Baaghi TV

Category: کراچی

  • رضا کار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے

    رضا کار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کے دوران رضا کار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں کورنگی کے علاقہ مہران ٹاؤن کی کیمیکل فیکٹری میں‌ آتشزدگی میں‌ 16 افراد جاں بحق ہوگئے تاہم اس دوران ایک اور افسوس ناک واقعہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ، جہاں ایدھی اور چھیپا کے رضاکار میتیں‌ لے جانے کے لیے آپس میں‌ الجھ پڑے۔
    ذرائع کے مطابق فیکٹری کے ہولناک واقعے کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران ریسکیو ٹیم نے فیکٹری سے ایک لاش نکال کر نیچے اتاری ہی تھی کہ ایدھی اور چھیپا کے رضا کار اسے لے جانے کے لیے آپس میں لڑنے لگے .
    رضاکار جھلس کر جاں بحق ہونے والے ایک مزدور کی میت کے لیے کھینچا تانی کر رہے ہیں ، اس کھینچا تانی کی وجہ سے لاش بھی نیچے گر گئی لیکن میتوں کی بے حرمتی کے باوجود ایدھی اور چھیپا کے رضاکار آپس میں لڑتے رہے۔
    دوسری جانب کورنگی کے علاقہ مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے ایک خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی ، فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 2 سگے بھائیوں سمیت ایک ہی خاندان کے 5 افراد شامل ہیں ، علاوہ ازیں مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آگئے ، ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ فیکٹری سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جب کہ چھت کی طرف جانے والے دروازوں پر بھی تالے لگے ہوئے تھے ، اسی حوالے سے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں صبح 10 بجے آگ لگی لیکن فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں جب تک آگ پھیل چکی تھی۔
    خیال رہے کہ کراچی مہران ٹاؤن میں واقع کیمیکل فیکٹری میں آگ لگ گئی جہاں اب تک فیکٹری سے 13 مزدوروں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں ، فیکٹری سے مزدوروں کی جھلسی ہوئی لاشیں ملی ہیں ، جن میں سے پانچوں مزدوروں کی لاشیں فیکٹری کی دوسری منزل سے نکالی گئیں ، جب کہ آتشزدگی کے باعث 5 افراد زخمی بھی ہوئے ، پولیس کے مطابق فیکٹری میں 20 سے زائد افراد کے موجود ہونے کا خدشہ ہے ، فیکٹری میں متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
    محکمہ فائر بریگیڈ کے مطابق کیمیکل فیکٹری میں لگنے والی آگ تیسرے درجے کی ہے ، آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں جہاں فائر بریگیڈ کی 8 گاڑیاں اور واٹر ٹینکر آگ بھجانے میں مصروف ہیں ، ساڑھے تین گھنٹے گزر نے کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔

  • گڈانی کے سمندر میں چار افراد ڈوب کرجاں بحق

    گڈانی کے سمندر میں چار افراد ڈوب کرجاں بحق

    گڈانی کے ایریا میں سمندر میں 4 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے گڈانی میں واقع سمندر میں 4 افراد ڈوب گئے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایدھی کے غوطہ خور اور رضا کاروں نے امدادی کارروائی شروع کردی، تاہم سمندر میں ڈوبنے والے چاروں افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں ایدھی کے ایمبولینسز کے ذریعے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ترجمان ایدھی کے مطابق ڈوبنے والے افراد پووکاڑہ بیچ پر مچھلی کا شکار کرنے آئے تھے اور پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے تھے کہ سمندر کی بلند لہر کے ٹکرانے سے پہاڑ سے گر کر ڈوب گئے، بیچ پر بیٹھے دیگر افراد نے ایدھی کو اطلاع دی جس پر فوری کارروائی شروع کردی گئی۔

    ایدھی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ اطلاع پر ایدھی کی بحریہ ٹیم موقع پر پہنچی اور غوطہ خوروں نے 2 گھنٹوں کی سخت جدوجہد کے بعد ڈوبنے والے 4 افراد کی لاشیں نکال لی۔

    متوفین کی شناخت 35 سالہ محمدعلی ولد ممتاز علی، 40 سالہ قادر ولد افتحار علی، 35 سالہ نظام الدین ولد حیدر اور 55 سالہ احمد کے نام سے ہوئی، چاروں متوفین اورنگی ٹاؤن بلاک ایل سیکٹر ساڑھے گیارہ کے رہائشی تھے جو آج صبح گڈانی مچھلی کے شکار پر گئے تھے۔ متوفین دوستوں کی میتوں کو ان کی رہائش گاہ پہنچایا گیا۔

