Baaghi TV

Category: کراچی

  • افغان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، بلاول بھٹو زرداری

    افغان اپنی سرزمین دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، بلاول بھٹو زرداری

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکام علاقائی امن کے لیے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ بلا اشتعال جارحیت علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور یہ خوشحالی کی اجتماعی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک افواج نے عزم، تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ بلا اشتعال حملے کا مؤثر جواب دیا، دہشت گرد گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن اور مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ پاکستان پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پاکستان کی مستقل پالیسی ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ افغان حکومت یہ یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الخوارج کی جانب سے بلا اشتعال حملہ کیا گیا، جس کے جواب میں پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔

    کراچی سمیت سندھ بھرمیں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

    جوابی کاروائی،افغان طالبان کی اشرف سر پوسٹ مکمل طور پر تباہ

  • کراچی سمیت سندھ  بھرمیں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

    کراچی سمیت سندھ بھرمیں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

    سندھ میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی، کسی قسم کے احتجاج، مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں اور پانچ سے زائد افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی۔

    محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی مفاد و امن عامہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے پیش نظر ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔فداری ضابطہ (کریمینل پروسیجر کوڈ) کی دفعہ 144 ایک قانونی شق ہے جو ضلعی انتظامیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی مخصوص علاقے میں محدود مدت کے لیے چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر سکے۔

    مزید کہا گیا:’ حکومت سندھ اس بات سے مطمئن ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور شرپسند عناصر کو عوامی سلامتی کے خلاف اجتماع کرنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ پولیس اسٹیشنوں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی ) کے تحت — یعنی ’ کسی سرکاری حکم کی نافرمانی’ — ان افراد کے خلاف مقدمات درج کریں جو پابندی کی خلاف ورزی کریں۔

    بنوں میں فتنہ الخوارج کا حملہ، حوالدار شہید، ایک جوان زخمی

  • 1 لاکھ 32 ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل لانچوں کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    1 لاکھ 32 ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل لانچوں کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے شعبہ کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے ساحلی راستے سے ہونے والی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بھری تین لانچیں پکڑ لیں۔ حکام کے مطابق ان لانچوں سے 132,564 لیٹر اسمگل شدہ ڈیزل برآمد کیا گیا ہے۔

    ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق میرین انفورسمنٹ یونٹ نے یہ کارروائی انسدادِ اسمگلنگ مہم کے دوران خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی۔ اطلاع ملی تھی کہ کچھ لانچیں ساحلی راستے سے اسمگل شدہ پٹرولیم مصنوعات کراچی منتقل کر رہی ہیں، جس پر ٹیم نے فوری طور پر کارروائی کا فیصلہ کیا۔کسٹمز حکام نے بتایا کہ میرین انفورسمنٹ ٹیم نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخصوص لانچوں کا سراغ لگایا اور انہیں روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ کارروائی کے دوران کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، جب کہ لانچوں کو بحفاظت کراچی پورٹ منتقل کر کے اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن (ASO) کے دفتر پہنچا دیا گیا۔

    ایف بی آر حکام نے کہا کہ ضبط شدہ ڈیزل اور لانچوں کی تفصیلات قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لی گئی ہیں۔ترجمان کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کی انسدادِ اسمگلنگ مہم پورے زور و شور سے جاری ہے اور ساحلی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ ایندھن، پٹرولیم مصنوعات، اور دیگر اشیائے صرف کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکے۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ ہفتوں میں ہونے والی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کی جا رہی ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت کے تحفظ بلکہ غیر قانونی تجارت کے خلاف ریاستی عزم کی علامت ہے۔

  • کراچی ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔مصطفیٰ کمال

    کراچی ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ دنیا آگے نکل چکی ہے، آرام کرنے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

    کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ دنیا ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چاہتی ہے، ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے، میں آپ سب میں سے ہی ایک ہوں، آپ کا حمایتی ہوں، مجھے اس منصب پر 6 ماہ ہوئے ہیں، آپ 60 سال کے مسائل بتاتے ہیں، میں ذمے داری لیتا ہوں، پہلے والوں پر الزام نہیں لگاؤں گا، ڈریپ میں میڈیکل آلات اور ادویات آتی ہیں، یہ وہ فورم نہیں کہ تمام مسائل بتائے جائیں، 24 گھنٹے فون پر موجود ہوں، چاہتا ہوں کہ چیزیں ٹھیک ہوں، اگر آپ کو مسائل حل کروانے ہیں تو آ کر ملنا پڑے گا،ہمارے پڑوس میں انڈسٹریز کا بڑا حصہ جا رہا ہے، میری کوئی دوا یا میڈیکل ڈوائیسز کی فیکٹری نہیں، آپ کو سہولت فراہم کرنا میری ذمے داری ہے، کراچی ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔

    قبل ازیں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کی قیادت میں پاکستان میں دواسازی صنعت کے فروغ کیلئے نئی سرمایہ کاری کا آغاز کر دیا گیا چینی اور جرمن کمپنیوں کے ساتھ ملاقات میں دوا سازی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات کو بڑھانے پر اہم پیشرفت ہوئی۔ ابتدائی طور پر 10 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید پلانٹ لگایا جائے گا۔ وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ پاکستان کو اب درآمدی نہیں بلکہ برآمدی دواسازی کی عالمی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔

  • کراچی ، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے نیٹ ورک کے 2 مشتبہ افراد گرفتار

    کراچی ، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے نیٹ ورک کے 2 مشتبہ افراد گرفتار

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے انٹیلیجنس بنیادوں پر خفیہ اداروں کے تعاون سے کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان کے مطابق گرفتار افراد حساس تنصیبات کی معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے منتقل کر رہے تھے۔ ملزمان سے موبائل فون اور مالی لین دین کے شواہد بھی برآمد ہوئے جبکہ فارنزک جانچ کے دوران مزید ثبوت حاصل کر لیے گئے ہیں۔ملزمان کے خلاف پیکا اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

    این سی سی آئی اے نے کہا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی آن لائن کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایجنسی کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

    محسن نقوی اور طلال چوہدری کا فیض آباد کا دورہ، سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

    چین کا امریکی جہازوں پر لنگر انداز ہونے کی فیس عائد کرنے کا اعلان

    علی امین گنڈاپور کا وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ گورنر کو موصول

  • خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل کر لیاگیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی عالمی سطح پر کامیابی، پاکستان کے لئے اعزاز ہے، ایف ٹی گلوبل فری زونز آف دی ایئر 2025 ایوارڈز میں شامل ہونا پاکستان کے لیے اعزاز ہے، یہ عالمی ایوارڈ سندھ کے صنعتی سفر میں ایک سنگِ میل ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون بین الاقوامی کامیابی حاصل کی ہے، ایف ڈی آئی میگزین نے خیرپور اسپیشل اکنامک زون کو ایشیا کے بہترین صنعتی زونز میں شمار کیا ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون ، چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے صنعتی زونز کے شانہ بشانہ قرار پایا ہے، یہ اعتراف سندھ حکومت کے پائیدار صنعتی ترقی اور جامع معاشی ترقی کے وژن کی توثیق کرتا ہے ، خیرپور اسپیشل اکنامک زون کی کامیابی سندھ کی پائیدار صنعتی پالیسی کا ثبوت ہے، سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ خیرپور اسپیشل اکنامک زون روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات کی علامت ہے،سندھ پاکستان کی صنعتی تبدیلی میں ایک نمایاں قوت کے طور پر ابھر رہا ہے،ہم علاقائی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں،ویلیو ایڈیڈ مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدی بنیاد کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،

  • جامعہ کراچی میں افسوسناک حادثہ،طالبہ کی موت،ڈرائیور معطل

    جامعہ کراچی میں افسوسناک حادثہ،طالبہ کی موت،ڈرائیور معطل

    جامعہ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے طلبہ و اساتذہ کو سوگوار کر دیا، جہاں سماجی بہبود سال دوئم کی طالبہ انیقہ سعید پوائنٹ سے گر کر جاں بحق ہوگئیں۔ یہ حادثہ شعبہ ریاضیات کے سامنے اس وقت پیش آیا جب وہ یونیورسٹی پوائنٹ پر اُتر رہی تھیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق، حادثہ ڈرائیور کی لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔ جیسے ہی انیقہ سعید بس سے اُترنے لگیں، ڈرائیور نے گاڑی اچانک چلا دیا، جس کے نتیجے میں وہ توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور زمین پر گر کر بس کے ٹائروں تلے آ گئیں۔ موقع پر موجود طلبہ نے فوراً ڈرائیور کو روکا، تاہم انیقہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شعبہ ٹرانسپورٹ کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو معطل کر دیا ہے اور واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے جاں بحق طالبہ کے والدین سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "انیقہ سعید کی ناگہانی موت پورے جامعہ خاندان کے لیے صدمہ ہے۔ ہم ان کے اہل خانہ کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔”

  • سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ ید مراد علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان لفظی گولہ باری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی امداد کی بات سیلاب متاثرین کیلئے کی اور جو بدمزگی ہوئی وہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ہمیں سب کچھ بھول کر صرف سیلاب متاثرین کی بحالی کی بات کرنی چاہیے تھی بلاول بھٹو کی زرعی ایمرجنسی اور کاشت کاروں کی بحالی کی تجاویز پر وفاق اور پنجاب عملدرآمد کررہے ہیں ، صدر سے وفاقی وزرا ملتے ہیں اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سعودی۔پاک مشترکہ بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ سندھ میں زراعت، توانائی، معدنیات، تعمیرات اور فوڈ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔

    سعودی-پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں کے 30 رکنی وفد کی وزیراعلیٰ ہاؤس آمد ہوئی،وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی کابینہ اراکین؛ شرجیل میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سعید غنی، ناصر حسین شاہ، اکرم اللہ دھاریجو اور چیف سیکریٹری کے ساتھ سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور وفد کا پرتپاک خیر مقدم کیا،وفد میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی، 30 سے زائد ممتاز کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شامل ہیں،وفد میں توانائی، انفراسٹریکچر، زراعت، لائیواسٹاک، کان کنی، تعمیرات، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے وابستہ شخصیات شامل ہیں،پاکستان بزنس کونسل، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور سعودی سفارت خانے کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے،

