Baaghi TV

Category: کراچی

  • تحریک انصاف کا آئی جی سندھ کو ہٹانے کا مطالبہ

    تحریک انصاف کا آئی جی سندھ کو ہٹانے کا مطالبہ

    کراچی : ایم کیو ایم کی بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی پرامن ریلی پر طاقت کا استعمال کیا گیا حالات خراب کرانے کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا ہے وزیر اعلیٰ سندھ کی انکوائری کمیٹی خود کو بچانے کے لئے بنائی ہے فوری طور پر آئی جی سندھ کو ہٹایا جائے

    ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا پیپلزپارٹی اب وہ پارٹی نہیں جو بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی تھی اس وقت پیپلزپارٹی ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہیں ۔ سندھ اسمبلی میں ڈکٹیٹرشپ قائم ہے سندھ اسمبلی فلور پر کسی اپوزیشن کے ارکان کو بولنے نہیں دیا جاتا قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کا کوئی نمائندہ نہیں مقرر کیا گیا ہے۔

    ایم کیو ایم پی کی بلدیاتی قانون کے خلاف نکالی گئی پرامن ریلی پر طاقت کا استعمال کیا گیا حالات خراب کرانے کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ ہیں وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا ہے وزیر اعلیٰ سندھ کی انکوائری کمیٹی خود کو بچانے کے لئے بنائی ہے فوری طور پر آئی جی سندھ کو ہٹایا جائے ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا پیپلزپارٹی اب وہ پارٹی نہیں جو بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی تھی اس وقت پیپلزپارٹی ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہیسندھ اسمبلی میں ڈکٹیٹرشپ قائم ہے سندھ اسمبلی فلور پر کسی اپوزیشن کے ارکان کو بولنے نہیں دیا جاتا قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کا کوئی نمائندہ نہیں مقرر کیا گیا ہے۔

  • جماعت اسلامی کے تحت بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر جاری دھرنا 29ویں روز میں داخل

    جماعت اسلامی کے تحت بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر جاری دھرنا 29ویں روز میں داخل

    کراچی : جماعت اسلامی کے تحت کالے بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے باہر جاری دھرنا 29ویں روز میں داخل ہوگیا ہے ،دھرنے میں معمول کی سرگرمیوں ،منتخب وفود کی آمد اور دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ۔

    امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو ،مختلف وفود اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ سے زائد عوام کے جائز اور قانونی حقوق پر مبنی مطالبات کی منظوری ،سندھ حکومت سے تحریری معاہدے اور عملی معاہدے کے بغیردھرنا ختم نہیں کریں گے ۔
    اہل کراچی کے حق کے لیے جاری پر امن جمہوری ،آئینی و قانونی جدوجہد کو مزید آگے بڑھائیں گے ۔
    جمعہ 28جنوری کو اپنے اعلان کے مطابق کراچی کی اہم شاہراؤں نیشنل ہائی وے پر ایبٹ لیبارٹری ،،سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ،شاہراہ فیصل پر ڈرگ روڈ،ماڑی پورٹرک اڈہ اورلسبیلہ چوک دھرنا دیں گے اور بند کردیں گے سوائے ایمبولینس کے کسی کو راستہ نہیں دیں گے۔

    ہم مقامات بتا کر دھرنا دے رہے ہیں اب سندھ حکومت اور ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریفک کے لیے متبادل راستے متعین کرے۔مفرور حکومتی مذاکرتی ٹیم ہے ،مذاکرات سے انکار نہیں لیکن جو ہوگا عوام اور میڈیا کے سامنے ہوگا ۔پیپلزپارٹی والے ہمیں سڑکوں پر نکلنے سے منع کررہے ہیں وہ بتائیں کہ ان کی ریلیاں کیا ہواؤں اور خلاؤں میں نکل رہی ہیں ۔
    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ سندھ حکومت ٹنڈو الہ یار اور وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دینے والے واقعات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے ۔پر امن احتجاج ہر پارٹی کا جمہوری اور آئینی حق ہے پولیس تشدد کی ہم مذمت اور اسلم نامی شخص کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہیں ۔سندھ حکومت ایسے اقدامات اور طرز عمل سے بازر ہے جس سے لسانیت اور عصبیت کو ہوا ملے ۔
    ایم کیو ایم بھی واضح کرے کہ اسلام کو دل کا دورہ کہاں پڑا ،تشدد سے جان گئی یا جو کچھ بھی ہوا اس کی تحقیقات کرائی جائے اور اس معاملے میں کوئی ابہام نہ چھوڑا جائے ۔شہر قائد کو دوبارہ 35سال والے ان حالات کی طرف نہ جانے دیا جائے جن سے بہت مشکل سے یہ شہر نکل سکا ہے ،یہ شہر جلاؤ گھیراؤ ،پرتشدد اور لسانیت وعصبیت کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔جماعت اسلامی کی پر امن آئینی وقانونی اور سیاسی جدوجہد کالے بلدیاتی قانون کے خلاف اور28دن سے مسلسل جاری رہنے والے دھرنے نے نئی تاریخ رقم کی ہے ،سخت سردی اور طوفانی ہواؤں میں بھی اہل کراچی کے حقوق کے لیے ڈٹے رہے ۔
    ہمارا دھرنا کالے بلدیاتی قانون کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر اور توانا آواز ثابت ہوا اور اس دھرنے نے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے ،دھرنے کے شرکاء اور عوام کی جانب سے دھرنے کو مسلسل پذیرائی پر ہم سب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی وسیاسی حقوق و مطالبات کے لیے پر امن جمہوری جدوجہد ہی ضروری ہے ،تشدداور جلاؤ گھیراؤ سے وقتی مقاصد کا حصول اور منفی جذبات تو بھڑکائے جاسکتے ہیں دیر پا نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے ۔