  • کورنگی میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ گارڈن ہیڈ کوارٹر میں ادا

    کورنگی میں شہید پولیس اہلکار کی نماز جنازہ گارڈن ہیڈ کوارٹر میں ادا

    کورنگی میں ڈاکوؤں سے مزاحمت کے دوران شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل کو گارڈن ہیڈ کوارٹر میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کورنگی میں ڈاکوؤں سے مزاحمت کے دوران فائرنگ کے باعث پولیس کانسٹیبل یاسر ولد محمد یاسین شہید ہوگیا تھا۔

    مرحوم کی نماز جنازہ آج نماز جمعہ کے بعد گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں ادا کی گئی جس میں کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس، زونل ڈی آئی جیز اور ضلعی ایس ایس پیز سمیت دیگر پولیس افسران و اہل کار، شہید کے اہل خانہ، رشتے دار، دوستوں نے شرکت کی۔

    بعدازاں مرحوم کو کورنگی میں واقع مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

  • فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے ، خرم شیر زمان

    فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے ، خرم شیر زمان

    پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ مہران ٹاؤن میں فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ رہائشی پلاٹ پر کمرشل فیکٹری قائم کرنے کی اجازت صوبائی اداروں نے دی ، کورنگی اور سائٹ ایریا میں متعدد فیکٹریاں غیر قانونی پلاٹس پر موجود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہر بار واقعات کا نوٹس لینے کے بعد اپنی دنیا میں مدہوش ہوجاتی ہے ، فیکٹری میں ایمرجنسی راستے موجود نہ ہونا تشویشناک ہے ، سندھ حکومت لیبر کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ، واقعے کے پیچھے سراسر سندھ حکومت کا ہاتھ ہے ، فیکٹری میں آگ بجھانے کا عمل مکمل ہوچکا مگر سیاسی ایڈمنسٹریٹر اب تک لاپتہ ہیں۔

    خرم شیر زمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے فائر بریگیڈ گاڑیاں فراہم کیں ، فائر بریگیڈ گاڑیوں کے تکنیکی معاملات کی نگرانی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے ، جائے حادثہ پر ضلعی انتظامیہ کی عدم موجودگی شرمناک ہے ، متعلقہ ادارے واقعے کے اصل حقائق جلد از جلد سامنے لائیں ، واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاء پر دلی افسوس ہے۔

  • فیکٹری مالکان نے دروازے بند رکھے فائر ایگزٹ نہیں بنایا گیا ، مرتضیٰ وہاب

    فیکٹری مالکان نے دروازے بند رکھے فائر ایگزٹ نہیں بنایا گیا ، مرتضیٰ وہاب

    ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فیکٹری مالکان نے دروازے بند رکھے فائر ایگزٹ نہیں بنایا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے فیکٹری کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے ، دل دہلادینے والے مناظر ہیں ، ہمارے یہاں واقعہ ہوتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ فائر ایگزٹ اگر ہوتا تو جانیں بچ سکتی تھیں ، کھڑکیوں پر گرلز تھیں چھت پر تالا لگاتھا اگر ایسا نہ ہوتا تو جانیں بچ سکتی تھیں ، کے ایم سی کا عملہ صبح سے کام کررہا ہے ، کام مکمل ہونے پر انوسٹی گیشن کی جائے گی اور قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

    مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آج کے واقعے کو مثال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسا نہ ہو ، بنیادی غلطی انتظامیہ کی ہےچند پیسے بچانے کی کوشش کی ، اطراف کی فیکٹری میں بھی یہی صورتحال نظر آرہی ہے ، فیکٹری مالکان اپنا مال بچانے کے لیے جو اقدامات کرتے ہیں وہ خطرناک ہوتے ہیں ، ڈی سی کو ہدایت دی ہیں کہ انسپکشن کرکے رپورٹ دیں۔

  • شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں داخلے کیلئے ویکسینیشن لازمی قرار

    شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں داخلے کیلئے ویکسینیشن لازمی قرار

    محکمہ داخلہ سندھ نے شاپنگ مالز،ریسٹورٹس اور شادی ہالز میں داخلے کے لئے ویکسینیشن لازمی قرار دے دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق این سی او سی کی ہدایت پر محکمہ داخلہ سندھ نے تعلیمی اداروں، ریسٹورنٹس، ہوائی جہاز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کے لئے ویکسینیشن لازمی قرار دے دی ہے۔

    اس کے علاوہ ہوٹل، شاپنگ مالز اور شادی ہالز میں داخلے کے لئے بھی ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے ویکسینیشن کے لیے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے تاہم پبلک ڈیلنگ کے تمام ادارے، ٹرین اور بذریعہ سڑک سفر کے لئے ویکسینیشن کی ڈیڈ لائن 15 اکتوبر رکھی گئی ہے۔

