Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں ہمارے بلدیاتی امیدواروں کواغواء کر لیا گیا ،تحریک لبیک پاکستان

    کراچی میں ہمارے بلدیاتی امیدواروں کواغواء کر لیا گیا ،تحریک لبیک پاکستان

    تحریک لبیک پاکستان کراچی کے امیر کا کہنا ہے کہ مفتی قاسم فخری کا کہنا ہے کہ ہم دعوی کرتے ہیں کہ کزشتہ رات ہمارے افراد اورنمائیندگان کو اغوا کای گیا ہے ان کو رات کو چھاپے مار کر اغوا کیا گیا ہے انہیں فوری طور پر بازیاب کرایا جائے.

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایک آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں اور جب ہم سڑکوں پے نکلتے ہیں تو پھر تمھاری چیخیں نکلتی ہیں کہ کیوں سڑکوں پر آگئے ہیں،ہم سڑکوں پر نہیں آنا چاہتے مگر ہمارا معاملات حل کئے جائیں کیوں ہمارے معاملات حل نہیں کرتے؟، کیوں ہماری سیٹ زبردستی اٹھا کر دوسرے کو دے دی گئی؟، کیوں ہماے بلدیاتی نمائیندوں کو اٹھایا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں آئینی طریقے سے رہنے دیا جائے ہم پاکستان کے شہری ہیں اورایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہیں کیوں ہمیں روکا جارہا ہے جب ہم آئینی طریقے سے آرہے ہیں.

    مفتی قاسم فخری نے کہا کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے،جن پولنگ اسٹیشنز پر انہوں نے دھاندلی کی ان پولیگ اسٹیشنز پر ہماری درخواست پر کیوں دوبارہ پولنگ نہیں کرائی گئی ،کس بات کا ڈر ہےآپ زبردستی جعلی طریقے سےاپنی مرضی سےنشتیں دیں گے تو پھرکیا فائدہ ، اس الیکشن کمیشن کو ختم کر دیں یہ ویسے ہی نااہل ہے ڈمی ہے.پھر آپ کسی سے 2 کروڑ لے لیں کسی سے 10 کروڑ لے لیں یا 20 کروڑ لے لیں اوراپنی مرضی کا ایم این اے اور ایم پی اے منتخب کر لیں پھر کیوں قوم کا پیسہ بھنسایا ہوا ہے کیوں وقت ضائع کررہے ہیں.

    آپ نے اگریہی کچھ کرنا ہے تو پھر اپنی مرضی سے لائیں لوگوں کو چھوڑیں جمہوریت کو کیوں جمہوریت کے نام پر ایسے کام کر رہے ہیں، ہم اس بات کو باور کرانے آئے ہیں اور اس بات کا پیغام دینے آئے ہیں کہ تحریک پاکستان کے اس وقت پورے پاکستان سے اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں خوفزدہ ہیں، ٹھریک لبیک پاکستان ملک کے کوئی بھی الیکشن ہوں خواہ وہ صوبائی ہون یا بلدیات کے الیکشن ہوں تحریک لبیک پاکستان انشاءاللہ کامیاب ہو گی.رات اندھیرے میں ہمارے بلدیات کے امیدواروں چیئرمینز،وائس چیئرمینز اور کونسلرز کو پولیس نے اغوا کیا ہے. ہم ان سے رابطہ کر رہے ہیں مگر وہ رابطے میں نہیں آرہے آج ان کاّذات کی اسکروٹی ہونا تھی اگر وہ نہیں پہنچیں کے تو ان کاّزات مسترد ہو جائیں گے.

