Baaghi TV

Category: کراچی

  • خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل

    خیرپور اسپیشل اکنامک زون "ایشیا پیسیفک کے نمایاں صنعتی زونز” میں شامل کر لیاگیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی عالمی سطح پر کامیابی، پاکستان کے لئے اعزاز ہے، ایف ٹی گلوبل فری زونز آف دی ایئر 2025 ایوارڈز میں شامل ہونا پاکستان کے لیے اعزاز ہے، یہ عالمی ایوارڈ سندھ کے صنعتی سفر میں ایک سنگِ میل ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون بین الاقوامی کامیابی حاصل کی ہے، ایف ڈی آئی میگزین نے خیرپور اسپیشل اکنامک زون کو ایشیا کے بہترین صنعتی زونز میں شمار کیا ہے، خیرپور اسپیشل اکنامک زون ، چین، ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے صنعتی زونز کے شانہ بشانہ قرار پایا ہے، یہ اعتراف سندھ حکومت کے پائیدار صنعتی ترقی اور جامع معاشی ترقی کے وژن کی توثیق کرتا ہے ، خیرپور اسپیشل اکنامک زون کی کامیابی سندھ کی پائیدار صنعتی پالیسی کا ثبوت ہے، سندھ اکنامک زونز مینجمنٹ کمپنی کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ خیرپور اسپیشل اکنامک زون روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات کی علامت ہے،سندھ پاکستان کی صنعتی تبدیلی میں ایک نمایاں قوت کے طور پر ابھر رہا ہے،ہم علاقائی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ معیاری روزگار کے مواقع پیدا ہوں،ویلیو ایڈیڈ مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدی بنیاد کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،

  • جامعہ کراچی میں افسوسناک حادثہ،طالبہ کی موت،ڈرائیور معطل

    جامعہ کراچی میں افسوسناک حادثہ،طالبہ کی موت،ڈرائیور معطل

    جامعہ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے طلبہ و اساتذہ کو سوگوار کر دیا، جہاں سماجی بہبود سال دوئم کی طالبہ انیقہ سعید پوائنٹ سے گر کر جاں بحق ہوگئیں۔ یہ حادثہ شعبہ ریاضیات کے سامنے اس وقت پیش آیا جب وہ یونیورسٹی پوائنٹ پر اُتر رہی تھیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق، حادثہ ڈرائیور کی لاپرواہی کے باعث پیش آیا۔ جیسے ہی انیقہ سعید بس سے اُترنے لگیں، ڈرائیور نے گاڑی اچانک چلا دیا، جس کے نتیجے میں وہ توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور زمین پر گر کر بس کے ٹائروں تلے آ گئیں۔ موقع پر موجود طلبہ نے فوراً ڈرائیور کو روکا، تاہم انیقہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شعبہ ٹرانسپورٹ کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو معطل کر دیا ہے اور واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے جاں بحق طالبہ کے والدین سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "انیقہ سعید کی ناگہانی موت پورے جامعہ خاندان کے لیے صدمہ ہے۔ ہم ان کے اہل خانہ کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔”

  • سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ ید مراد علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان لفظی گولہ باری پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی امداد کی بات سیلاب متاثرین کیلئے کی اور جو بدمزگی ہوئی وہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ہمیں سب کچھ بھول کر صرف سیلاب متاثرین کی بحالی کی بات کرنی چاہیے تھی بلاول بھٹو کی زرعی ایمرجنسی اور کاشت کاروں کی بحالی کی تجاویز پر وفاق اور پنجاب عملدرآمد کررہے ہیں ، صدر سے وفاقی وزرا ملتے ہیں اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سعودی۔پاک مشترکہ بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ سندھ میں زراعت، توانائی، معدنیات، تعمیرات اور فوڈ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔سندھ حکومت سعودی عرب کے وژن 2030 سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے۔

    سعودی-پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں کے 30 رکنی وفد کی وزیراعلیٰ ہاؤس آمد ہوئی،وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی کابینہ اراکین؛ شرجیل میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سعید غنی، ناصر حسین شاہ، اکرم اللہ دھاریجو اور چیف سیکریٹری کے ساتھ سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور وفد کا پرتپاک خیر مقدم کیا،وفد میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی، 30 سے زائد ممتاز کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شامل ہیں،وفد میں توانائی، انفراسٹریکچر، زراعت، لائیواسٹاک، کان کنی، تعمیرات، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے وابستہ شخصیات شامل ہیں،پاکستان بزنس کونسل، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور سعودی سفارت خانے کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک تھے،

