Baaghi TV

Category: کراچی

  • سید ناصر حسین شاہ کا محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پراظہارِ تعزیت

    سید ناصر حسین شاہ کا محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پراظہارِ تعزیت

    صوبائی وزیر بلدیات، دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید ناصر حسین شاہ نے محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے ملک کا بڑا ثاثہ تھے، جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اوران کی بدولت ہی آج پاکستان ایٹمی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ۔
    انہوں نے کہاکہ ایسے محسن صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔سید ناصر حسین شاہ نے دعا کی کہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور پوری امت مسلمہ اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

  • سندھ میں تمام جامعات کل سے 100 فیصد حاضری کیساتھ کھولنے کا اعلان

    سندھ میں تمام جامعات کل سے 100 فیصد حاضری کیساتھ کھولنے کا اعلان

    این سی او سی کے اجلاس کی روشنی میں اہم فیصلہ، سندھ حکومت نے صوبے بھر میں تمام جامعات کل سے 100 فیصد حاضری کیساتھ کھولنے کا اعلان کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ میں تمام جامعات اور تعلیمی بورڈز پیر سے 100 فیصد حاضری کے ساتھ کھولنے کا اعلان کردیا۔سندھ کے وزیر برائے جامعات اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ صوبے میں تمام نجی اورسرکاری جامعات کل سے100 فیصد حاضری کےساتھ کھولی جائیں گی۔
    ان کا کہنا تھاکہ فیصلہ این سی او سی کے اجلاس کی روشنی میں کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھاکہ ویکسینیشن یقینی بنانے کیلئے جامعات میں محکمہ صحت والے کاؤنٹر لگائیں گے۔خیال رہے ملک میں کورونا کا زور ٹوٹنے پر این سی اوسی نے پیر 11 اکتوبر سے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کی اجازت دے دی، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک میں کورونا وباء کا پھیلاوٴ کم ہونے اور ویکسی نیشن کی بنیاد پر اب کلاسیں معمول کے مطابق ہوسکیں گی، پیر سے تعلیمی اداروں کو معمول کے مطابق کلاسز کی اجازت ہوگی۔
    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور چیئرمین این سی اوسی اسد عمر کی زیرصدارت این سی اوسی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کی صورتحال اور ویکسی نیشن کے ڈیٹا کے پیش نظر پیر سے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پیر 11 اکتوبر سے تمام تعلیمی اداروں میں کلاسز معمول کے مطابق ہوں گی ، تعلیمی اداروں میں معمول کے مطابق کلاسیں شروع کرنے کی اجازت کا فیصلہ کورونا بیماری کے پھیلاوٴ میں کمی اور سکولوں میں ویکسی نیشن کے پروگرام کے آغاز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

  • ڈاکٹر قدیر کا وزیراعلیٰ سندھ کو لکھا خط منظر عام پر آ گیا

    ڈاکٹر قدیر کا وزیراعلیٰ سندھ کو لکھا خط منظر عام پر آ گیا

    وزیرِاعظم سمیت کسی کو میری یاد تک نہیں آئی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا علالت کے دوران شکوہ، ڈاکٹر قدیر کا وزیراعلیٰ سندھ کو لکھا خط منظر عام پر آ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے خط میں وزیراعلیٰ سندھ کو کہا کہ آپ کے علاوہ وزیرِ اعظم اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو میری یاد تک نہ آئی۔
    نجی ٹی وی کے مطابق ایٹمی پروگرام کے خالق محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیر خان کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو لکھا خط منظرِ عام پر آگیا ہے، جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے بھیجے گئے گلدستے کا شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے لکھا کہ میں اب پہلے سے بہت بہتر محسوس کررہا ہوں، میں شکر گزار ہوں کہ میرے صوبے کے وزیراعلیٰ نے مجھے مشکل وقت میں یاد رکھا، وزیراعلیٰ سندھ کے علاوہ وزیرِ اعظم اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو میری یاد تک نہ آئی ۔
    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو گلدستہ بھیجا تھا جس میں ان کی صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا تھا، جب کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو جوابی خط 4 اکتوبر کو اسلام آباد سے لکھا گیا۔دوسری جانب ڈاکٹرعبدالقدیرخان کواسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا ، جسد خاکی کی تدفین سے قبل گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا، مسلح افواج و پولیس کے دستوں نے سلامی پیش کی۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ادا‘ فیصل مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ بچی‘ ابر رحمت برستا رہا

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ادا‘ فیصل مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ بچی‘ ابر رحمت برستا رہا

    محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ان کی وصیت کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی ، جس میں تمام وفاقی وزراء ، مسلح افواج کے سربراہان، سپیکر قومی اسمبلی شریک ہوئے ،اس کے علاوہ قائم مقام صدر مملکت ، چیئرمین جوائنٹ چیف سمیت تمام اعلی ریاستی شخصیات بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئیں ، اس موقع پر عوام کا جم غفیر بھی اپنے محسن کو الوداع کہنے کے لیےاسلام آباد کی فیصل مسجد پہنچا ، اس موقع پر اسلام آباد میں فیصل مسجد اور اس کے اطراف میں ابر رحمت بھی برستا رہا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر قومی پرچم بھی سرنگوں رہا ۔
    وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم ان سے بہت پیار کرتی ہے کیوں کہ انہوں نے ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کے انتقال پر بہت دکھ ہوا ، انہوں نے ہمیں ایک جارحیت والے بڑے ایٹمی پڑوسی کے خلاف تحفظ فراہم کیا ہے ، پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی ہیرو ہیں ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
    صدر پاکستان عارف علوی نے بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذاتی طور پر 1982 سے جانتا تھا ، ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ، قوم ان کی خدمات کو کبھی نہیں بھولے گی ۔ اسی طرح چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں ، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔

  • شارجہ سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی

    شارجہ سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی

    شارجہ سے کراچی آنے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی پرواز سے کئی پرندے ٹکرا گئے جس کے باعث جہاز کے ونگ کو نقصان پہنچا اور طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق شارجہ سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز کے طیارے کے سامنے اور ونگ سے کئی پرندے ٹکرائے جس کے سبب مذکورہ حصوں کو نقصان شید پہنچا تاہم کپتان نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو بحفاظت کراچی ائیر پورٹ پر اتار لیا۔
    بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ سے قبل طیارے سے پرندے ٹکرانے کی وجہ سے ایئر بس 320 طیارے کے ونگ اسکرین کو شدید نقصان پہنچا جب کہ پرندے ٹکرانے کے باعث جہاز کے ونگ بھی متاثر ہوئے ، مذکورہ طیارے میں 100 سے زائد مسافر سوار تھے اور کپتان نے طیارے کو بحفاظت کراچی ایئرپورٹ اتارا تاہم پرندے ٹکرانے کی وجہ سے طیارے کو گراؤنڈ کردیا گیا جس کی وجہ سے کراچی سے لاہور جانے والی پرواز بھی منسوخ کردی گئی۔
    یاد رہے کہ 5 اکتوبر کو لاہور سے استنبول کے لیے اڑان بھرنے والے طیارے سے بھی پرندہ ٹکرا گیا جس کے باعث طیارے کو شدید نقصان پہنچا ، طیارے میں 350 مسافر سوار تھے ،پائلٹ نے طیارے کو بحفاظت ایئرپورٹ پر اتار لیا ،جس کے بعد غیر ملکی ائیرلائن نے مسافروں کو طیارے میں تاخیر کے باعث مسافروں گھر جانے کا مشورہ دیا تاہم طیارے کی روانگی غیر معینہ مدت کے لیے تاخیر ہونے پر مسافروں نے احتجاج بھی کیا اور مسافروں نے گھر جانے کی بجائے ائیر لائن سے ہوٹلوں میں رہائش دینے کا مطالبہ کیا ۔
    اس سے دو روز قبل نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر نجی آئر لائن کے طیارے سے پرندہ ٹکرانے سے جہاز بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا لیکن پرندہ ٹکرانے سے طیارے میں فنی خرابی پیدا ہو گئی ، جس کے بعد پائلٹ نے حاضر دماغی سے طیارے کو بحفاظت اتار لیا ، نجی ائیرلائن کی پرواز ای آر 500 کراچی سے اسلام آباد آ رہی تھی کہ لینڈنگ سے قبل پرندہ جہاز سے زور دار طریقے سے ٹکرایا ، ٹیکنیکل خرابی کے باعث جہاز کی وآپس کراچی روانگی تاخیر کا شکار ہو گئی ، واپس جانے والے مسافروں کو سی ٹو لاونج میں بیٹھا گیا۔
    سول ایوی ایشن نے شہریوں کو ایئرپورٹ کے علاقے کے قریب کوڑا کرکٹ پھینکنے سے سختی سے منع کیا ہے تاکہ کوڑا کرکٹ پر جھپٹنے والے پرندے کسی بڑے حادثے کا باعث نہ بن سکیں ، اس حوالے سے شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، سربراہ پاک فضائیہ