  • ڈالر کی اونچی اڑان ،اوپن مارکیٹ میں212 روپے کا ہو گیا

    ڈالر کی اونچی اڑان ،اوپن مارکیٹ میں212 روپے کا ہو گیا

    کراچی کی اوپی مارکیٹ میں ڈالر کی اونچی اڑان ، اوپن مارکیٹ میں ڈالر ڈھائی روپے مہنگا ہو کر 212 روپے کا ہو گیا.آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیرکی وجہ سےکمی روپے پر دباؤ میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ کاروباری دن کی ابتداء میں ہی انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ گئی، کاروبار کے دوران امریکیڈھائی روپے مہنگا ہو گیا۔

    انٹر بینک میں ڈالر 1 روپیہ 33 پیسے مہنگا ہو کر 209 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ملک میں روپے کی بے قدری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور آج بھی انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں کاروبار کےآغاز سے ہی ڈالر پہلی بار 211 روپے کی ریکارڈ سطح پر موجود ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 207 روپے 67 پیسے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ 208 روپے 50 پیسے کی سطح پر موجود تھا۔

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کا رحجان جاری ہے، جون کے ابتدائی 17 دنوں میں ڈالر کا بھاؤ سوا 10 روپے بڑھ گیا ہے۔دوسری طرف کرنسی ڈیلرز کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کو ترتیب دینے کی فوری ضرورت ہے، اس وقت ملک کی جو معاشی صورتحال ہے یہ سٹے بازوں کے لئے انتہائی سود مند ہے، افواہیں گردش کررہی تھیں جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔

    پچھلےہفتےجن افواہوں کو سٹے بازوں نے اپنے حق میں استعمال کیا اس میں ایک افواہ یہ تھی کہ ملک میں فنانشل ایمرجنسی لگائی جارہی ہے جس کے تحت ڈالر اکاؤنٹ، روشن ڈیجٹل اکاؤنٹس اور سیف لاکرز منجمد کئے جارہے ہیں۔

    ان افواہوں کی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سٹیٹ بینک نے تردید بھی کی لیکن جب تک سٹے باز ان افواہوں کو استعمال کرچکے تھے۔

  • ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما

    ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما

    کراچی: ‏ہم ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے،ٹی ایل پی رہنما نے نتائج ماننے سے انکار کردیا ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے مرکزی رہنما اور ممبر سندھ اسمبلی مفتی قاسم فخری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پھرسسٹم بٹھا دیا گیا اور45 مںٹ تک نتائج کو روکا گیا ،

    مفتی قاسم فخری کا کہنا تھا کہ 302 پولنگ سٹیشن تک ہم جیت رہے تھے پھر اچانک سسٹم رک گیا 45 منٹ بعد جب دوبارہ چلا تو تحریک لبیک کو دوسرے نمبر پر کر دیا گیا ،

    ادھر غیرسرکاری اورغیرحتمی نتائج کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کےمحمدابوبکر10683 ووٹ لےکرجیت گئے ہیں جبکہ تحریک لبیک کےشہزادہ شہباز 10618 ووٹ لےکردوسرے نمبرپر ہیں ، ادھرکراچی سے اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایم کیوایم اپنی فتح کا جشن منارہی ہے،جبکہ ٹی ایل پی نے نتائج ماننے سے انکارکردیا ہے

    299 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے بعد سسٹم کا رک جانا تشویش کا باعث ہے ۔ہم جیت چکےتھے لیکن اب ہماری جیت چھیننے کی کوشش ہورہی ہے جسے ہرصورت ناکام بنائیں گے،ان خدشات کااظہارتحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنما مفتی قاسم فخری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی ہے

    مفتی قاسم فخری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے اندهیرے میں نتائج کی تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کی جاۓ گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا تو لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔

    ادھر کراچی سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہے کہ 309 میں سے 299پولنگ اسٹیشنزکاغیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ اس وقت سامنے آیا ہےجس کے مطابق تحریک لبیک کےشہزادہ شہباز 10272 ووٹ لےکرپہلے نمبرپر ،ایم کیوایم پاکستان کےمحمدابوبکر10261 ووٹ لےکردوسر ے نمبرپر، مہاجرقومی موومنٹ کےرفیع الدین فیصل8233 ووٹ لےکرتیسرےنمبرپر موجود ہیں‌

    این اے 240 کی نشست پر ضمنی الیکشن میں ووٹنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے، اس دوران ایم کیو ایم پر تحریک لبیک پاکستان کو برتری حاصل ہے جبکہ دن بھر کشیدگی دیکھی گئی اور فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق این اے 240 کے ضمنی الیکشن میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا کسی تعطل کے جاری رہی، پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری سکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دو سیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑے کے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے جبکہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے

