Baaghi TV

Category: کراچی

  • گلشن معمار میں 3 سال کے بچے کے سامنے والد کاقتل

    گلشن معمار میں 3 سال کے بچے کے سامنے والد کاقتل

    کراچی کے علاقے گلشن معمار احسن آباد ميں دودھ خريدنے کیلئے جانیوالے شخص کو 3 سالہ بيٹے کے سامنے قتل کرديا گيا۔ پوليس نے واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیديا، لواحقین کہتے ہیں ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ عینی شاہدين کے مطابق واقعہ لوٹ مار کے دوران پيش آيا۔

    پولیس کے مطابق گلشن معمار احسن آباد میں سلمان نامی شخص کو اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ معصوم بچے کو گود میں اٹھائے دکان سے دودھ خرید رہا تھا۔

    واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں 2 موٹر سائیکل سوار ملزمان کو دیکھا جاسکتا ہے، ایک ملزم کا چہرہ واضح ہے جبکہ فائرنگ کرنیوالے ملزم نے ماسک پہنا ہوا ہے۔

    پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو ذاتی دشمنی قرار دیا تاہم مقتول سلمان کے والد کے مطابق ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔

    عینی شاہدین اور دکاندار کے مطابق واقعہ لوٹ مار کے دوران پیش آیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول ڈيڑھ سال پہلے صوابی سے کراچی آيا تھا اور نجی کمپنی ميں کام کرتا تھا، سلمان 2 بچوں کا باپ اور 4 بہن بھائيوں ميں سب سے بڑا تھا۔

  • غلط فہمی پر کراچی سے گرفتار ٹیکسی ڈرائیور 17 سال بعد گوانتاناموبے سے رہا

    غلط فہمی پر کراچی سے گرفتار ٹیکسی ڈرائیور 17 سال بعد گوانتاناموبے سے رہا

    19 سال قبل کراچی سے غلط فہمی کی بنیاد پر گرفتار ہونے والے احمد ربانی کو گوانتاناموبے میں 17 سال جیل کاٹنے کے بعد بالآخر رہائی کا پروانہ مل گیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی این جی او ’’ری پریو‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کوششوں سے بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتاناموبے میں 17 سال سے قید بے گناہ شخص احمد ربانی کی رہائی کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ 2004 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں احمد ربانی کو حسن گل ظاہر کر کے 5 ہزار ڈالر کے انعامی رقم کے عوض امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

    انسانی حقوق کی این جی او ’’ری پریو‘‘ کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور احمد ربانی کو 19 سال قبل امریکا کو انتہائی مطلوب ملزم حسن گل سمجھ کر کراچی سے گرفتار کرکے افغانستان میں امریکی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا جہاں مختلف مراکز میں 545 دن تک جسمانی تشدد کیا گیا۔

    برطانوی این جی او نے انکشاف کیا کہ کراچی میں گرفتاری کے محض دو دن بعد ہی معلوم چل گیا تھا کہ وہ مطلوب دہشت گرد حسن گل نہیں لیکن اس کے باوجود احمد ربانی کو افغانستان بھیج دیا گیا۔

    افغانستان میں بھی امریکی حکام نے نامکمل تفتیش کے باوجود احمد ربانی کو گوانتاناموبے بھیج دیا جہاں 17 سال بغیر کوئی کیس چلائے انھیں قید رکھا گیا۔ احمد ربانی کے خلاف نہ ٹرائل شیٹ تیار کی گئی اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    احمد ربانی نے اپیلیں مسلسل ناکام ہونے کے بعد جیل میں تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ برطانوی ادارے ’ری پریو‘ نے احمد ربانی کیلئے قانونی جنگ لڑی جس پر امریکا کی 6 سیکیورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ فیصلے میں احمد ربانی کی رہائی کا پروانہ جاری کیا۔

    یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ حسن گل نامی شخص جس کے شک میں احمد ربانی کو گرفتار کیا تھا وہ بھی گرفتار ہوکر بگرام جیل میں احمد ربانی کے ساتھ ہی قید رہا لیکن 3 سال بعد رہا بھی ہوگیا۔

