Baaghi TV

Category: کراچی

  • حمزہ کی ہلاکت کی ایف آئی آر وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کیخلاف درج کی جائے، خرم شیر زمان

    حمزہ کی ہلاکت کی ایف آئی آر وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کیخلاف درج کی جائے، خرم شیر زمان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے گارڈن ویسٹ کے علاقے میں گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والے بچے حمزہ کے گھر پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن سندھ اسمبلی رمضان گھانچی، پی ٹی آئی رہنما اظہر لغاری، فراز لاکھانی اور دیگر موجود تھے۔
    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خرم شیر زمان نے کہا کہ ہم نے آج حمزہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے، حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے چاند جیسا بچہ حمزہ دنیا سے چلا گیا، کئی بچے کتے کے کاٹنے سے انتقال کرگئے، کئی بچے ویکسین نہ ملنے سے مرگئے، کئی بچے نالوں میں مرگئے۔ گٹر کا ڈھکنا نہ ہونے سے معصوم حمزہ انتقال کرگیا۔
    انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں حکومت کو عوام کی زندگی سے کوئی غرض نہیں ہے، حکومت سندھ کو عوام کے کسی مسئلے سے سروکار نہیں ہے، تھر میں بچے بھوک و افلاس سے مررہے ہیں، لاڑکانہ میں ایڈز سے بچے مررہے ہیں، گندا پانی پینے سے لوگ مررہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کو عوام کے بجائے بس اپنی کرپشن کی فکر ہے، یہ اسکولوں کے ڈیسکوں میں کرپشن کررہے ہیں،ہزاروں روپے بھی نہیں چھوڑتے۔

    خرم شیر زمان نے کہاکہ ہم چیف جسٹس سے حمزہ کے واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہیں، ہم پیپلز پارٹی کا مقابلہ اسمبلیوں میں کرسکتے ہیں لیکن ہم عدالتوں میں ان بچوں کا انصاف مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے نوٹس سے ہی اس صوبے کے وزیر اعلی، ایڈمنسٹریٹر کراچی، وزیر بلدیات پر کچھ اثر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ کی ہلاکت کی ایف آئی آر مراد علی شاہ کیخلاف درج کی جائے،اس ایف آئی آر میں وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو نامزد کیا جانا چاہئے، یہ 3 شخص اس واقعے کے ذمہ دار ہیں۔خرم شیرزمان نے مزید کہا کہ سندھ میں دن بدن حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں،آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق زکوۃ کے محکمے میں کرپشن کی گئی۔

  • خرم شیر زمان کا سندھ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ

    خرم شیر زمان کا سندھ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

    خرم شیر زمان اجلاس میں 4 سالہ حمزہ کے گٹر میں گرنے کے حوالے سے بات کررہے تھے۔اسپیکر اسمبلی کی جانب سے خرم شیر زمان کا مائیک بند کردیا گیا۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ صوبہ سندھ کے بچے گٹر کے ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے گر کر مررہے ہیں، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

  • ملک وقوم کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والے لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں

    ملک وقوم کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والے لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں

    ملک وقوم کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے والے مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی کے زیرِ اہتمام اولمپئین قاضی مسرت حسین،اولمپئین جہانگیر بٹ،ماہر شماریات اور مورخ مظہر جبلپوری اور ماہر تعلیم اور کھیلوں کے تجزیہ نگار پروفیسر عبد الکریم مغل کے لیے منعقدہ تعزیتی اجلاس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    انھوں نے کہا کہ اولمپئین قاضی مسرت حسین بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بہت شاندار کھلاڑی تھے جنھوں نے اپنی محنت اور لگن سے پاکستان ہاکی ٹیم کو دنیا کی بہترین ٹیموں کی صف میں لاکھڑا کیا۔لیکن بدقسمتی سے گھٹنے کی چوٹ نے انھیں روم اولمپک 1960میں سلیکشن سے محروم رکھا۔
    ۔اولمپئین جہانگیر بٹ نے بطور کھلاڑی اپنے شاندار کھیل کی بدولت اپنی شناخت بنائی بلکہ یہ واحد کھلاڑی تھیجو گولکیپر کے علاوہ ہر پوزیشن پر بہت عمدہ کھیلے۔