    کراچی ضمنی انتخابات، حافظ سعد رضوی کی گاڑی پر فائرنگ

     

    پاکستان میں لیٹر گیٹ کی سازش

    یاد رہے کہ یہ نشست ایم کیوایم پاکستان کےاقبال محمدعلی خان کےانتقال پرخالی ہوئی تھی۔

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

  • این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    این اے 240: پولنگ کا عملہ غائب، نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے

    کراچی:کراچی کے حلقے این اے 240 ضمنی انتخاب کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی، لانڈھی میں فائرنگ کے بعد پولنگ اسٹیشن نمبر 53 سے پولنگ کا عملہ بھاگ گیا، عملہ غائب ہونے پر نامعلوم افراد نے بیلٹ باکس توڑ دیے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے تین زخمیوں کو نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، پانچ زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیاگیا ہے جن میں سے ایک کا انتقال ہوا۔

    خیال رہے کہ یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان ، پاک سرزمین پارٹی و دیگر جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔
    کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

    پولنگ کے دوران گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول انصاری محلہ یوسی 2 لانڈھی میں دوسیاسی جماعتوں میں تصادم ہوگیا، سیاسی جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنےکے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جھگڑےکے باعث متعدد سیاسی کارکن زخمی ہوگئے، پولیس نے صورت حال پر قابوپالیا۔

    ادھر لانڈھی نمبر 5 زمان آباد میں پریزائیڈنگ آفیسر اور سیاسی جماعت کے کارکن کو پولیس نے گرفتارکرلیا، دونوں افراد کےخلاف جعلی ووٹ کاسٹ کرنے کی شکایت کی گئی تھی۔

    ریجنل الیکشن افسرکے مطابق پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر پولنگ بک کی مبینہ ہیر پھیر کا واقعہ سامنے آیا، واقعہ پریزائیڈنگ افسرکےدفتر میں پیش آیا، جہاں پولنگ بک رکھی تھی وہاں نامعلوم شخص آیا اور پولنگ بک کھڑکی سےکسی کو دینےکی کوشش کی، پولیس اہلکار نے اس شخص کو پکڑ لیا اورپولنگ بک لے لی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کی خالی نشست پر پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گی جس میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    متحدہ قومی موومنٹ کے ابوبکر، مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل، پاک سرزمین پارٹی کے شبیر قائم خانی، پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریک لبیک کے کاشف قادری سمیت 25 امیدوار میدان میں ہیں جب کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی مقابلے میں موجود نہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

    اس سے پہلے ٹی ایل پی کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیاتھا کہ لانڈھی گوشت مارکیٹ پولنگ اسٹیشن نمبر1 ایم کیو ایم کی جانب سے جعلی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جس میں پریزائیڈنگ افسر بھی ملوث، ایک سیاسی جماعت کے کارکنان نے بیلٹ باکس پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    کراچی:حلقہ این اے 240 میں ضمنی الیکشن،پولنگ کا عمل شروع

    اس حوالے سے ٹی ایل پی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ کراچی ضمنی الیکشن این اے 240 میں ٹی ایل پی ضلع جنوبی کے امیر علامہ سلطان مدنی نے ایم کیو ایم کے کارکن کو بیلٹ پیپرز چوری کرنے پر پولیس کے حوالے کیا ہے ، ٹی ایل پی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر کو بھی پولیس کے حوالے کیا گیا.

