Baaghi TV

Category: کراچی

  • ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی وفات، صدر مملکت کا اظہار تعزیت

    ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی وفات، صدر مملکت کا اظہار تعزیت

    ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی وفات، صدر مملکت کا اظہار تعزیت

    پاکستان کے معروف ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی وفات پا گئے ہیں

    ڈاکٹر طاہر شمسی کی و فات کی تصدیق انکے اہلخانہ نے کی ہے، اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹر طاہر شمسی برین ہیمرج کے بعد شہر قائد کراچی کی نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں تھے، انکا علاج چل رہا تھا تاہم آج انکی موت ہو گئی ہے

    ڈاکٹر طاہر شمسی نے 1996 میں پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ متعارف کروایا تھا اور انہوں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے 650 آپریشن کیے اور 100 سے زیادہ تحقیقی مضامین بھی لکھے۔ کرونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کے پلازما کے ذریعے کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج کا خیال بھی ڈاکٹر طاہر شمسی کو ہی پہلی بار آیا۔

    2011 میں ڈاکٹر طاہر شمسی نے خون سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار بلڈ ڈیزیز قائم کیا۔ ڈاکٹر طاہرشمسی این آئی بی ڈی میں اسٹیم سیل پروگرام کے ڈائریکٹر بھی تھے اور وہ رائل کالج کے پیتھالوجسٹ فیلو بھی تھے۔ ڈاؤ گریڈیٹس ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا نے ڈاکٹر طاہر شمسی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 2016 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا تھا۔

    صدر مملکت عارف علوی نے ماہر امراضِ خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے طب اور تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں، ڈاکٹر طاہر شمسی کے بون میرو ٹرانسپلانٹ ،خون اور کینسر کے علاج میں خدمات ياد رکھی جائیں گی،

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    کورونا سے صحت مند 80 افراد مزید 80 افراد کی جان بچا سکتے ہیں، ڈاکٹر طاہر شمسی

    پلازمہ کے عطیات کے حوالے سے لوگوں کا ردعمل کیسا ہے ؟ڈاکٹر طاہر شمسی نے بڑی اپیل کر دی

  • بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت کی منابست سے مزار قائد کی تزئین و آرائش اورگنبد اورزینوں کے سنگ مرمرکی مرمت کا کام جاری ہے-

    باغی ٹی وی :بانی پاکستان کا یوم ولادت ہر سال 25 دسمبر کوجوش و خروش سے منایا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے مزار قائد پر تزئین و آرائش کا کام جاری ہےطویل و عریض رقبے پر پھیلے بانی پاکستان کے مزار کی دیکھ بھال،اور تزئین وآرائش کا سلسلہ پورے سال جاری رہتا ہے،مگر بابائے قوم کی یوم ولادت 25دسمبر کی تیاریوں کے حوالے سے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں پیر کواسی تزئین وآرائش کے دوران پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کا کام شروع کیا گیا۔

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کے مطابق کئی روز سے جاری کاموں کے دوران قبر کے گرد موجود چاندی کی جالیوں اورمرکزی دروازوں کے رنگ روغن اور پودوں کی تراش خراش کا کام پورا ہوگیا ہے، گزشتہ روز پیر کوعین قائد اعظم کی قبر پر نصب پاک چین دوستی کی علامت 80 فٹ طویل فانوس کی صفائی کا کام ہوا-

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس
    مزارقائد کے ریذیڈنٹ انجینئرعلیم شیخ کے مطابق بابائے قوم کے مزارکی آرائش ومرمت کا کام پورے سال جاری رہتا ہے تاہم قومی تہواروں پر اس حوالے سے اہتمام بڑھ جاتا ہے اس سلسلے میں سب سے بڑا اقدام 72 فٹ ڈایا میٹر کے گنبد کی مرمت ہے،کیونکہ مسلسل دھوپ اورسردوگرم موسموں کی وجہ سے گنبد کے جوڑوں کی مرمت اور بعدازاں دھلائی ناگزیر ہے بابائے قوم کی قبر پرنصب دیدہ زیب فانوس جس پر ساڑھے 6 کلوگرام سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے اس کی صفائی اورپالش کے کام کو بھی خصوصی فوقیت دی جاتی ہے۔