    سید مراد علی شاہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی و برادرانہ تعلقات کا اعتراف کیا، اور کہا کہ سندھ پاکستان کی معاشی ترقی کا گیٹ وے بننے کے لیے تیار ہے، ہم نے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنایا ہے، سرمایہ کار دوست اور اصلاحات پر مبنی ماحول سندھ حکومت کی ترجیح ہے،سعودی عرب کے ساتھ ہماری شراکت داری خطے کے معاشی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے،سندھ حکومت سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ کے 12 ترجیحی سرمایہ کاری کے شعبوں پر روشنی ڈالی،سعودی کمپنیوں کو زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر، لاجسٹیکس اور صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ حیدرآباد–سکھر موٹروے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی بلیو اور ییلو لائن ٹرانزٹ سسٹمز میں شراکت کی دعوت دی،ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کی سعودی وفد کو پیشکش کی گئی،وزیراعلیٰ سندھ نے اسپیشل اکنامک زونز کے قیام میں سعودی سرمایہ کاروں کو شرکت کی دعوت دی،

    وزیراعلیٰ سندھ اور سعودی وفد نےمشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیاوزیراعلیٰ سندھ کا کہناتھا کہ تعاون کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شعبہ جاتی ورکنگ گروپس ضروری ہیں، سندھ حکومت وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے ، سندھ حکومت کے وفاقی وزارت سرمایہ کاری، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے قریبی روابط ہیں،تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فزیبلٹی سے لے کر عملی نفاذ تک مکمل سہولت فراہم کی جائے گی،

    تقریب میں عوامی و نجی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اعلیٰ سطحی بزنس وفد کےساتھ آیا ہوں جس سے دونوں ممالک میں نئی شراکت داری قائم ہوگی، سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ہر شعبہ ذیلی کمیٹی قائم کر کے سرمایہ کاری کا آغا کیا جائے گا،کراچی پورٹ سٹی ہے، اور یہاں سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں،

  • برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر  کی شرجیل میمن سے ملاقات

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی شرجیل میمن سے ملاقات

    کراچی میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے کراچی میں ملاقات کی۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کے دوران سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے صوبے کی توانائی پالیسی، جاری منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ توانائی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جن میں تھر کول پاور پلانٹس، سولر اور ونڈ ہائبرڈ توانائی منصوبے، اور گھروں کی سولرائزیشن پروگرام شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے سولر اور ونڈ ہائبرڈ پاور پلانٹس کے نئے منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے حکومت پاکستان اور برطانیہ کے اشتراک سے توانائی کے منصوبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہاں ہے، تاکہ توانائی اور قابل تجدید توانائی کے مزید منصوبے شروع کئے جا سکیں۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور سندھ حکومت مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور صاف توانائی کے فروغ کے ذریعے صوبے کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کو سیلاب زدگان کے لئے دنیا کے سب سے بڑے ہائوسنگ منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ سندھ میں دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ مکانات سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

    برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے حکومت سندھ کے کاوشوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ قابل ستائش ہے ۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمیشن کی سینئر پولیٹیکل ایڈوائزر ہُدیٰ اکرام بھی موجود تھیں۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے معزز مہمانوں کو سندھی لنگی کے تحائف بھی پیش کئے۔

  • کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد

    کے الیکٹرک کی آپریشنل زمہ داریوں میں ناکامی ثابت،بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

