے۔

    واضح رہے کہ آپریشن کے دوران رینجرز کے سب انسپکٹر تیمور اور پولیس اہلکار غلام عباس سمیت چار افراد شہید ہوئے تھے، جب کہ انیس زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں میں رینجرز کے لیفٹیننٹ کرنل جواد، ایس ایس یو کے ڈی ایس پی حاجی عبد الرزاق بھی شامل ہیں۔

    ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود میمن کے مطابق تین دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، سندھ پولیس ایسے حملوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

    کراچی میں پولیس آفس پر حملے میں شہید ہونے والے رینجرزکے سب انسپکٹر تیمور کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ رینجرز ہیڈ کوارٹر میں وزیراعلیٰ سندھ، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سميت دیگر افسران نے شرکت کی۔ شہید کی میت تدفین کیلئے شجاع آباد ملتان روانہ کردی گئی

    ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود میمن کے مطابق تین دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، سندھ پولیس ایسے حملوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

    کراچی پولیس چیف آفس پر حملے کے بعد آپریشن میں ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی۔ ایک کا تعلق لکی مروت اور دوسرے کا شمالی وزیرستان سے ہے۔دہشت گرد شام سات بجے کے قريب پولیس کی وردیوں میں عقبی راستے سے پولیس آفس ميں داخل ہوئے۔ دہشت گردوں کے پاس نیلے رنگ کے بیگز موجود تھے۔ کھجوریں اور چنے لے کر آئے تھے۔ پاک افواج کے کمانڈوز، رینجرز اور پولیس نے آپریشن میں حصہ لیا۔

    کرائم سین یونٹ نے دہشت گردوں کی گاڑی کا معائنہ مکمل کرلیا۔ سفید رنگ کی گاڑی سے دومیگزین بھی ملے ہیں۔ گاڑی سے بی ایس آر چھ سو چھتیس نمبرکی ایک اور نمبرپلیٹ ملی۔ کار نمبر اے ایل ایف زیرو فور تھری جس شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہے وہ گاڑی بیچ چکا ہے، جس نے خریدی اس نے بھی آگے بیچ دی۔ مگر نئے مالک نے اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروائی۔ گاڑی کے چوری ہونے یا چھینے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر مرحوم کے بلند درجات اور اہل خاندان کے صبرکے لیے دعا کی اورکہا کہ سندھ حکومت شہید سب انسپکٹر کے اہل خانہ کا ہر طرح خیال رکھے گی۔سندھ حکومت شہید سب انسپکٹر کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید سب انسپکٹر کی میت آبائی علاقے ملتان شجاع آباد روانہ کردی گئی، جہاں آبائی قبرستان میں شہید کو سپرد خاک کردیا جائے گا۔

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    یاد رہے کہ کل رات کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس پر حملے کے وقت تینوں چوکیاں خالی ہونےکا انکشاف

    کراچی:پولیس آفس (کے پی او) پر حملے سے متعلق تفتیش جاری ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے کے وقت تین چوکیوں میں سے کسی میں بھی کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس سے ملحقہ پولیس لائن صدرکوارٹرز میں داخلےکا کوئی سکیورٹی گیٹ نہیں، پولیس لائن کے کوارٹرز میں پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ رہائش پذیر ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد مبینہ طور پرکے پی او میں عقبی دیوار کود کر داخل ہوئے، کل حملےکے وقت تینوں چوکیوں پر کل کوئی نہیں تھا،کے پی او کی عقبی دیوار پر خاردار تار ٹوٹی ہوئی دیکھی گئی ہے،کے پی او کی مرکزی شاہراہ پرسی سی ٹی وی کیمرا نہیں صرف اطراف میں ہیں۔ دہشت گرد جس کار میں آئے تھے وہ صدر تھانے میں موجود ہے اور اس سے متعلق شواہد جمع کرلیےگئے ہیں۔

    کراچی: شاہراہ سے متصل صدر پولیس آفس کے قریب شدید فائرنگ

    یاد رہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا، بم ڈسپوزل اسکواڈ عمارت کا معائنہ کیا گیا ہے

  • کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی:پولیس ہیڈ آفس پردہشتگرد حملےسےچند گھنٹے قبل آئی جی سندھ غلام نبی میمن نےسینٹرل پولیس آفس کے واچ ٹاور پرخود جاکرمورچےاورعقبی ایمرجنسی گیٹ کی سکیورٹی چیک کی اور ہدایات جاری کیں۔سی پی اوذرائع کے مطابق آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع سندھ پولیس کے ہیڈ آفس کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آئی جی سندھ غلام نبی میمن اکیلے ہی سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کی طرف پہنچ گئے۔

    آئی جی سندھ نے ریلوے لائن کی طرف کے ایمرجنسی داخلی دروازے کو چیک کیا اور وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں جس کے بعد وہ سی پی او کی عمارت کے عقبی حصے کا معائنہ کرتے ہوئے عمارت کے واچ ٹاور تک پہنچ گئے۔

    غلام نبی میمن نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہوکر ریلوے لائن کی طرف کے عقبی حصے کو دیکھا اور وہاں پر سکیورٹی خدشات ظاہر کرتے ہوئے واچ ٹاور پر مزید اسنائپرز تعینات کرنے کا حکم دیا۔ سی پی او ذرائع کے مطابق اس دوران سینٹرل پولیس آفس کے انتظامی پولیس افسران بھی پہنچ گئے اور انہوں نے آئی جی سندھ کی ہدایات کے مطابق سکیورٹی سخت کرادی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے جمعہ کو پولیس دفاتر کیلئے سخت سکیورٹی خدشات ظاہر کیے گئے تھے تاہم حملہ آوروں نے سندھ پولیس ہیڈ آفس کی بجائے شام کو کراچی پولیس ہیڈ آفس پر حملہ کیا۔

  • کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    کراچی: بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔باپ کے قاتل کو 14 سال سے زائد عرصے کے بعد بیٹی نے تلاش کر کے دبئی میں انٹرپول کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا، ملزم کی گرفتاری کراچی پولیس کی مدد سے عمل میں لائی گئی جبکہ کراچی منتقلی کے لیے قانونی تقاضے پورے کئے جارہے ہیں۔

    ملزم کو 2009 میں عدالت نے مفرور قرار دیا تھا اور 2022 میں ملزم کاقومی شناختی کارڈ اورپاسپورٹ بھی بلاک کردیا گیا تھا۔26 اگست 2008 میں میٹھادر تھانے کی حدود میں واقع اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کی بلڈنگ نمبر 2 کی دسویں منلز پر اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے ریجنل چیف محمد احمد امجد کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے تھے۔

    رینجل چیف کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مقدمہ نمبر 2008/298 مقتول ریجنل چیف کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) اور عینی شاہد محمد عارف کی مدعیت میں میٹھادر تھانے میں درج کیا گیا تھا، مقدمے میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے سینئر منیجر سید تقی شاہ کو نامزد کیا گیا تھا پولیس نے جائے وقوع سے گولیوں کے خول، پستول اور عینی شاہدین کے بیان قلمبند کرنے کے بعد ریجنل چیف کے قتل میں ملوث ملزم کی تلاش شروع کردی تھی۔

    29 جنوری 2009 کو کیس کے انویسٹی گیشن آفیسر نے واقعے سے متعلق اپنی مکمل تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی جس پرعدالت نے ملزم کو مفرور قرار دے دیا تھا جبکہ 29 جنوری 2010 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج جنوبی 4 نے ملزم کے تاحیات ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کیس کو ملزم کی گرفتاری سے مشروط کر دیا تھا۔

    29 اکتوبر 2010 کو معززعدالت نے ایف آئی اے اور نادرا حکام کو حکم دیا تھا کہ ملزم کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا جائے جس پر نادر احکام نے 24 نومبر2022 کو ملزم کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے سے متعلق اخبارات میں اشتہار جاری کرایا تھا۔