    کوچنگ کے شعبے میں بھی کامیابیاں سمیٹیں جونئیر اور سینئر ہاکی ٹیموں کو وکٹری اسٹینڈ تک پہنچایا۔بہت ملنسار اور خوش مزاج انسان تھے۔ماہر شماریات اور مرخ مظہر جبلپوری ہاکی کی دنیا کے وہ خاموش مجاہد تھے جن کی بدولت پاکستان ہاکی کے کارنامے اور مستند ریکارڈ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوا۔مظہر جبلپوری نے ہاکی کی تاریخ اور ریکارڈ کو ماضی کے دھندلکے میں غائب ہونے سے بچایا۔
    ہاکی زبان میں ہاکی پر 17کتابوں کی تخلیق بذات خود بہت بڑا کارنامہ ہے۔پروفیسر عبد الکریم مغل نے جسمانی صحت و تعلیم کے شعبے میں نمایاں کام کیا۔کئی کتابچے تصنیف کیے۔ہاکی سمیت مختلف کھیلوں کی ترقی وترویج کے لیے قواعد و ضوابط ترتیب دیے۔انھیں سہ ماہی ہاکی جرنل کراچی کے پہلے ایڈیٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔انھوں نے بحیثیت پرنسپل گورنمنٹ ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کالج کراچی کو منظم کیا اور اسے شہر کے بہترین اداروں میں شمار کروایا۔
    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی ان اکابرین کے تذکرے سے نہ صرف انھیں خراج عقیدت پیش کررہی ہے بلکہ نوجوان نسل تک ان کے کارنامے پہنچا کر بہت بڑی خدمت سر انجام دے رہا ہے۔تعزیتی اجلاس سے کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے چیئرمین گلفراز احمد خان،اسپورٹس جرنلسٹ آف سندھ کے سیکریٹری اصغر عظیم،فیڈرل بی ایریا ریزیڈنس فورم کے جنرل سیکریٹری سید باصر زیدی،اولمپئین قاضی مسرت حسین کے صاحبزادے ہمایوں مسرت،مظہر جبلپوری کے صاحبزادے طارق جبلپوری،پروفیسر عبد الکریم مغل کے صاحبزادے سلمان کریم مغل،ڈائریکٹر اسپورٹس فضائیہ کالج ملیر کینٹ سید عباد اسد،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہاکی کے چیئرمین رانا مشتاق احمد،صدر زاہد شہاب اور جوائنٹ سیکریٹری سید امتیاز الحسن نے بھی خطاب کیا۔
    بعد ازاں مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کروائی ۔

  • پاکستان رینجرز(سندھ)کی جانب سے بلدیہ ٹاؤن اور اندرون سندھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد

    پاکستان رینجرز(سندھ)کی جانب سے بلدیہ ٹاؤن اور اندرون سندھ فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد

    پاکستان رینجرز(سندھ)کی جانب سے کراچی کے علاقے سعید آباد بلدیہ ٹاؤن میں گریس فل گرائمر اسکول میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس، المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ اور الحیات ہسپتال جبکہ اندرونِ سندھ میں بدین کے علاقے گوٹھ احمد راہمو گنی میں پی پی ایچ آئی بدین اور الاشرف ویلفیئر ٹرسٹ میرپور خاص کے تعاون سے علاقے کے لوگوں کے لیے فری میڈیکل کیمپس کااہتمام کیا گیا۔
    میڈیکل کیمپس میں علاقے کے غریب اور مستحق افراد کو مفت طبی سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس موقع پر فری میڈ یکل کیمپس میں میڈیکل اسپیشلسٹ، ڈائیبٹالوجسٹ، ای این ٹی اسپیشلسٹ،جنرل فزیشن، آنکھوں کے اسپیشلسٹ،بچوں کے اسپیشلسٹ،گائناکالوجسٹ،ڈرماٹالوجسٹ،سائنالوجسٹ،لیڈی ڈاکٹرزاوررینجرزکے ڈاکٹرز نے 1800 سے زائد مریضوں جن میں خواتین،بچے اور بزرگ بھی شامل تھے کا طبی معائنہ کیااورمفت ادویات فراہم کی گئیں۔میڈیکل کیمپس میں کورونا وائرس کی ویکسین بھی لگائی گئیں۔ علاقے کے لوگوں نے پا کستان رینجرز سندھ کی جا نب سے کیئے جا نے والے اس اقدام کو سراہاتے ہو ئے خراج تحسین پیش کیا۔

  • یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے،بلاول بھٹو زرداری

    یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے،بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج عالمی یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے۔اگر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو اقوام متحدہ کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ایک ٹیسٹ کیس ہے۔عالمی یوم امن پر اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی یوم امن کے موقع پر آج مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین بھارتی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ آج عالمی یوم امن کے موقع پر مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے۔اگر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو اقوام متحدہ کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل ایک ٹیسٹ کیس ہے۔مشرق وسطی سے وسطی ایشیا تک دنیا کو قیام امن کے حوالے سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن کا مشترکہ کاوشوں سے حل نکالنا ہوگا۔

  • ہمارے ڈراموں میں مردوں کو مہذب کیوں نہیں دکھایا جاتا ، شرمیلا فاروقی

    ہمارے ڈراموں میں مردوں کو مہذب کیوں نہیں دکھایا جاتا ، شرمیلا فاروقی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے مقبول ترین ڈرامیخدا اور محبت ایک سین پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔گزشتہ روز شرمیلا فاروقی نے انسٹاگرام پوسٹ میں ڈرامہ خدا اور محبت سیزن 3 کے ایک سین کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہمارے ڈراموں میں میاں بیوی کی بات چیت کو نارمل انداز میں بھی دکھایا جا سکتا تھا مگر سمجھ نہیں آتا کہ ڈرامہ رائٹر تشدد کے راستے کا ہی کیوں انتخاب کرتے ہیں صرف ٹوپی کے گرنے پر ہی خواتین پر تشدد کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہی ان کا کہنا تھا کہ ڈرامے خدا اور محبت کی نشر ہونے والی آخری یعنی 33 ویں قسط میں ڈرامے کا کردار ناظم شاہ اپنی اہلیہ صاحبہ کو ماہی کے ساتھ مزار جانے کے معاملے پر تھپڑ مار دیتے ہیں۔
    انہوں نے لکھا کہ میاں اور بیوی کے درمیان نارمل حالات میں بھی بات چیت ہو سکتی تھی مگر ڈراما ساز نے یہ دکھایا کہ جب کوئی مرد غصے میں آتا ہے تو وہ خواتین پر تشدد کرکے ہی پر سکون ہوتا ہے۔شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پتہ نہیں کیوں ہمارے لکھاری اپنے ڈراموں میں مردوں کو مہذب کیوں نہیں دکھاتے، وہ کیوں ہر مرد کو ایسا دکھاتے ہیں کہ مرد غصے میں آکر آپے سے باہر ہوجاتا ہے اور تشدد کا راستہ اختیار کرنے لگتا ہے۔

  • اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے

    اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے

    کراچی گرین لائن ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے چالیس بسوں کی پہلی کھیپ کراچی کی بندرگاہ پر آنے پر ایک تقریب منعقد ہوئی۔

    اس موقعے پر گورنرسندھ سمیت وفاقی وزراء ، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ انفرا اسٹرکچرڈیولپمنٹ کے سی ای اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی سے شہر کراچی کا حق آج سے پہلے آنے والی وفاقی اور نہ صوبائی حکومتوں نے ادا کیا ہے ۔‘‘

    کراچی کی محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ کراچی پیکیج گیارہ سو ارب روپے مالیت کا، لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست ہے ، شہر قائد کی ترقی اور بہتری کے لیے اقدامات ندارد ہیں۔ شہر قائد، اپنی اہمیت کے باوجود، سیاسی طور پر یتیم شہر ہے، کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے اور اپنے پیاروں کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔

    کرپشن اور نااہلی کسی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کا ایک سبب ہے جو کراچی ماس ٹرانزٹ سے شروع ہو کر کراچی ایکسپریس وے، کراچی سرکلر ریلوے سے گرین بس پروجیکٹ تک واٹر صاف کرنے کے پلانٹ تک ہر جگہ ہے، اس شہر ناپرساں کے سیاسی اور اقتصادی حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ اس کا صرف نوحہ ہی لکھا جاسکتا ہے۔

    شہر کراچی میں وفاقی حکومت کا کردار محدود ہے، جب کہ شہری حکومت، شہر کے چوتھائی سے بھی کم حصے پر اختیار رکھتی ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب ہے کہ کراچی کے مسائل سب کے ہیں، لیکن کسی کے نہیں۔ کراچی کے حالات بہتر کرنے کے لیے سیاسی ول کا بھی فقدان ہے۔

    کراچی پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے ، لیکن بدلے میں اسے جو فنڈز ملتے ہیں وہ اس کے مسائل کے مطابق کم ہیں ۔ کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کا کلیدی کردار رہا ہے، اس شہر کو اجاڑنے میں یہاں کے حکمرانوں اور دعویداروں کا ہاتھ ہے۔

    اہل کراچی نے پیپلز پارٹی کے دعوے اور وعدے بھی دیکھ لیے ہیں، ماضی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومتوں کے مزے بھی چکھ لیے ہیں۔ قومی اسمبلی کی کراچی سے چودہ نشستیں جیتنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کا کراچی کے حوالے سے کردار اور انداز بھی دیکھ لیا ہے۔ شہر کراچی کو وفاق اور سندھ حکومتوں اور بلدیاتی اداروں نے اپنی دیدہ دانستہ ناقص حکمت عملی سے ایک پسماندہ اور نظر انداز شہر بنادیا ہے۔ آج اِس صورتِ حال میں شہر کراچی کے باسیوں کے مسائل حل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

    اس شہر کے متعدد علاقوں کو مکمل منصوبہ بندی کے تحت نہیں بسایا گیا۔ پھر غیر قانونی تعمیرات نے پورے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس کے انفرا اسٹرکچر پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، اس لیے کچی آبادیوں کا ایک جنگل اگ گیا ہے۔ یہ کچی اور غیر قانونی آبادیاں کیسے بنیں؟ ان پر قبضے کس نے کروائے؟

    کراچی میں ڈرینج کے نظام اور نکاسی آب کے لیے جو بڑے بڑے نالے اور ندیاں بنائی گئی تھیں، ان میں باقاعدہ آبادیاں قائم ہو گئی ہیں۔ یہ آبادیاں کیسے بنیں؟ ان کی سرپرستی کس نے کیں؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ یہ سارا غیر قانونی کام بتدریج اور بڑی سرعت سے ہوا ہے۔

    یہ بات ٹھیک ہے کہ ماضی کو بھول کر اب مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے لیکن اس بات کا جائزہ تو لے لیں کہ جو کارستانیاں کی گئیں، وہ کیا تھیں اور کیوں کی گئیں کیونکہ قدرت کا قانون ہے جو اٹل ہے کہ جن معاشروں میں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور ظالم کیفر کردار تک نہیں پہنچتا ان معاشروں کو زمین چاٹ جایا کرتی ہے۔

    کراچی نے سب کو مہربان ماں کی ممتا دی اور شفیق باپ کی طرح پالا جس کے باعث کراچی کو سب نے ’’منی پاکستان‘‘ مانا۔ کراچی سارے پاکستانیوں کا شہر ہے جس نے ہمیشہ کھلے دل اور کھلے ہاتھوں کے ساتھ سب کو خوش آمدید کہا ہے اور اپنی وسیع الجہتی ثقافت میں جذب کر لیا ہے۔ کراچی میں نئے اور مسلسل اضافے کے حامل رہائشیوں کی تعداد انتظامی اصول و ضوابط سے ماوراء رہی ہے۔