    علیم شیخ کے مطابق پہلا فانوس سن 1971میں چین کے مسلمانوں کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا جبکہ حالیہ نصب فانوس جمہوریہ چین کے عوام کی جانب سے سن 2017 میں نصب کیا گیا ہے، بابائے قوم کی قبر کے گرد چاندی کی منقش جالیوں اورگنبد کے چاروں دروازوں پرنصب تانبے اورلکڑی کی دیدہ زیب جالیوں کی پالش اوررنگ وروغن بھی جاری ہے۔

    مزار کے احاطے میں تاحد نگاہ بچھے سفیدماربل کی صفائی،پودوں کی تراش خراش،گھانس کی کٹائی،اورمرکزی دروازوں کی رنگ وروغن کا کام بھی جاری ہے،خصوصی دن کی مناسبت سے مزارقائد کے سبزہ زاراورزینوں کی دونوں جانب متعدد اقسام کے خوشنما نئے پودے بھی لگائے گئے ہیں۔

    4 روز بعد ہونے والی 25دسمبر کوتبدیلی گارڈ کے بعد خصوصی تقریبات کے دوران گورنرووزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزارقائد پرحاضری دیں گے بعدازاں مزارقائد بغیر ٹکٹ کے عام شہریوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ قائد اعظم کی آخری آرام گاہ کی تعمیر کا فیصلہ 21جنوری1956ء کوکیا گیا تھا۔ مزار کے ڈیزائن کےلیے ایک بین الا قوامی مقابلہ منعقد کروایا گیا جس میں یحییٰ مرچنٹ کے پیش کردہ ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔ تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز8فروری1960ء کو کیا گیا اور31مئی1966ء کو مزار کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوا۔12جون1970ء کو عمارت کو سنگ مرمر سے آراستہ کرنے کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔

    دسمبر1970ء میں چینی مسلمانوں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے81فٹ لمبا خوبصورت فانوس تحفے میں دیا گیا، جسے مزارِ قائد کے گنبد میں نصب کیا گیا۔ فانوس میں41 طاقتور برقی قمقمے نصب تھے۔2016ء میں46سال کے طویل عرصے میں فانوس پرانا ہوجانے کے پیش نظر چین نےایک اور فانوس کا تحفہ دیا، جس کا وزن2من اور قطر28مربع میٹر ہے جبکہ اس میں48برقی قمقمے اور8.3کلو گرام سونے کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس فانوس کو نصب کرنے کےلیے چین سے انجینئروں اور ٹیکنیشنز کی13رکنی ٹیم پاکستان آئی، جس نے فانوس کی تنصیب کا کام مکمل کیا۔

    پرانے فانوس کو مزارِقائد کے احاطے میں ہی بطور یادگار رکھا گیا ہے اس موقع پر چین سے فانوس نصب کرنے کےلیے آنے والے ٹیکنیکل ہیڈ، مسٹر چاؤنگ اور مسٹر ڈیوڈ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قائداعظمؒ ایک عالمی لیڈر تھے، جن کی شخصیت کو چین میں بھی انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مزید یہ کہ مزار قائد پر فانوس کی تنصیب اُن کےلیے نہ صرف ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ ایک ایسا اعزاز تھا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔

    مزار کی تعمیر پر آنے والے تمام اخراجات، جو1کروڑ48لاکھ روپے تھے، عوام کے چندے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عطیات سے پورے کیے گئے۔ مزارِ قائد کی اونچائی سطح سمندر سے91فٹ بلند رکھی گئی ہے، اس کا کُل رقبہ131.58ایکڑ ہے جس پر بعد میں خوبصورت باغات لگائے گئے، راہ داریاں بنائی گئیں اور فوارے و آبشاریں نصب کی گئیں۔15جنوری1971ء کو مزارِ قائد باضابطہ طور پر شہریوں کےلیے کھول دیا گیا جس کے بعد سے عوام کا ایک جم غفیر روزانہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کےلیے آتا ہے۔