    رہا ہونے کے بعد اصلی دہشت گرد حسن گل پھر سے شدت پسند تنظیموں سے جا ملا تھا اور 2012 میں وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا جب کہ ادھر بے گناہ احمد ربانی گوانتاناموبے میں تشدد برداشت کرتا رہا۔

    امریکی تفتیشی اداروں نے احمد ربانی پر جو الزامات لگائے تھے ان کے مطابق ملزم 1994 میں افغانستان میں رہا، 7 ماہ خوست اور 2 ماہ خالدان میں عسکری ٹریننگ لی اور 1995 سے 1996 کے درمیان پاکستان میں قید بھی رہا اور 1997 میں اسامہ بن لادن سے بھی ملا۔

    علاوہ ازیں احمد ربانی نائن الیون کے مرکزی کردار خالد محمد شیخ کے ساتھ بھی کام کرتا رہا ہے اور القاعدہ کے عرب ارکان کو پاکستان میں سفری سہولیات فراہم کرتا تھا۔ احمد ربانی کا ایک اور بھائی عبدالرحیم ربانی بھی گوانتاناموبے میں قید رہا ہے۔

    احمد ربانی سے جب این جی او پری ریو نے پہلی بار رابطہ کیا تھا تو اس نے بتایا کہ سعودی عرب میں پیدا ہونے کی وجہ سے مجھے عربی زبان پر عبور ہے اور اسی بنیاد پر ایئرپورٹ سے عربی مسافروں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتا تھا تاہم مجھے معلوم نہیں کہ وہ مسافر کون تھے۔

  • کراچی کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا، بلاول

    کراچی کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا، بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کراچی شہر کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کراچی کے ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کی بلاول ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شہر قائد میں جاری ترقیاتی کاموں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔

    ملاقات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کی جلد تکمیل کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات دیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کیماڑی سے سہراب گوٹھ تک کراچی کے ہر علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے انتہائی قلیل مدت میں دیرپا مسائل کا فوری حل ایک اچھی ابتدا ہے، کراچی شہر کی ترقی میں تسلسل کے حوالے سے کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کروں گا۔

  • سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی لانچ

    سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی لانچ

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِصدارت سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل پر ریسرچ اسٹڈی کی لانچنگ کی گئی ہے جبکہ یہ ریسرچ اسٹڈی صوبائی محتسب اعلی نے سندھ فانڈیشن سے کروائی ہے۔اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ریسرچ اسٹڈی حکومت کے لیے رہنمائی کا سبب بنے گی، اسٹڈی میں گرلز ایجوکیشن کے مسائل اور ان کا حل بھی بتایا گیا ہے۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے پر کام کیا ہے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں فرسٹ ویمن بینک اہم قدم تھا۔انہوں نے کہا کہ ویمن پولیس اسٹیشن، خواتین کو زمین دینا، نوکریوں میں کوٹا مقرر کرنا بھی اہم اقدامات تھے، ہم اسٹڈی کی سفارشات کے مطابق گرلز ایجوکیشن کے لیے مزید وسائل کے انتظامات کریں گے۔
    وزیراعلی سندھ نے یہ بھی کہا کہ ہماری تعلیم کی ترقی ہماری ترقی کا راستہ بنے گی، کوئی معاشرہ خواتین کی تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، اگر ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو خاندان بھی علم کی روشنی سے روشن ہوگا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں تعلیم مفت ہے، آپ اپنی بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کریں، پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرکے ایلیمینٹری، سیکنڈری اسکول بنائیں گے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر آگاہی مہم چلائیں گے.

  • آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف ناول نگار ،نقاد عامر حسین کی کتاب ”Restless“ پر مباحثے کا اہتمام

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف ناول نگار ،نقاد عامر حسین کی کتاب ”Restless“ پر مباحثے کا اہتمام

    کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف ناول نگار ، نقاد اور افسانہ نگار عامر حسین کے ساتھ ان کی تازہ کتاب ”Restless“ پر ایک سیشن منعقد کیا گیاجس میں ڈاکٹر فاطمہ حسن اور شمع عسکری نے بھی شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض فاطمہ اعجاز نے انجام دیئے، ”Restless“ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے مصنف عامر حسین نے کہا کہ میری کتاب کا پہلا حصہ میری زندگی اور اخلاقی تسلسل پرہے یہ اس وقت کی بات ہے جب میں 20 سال کا تھا اور میں نے اردو پڑھنا شروع کی جسے میں بالکل نہیں جانتا تھا اور پھر میں 32 سے 60 سال کی عمر تک اپنی زندگی کا احاطہ کرتا ہوں ، عامر حسین نے کہا کہ میرا آدھا خاندان بھارت میں ہے اور آدھا پاکستان میں لیکن دو ممالک جن سے میں واقعی محبت کرتا ہوں اور وہ ہے اٹلی اور جاوامیں بہت سے ممالک میں گیا لیکن روحانی طور پر میں نے کسی جگہ سے جڑا ہوا محسوس نہیں کیا مگر اٹلی اور جاوا میری کہانی کا حصہ بھی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ایک نقاد ہوں لیکن ایسا بالکل نہیں، مجھے پڑھنا پسند ہے مگر تنقیدی نظر نہیں ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عامر حسین نے کہا کہ مختصر کہانی ناول سے مختلف ہے ، ایک مختصر کہانی ایک لمحے کو 10 صفحات میں سمو سکتی ہے اور یہ ایک صفحہ تقریباً 100، 100 سال کا ہو سکتا ہے

  • فوادچوہدری کو تھپڑ مارنے کی بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے، عامرلیاقت

    فوادچوہدری کو تھپڑ مارنے کی بات اس لیے کی تھی کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے، عامرلیاقت

    رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامرلیاقت نے کہاہے کہ فوادچوہدری کو تھپڑمارنے کی بات اس لیے کی تھی کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ عامرلیاقت کا استعفیٰ تو روز آتا ہے۔خصوصی گفتگو کے دوران عامرلیاقت نے کہاکہ انہوں نے اس بات پر فوادچوہدری کو جواب دیا کہ وہ میرے معاملات سے دور رہیں ورنہ میرا تھپڑ ان کے تھپڑ سے بھاری ثابت ہوگا تاہم ان ہوں نے کہاکہ فوادچوہدری سے میری دوستی اور ایک گھریلو تعلق ہے اس لیے فوادچوہدری نے میرے بات کا جواب نہیں دیا۔
    انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان صاحب مہنگے ہیں تو پاکستان میں پھر مہنگائی ہوگی لیکن اگر سستے ہوئے یعنی ہرکسی کو دستیاب ہیں تو اس کا مطلب ملک میں مہنگائی نہیں ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ملک میں اس قدر مہنگائی ہے کہ اپوزیشن کو تو بہت پہلے نکلنا چاہیے تھا مگر مولانا فضل الرحمان کا ملک میں مہنگائی کے خلاف نکلنا باعث حیرت ہے۔عامرلیاقت نے کہاکہ تحریک انصاف سے استعفیٰ دے چکا ہوں اور اب اس جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں اس لیے میرے نام کے ساتھ تحریک انصاف نہ لکھا جائے ۔

    انہوں نے کہ علی امین گنڈاپور کا عوام کو کھانا کم کھانے کا مشورہ دینا قابل مذمت ہے لوگ ایسا کیوں کریں انہوں نے تو مہنگائی ختم کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی بالکل ہے اور اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے تاہم استعفیٰ دینا ہر مسئلے کا حل نہیں صرف وزارتوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔عامرلیاقت نے کہاکہ اپوزیشن کو مہنگائی کے خلاف بہت پہلے جاگنا چاہیے تھا اب اس وقت مہنگائی کے خلاف نکلنا باعث تعجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا لانگ مارچ نظر نہیں آرہا۔

  • سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، گورنر سندھ

    سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، گورنر سندھ

    گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کے حوالے سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر ذخائر کم ہورہے ہیں، سردیوں میں عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ وقتی تکلیف ہے کیونکہ گیس کے شپمنٹس آرہے ہیں اس لئے زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ غریب طبقے کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے، ریلیف پالیسی بنائی جارہی ہے، سندھ حکومت کی وجہ سے صحت کارڈ صوبے کے شہریوں کو نہیں ملا، ٹارگٹڈ سبسڈی کارڈ سندھ میں بھی تقسیم کئے جائیں گے۔