    چند سالوں میں لاکھوں کی آبادی کا شہر کروڑوں کی آبادی کا بن گیا اور آبادی کے لحاظ سے وسائل کی کمی نے مسائل کا انبار لگا دیا۔ روشنیوں کا عالمی شہر اپنے ہی حکمرانوں اور منتظمین کے ہاتھوں مٹی، دھول اور کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ کراچی کی اس خستہ حالی میں بڑا ہاتھ اس شہر کو تعصب کی سیاست کی آگ میں دھکیلنا ہے۔

    سیاست، نظریہ ضرورت، کرپشن، دھوکہ بازی، رشوت، منافقت، لوٹ مار، اغواء، قتل، لاشیں، نوٹ کے بدلے ووٹ ، یہاں کا مقدر بنا دیا گیا ، اگر تصور میں کراچی شہر کا نقشہ لایا جائے تو ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بہتے ہوئے گٹر ، بجلی کی ناقابل برداشت لوڈ شیڈنگ ، ظالمانہ اووربلنگ، پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے شہری، تباہ حال پبلک ٹرانسپورٹ اور سرکلر ریلوے کو کرپشن کھا گئی، شہر میں روزگار، انصاف ناپید جب کہ اسٹریٹ کرائمز کا شہر بھر میں راج ہے، شہر مسائل کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔

    کراچی والوں کے لیے پینے کا پانی بڑا مسئلہ ہے، نالے، نکاسی آب، بے گھر افراد، سالڈ ویسٹ کے مسائل ہیں، شہر قائد میں ٹرانسپورٹ کے ساتھ سڑکوں کا بھی مسئلہ ہے، این ڈی ایم اے نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر رہی ہے، کراچی کی سڑکیں اور دیگر انفرااسٹرکچر کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے، کراچی سرکلر ریلوے بھی عملی طور بحال نہیں ہوسکی ہے، چند دن تک نمائشی طور پر فعال رہی ہے ، کراچی کے 42 فیصد مسافر دہائیوں پرانی اور رش سے بھری بسوں کے محتاج ہیں۔ ان بسوں میں مسافروں کو اکثر چھتوں پر بھی بٹھا دیا جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی کی حکومت نے گزرے برس 162ارب روپے کے میگا پروجیکٹس کا اعلان کیا تھا جن میں ٹرانسپورٹ کے منصوبے بھی شامل تھے، لیکن شہر کے حکام کا دعویٰ ہے کہ انھیں کوئی فنڈز نہیں ملے۔ روزانہ 600 ملین لیٹر گندا پانی سمندر میں پھینکا جارہا ہے جو سمندری حیات کو ختم کر رہا ہے اور گندگی کی وجہ سے آوارہ کتوں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے اور سگ گزیدگی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

    دوسری جانب پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے اور شہری ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ انفرا اسٹرکچر اور صفائی کے اعتبار سے کراچی دوسرے شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے لیکن سیاسی جماعتوں اور عوامی نمایندوں میں سے کسی نے مسائل کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

    کراچی میں منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مناسب اعداد و شمار جمع کرنے، ماہرین کی تحقیق اور اس طرح کے اقدام کے لیے عوامی شرکت کی بھی ضرورت ہے جس میں مطلوبہ فنڈز اور ماہرین کی نمایندگی ہو کیونکہ تازہ ترین دستاویزات و تحقیق کی عدم موجودگی میں کوئی منصوبہ بندی اور انتظامی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ماضی میں بنائے گئے منصوبوں میں عوامی شرکت کو نظر انداز کیا گیا، تمام منصوبوں میں استحکام کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا، کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے بنائے گئے مگر وہ مستحکم نہ ہونے کے سبب جاری نہ رہ سکے اور بنیادی طور پر عوامی پیسہ ضایع ہوا۔