    1995ء میں مزار کو مزید خوبصورت اور سرسبز بنانے کی منظوری دی گئی اور اس کا نام ’’باغِ قائد اعظم‘‘ رکھ دیا گیا۔ مزار کے احاطے میں لینڈ لائٹس، ٹاپ لائٹس اور زیرِ آب لائٹس کا جال بچھا دیا گیا، جس کے بعد مزار قائد مکمل طور پر ایک جدید باغ بن گیا۔ مزار میں داخل ہونے کے لیے مختلف ناموں سے5 دروازے بنائے گئے ہیں جنہیں بابِ جناح، بابِ قائدین، بابِ تنظیم، بابِ امام اور بابِ اتحاد کا نام دیا گیا۔ مزار کا گنبد کئی میل دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    تعمیرات اور تزئین و آرائش کے پورے مرحلے میں تقریباً 4لاکھ28ہزار مربع فٹ سنگِ مرمر،4ہزار ٹن سیمنٹ، 565ٹن فولاد،64ہزار فٹ پائپ، 248زیرِ زمیں روشنیاں،69راستوں کی روشنیاں اور چبوترے کے لیے 64فلڈ لائٹس کا استعمال کیا گیا ہے، جس پر33کروڑ روپے لاگت آئی۔ باغ کو مزید خوبصورت بنانے کےلیے36اقسام کے5ہزار درخت،46ہزار749مربع فٹ گھاس اور ڈھائی ہزار بینچ بنوائی گئیں، جس کے سبب آج اسے کراچی کا سب سے پُررونق اور حسین باغ ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    مزار قائد اپنی منفرد عمارت اور اچھوتے طرز تعمیر کی وجہ سے پاکستان کی بہترین عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ مزار کی تعمیر میں استعمال ہونے والا تمام سامان ملکی ذرائع سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ ہمارے ملکی معماروں اور ہنرمندوں کی شبانہ روز محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزار کی تعمیر میں قائد کی شخصیت، کردار، مرتبے اور اسلامی فن تعمیر کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔

    مزار کے ڈیزائنر جناب یحیٰ مرچنٹ نے ڈیزائن میں بہت ساری تشبیہات سے کام لیا ہے۔ انہوں نے خود کہا کہ ’’کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں قائد پیدا ہوئے، زندگی بھر مسلمانانِ ہند کی رہنمائی کے بعد انتقال بھی یہیں کیا،اس مزار کو ڈیزائن کرتے ہوئے میں نے عظیم رہنما کی ذاتی خصوصیات کو بھی پیش نظر رکھا‘‘۔ مزار کے احاطے میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم محترم لیاقت علی خان اورقائدِ محترم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح بھی مدفون ہیں۔

  • محکمہ موسمیات کی کراچی کا درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی

    محکمہ موسمیات کی کراچی کا درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی

    محکمہ موسمیات نے منگل سے کراچی کا درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کی پیش گوئی کے مطابق منگل سے کئی روز سے جاری سردی کی لہر میں کمی جبکہ شہر کا درجہ حرارت بڑھنے کی توقع ہے، کم سے کم پارہ 15 سے 17 اور زیادہ سے زیادہ 25 سے 27 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا کہ گزشتہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی،مولانا فضل الرحمان

    محکمہ موسمیات کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران مطلع صاف اور جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے، اس دوران رات سرد جبکہ صبح کے وقت دھند چھاسکتی ہے۔ اگلے دوروز کے دوران شہر میں سمندر کی جنوب مغربی سمت کی ہوائیں چل سکتی ہیں۔

    پیر کو شہر کا کم سے کم پارہ 10 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 27 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