  • ہوٹل میں چھری کے وار سے قتل شخص کی لاش ملنے کے واقعے میں اہم پیشرفت

    ہوٹل میں چھری کے وار سے قتل شخص کی لاش ملنے کے واقعے میں اہم پیشرفت

    کراچی : کراچی کے ایک ہوٹل میں چھری کے وار سے قتل شخص کی لاش ملنے کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوگئی ، دوست کو قتل کرنے والے ملزم اسامہ کا بیان سامنے آگیا ۔

    باغی نیوز کے مطابق شہر قائد کے علاقہ صدر کے ایک ہوٹل میں چھری کے وار سے قتل کیے گئے شخص کی لاش ملنے کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جہاں دوست کے قاتل نے اپنے بیان میں اہم انکشافات کردیے ، ملزم اسامہ نے بتایا کہ دوست یاجد کے ساتھ ہوٹل پہنچ کر ساتھ ناشتہ کیا پھر اسے قتل کردیا کیوں کہ مقتول یاجد مجھے غلط کام پر مجبور کرتا اور اس کے لیے تنگ بھی کرتا تھا، اس سے بلیک میل کرکے بدفعلی کرنے کا بدلہ لے لیا ۔
    ملزم نے کہا کہ میں اور یاجد بونیر سے تعلق رکھتے ہیں ، ہم ایک ہی مدرسے میں ساتھ پڑھتے تھے ، جہاں یہ مجھے غلط کام پر مجبور کرتا تھا اور میری شکایت پر یاجد کو مدرسے سے نکال دیا گیا لیکن اس نے مجھے اس دن فون کرکے ہوٹل بلایا تھا ، میں سمجھا دوبارہ دوستی کرنے کے لیے بلایا ہے لیکن وہ ایک بار پھر غلط حرکت کرنے لگا ، جس کے لیے اس نے چھری نکال کر مجھے ڈرایا اور مارنے لگا لیکن میں نے اسے لات ماری تو وہ دور جاگرا ۔

    اسامہ کے مطابق میں نے پہلے اسے مکے مارے اور پھر چھری کے وار کرکے اسے قتل کردیا کیوں کہ اگر اسے نہ مارتا تو وہ مجھے قتل کردیتا ، میں واردات کے بعد بونیر فرار ہورہا تھا کہ پولیس نے مجھے اسٹاپ سے گرفتار کرلیا ، اس دوران مجھ سے دوست یاجد کا فون بھی برآمد ہوا ۔ اس حوالے سے ایس ایچ او صدر عرفان میو نے بتایا کہ ملزم بونیر فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا ملزم کو ٹیکنیکل طریقے سے صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتارکیا اور آج ملزم کو عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ لیا جائے ۔

  • لاہور میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین ، بیٹا ہی قاتل نکلا

    لاہور میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین ، بیٹا ہی قاتل نکلا