    نیپرا نے کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا،نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کی وضاحتیں پاور بریک ڈاؤن کا جواز فراہم نہیں کرتیں،جنوری 2023 کے بریک ڈاؤن کی ذمہ داری صرف نیشنل گرڈ پر ڈالنا درست نہیں،کے الیکٹرک اپنے سسٹم کی کمزوریوں اور خامیوں کا ذمہ دار قرار ہے،کے الیکٹرک کی جوابات غیر اطمینان بخش اور ناقابل قبول قرار دئئے گئے،اتھارٹی نے کے الیکٹرک کو 15 روز کے اندر عائد جرمانہ جمع کرانے کا حکم دے دیا، نیپرا کے مطابق حوالہ تکنیکی طور پر درست مگر ناکافی ہےلائسنس ہولڈر کی جانب سے بلیک اسٹارٹ صلاحیت کی وضاحت غیر مؤثر ہے،بلیک اسٹارٹ مشق کے باوجود حقیقی بحران میں ناکامی ہوئیبار بار ٹرپنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حفاظتی اقدامات مؤثر نہیں تھے،بلیک اسٹارٹ پلانٹ کی تکنیکی خامیاں بدستور برقرار رہیں،نیپرا نے کے الیکٹرک جواب کا جائزہ لینے کے بعد سماعت کا موقع فراہم کیا،سماعت 14 نومبر 2024 کو ہونا تھی،کے ای کی درخواست پر مؤخر کی گئی تھی،اتھارٹی نے دوبارہ سماعت 20 مارچ 2025 کو نیپرا ہیڈ آفس میں کی.

  • صدر زرداری سےن لیگ وفد کی ملاقات، لفظی محاذ آرائی ختم کرنے پر اتفاق

    صدر زرداری سےن لیگ وفد کی ملاقات، لفظی محاذ آرائی ختم کرنے پر اتفاق

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطحی وفد نے زرداری ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتِ حال، حکومتی امور اور باہمی اعتماد کی بحالی پر گفتگو ہوئی۔

    وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے حالیہ لفظی محاذ آرائی ختم کرنے اور آئندہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کرنے پر اتفاق کیا۔وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صدر زرداری کو بتایا کہ ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی ہے اور جلد اس پیش رفت پر میاں نواز شریف کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات ہوگی، جس میں مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔

    مزید برآں یہ طے پایا کہ لندن، امریکا اور سعودی عرب کے حالیہ دوروں اور معاہدوں پر پیپلز پارٹی کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی، جبکہ حکومتی وزرا نے قومی پالیسی معاملات میں پیپلز پارٹی کو پیشگی اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کروائی۔ملاقات میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت اور باہمی رابطے مزید بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سیاسی ماحول میں تناؤ کم کرنے اور حکومت و اتحادیوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    سعودی کاروباری وفد کا پاکستان مٰیں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر زور

    اسرائیل اور حماس میں آج جنگ بندی ممکن ہے، ترک وزیرِ خارجہ

    ویمنز ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے پاکستان کو 107 رنز سے شکست دے دی

    کراچی میں فائر سیفٹی کا بحران، 80 فیصد عمارتیں غیر محفوظ قرار

  • کراچی میں فائر سیفٹی کا بحران، 80 فیصد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    کراچی میں فائر سیفٹی کا بحران، 80 فیصد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    کراچی (سعد فاروق) شہر قائد میں فائر سیفٹی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے، جہاں 80 فیصد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کا کوئی نظام موجود نہیں جبکہ 90 فیصد عمارتوں میں ایمرجنسی راستے تک نہیں، جس کے باعث لاکھوں شہری روزانہ خطرے کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام تیسری نیشنل فائر سیفٹی کانفرنس اور رسک بیسڈ ایوارڈز کی تقریب میں ماہرین نے خبردار کیا کہ بدعنوانی، غفلت اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث کراچی کسی بھی وقت بڑے سانحے سے دوچار ہوسکتا ہے۔آباد کے چیئرمین حسن بخشی نے کہا کہ جن عمارتوں کی تعمیر میں فائر سیفٹی کوڈز کو نظرانداز کیا گیا، انہیں این او سی جاری نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر محفوظ عمارتوں کو اجازت دینا شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