    بلدیاتی الیکشن: ساس نے بہو کو شکست دے دی

    چوہدری پرویز الہی اورعثمان بزدارکی بلدیاتی الیکشن میں ملکرحصہ لینےکےحوالے سے…

    بحریہ انکلیو میں گولیاں چل گئیں، سیکورٹی گارڈ جاں بحق

  • اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

    اومیکرون، برطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی

    کراچی : اومبرطانیہ سے پاکستان آنیوالوں کی سخت چیکنگ ہوگی
    برطانیہ میں عالمی وبا کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے کیسز کے سبب برطانیہ سے آنے والے مسافروں کی سخت چیکنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کی جانب سے برطانیہ سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئےتمام مسافروں کا ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق برطانیہ سے بالواسطہ فضائی مسافروں کا بھی ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ ہوگا، بورڈنگ سے 48 گھنٹے قبل مسافروں کی ویکسینیشن اور منفی پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ بھی لازمی ہو گی۔این سی اوسی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سو فیصد ریپڈاینٹی جن ٹیسٹ کے لیے برطانیہ کی براہ راست پروازیں ایڈجسٹ کرے۔دوسری جانب سی اے اے حکام کا کہنا ہے کہ ایک پرواز کے بعد دوسری پرواز میں اتنا وقت رکھا جائے گا کہ پہلے سے آنے والی پرواز کے تمام مسافروں کے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ مکمل ہوجائیں۔سی اے اے حکام کے مطابق اقدامات برطانیہ میں کوروناوائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے کیسز کے باعث کیے جا رہے ہیں۔

  • تجربات کر کے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے : آصف علی زرداری

    تجربات کر کے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے : آصف علی زرداری

    کراچی: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ تجربات کرکر کے ملک کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت ہی ہے جو ملک کو چلا اور سنبھال سکتی ہے، تجربات کرکر کے ملک کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، اس ملک پر جب بھی کوئی مصیبت آئی پیپلزپارٹی نے ہی اس کو سنبھالا ہے، ہم اب بھی تیار ہیں لیکن بات سیدھی ہے کہ پہلے ان حکمرانوں کی چھٹی کرو، پھر ہم سے بات کرو تو پھر ہم ملک سنبھالیں گے۔

    آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے روز ہی کہا تھا کہ یہ حکومت نہیں چلے گی چوں چوں کا جو مربہ بنایا ہے وہ نہیں چل سکتا، اس حکومت نے تو ملک کا خانہ خراب کر دیا ہے، مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے اور منی بجٹ پیش کیا جارہا ہے، غریب عوام سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے، ہم عوام کے مسائل سے آگاہ ہیں۔

    سابق صدر نے کہا کہ پرویز مشرف حکومت میں چینی اورآٹے کا بحران پیدا ہوا اور چینی و آٹا امپورٹ کیا جانے لگا تھا تو ہم نے اقتدار میں آکر ایک سال میں بحران ختم کیا اوران اشیاء کو ایکسپورٹ کرنا شروع کیا، عوامی طاقت کے خلاف جو بھی آئے گا چاہے وہ سردار ہو میر ہو یا پیر، سب یاد رکھیں کہ ووٹ عوامی ووٹ ہمارا اور آنے والا وقت پیپلزپارٹی کا ہے۔

  • ‏عوام کی حفاظت کرنے والے عوام کو مار رہے ہیں، زرداری، سرداری نظام قبول نہیں

    ‏عوام کی حفاظت کرنے والے عوام کو مار رہے ہیں، زرداری، سرداری نظام قبول نہیں

    اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ اے ٹی سی سینٹرل جیل کورٹ میں پیش ہوئے۔پیشی کے بعد کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سندھ حکومت کی گٹرگردی سے شیرشاہ میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے سندھ حکومت سندھ کی عوام سے جمہوریت کا انتقام لیتے ہوئے مارنے کے نت نئے طریقے ایجاد کررہی ہے.

    ‏عوام کی حفاظت کرنے والے عوام کو مار رہے ہیں، زرداری، سرداری نظام قبول نہیں، گٹروں پر دھماکوں کے ذمیدار مرتضی وہاب ہیں.‏عالمگیر خان آپ عوام کی جنگ لڑتے اپنے والد کو کھو بیٹھے ہم نے جو نالے صاف کرنے تھے وہ ہم نے کردیے گجر نالے پر کام جاری ہے شیرشاہ نالے کی صفائی سندھ حکومت کی ہے سیپا کے ایڈوائزر بھی مرتضیٰ وہاب ہیں۔

    گزشتہ روز ایک ڈاٹسن ڈرائیور کو ٹنڈوجام پولیس نے قتل کردیا ارسلان محسود کو پولیس گردی میں قتل کیا گیا کورنگی میں کل نوجوان کو مارا گیا۔

    حلیم عادل شیخ کہتے ہے ‏اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی میڈیا سے گفتگو میں کہتے ہیں میرا گناہ ہے کہ میں غریب عوام کی بات کرتا ہوں اس کرپٹ سرداری زرداری باجاری نظام کو چیلنج کرتا ہوں بس یہی میرا گناہ ہے اس لیے دہشتگردی کی عدالتوں میں پیش ہونا پڑتا ہے۔ ‏