    ادھر اطلاعات کے مطابق کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    اس حلقے میں پولنگ اسٹیشن نمبر 66 اور 67 پر ووٹنگ سست روی کا شکار ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی غلطی تھی،حماد اظہر

    پریذائیڈنگ آفیسر کے مطابق پولنگ اسٹیشن 66 اور 67 پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ سست ہے، امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی آمد میں تیزی آئے گی۔این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں ڈی آر او ندیم حیدر نے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے240 پرضمنی انتخاب کاشیڈول جاری

    اس موقع پر ڈی آر او ندیم حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حلقے میں 203 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز میں تیاریاں مکمل ہیں، جبکہ حکومت نے اس حلقے میں آج چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق حلقے میں پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
    قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں لانڈھی اور کورنگی کے علاقے شامل ہیں، تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر پولیس کی نفری تعینات کی گئی ہے۔ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں گزشتہ روز ہی پولنگ کا سامان پہنچا دیا گیا تھا۔

    حلقہ این اے 240 میں 5 لاکھ 29 ہزار سے زائد ووٹرز ہیں، 309 پولنگ اسٹیشنز اور 1236 پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں۔

    اس حلقے میں 106 پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیئے گئے ہیں۔انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز اور 812 پولنگ بوتھس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    حلقہ این اے 240 کی نشست ایم کیو ایم کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔اس حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 25 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

    https://twitter.com/WaqasJuttReal/status/1537335249264328706

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے امیدوار محمد ابوبکر اپنی جماعت کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جبکہ مہاجر قومی موومنٹ کے رفیع الدین فیصل اور پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے شبیر قائم خانی ان کے مقابلے میں موجود ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست جیتنے کے لیے پیپلز پارٹی کے ناصر لودھی اور تحریکِ لبیک پاکستان کے کاشف قادری بھی ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی مقابلے میں شامل نہیں۔

  • روپے کی قدر میں مسلسل کمی، ڈالر 207 روپےسے بڑھ گیا

    روپے کی قدر میں مسلسل کمی، ڈالر 207 روپےسے بڑھ گیا

    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیرکی وجہ سےکمی روپے پر دباؤ میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ کاروباری دن کی ابتداء میں ہی انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ گئی، کاروبار کے دوران امریکی ڈالر1 روپے29 پیسے مہنگا ہو گیا۔

    فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں امریکی انٹر بینک میں ڈالر 207 روپے 75 پیسے کا ہو گیا۔

    گزشتہ روز بھی ڈالر کی اونچی اڑان رہی .گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر مزید 1 روپے 30 پیسے اور اوپن مارکیٹ میں 2 روپے مہنگا ہو گیا تھا۔اس اضافے کے بعد انٹر بینک میں امریکی ڈالر 206 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 207 روپے کی حد بھی عبور کر گیا تھا۔

    باغی ٹی سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قیمتِ خرید 1روپے 15 پیسے کے اضافے سے 205 روپے 25 پیسے سے بڑھ کر 206 روپے 40 پیسے اور قیمتِ فروخت 1روپے 30 پیسے کے اضافے سے 205 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 206 روپے 80 پیسے ہو گئی تھی۔ بدھ کو یورو کی قیمت میں 3 روپے اور پاؤنڈ کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے کا اضافہ ہوا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج صبح کاروبار کا ملا جلا آغاز ہوا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبارہ کے آغاز میں 100 انڈیکس 93 پوائنٹس کمی سے 41345 ہے۔

  • 6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

    6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے :نصراللہ ملک

    لاہور:6 ارب کے پو دے کہاں گئے ،اس سے بڑا فراڈ کیا ہو سکتا ہے،ان خیالات کا اظہارکرتے ہوئے سینیئرصحافی نصراللہ ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیا ،ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی طرف سے پیش کیئے گئے حقائق درست نہیں تھے

    ذرائع کےمطابق پاکستان میں شجرکاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کھرا سچ کے میزبان مبشرلقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نصراللہ ملک نے کہا کہ خان صاحب بار بار یہ کہتے رہے کہ انہوں نے پانچ ارب درخت لگائے ہیں ، جبکہ حکومت کے پی کہہ رہی ہے کہ ایک ارب اسی کروڑ درخت لگائے گئے ہیں

     

     

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے کرپشن کی اس کہانی کی معلومات اکھٹی کی ہیں وہ باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں اورایک سسٹم کے تحت یہ سب کچھ کیا،ان کا کہنا تھا کہ اتنی زیادہ تعداد میں درخت لگانا بہت ہی مشکل بات ہیں لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ ان درختوں کو لگانے والے مزدوروں کو چھ ارب دے دیئے گئے،