    کراچی : کاہنہ میں خاتون ڈاکٹر اور تین بچوں کے قتل کا معاملہ حل ہوگیا، واقعے میں بچ جانے والا بیٹا ہی اہل خانہ کا قاتل نکلا جو کہ آئس کا نشہ کرتا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں خاتون ڈاکٹر اور تین بچوں کے قتل کا ڈراپ سین ہوگیا، واردات میں بچ جانے والا بیٹا ہی قاتل نکلا جس نے ماں اور تین بھائی بہنوں کو قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے اور ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ زین واقعے کے روز نچلی منزل پر ہونے کی وجہ سے بچ جانے کا ڈرامہ کرتا رہا تاہم معاملہ کی حقیقت سامنے آنے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے میں ایک گھر سے گولیوں سے چھلنی چار لاشیں ملی تھیں اور ایک ہی لڑکا بچا تھا، یہ اکیلا ہی کمرے میں رہتا تھا آئس کا نشہ کرتا تھا اور پب جی کھیلتا رہتا تھا، والدہ سے پیسے مانگتا تھا واقعے کے روز والدہ نے پیسے دینے سے انکار کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق ملزم نے ڈاکٹر والدہ کا ہی پستول اٹھایا، سب سے پہلے والدہ کے سر میں گولی ماری بعد ازاں ایک ایک کرکے تینوں بہن بھائیوں کو گولی مار کر قتل کردیا اور اپنے کمرے میں جاکر بیٹھ گیا۔ بعد ازاں اس نے ڈرامہ کیا کہ مجھے نہیں پتا پیچھے سے کون اہل خانہ کو مار گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دو تین دن تک لڑکے سے تفتیش کی گئی تو اس نے اعتراف جرم کرلیا اور اس نے کہا کہ وہ قتل کرنے کے وقت اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا، جب پولیس نے مزید معلومات کیں تو معلوم ہوا کہ لڑکا آئس کا نشہ کرتا تھا۔

  • وقار ذکاء ہمیں ہراساں کر رہے ہیں ایف آئی اے کے بیان پر عدالت حیران

    وقار ذکاء ہمیں ہراساں کر رہے ہیں ایف آئی اے کے بیان پر عدالت حیران

    کراچی: ایف آئی اے ٹیم نے سندھ ہائی کورٹ میں بیان دیا ہے کہ وقار ذکار ہمیں ہراساں کررہے ہیں، جس پر عدالت نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی سے متعلق سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے کی وقار ذکا کے خلاف انکوائری سے متعلق ایف آئی اے نے تحریری جواب جمع کرادیا۔

    جواب میں کہا گیا کہ وقار ذکار کے خلاف انکوائری کی جاری ہے، وقار ذکا سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے خلاف مسلسل ویڈیوز اپ لوڈ کررہے ہیں، وقار ذکا ایف آئی اے کو بھی ہراساں کررہے ہیں۔

    ایف آئی اے ٹیم کے جواب پر عدالت نے اظہار حیرت کیا۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ وقار ذکا ایف آئی اے کو کیسے ہراساں کرسکتے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ وقار ذکا ایف آئی اے، وزیر اعظم اور اسٹیٹ بنک کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپ لوڈ کررہے ہیں، وزیر اعظم اور دیگر کے اداروں کے خلاف وقار ذکا توہین آمیز مواد اپ لوڈ کررہے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل مولوی اقبال حیدر نے موقف دیا کہ ایف آئی اے وقار ذکا کے گھر پر چھاپے مار رہی ہے، وقار ذکا اور ان کے والد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ اب وقار ذکا کسی اور شخصیت کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ نہیں کریں گے، ایف آئی اے وقار ذکا اور ان کی فیملی کو ہراساں کررہی ہے۔

    عدالت نے وقار ذکا کو انکوائری میں تعاون کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انکوائری میں طلب کرنے کے لیے پہلے وقار ذکا کو پہلے باقاعدہ نوٹس جاری کیے جائیں۔

    بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے کو وقار ذکا کو ہراساں نہ کرنے کے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔

  • حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت

    حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت

    کراچی : ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حریم شاہ کے 2 بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کے لیے لیٹرز لکھ دیے۔

    ایف آئی اے نے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائنس کو اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے لیٹرز لکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی نے نہیں روکا اور نہ روک سکتا ہے۔ ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون صرف غریب کے لیے ہے۔

    ٹک ٹاکر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا۔

    بعد ازاں حریم شاہ بھاری رقم کی لندن منتقلی سے ہی مکر گئیں اور کہا کہ میں نے وہ ویڈیو مذاق میں بنائی تھی۔

  • وزیر اعلیٰ سندھ کی پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے کارکن کے گھر آمد

    وزیر اعلیٰ سندھ کی پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے کارکن کے گھر آمد

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مبینہ طور پر پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکن اسلم کے ورثا سے ملاقات کی اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وفد نے ایم کیو ایم کے مقتول کارکن اسلم کے ورثار سے ملاقات کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ورثاء سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اسلم کے انتقال پر اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لیے پُرعزم بھی ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جس کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان کے مطابق سعید غنی، سید ناصر شاہ، مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی اور ڈاکٹرعاصم بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اہل خانہ کے ساتھ مقتول کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔

    یہ بھی پڑھیں: پولیس تشدد سے زخمی ایم کیو ایم پاکستان کے جوائنٹ آرگنائزر دم توڑ گئے

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے رکن اسمبلی سید صداقت کے گھر پہنچ کر عیادت کی اور اُن کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

    دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی قیادت سے رابطہ کیا اور کارکن کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کل محمد اسلم کے سوئم میں بھی شرکت کریں گے۔

  • کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

    کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

    کراچی : کراچی پولیس نے ایم کیوایم کے جاں بحق کارکن اسلم کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا

    پولیس ایکشن کے وقت اسلم وزیراعلیٰ ہاؤس کے مقام پر نہیں،پولیس ایکشن تقریباً ساڑھے6 بجے شروع ہوا تو اسلم پریس کلب پر موجود تھا، اسلم کی رات8 بج کر 19 منٹ پرلوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی۔

    با خبر ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دوران احتجاج اور پولیس ایکشن کے وقت ایم کیوایم کارکن اسلم کی ہلاکت سے متعلق پولیس کی تفتیش جاری ہے، تفتیشی ٹیم نے اسلم کے فون کا کال ریکارڈ ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔
    جس سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ روز ایم کیوایم کے جاں بحق جوائنٹ یوسی آرگنائزر اسلم پولیس ایکشن کے وقت وزیراعلیٰ ہاؤس پر نہیں بلکہ پریس کلب کے مقام پر موجود تھا۔

    حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلم کے پورے دن کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز ایک بج کر42 منٹ پر اسلم اپنے گھر میں موجود تھا،5بج کر 10منٹ پر شارع فیصل احتجاج میں پہنچا، پھر اس کی لوکیشن 6بج کر32 منٹ پر کراچی پریس کلب پر موجودگی کی آئی، پریس کلب کے مقام پر اسلم6 بج کر32 منٹ سے لے کر7 بج کر54 منٹ تک موجود رہا۔

    جبکہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے تقریباً ساڑھے6 بجے پولیس ایکشن شروع ہوا جبکہ اس وقت اسلم پریس کلب کے مقام پر موجود تھا، بعدازاں رات 8بج کر19 منٹ پر اس کی لوکیشن راشد منہاس روڈ پر آئی جو اسلم کی واپسی بھی ہوسکتی ہے، رات 8 بج کر 42 منٹ پر اس کی لوکیشن فیڈرل بی ایریا بلاک 15 کے آئی ایچ ڈی کی آئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس وقت کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز میں اسلم کو لایا گیا تھا، رات 10بج کر29 منٹ پر اسلم کا انتقال ہوا اور رات10 بج کر33 منٹ پر اس کی موبائل لوکیشن گھر کی آئی جب میت گھر لائی جا چکی تھی۔
    اسلم کے اہلخانہ نے پوسٹ مارٹم کروانے سے بھی انکار کیا تھا۔یاد رہے کہ ایم کیوایم پاکستان نے گزشتہ روز بلدیاتی قانون کیخلاف کراچی میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاء نے وزیراعلیٰ ہاوس جانے کی کوشش کی تو انتظامیہ نے سی ایم ہاؤس جانے والا راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ شرکا کو وزیراعلیٰ ہاوس کی جانب بڑھنے سے روکنے پر ایم کیوایم کارکنوں نے سندھ حکومت کےخلاف نعرے بازی کی۔

    تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ایم کیوایم کارکن اور پولیس اہلکار آمنے سامنے آگئے، جس پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زبردست لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی، شیلنگ میں ایک کارکن جاں بحق جبکہ ایم پی اے لیاقت اور متعدد کارکنان سمیت بچے اور خواتین بھی زخمی ہوگئے تھے ۔

  • وزیر داخلہ نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا

    وزیر داخلہ نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا

    کراچی : وزیر داخلہ شیخ رشید نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں کی ریلی پر سندھ پولیس کے لاٹھی چارج کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔بدھ کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے چیف سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔
    واضح رہے کہ سندھ کے بلدیاتی نظام کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے ساتھ احتجاج کیا گیا، پولیس نے ریڈ زون کی خلاف ورزی پر احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔

    لاٹھی چارج کے نتیجے میں رکن سندھ اسمبلی سمیت کئی کارکنان زخمی اور گرفتار کر لئے گئے، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اطراف کا علاقہ میدان جنگ بنا رہا، آنسو گیس سے کئی مظاہرین کی حالت غیر ہو گئی۔ایم کیو ایم کی ریلی کے دوران ڈنڈے،لاٹھیاں،شیلنگ کے ساتھ ساتھ جو ہاتھ لگا اس کی درگت بنادی گئی، نہ رکن اسمبلی کاخیال رکھا گیا،نا خواتین کا بس ریڈ زون کو خالی کروانے کے لئِے جو بن سکا پولیس نے کیا۔

  • فواد چوہدری نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کو غنڈہ گردی قرار دیا

    فواد چوہدری نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کو غنڈہ گردی قرار دیا

    کراچی : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کو غنڈہ گردی قرار دیا۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے پر امن احتجاج پر سندہ حکومت کی غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب پی ایس ایل جیسا ایونٹ ہونے جا رہا ہے اس پر تشدد واقعے کا کوئی جواز نہیں تھا۔