    بڑے پیمانے پر اصلاحات کیے بغیر کراچی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ، بہتر ہوگا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔ اٹھارہویں ترمیم کے دائرے میں صوبائی حاکمیت قائم رہے اور مرکز صوبے کی ضروری مدد کرے۔ صوبہ سندھ کو بھی اور دیگر صوبوں کو بھی ایک موثر مقامی حکومتوں کا نظام لانا ہوگا اور اختیارات و ذرایع کو مقامی کونسل اور وارڈ تک منتقل کرنا ہوگا۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے اور بڑے مسئلوں کا بتدریج حل نکالا جائے۔ شہر میں ٹرانسپورٹ اور صحت کے میگا پراجیکٹس کی شدید ضرورت ہے، یہ پراجیکٹس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر چلنے چاہئیں۔ کراچی کے انڈسٹریل اسٹیٹ کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی، گیس اور پانی کی سہولیات دی جائیں تاکہ روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔ چائنا کے ساتھ مل کر کراچی میں سی پیک کی سپلائی چین سے متعلق صنعتیں لگانے کا دس سالہ منصوبہ بنایا جائے۔

    دراصل شہر کراچی کو ایک با اختیار مقامی حکومت کی ضرورت ہے جو اپنی آمدنی خود پیدا کرسکے، جو پورے کراچی شہر کی منصوبہ بندی اور مسائل کے حل کی ذمے دار ہو مگر موجودہ صورتحال میں بلدیاتی اصلاحات کی ایک موثر تجویز کے بغیر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی اور اس کے لیے زیادہ تر کام نچلی سطح پر کرنا پڑے گا اور اس میں یونین کونسلوں کو بااختیار بنانا اور یونین کونسل کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل میں شہریوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔

    حکمران کراچی کے مومینٹم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اسے پاکستان کی خوشحالی کے لیے استعمال کریں۔

  • کراچی پولیس کے سامنے ریسٹورنٹ انتظامیہ کا شہریوں پر تشدد

    کراچی پولیس کے سامنے ریسٹورنٹ انتظامیہ کا شہریوں پر تشدد

    رضویہ تھانے کی حدود میں ریسٹورنٹ انتظامیہ نے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا، خواتین و مرد کو سرعام پیٹنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق شہر قائد کے علاقے ناظم آباد الحسن چوک پر واقع ریسٹورنٹ انتظامیہ کی جانب سے خواتین اور مرد کو تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جھگڑا سڑک پر کرسیاں اور ٹیبل لگا کر سڑک بند کرنے کے باعث شروع ہوا، شہری نے گزشتہ روز ہوئے جھگڑے کی ویڈیو وائرل کردی۔

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار بھی جائے وقوعہ پر موجود خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں اور ریسٹورنٹ انتظامیہ رضویہ پولیس کے سامنے شہریوں پر تشدد کررہے ہے جب کہ مردوں کو بچانے کی کوشش میں خواتین پر کرسیاں برسائی جارہی ہیں۔

    رضویہ پولیس جھگڑے کے بعد فریقین کو تھانے لے گئی اور کچھ دیر دونوں کو چھوڑ دیا، پولیس کا کہنا ہے کہ آج پھر دونوں فریقین کو تھانے طلب کیا گیا ہے۔

  • نیب نے سابق وزیراعلیٰ کو خوشخبری سنا دی، موجودہ وزیراعلیٰ پر فردجرم کی تاریخ مقرر

    نیب نے سابق وزیراعلیٰ کو خوشخبری سنا دی، موجودہ وزیراعلیٰ پر فردجرم کی تاریخ مقرر

    نیب نے سابق وزیراعلیٰ کو خوشخبری سنا دی، موجودہ وزیراعلیٰ پر فردجرم کی تاریخ مقرر