  • سیف سٹی منصوبہ،کراچی کے مکینوں کیلئے سندھ حکومت کا بڑا اقدام

    سیف سٹی منصوبہ،کراچی کے مکینوں کیلئے سندھ حکومت کا بڑا اقدام

    ملک کے معاشی حب کراچی میں 6 سال سے التوا کے شکار سیف سٹی پروجیکٹ پر سنجیدگی سے کام شروع کردیا گیا ہے، جس پر جنوری2022 میں باقاعدہ کام کا آغاز کردیا جائے گا۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیف سٹی منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائے گا، منصوبے پر23ارب روپے لاگت آئے گی، مارچ 2022 سے کیمروں کی تنصیب کا عمل شروع کردیا جائے گا، شہر بھر میں 10سے 12ہزار جدید کیمرے نصب کئے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ شہر قائد کے حساس مقامات پر12 میگا پکسل کیمرے لگائے جائیں گے، کیمرے داخلی و خارجی راستوں اورریڈ زونز میں نصب ہوں گے، منصوبے کے تین کیمرے تین مراحل میں لگائے جائیں گے جو شاہراہ فیصل، ائیر پورٹ سے ضلع جنوبی میں لگائیں جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق تین ہزار سے زائد کیمرے ضلع غربی، وسطی اور شرقی میں لگائے جائیں گے، تینوں اضلاع میں لگائے جانے والے کیمرے8 سے9 میگا پکسل ہوں گے، اس منصوبے کی منظوری وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دی تھی۔

    سال 20105میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ 6 سال التوا کے بعد شروع ہوگا، کیمروں کی مانیٹرنگ کے لئے سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم کئے جائیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی شہر میں اس وقت 538 مقامات پردو ہزار 196 کیمرے لگائے گئے ہیں جس میں ایک ہزار201کے ایم سی، 198 محکمہ آئی ٹی اور 155 سندھ پولیس کے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل چھ سال سے منصوبہ محض اجلاسوں تک ہی محدود ہوکر رہ گیا تھا، سیف سٹی منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے اب تک لاتعداد اجلاس ہوچکے ہیں لیکن منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پا رہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق سیف سٹی منصوبے کی لاگت 10 ارب سے بڑھ کر 30 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے، ملک کے دیگر شہروں میں سیف سٹی کے منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیے گئے ہیں۔

  • ریاض سے کراچی پہنچنے والا مسافر فرار، کیوں ہوا؟

    ریاض سے کراچی پہنچنے والا مسافر فرار، کیوں ہوا؟

    سعودی دارالحکومت ریاض سے کراچی آنے والا مسافر کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر فرار ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق ریاض سے کراچی پہنچنے والی سعودی ایئرلائن کے مسافروں کے رپیڈ ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک مسافر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

    کورونا کا شکار ہونے پر مسافر کو الگ بٹھایا گیا تھا تاکہ وائرس کا پھیلاؤ نہ ہوسکے۔

    بعد ازاں مسافر ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کاؤنٹر کو چکما دے کر فرار ہوگیا۔ مسافر سعودی ایئرلائن ایس وی708 کے ذریعے شہرقائد پہنچا تھا۔

    دوسری جانب کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے پیش نظر برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں پر سخت چیکنگ کی ہدایت سامنے آئی ہے۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق سی اے اے کو برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں سے متعلق نئی ہدایات موصول ہوئی ہیں، پروازوں کے تمام مسافروں کے ایرپورٹس پر ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    ہدایت میں پابند کیا گیا ہے کہ برطانیہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کو ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ ایئرپورٹس پر تمام مسافروں کے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ مکمل کرلیے جائیں۔

  • کراچی: شیر شاہ کے نجی بینک میں دھماکے کا غیر قانونی تعمیرات،قتل خطا اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج

    کراچی: شیر شاہ کے نجی بینک میں دھماکے کا غیر قانونی تعمیرات،قتل خطا اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج

    کراچی میں شیر شاہ کے نجی بینک میں دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مقدمہ عمارت کے مالکان اور نالے پر غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف قتل خطا اور دیگر الزامات کے تحت سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