  • شیر شاہ عالم کے قریب گودام میں آتشزدگی، لاکھوں روپے کا کپڑا جل کر خاکستر

    شیر شاہ عالم کے قریب گودام میں آتشزدگی، لاکھوں روپے کا کپڑا جل کر خاکستر

    کراچی کے علاقے شیر شاہ عالم میں گودام میں آگ سے لاکھوں روپے مالیت کا کپڑا جل گیا۔ ریسکیو کی 8 گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا۔

    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق گودام میں بڑی تعداد میں کپڑے کی گانٹھیں موجود تھیں۔ آگ پر ڈیڑھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پایا گیا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ گودام میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا کپڑا جل کر خاکستر ہوگیا۔حکام کے مطابق ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔

  • شرافی گوٹھ سے سواری کی آڑ میں  منشیات فروخت کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار

    شرافی گوٹھ سے سواری کی آڑ میں منشیات فروخت کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار

    شرافی گوٹھ سے سواری کی آڑ میں منشیات فروخت کرنے والا رکشہ ڈرائیور گرفتار۔

    پولیس نے خفیہ اطلاع پر مشکوک رکشے کو چیک کیا۔رکشے میں چھپائی گئی ڈیڑھ کلو سے زائد چرس برآمد۔

    پولیس نے رکشہ ڈرائیور کو گرفتار کر کے رکشے کو بھی تحویل میں لے لیا۔گرفتار ملزم اکبر کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔

    ملزم نے ضلع ملیر اور کورنگی کے مختلف علاقوں میں منشیات فروخت کرنے کے علاوہ منشیات بیچنے والوں کو منشیات پہنچانے کا بھی انکشاف کیا۔

    ملزم نے منشیات بیچنے والوں کو مختلف اقسام کی منشیات پہنچانے کا اعتراف کیا۔پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کے متعلق معلومات حاصل کر رہی ہے۔

    گرفتار ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔گرفتار ملزم کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • عباسی شہید اسپتال کراچی میں حادثے کے زخمیوں کا علاج بھی بند ہوگیا

    عباسی شہید اسپتال کراچی میں حادثے کے زخمیوں کا علاج بھی بند ہوگیا

    ٹریفک حادثے میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوگئے ، جاں بحق ہونے والی خاتون موٹرسائیکل پر جا رہی تھی۔

    رضویہ کے علاقے ناظم آباد نمبر2 انکوئری آفس کے قریب تیز رفتار کار نے ایک ساتھ تین موٹرسائیکلوں کو ٹکر ماردی، ڈرائیور نے حادثے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی تاہم قریبی موجود رینجرز موبائل نے تعاقب کر کے کار کو روک کر ڈرائیور کو حراست میں اور کار کو قبضے میں لے لیا ۔ بعدازاں ڈرائیور اور کار نمبرAGP-698 کو رضویہ پولیس کے حوالے کر دیا۔

    حادثے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے ، متوفیہ کی لاش اور زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ، اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں جاں بحق ہونے والی خاتون کا شوہر بھی شامل ہے.

    متوفیہ کے شوہر اور ایک زخمی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ، زخمیوں کو عباسی شہید اسپتال میں ادویات اور دیگر سہولیات موجود نہ ہونے کے باعث ایدھی اور پرائیوٹ ایمبولینسوں کی مدد سے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ۔

    پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت 19 سالہ حبہ دختر سلیم کے نام سے کی گئی جبکہ زخمیوں میں 28 سالہ رمیض ولد آفاق ، 20 سالہ طارق ولد نور ، 20 سالہ محمد نعمان ولد اکبر اور 25 سالہ ملک سلطان ولد ولی اعوان شامل ہیں ، رمیض اور طارق کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

    متوفیہ حبہ گرین ہاؤن ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد بلاک این کی رہائشی تھی جبکہ زخمی ہونے والا محمد نعمان مکان نمبرB-342 بلاک N محلہ پیپلز کالونی نارتھ ناظم آباد کا رہائشی ہے ، پولیس کے مطابق حادثے کا ذمے دار سفید رنگ کی ٹویوٹا کرولا کار کا ڈرائیور جس نے اپنا نام رضوان بتایا ہے نشے کی حالت میں ہے ، کار سے شراب کی ایک بوتل بھی برآمد کی گئی ہے