    ایک موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان کو شاید یہ بھی پتہ نہیں کہ ارب میں کتنے صفر ہوتےہیں اور وہ بات کرتے ہیں کہ دس ارب درخت لگائیں گے جبکہ ایسا نہیں ہوسکا

    نصراللہ ملک نے کہا کہ اس دعوے کے خلاف آوازاٹھتی رہی لیکن عمران خان نے جس طرح نیب کو استعمال کیا تو کیسے ممکن تھا کہ کوئی یہ جرات کرسکے کہ اتنی بڑی کرپشن کا حساب دیں‌،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بہرکیف عمران خان نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کرسکے ، بلکہ الٹا کرپشن کی ایک داستان کی بنیاد رکھ دی جس کا حساب بہت جلد ان کو دینا پڑے گا

  • ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں : خواجہ اظہار الحسن

    ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں : خواجہ اظہار الحسن

    کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے سندھ کے بجٹ کو روایتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نمبر گیم کے حساب سے یہ بجٹ دلفریب ہے ۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں ۔
    منگل کو سندھ اسمبلی میڈیا کارنر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف رقم مختص کردینا کافی نہیں ہے ۔
    ترقیاتی بجٹ اسکیموں کہ لئے مختص کئے جاتے ہیں ۔وفاقی حکومت نے صرف6 ارب رکھے ۔13 ارب ٹرانسپورٹ کے لئے نا کافی ہیں ۔
    پانی کا جو پروچیکٹ 25 ارب کا تھا اب 150 ارب پر پہنچ گیا ہے ۔وزیر اعلی اور وزیر اعظم کا ساڑھے تین سال جھگڑا چلتا رہا جس سے عوام کا بیڑا غرق ہواہے ۔انہوںنے کہا کہ سندھ پپلک سروس کمیشن کے ممبر مشاورت سے لگائے جائیںگے ۔اب نوکری کے لئے ڈومیسائل کی تصدیق ہوگی۔کرپشن کا ریٹ کم کرنا ہوگا ۔تیس فیصد اگر کرپشن ہے تو اس میں ایک سو بیس ارب چلے جائیںگے ۔ٹھیکوں کی بندر بانٹ کو بند کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات سست روی کا شکار ہیں ۔سندھ میں روایتی ٹیکس فری بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔نمبر گیم کے حساب سے تو بجٹ دلفریب ہے ۔

  • میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

    میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

    میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے،دعا زہرہ کے والد کا انٹرویو پر بڑا ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے شہر قائد کراچی سے گھر سے بھاگ کر پنجاب میں آ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کا انٹرویو سامنے آنے کے بعد دعا کے والد مہدی کاظمی کا رد عمل سامنے آیا ہے،

    دعا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ انٹرویو کرنے والی خاتون اینکر کے خلاف عدالت جائیں گے اور قانونی کاروائی کریں گے، دعا کے والد نے اپنی بیٹی کے انٹرویو پر رد عمل میں کہا کہ مجھے اس کا اندازہ تھا کہ اس قسم کی ویڈیو سامنے آئیں گی اور ہو سکتا ہے کچھ دنوں میں مزید ویڈیوز سامنے آ جائیں بچی ان کے قبضے میں ہے وہ جو چاہے اس سے بلوائیں جو خاتون انٹرویو کررہی ہیں وہ دعویٰ کررہی ہیں کہ ظہیر اور دعا سے ان کا رابطہ شروع سے تھا میں انہیں قانونی نوٹس بھیجنے کے لیے اس وقت سپریم کورٹ میں ہوں ابھی دیکھے گا یہ سب دوبارہ غائب ہوجائیں گے۔

    دعا زہرہ کے والد کا مزید کہنا تھا کہ اس ویڈیو میں جو باتیں تھیں سب جھوٹ کا پلندا تھا میری بیٹی ایک گینگ کے قبضے میں ہے اور ذہنی دباو کا شکار ہے