    مقدمہ ضلع کیماڑی کے ’سائٹ بی ‘تھانے میں ایف آئی آر نمبر 449/21 ایس ایچ او انسپکٹر زوار حسین کی مدعیت میں درج کی گیا ہے۔

    افغانستان کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہو گا،افغان عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں ،سعودی وزیر…

    پولیس کے مطابق مقدمہ زیر دفعہ 322، 337، 427، 34 کے تحت درج کیا گیا ہے، دفعہ 322 قتل خطا کی ہے جس کے تحت نالے پر غیر قانونی تعمیرات کرنے والے نامزد ہیں، غیر قانونی تعمیرات کرنے والے ہی دفعہ337 کے تحت شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کے ملزم ہیں۔

    کراچی: ایک اور بینک کیش وین لوٹ لی گئی، مسلح ملزمان ڈیڑھ کروڑ سے زائد رقم لے کر…

    تعزیرات پاکستان کی دفعہ 427 کے تحت ان ملزمان پر شہریوں کا مالی نقصان کرنے کا الزام بھی ہے، مدعی مقدمہ کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے رپورٹ دی ہے کہ دھماکا نالے میں قدرتی گیس کے جمع ہونے پر ہوا۔

    کراچی :کوئٹہ دھماکے: وزیراعظم عمران خان سمیت سیاسی رہنماؤں کا اظہارافسوس

    پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں بینک انتظامیہ کو مدعی بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا مگر چونکہ تحقیقات کے دوران یہ الزامات بینک انتظامیہ پر بھی عائد ہو سکتے ہیں اس لئے ایس ایچ او کو مدعی بنایا گیا ہے، اندراج کے بعد مقدمہ پولیس کے شعبہ تفتیش کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    واضح رہے کہ واقعہ میں 17 افراد جاں بحق 11 زخمی ہوئے ہیں جبکہ بینک کی عمارت کے انہدام کے علاوہ اس میں دیگر بھاری مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ دھماکے سے باغی ٹی وی کے بیورو آفس کو بھی نقصان پہنچا ہے –

    باغی ٹی وی کراچی کے بیورو چیف ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دفتر کے شیشے ٹوٹے ہیں، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ جہاں دھماکہ ہوا تقریبا تین منٹ قبل میں وہاں سے گزرا اور دفتر کی طرف آیا، دفتر پہنچا تو دھماکہ ہو گیا، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد افرا تفری مچ گئی ، جائے وقوعہ کو پولیس و رینجرز نے سیل کیا ہے،، ضمیر ملک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے تو کچھ ایسے افراد بھی تھے جو لوٹ مار کے چکر میں تھے، کئی افراد نقدی لوٹ کرفرار بھی ہو چکے تھے، تا ہم بعد میں پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لیا-

  • کورنگی میں ڈاکو مارنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، پولیس نے شہری کو گولی مار دی

    کورنگی میں ڈاکو مارنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، پولیس نے شہری کو گولی مار دی

    کورنگی مہران ٹاؤن میں پولیس کا اسٹریٹ کرمنل کو مارنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، جاں بحق شخص کے لواحقین نے احتجاج شروع کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے علاقے کورنگی میں پولیس نے مہران ٹاؤن میں ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران ایک ڈاکو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو جھوٹا نکلا۔

    ذرایع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ڈاکو نہیں بلکہ شہری کو گولی مار کر جاں بحق کیا، جعلی مقابلے میں ملوث اینٹی اسٹریٹ سیل کے چار اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہران ٹاؤن کی عوام بڑی تعداد میں کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے کے باہر جمع ہوگئی ہے تاہم اہلکاروں نے تھانے کے دروازے بند کرکے تمام افراد کو آمد و رفت سے روک دیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش کو اسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جاں بحق شخص کے لواحقین اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے احتجاج شروع کردیا۔

    خیال رہے کہ کچھ دیر قبل پولیس نے شہری کو لوٹنے والے دو ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران ایک ملزم کو ہلاک اور ایک کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    پولیس نے اپنے مؤقف میں کہا تھا کہ ڈکیت عوام سے لوٹ مار کر رہے تھے جیسے ہی ملزمان نے پولیس کو دیکھا تو فائرنگ کردی۔