    احتساب عدالت اسلام آباد میں نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائدد کی جائے گی عدالت نے نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس میں وزیراعلی ٰسندھ کو طلب کر لیا ملزمان کے نیب دستاویزات پر ترتیب سے متعلق اعتراضات دور کر دیئے گئے، قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کیخلاف نوری آبادپاور اورمنی لانڈرنگ کیس میں پیشرفت سامنے آئی ، نیب نے سابق سیکرٹری توانائی سندھ آغا واصف کے اکاؤنٹس اور جائیداد منجمد کردی احتساب عدالت اسلام آباد نے نیب کے فیصلے کی توثیق کر دی ، جس کے بعد آغا واصف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اعتراضات دائر کردیئے آغا واصف کیس میں شریک ملزم کے حیثیت سے نامزد ہیں، نیب نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آغا واصف نےمنصوبہ کے الیکٹرک سے ملانے کیلئے لائن بچھانے کی سمری بھیجی، سمری بھیجنے کامقصد منصوبے کو قانونی کوردیکر شریک ملزمان کو فائدہ پہنچانا تھا نیب کے مطابق آغا واصف کی اہلیہ کے نام پر رجسٹرکمپنی میں مشتبہ ٹرانزیکشن سامنے آئیں ،ان کو اور ان کی اہلیہ کووضاحت کا موقع دیا مگر وہ شامل تفتیش نہ ہوئے، ملزم کے اکاؤنٹس اور پلاٹ منجمد کرنے کے فیصلے کی توثیق کی جائے

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    دوسری جانب نیب نے سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے خلاف 44 ایکڑاراضی کیس واپس لے لیا ،نیب نے قائم علی شاہ پر44 ایکڑاراضی غیرقانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام لگایا تھا ،نیب نے کہا کہ قائم علی شاہ کے خلاف کوئی ثبوت نہ مل سکا ،درخواست نمٹا دی جائے سندھ ہائیکورٹ نے نیب پراسیکیوٹر کا موقف سننے کے بعد درخواست کونمٹا دیا ،سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے

    قبل ازیں سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ اطلاعات میں غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیس کی سماعت ہوئی سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن اور دیگر کی عبوری ضمانت میں 18 نومبر تک توسیع کر دی گئی، سندھ ہائیکورٹ نے نیب سے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ملزمان پر محکمہ اطلاعات سندھ میں من پسند افراد کو غیر قانونی بھرتی کرنے کا الزام ہے،

  • داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کیلئے آن لائن فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 24 ستمبر تک توسیع

    داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کیلئے آن لائن فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 24 ستمبر تک توسیع

    دائود انجینئرنگ یونیورسٹی نے بیچلر ڈگری پروگرامز بیچلر آف انجینئرنگ ، بیچلر آف آرکیٹکچراور بیچلر آف سائنس بی ایس پروگرام سال برائے 2021-22(بیچ 2021) میں داخلوں کیلئے آن لائن رجسٹریشن اور فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 24ستمبر تک توسیع کردی ہے ۔ جامعہ دائود انجینئرنگ کے رجسٹرار ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کے اعلامیے کے مطابق داخلے کے خواہشمند امیدوار جامعہ کی ویب سائٹ admission.duet.edu.pk پر اپنے کوائف کی رجسٹریشن کے بعد سندھ بینک کی مخصوص برانچوں میں ادا شدہ چالان پر ایڈمیشن فارم کوڈ حاصل کریں پھر اپنا داخلہ فارم آن لائن بھر سکتے ہیں۔
    واضح رہے کہ بیچلر آف انجینئرنگ کے 8شعبوں کیمیکل ، کمپیوٹر سسٹم ، الیکٹرونک ، انرجی اینڈ انوائرمنٹ ، میٹلرجی اینڈ میٹریلز ، انڈسٹریل اینڈ مینجمنٹ ، پٹرولیم اینڈ گیس اور ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ جبکہ بیچلر آف سائنس میں کمپیوٹر سائنس ، سائبر سیکورٹی ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس(مصنوعی ذہانت)اور ریاضی کے شعبوں میں داخلے دیئے جارہے ہیں۔
    داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد صرف کراچی میں ہوگا جس کے دن ، مقام اور وقت کے بارے میں بذریعہ ایڈمٹ کارڈ مطلع کیا جائے گا۔ دستی طور پر یا بذریعہ ڈاک / کوریئر موصولہ کسی درخواست فارم پر توجہ نہیں دی جائے گی۔