    دوسری جانب دعا زہرہ کیس میں دعا کے والد نے جبران ناصر کو اپنا وکیل مقرر کر دیا ہے، جبران ناصر اب اس کیس میں عدالت میں پیش ہوں گے، جبران ناصر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا کہ میں اب اس کیس مین عدالت میں پیش ہوں گا الطاف کھوسو نے اچھے سے کیس کو لڑا ہے لیکن اب یہ کیس ہائے پروفائیل کیس ہے ٹرائل کورٹ میں ہونے والی سماعت پر میں اپنا وکالت نامہ جمع کرائوں گا بچی کے حوالے سے سب حقائق دیکھ کر بات کروں گا

    دعا زہرہ کیس اور کڑوا سچ، مافیا اور گینگ قانون سے کھیلنے لگا

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

  • سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ہزار 713 ارب کا سال 23-2022 کے لیے ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت کی مجموعی وصولیوں ایک ہزار 679 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ جبکہ اخراجات ایک ہزار 713 ارب 58 کروڑ 31 لاکھ روپے ہوں گے جو 33 ارب کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ملین ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)، 51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپیٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ بورڈ آف ریونیو 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، 30 ارب روپے ضلع اے ڈی پی، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جو 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے مذکورہ مدت کے دوران 19.7 ارب روپے کے نتیجے میں 45 ارب روپے براہ راست منتقلی اور OZT میں 18.9 ارب روپے وصول کیے۔

    صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ یہ رواں سال کے دوران 222.5 ارب روپے ہے۔ ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے جیسا کہ رواں مالی سال کے دوران کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں، کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاری 2506 اسکیموں کے لیے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور 1652 نئی اسکیموں کے لیے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ مالی سال 23-2022 میں 1510 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.وزیراعلیٰ سندھ نے 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے حامی، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے قابل قبول شرح پر ضم کیا جا رہا ہے اور بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن کو ہی متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا بھی اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ادا کیا جائے گا جبکہ ریلیف الاؤنسز 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 یکم جولائی 2022 سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کے پنشنرز کو پہلے ہی فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں 22.5 فیصد اضافہ مل رہا ہے اس لیے سندھ حکومت یکم جولائی 2022 سے پنشنرز کو خالص پنشن سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خالص پنشن میں 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے 15 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں خالص پنشن پر حکومت سندھ کے پنشنرز کو اب بھی 12.5 فیصد زیادہ ملیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ریکروٹنگ ایجنٹس‘ کے لیے 5 فیصد کم کردہ SST کی شرح اگلے دو سال یعنی 30 جون، 2024 تک جاری رہے گی۔ یہ ریلیف بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کی طرف سے فراہم کردہ خدمات پر 10 فیصد کی کمی کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا، موجودہ ریلیف کو 30 جون 2024 کو ختم ہونے والی دو سال کی مزید مدت کے لیے بڑھانے کی تجویز ہے۔

    کیبل ٹی وی آپریٹرز کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، بشمول دیہی علاقوں کے کیبل ٹی وی آپریٹرز کو پیمرا لائسنس کے تحت ’R‘ زمرہ کے ایس ایس ٹی سے 30 جون 2023 تک مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ہوم شیفز سے فوڈ ڈیلیوری چینلز (جیسے فوڈ پانڈا، چیتے لاجسٹکس وغیرہ) کے ذریعے موصول ہونے والے کمیشن چارجز پر ایس ایس ٹی کی شرح 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے دو سالوں کے لیے 13 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

    دیگر تمام معاملات میں کمیشن ایجنٹس کے ذریعہ فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات SST کے لیے 13 فیصد لاگو رہیں گی۔ ہیلتھ انشورنس خدمات پر موجودہ چھوٹ 30 جون 2023 تک ایک سال کی مدت کے لیے مزید جاری رہے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہے، اس کے لیے 326.80 ارب مختص کیے گئے ہیں جو بجٹ کے کل اخراجات کا 25 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

    سندھ حکومت نے کم از کم سات اضلاع کورنگی، کراچی غربی، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں ایک ایک مکمل یونیورسٹی یا ایک تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکل، ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوگی، جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپسز ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے محکمہ داخلہ بشمول سندھ پولیس اور جیلوں کے لیے کل مختص رقم کو رواں مالی سال کے دوران 119.98 ارب سے 124.873 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی پی 23-2022 میں محکمہ زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص رقم 36.2 ارب روپے ہے۔

    واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کو مالی سال 23-2022 میں 224.675 ارب دیے گئے ہیں، شہر کی دو بڑی اسکیموں کو آنے والے مالی سال کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔

    ان میں 9.423 ارب روپے سے گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اور 511.724 ارب روپے کی لاگت سے گریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم K-IV اضافے کا کام شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے اس شعبے کے بجٹ کو اگلے مالی سال 23-2022 کے لیے 8 ارب سے بڑھا کر 12 ارب کردیا ہے۔

    حکومت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آپریشنز کو اگلے مالی سال میں دیگر اضلاع تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں حیدرآباد، قاسم آباد، کوٹری، سکھر سٹی اور روہڑی شامل ہیں۔

    خریداری کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر میں آپریشن شروع ہو جائے گا۔ SSWMB کی توسیعی کارروائیوں کے پیشِ نظر کام کیا جائے گا۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں محکمہ سماجی تحفظ کے لیے 15.435 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں، یتیموں اور غریبوں کی بہبود اور اسے بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال 23-2022 سے کئی سماجی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں اور انہیں مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں سندھ کی کابینہ نے 23-2022ء کے لیے 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظور کر لیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیر، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ ہے، جس میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ا

  • کراچی میں روٹی کی تمام اقسام میں 2 سے 15 روپے کا اضافہ

    کراچی میں روٹی کی تمام اقسام میں 2 سے 15 روپے کا اضافہ

    کراچی : کراچی میں روٹی کی تمام اقسام کی قیمتوں میں 2 سے 15 روپے کا اضافہ ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد تندور مالکان نے چپاتی، نان، شیرمال، کلچہ اور تافتان سمیت تمام اقسام کی روٹیوں کی قیمتوں میں پیداواری لاگت بڑھنے کے سبب 2 سے 15 روپے تک اضافہ کردیاگیا ہے۔
    مارکیٹ سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ 10 روپے میں چپاتی فروخت کرنے والے تندور مالکان اب اسے 12 روپے میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ جن کے پاس تندور نہیں ہیں وہ اب وہی چپاتی وزن اور ذائقہ کے لحاظ سے معیار میں بہتری کے دعوے کے ساتھ 12 روپے کے بجائے 15 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔کم معیار اور کم وزن کی چپاتی اب 8 روپے کے بجائے 10 روپے میں دستیاب ہے، 15 روپے میں نان بیچنے والے تندور مالکان اب 18 روپے فی روٹی کا مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ کچھ بڑے تاجروں نے نان کا ریٹ 20 روپے مقرر کیا ہے جو کہ ماضی قریب میں 18 روپے تھا، دودھ کے ذائقے والے نان کی نئی قیمت 30 روپے کے بجائے 35 روپے کر دی گئی ہے۔

    شیرمال اور تافتان کے نئے نرخ 45 سے 50 روپے سے بڑھ کر 60 روپے کردئیے گئے ہیں جبکہ بہتر معیار اور زیادہ وزن والے شیرمال اور تافتان 60 روپے کے بجائے 70 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں، بہتر معیار کے کلچے کی قیمت ماضی قریب میں 45 سے 50 روپے سے بڑھ کر اب 50 سے 60 روپے کے درمیان ہے۔تندور مالکان کے مطابق تندور مالکان آٹا، گھی، پیکیجنگ میٹریل، گیس اور بجلی کے ٹیرف اور چینی کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ برداشت نہیں کر سکتے اس لیے وہ صارفین پر بوجھ منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے آخری 3 ماہ میں 3 ہزار 700 روپے کے عوض ملنے والا 50 کلو آٹے کا تھیلا اب 4 ہزار 100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ 5 ہزار 250 روپے کے عوض ملنے والا 16 کلو گھی کا کنستر اب 9 ہزار 400 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔25 کلو گرام فل کریم دودھ (بالائی سے بھرپور دودھ) کا تھیلا ساڑھے 13 ہزار روپے سے بڑھ کر اب 20 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