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، سربراہ پاک فضائیہ

    سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر نے کہا کہ ملکی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے مزید کہا کہ اللہ ان کے درجات بلند کرے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

  • کراچی میں رکشا ڈرائیور نے بدفعلی کے لئے 5 بچوں کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی

    کراچی میں رکشا ڈرائیور نے بدفعلی کے لئے 5 بچوں کے اغوا کی کوشش ناکام بنادی

    بلدیہ ٹاؤن میں رکشا ڈرائیور نے بدفعلی کیلیے 5 بچوں کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی ۔
    ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک شخص 5 بچوں کو 2 الگ الگ رکشوں پر لے جارہا تھا، بار بار اترنے کی جگہ تبدیل کرنے پر ایک رکشا ڈرائیور کو شک ہوا، اس نے بچوں سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بچے مدرسے سے پڑھ کر گھر واپس جا رہے تھے اور دوسرے رکشے پر سوار شخص نے انہیں ماموں کے گھر لے جانے کا لالچ دیا ہے۔

    ساری صورت حال معلوم ہونے پر رکشا ڈرائیور نے پولیس کو فون کردیا، پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچوں کے ساتھ شخص کو پکڑ کر بچے اپنی تحویل میں لے لئے۔
    پولیس نے کہا ہے کہ بازیاب بچوں میں 2 بچیاں اور 3 بچے شامل ہیں، ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، بچوں کو ان کے گھر والوں کے حوالے کردیا گیا ہے، ملزم نے اپنی شناخت فہیم کے نام سے کرائی ہے، اس نے ابتدائی تفریش کے دوران ہی بچوں کے اغوا کا اعتراف کرلیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو 3 ماہ قبل طلاق دی ہے۔ ان سے بچوں کو غلط نیت سے اغوا کیا تھا۔

  • بشریٰ انصاری قومی ایئرلائن کی ناقص سہولیات پر برس پڑیں

    بشریٰ انصاری قومی ایئرلائن کی ناقص سہولیات پر برس پڑیں

    اداکارہ بشریٰ انصاری باکمال لوگوں کی لاجواب سروس پاکستان قومی ایئر لائن کی ناقص سہولیات پر برس پڑیں۔

    اداکارہ بشریٰ انصاری ٹورنٹو سے واپسی پر پی آئی اے کی بزنس کلاس میں سفر کررہی تھیں جہاں انہیں غیر معیاری کھانا اور پھٹا ہوا کمبل دیا گیا۔ اداکارہ نے پی آئی اے کی جانب سے دی جانے والی ناقص سہولیات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے قومی ایئر لائن کی انتظامیہ پر تنقید کی۔

    بشریٰ انصاری نے کہا پی آئی اے کی جانب سے انہیں ایسا کھانا دیا گیا جو تیسرے درجے کی ٹرین میں بھی نہیں دیا جاتا۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر کو مکمل سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا جائے گا

    ڈاکٹر عبدالقدیر کو مکمل سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک کیا جائے گا

    ڈاکٹر عبدالقدیر کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ فیصل مسجد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی ہدایت کردی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر قدیر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ پاکستانی عوام کے لئے ڈاکٹر قدیر قومی ہیرو تھے، ملک کو ایٹمی ریاست بنانے پر قوم ان سے محبت کرتی ہے، انہوں نے ہمیں ایک جارح ایٹمی پڑوسی سے تحفظ فراہم کیا، ڈاکٹر قدیر کو ان کی خواہش کے مطابق فیصل مسجد میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کے اہل خانہ ایچ ایٹ قبرستان میں تدفین چاہتے ہیں، لیکن مرحوم کی خواہش تھی کہ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں پڑھائی جائے اور فیصل مسجد کے احاطے میں تدفین ہوا، ان کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے محسن پاکستان کی نماز جنازہ دوپہر 3 بجے فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی جائے گی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نماز جنازہ پڑھائیں گے، جب کہ تدفین کا فیصلہ کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

  • ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے

    ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے

    ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میں 26 اگست کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ بعد ازاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تشویشناک حالت کے باعث کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ہسپتال کے کوویڈ وارڈ میں داخل کردیا گیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مرحوم کی خواہش تھی کہ ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں پڑھائی جائے، اور ان کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے محسن پاکستان کی نماز جنازہ دوپہر 3 بجے فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی جائے گی، جب کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر نماز جنازہ پڑھائیں گے۔
    پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتہائی اہم کردار تھا۔ مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔ انہوں نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