    ڈسٹرکٹ سٹی انویسٹی گیشن پولیس کے مطابق ملزم سید تقی شاہ ریجنل چیف محمد احمد امجد کو قتل کرنے کے بعد یو اے ای فرار ہوگیا تھا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی اور ریجنل چیف کے قتل کے 14 سال سے زائد عرصے کے بعد یو اے ای میں ہی ملازمت کرنے والی مقتول کی بیٹی ماہم امجد نے اپنے والد کے قتل میں ملوث ملزم کو شناخت کرلیا۔

    مقتول کی بیٹی نے ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کو 18 نومبر 2022 کو ایک درخواست ارسال کی جس میں مقتول کی بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد کا قتل یو اے ای میں مقیم ہے جس پر ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایس پی انویسٹی سٹی کو انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی۔

    ایس پی انویسٹی سٹی نے ملزم کی سفری (ٹریولنگ) ہسٹری حاصل کی تو معلوم ہوا کہ ملزم 24 اکتوبر 2008 کو لاہورسے یو اے ای فرار ہوا جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی جس پر ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیا گیا۔

    25 جنوری 2023 کو انٹرپول کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ریڈ نوٹس جاری کیے جانے کی صورت میں ملزم سید تقی شاہ کو یو اے ای میں گرفتار کرلیا اور انٹرپول نے درخواست کی ہے کہ گرفتار ملزم کی حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات 30 دنوں کے اندر ارسال کیے جائیں جس پر پولیس حکام نے 3 روز میں حوالگی سے متعلق قانونی دستاویزات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ حکام کو ارسال کر دیے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے یواے ای میں گرفتار ملزم جلد کراچی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا، پولیس حکام کے مطابق ملزم سید تقی شاہ نے مبینہ کرپشن کی انکوائری کرنے پر ریجنل چیف محمد احمد امجد کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    کراچی:کراچی پولیس آفس حملے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں ’متاثرہ علاقے‘ میں جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کردی۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ “امریکی سفارت خانہ کراچی کے (علاقے) صدر میں سینٹرل پولیس آفس پر حملے کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور مقامی حکام وقوعہ پر موجود ہیں”۔

    امریکی سفارتخانہ نے نے مزید کہا کہ ’ہم امریکی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں، (متاثرہ) علاقے میں (جانے) سے گریز کریں، اور دوستوں اور اہل خانہ کو اپنی حفاظت کے بارے میں مطلع کریں۔”
    جرمنی کا اظہارِ مذمت

    دوسری جانب جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹز نے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جانیں گنوانے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ جرمنی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    یاد رہےکہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

  • کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    کراچی:جمعہ کو کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ مقدس حیدر نے بتایا کہ حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ایک دہشتگردچوتھی منزل پر اور 2 چھت پر ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک نے خود کو اڑایا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو مبینہ دہشت گردوں کی شناخت کفایت اللہ اور زالا نور کے نام سےہوئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکا کرنے والا دہشت گرد زالا نور ، شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھتا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارا گیا دہشت گرد کفایت اللہ لکی مروت کا رہائشی تھا۔تیسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    دوسری طرف بم ڈسپوزل اسکواڈ(بی ڈی ایس) نے کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے کی رپورٹ مرتب کرلی۔

    جمعہ کی شام کو کراچی پولیس آفس پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔

    بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے جسم پر نصب 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے ہیں۔رپورٹ کے مطابق دستی بم ناکارہ حالت میں ملے، ممکنہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے پھینکےگئے دستی بم پھٹ نہیں سکے، دہشت گردوں سے برآمد خودکش جیکٹس 8 سے 10 کلو وزنی تھیں۔بی ڈی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمارت کے گراؤنڈ فلور سے چوتھے فلور تک سرچنگ کی گئی، خودکش جیکٹس میکینیکل طرز پر بنائی گئی تھیں،جیکٹس میں الیکٹرونک سسٹم نہیں تھا۔