    سید مراد علی شاہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی و برادرانہ تعلقات کا اعتراف کیا، اور کہا کہ سندھ پاکستان کی معاشی ترقی کا گیٹ وے بننے کے لیے تیار ہے، ہم نے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنایا ہے، سرمایہ کار دوست اور اصلاحات پر مبنی ماحول سندھ حکومت کی ترجیح ہے،سعودی عرب کے ساتھ ہماری شراکت داری خطے کے معاشی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے،سندھ حکومت سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ کے 12 ترجیحی سرمایہ کاری کے شعبوں پر روشنی ڈالی،سعودی کمپنیوں کو زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر، لاجسٹیکس اور صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ حیدرآباد–سکھر موٹروے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی بلیو اور ییلو لائن ٹرانزٹ سسٹمز میں شراکت کی دعوت دی،ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کی سعودی وفد کو پیشکش کی گئی،وزیراعلیٰ سندھ نے اسپیشل اکنامک زونز کے قیام میں سعودی سرمایہ کاروں کو شرکت کی دعوت دی،

    وزیراعلیٰ سندھ اور سعودی وفد نےمشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیاوزیراعلیٰ سندھ کا کہناتھا کہ تعاون کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شعبہ جاتی ورکنگ گروپس ضروری ہیں، سندھ حکومت وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے ، سندھ حکومت کے وفاقی وزارت سرمایہ کاری، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے قریبی روابط ہیں،تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فزیبلٹی سے لے کر عملی نفاذ تک مکمل سہولت فراہم کی جائے گی،

    تقریب میں عوامی و نجی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اعلیٰ سطحی بزنس وفد کےساتھ آیا ہوں جس سے دونوں ممالک میں نئی شراکت داری قائم ہوگی، سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ہر شعبہ ذیلی کمیٹی قائم کر کے سرمایہ کاری کا آغا کیا جائے گا،کراچی پورٹ سٹی ہے، اور یہاں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں،

  • برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر  کی شرجیل میمن سے ملاقات

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی شرجیل میمن سے ملاقات

    کراچی میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے کراچی میں ملاقات کی۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کے دوران سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے صوبے کی توانائی پالیسی، جاری منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ توانائی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جن میں تھر کول پاور پلانٹس، سولر اور ونڈ ہائبرڈ توانائی منصوبے، اور گھروں کی سولرائزیشن پروگرام شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے سولر اور ونڈ ہائبرڈ پاور پلانٹس کے نئے منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے حکومت پاکستان اور برطانیہ کے اشتراک سے توانائی کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے، تاکہ توانائی اور قابل تجدید توانائی کے مزید منصوبے شروع کئے جا سکیں۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور سندھ حکومت مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور صاف توانائی کے فروغ کے ذریعے صوبے کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو سیلاب زدگان کے لئے دنیا کے سب سے بڑے ہائوسنگ منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ سندھ میں دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ مکانات سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے حکومت سندھ کے کاوشوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ قابل ستائش ہے ۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمیشن کی سینئر پولیٹیکل ایڈوائزر ہُدیٰ اکرام بھی موجود تھیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے معزز مہمانوں کو سندھی لنگی کے تحائف بھی پیش کئے۔

  • کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل زمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

    نیپرا نے کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا،نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کی وضاحتیں پاور بریک ڈاؤن کا جواز فراہم نہیں کرتیں،جنوری 2023 کے بریک ڈاؤن کی ذمہ داری صرف نیشنل گرڈ پر ڈالنا درست نہیں،کے الیکٹرک اپنے سسٹم کی کمزوریوں اور خامیوں کا ذمہ دار قرار ہے،کے الیکٹرک کی جوابات غیر اطمینان بخش اور ناقابل قبول قرار دئئے گئے،اتھارٹی نے کے الیکٹرک کو 15 روز کے اندر عائد جرمانہ جمع کرانے کا حکم دے دیا، نیپرا کے مطابق حوالہ تکنیکی طور پر درست مگر ناکافی ہےلائسنس ہولڈر کی جانب سے بلیک اسٹارٹ صلاحیت کی وضاحت غیر مؤثر ہے،بلیک اسٹارٹ مشق کے باوجود حقیقی بحران میں ناکامی ہوئیبار بار ٹرپنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات مؤثر نہیں تھے،بلیک اسٹارٹ پلانٹ کی تکنیکی خامیاں بدستور برقرار رہیں،نیپرا نے کے الیکٹرک جواب کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا موقع فراہم کیا،سماعت 14 نومبر 2024 کو ہونا تھی،کے ای کی درخواست پر مؤخر کی گئی تھی،اتھارٹی نے دوبارہ سماعت 20 مارچ 2025 کو نیپرا ہیڈ آفس میں کی.