    ریسکیو 1122 کے سی ای او ڈاکٹر عابد جلال نے بتایا کہ نومبر 2024 سے اب تک کراچی میں 1700 سے زائد آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن کی بڑی وجہ شارٹ سرکٹ اور ناقص وائرنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آگ کی روک تھام کو ترجیح نہیں دی جائے گی، یہ واقعات بڑھتے رہیں گے۔ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں اب تک 2700 سے زائد آگ کے واقعات، 1041 ٹریفک حادثات، 10 لاکھ سے زیادہ میڈیکل ایمرجنسیز اور 448 ڈوبنے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے صدر کنور وسیم نے بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پہلے ہی 500 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی عمارتیں چند گھنٹوں میں آگ سے زمین بوس ہو جاتی ہیں، اگر احتیاط نہ کی گئی تو جانی نقصان کئی گنا بڑھ جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ 80 فیصد آگ کے واقعات کی وجہ ناقص وائرنگ ہے جبکہ گیس سلنڈر دھماکوں میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اصل حل فائر فائٹنگ نہیں بلکہ فائر پریوینشن ہے۔”

    مسجد اقصیٰ اور ابراہیمی مسجد پر اسرائیلی یلغار، فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ

    چکلالہ گیریژن میں لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ ادا

  • کراچی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 3 کارندوں کو دو بار عمر قید

    کراچی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 3 کارندوں کو دو بار عمر قید

    کراچی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 3 کارندوں کو دو، دو بار عمر قید کی سزا سنا دی۔

    عدالت نے مجرموں پر 2، 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔پراسیکیوشن کے مطابق تینوں ملزمان کو خفیہ اطلاع پر قائدآباد روڈ سے گرفتار کیا گیا تھا، جن کے قبضے سے دستی بم برآمد ہوئے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا اور سی ٹی ڈی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔عدالت نے جرم ثابت ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے مجرموں کو سخت سزا سنائی۔

    منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    چکلالہ گیریژن میں لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ ادا

  • پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب ،اہم فیصلے متوقع

    پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب ،اہم فیصلے متوقع

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے سی ای سی کا اجلاس 18 اکتوبر، ہفتہ کے روز بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کیا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت شریک ہوگی اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی جائے گی۔ترجمان پیپلزپارٹی کے مطابق اس اجلاس میں ملکی سیاست سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، جبکہ سیاسی حکمتِ عملی، عوامی رابطہ مہم اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں، اپوزیشن جماعتوں سے روابط، اور پارلیمانی امور پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل، معیشت اور صوبوں کو درپیش چیلنجز پر بھی پارٹی رہنماؤں سے رائے لی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہے جو سیاسی پالیسی اور آئندہ کے اقدامات طے کرتا ہے۔

    سندھ پولیس کا بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات پر ردعمل، تاجروں کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی

  • سندھ پولیس کا بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات پر ردعمل، تاجروں کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی

    سندھ پولیس کا بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات پر ردعمل، تاجروں کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی

    سندھ میں کاروباری برادری کی جانب سے بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کے بعد آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ تاجروں کے تعاون سے صوبے میں معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

    کراچی میں جرائم کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کا جائزہ لینے کے دوران آئی جی سندھ نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو تاجروں کے تعاون سے ختم کیا جائے گا۔ یہ رپورٹ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز نے پیش کی۔پولیس کے مطابق رواں سال اب تک کراچی میں بھتہ خوری کے 118 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 44 حقیقی بھتہ خوری کے کیسز تھے جبکہ 74 ذاتی جھگڑوں اور کاروباری تنازعات سے متعلق نکلے۔ ان 44 مقدمات میں سے 39 حل کر لیے گئے، یوں کامیابی کی شرح 87 فیصد رہی۔

    ترجمان پولیس سید سعد علی کے مطابق ان کیسز میں ملوث 78 ملزمان کی شناخت ہوئی، جن میں سے 43 گرفتار اور 5 مبینہ طور پر پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تقریباً 10 روز قبل تاجروں سے ملاقات کے بعد 4 بھتہ خور پولیس کارروائی میں ہلاک ہوئے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ تاجروں کے تعاون سے صوبے میں امن و امان اور کاروباری ماحول مستحکم ہو رہا ہے۔ انہوں نے تاجروں کی جانب سے اپنے مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے فیصلے کو سراہا اور یقین دلایا کہ حکومت سندھ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تاجروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    پولیس کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کے تحت روزانہ کی بنیاد پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال اسٹریٹ کرائمز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پنجاب میں الیکشن کمیشن کا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کاحکم خوش آئند ہے،حافظ طلحہ سعید

    بریکنگ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور مستعفی