  • کراچی میں پی ڈی ایم جلسے کے انتظامات مکمل

    کراچی میں پی ڈی ایم جلسے کے انتظامات مکمل

    پی ڈی ایم کے کراچی میں ہونے والے جلسے کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ، جلسے سے مولانا فضل الرحمان، شہبازشریف اوردیگرقائدین خطاب کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان جے یوآئی اسلم غوری کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ 29اگست کو پی ڈی ایم کے کراچی میں جلسے کےانتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں ، جلسہ کی میزبانی جے یو آئی سندھ کرے گی۔

    ،ترجمان جے یوآئی کا کہنا تھا کہ کراچی کاجلسہ سابقہ تمام جلسوں کے ریکارڈ توڑے گا ، کراچی جلسےمیں سندھ بھرسےجے یو آئی کارکن شرکت کریں گے ، جلسے سے مولانا فضل الرحمان ،شہبازشریف اوردیگرقائدین خطاب کریں گے۔

    خیال رہے وفاقی اورسندھ حکومت نےپی ڈی ایم کوجلسہ کی اجازت دے دی ہے اور مزار قائد مینجمنٹ بورڈنے پی ڈی ایم کوباغ جناح میں جلسےکیلئے این اوسی دے دیا ، ڈپٹی کمشنر ایسٹ کی جانب سے پی ڈی ایم کوجلسے کیلئےاین او سی جاری کیا۔

    اجازت نامے میں18نکاتی پابندیوں پر عمل درآمد ضروری ہوگا ، جس کے تحت ٹریفک بلاک یاعام شہریوں کےلیےروڈکوبلاک نہیں کیاجائےگا ، لاؤڈاسپیکرایکٹ کی پابندی ہوگی اور پروگرام رات8بجےتک ختم کرنا ہوگا۔

    اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ ایس اوپیزپرعمل درآمدکو یقینی بناناجلسہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔

  • کراچی میں کیمیکل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 17 مزدور جاں بحق

    کراچی میں کیمیکل فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی، 17 مزدور جاں بحق

    کورنگی مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی سے 17 مزدور جاں بحق جب کہ فائر بریگیڈ کے 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔

    کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں واقع کیمیکل فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کرلی.

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ کا عملہ فیکٹری پہنچ گیا اور آگ بجھانے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں تاہم آگ اس قدر شدید تھی کہ فائر بریگیڈ حکام نے آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیتے ہوئے شہر بھر سے فائر ٹینڈرز کو طلب کرلیا۔

    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق فیکٹری کے اندر متعدد مزدوروں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ فیکٹری کے اندر دھواں بھر جانے کے باعث مزید افراد کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے،اس لئے فیکٹری کی دیواریں گرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ فیکٹری سے اب تک 13 مزدوروں کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ زخمی ہونے والے مزدوروں میں سے مزید 4 دم توڑ چکے ہیں، فیکٹری میں دھویں کے باعث اندر جانا ممکن نہیں جب کہ 2 فائر فائٹرز بھی کارروائی کے دوران عمارت سے گرنے سے شدید زخمی ہوگیا ہے۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سے 5 افراد کی شناخت سلمان، فرمان، علی، حسن اور فرحان کے نام سے ہوئی ہے، علی، حسن، فرمان اور فرحان ایک ہی خاندان کے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورنگی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی اور محکمہ لیبر سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کی بھرپور مدد کرنے اور زخمیوں کا علاج کرانے کی ہدایت کی ہے۔

  • آج کورنگی  فیکٹری میں لگنے والی آگ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے زخم تازہ کردیئے :رمضان چھیپا

    آج کورنگی فیکٹری میں لگنے والی آگ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے زخم تازہ کردیئے :رمضان چھیپا

    کراچی :آج کورنگی فیکٹری میں لگنے والی آگ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے زخم تازہ کردیئے ،اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے پر چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی رمضان چھیپا نے کہا کہ واقعے نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کی دلخراش یاد تازہ کر دی ۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا نے کہا کہ فیکٹری میں انسان زندہ جل گئے ، اس المیے نے سانحہ بلدیہ کی یاد تازہ کردی ، فیکٹری میں آنے جانے کیلئے صرف ایک راستہ ہے ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی راستہ نہیں رکھا گیا تھا،

    رمضان چھیپا کا کہنا تھا کہ اگر یہاں آنے اور جانے سمیت دیگر ہنگامی راستے رکھے جاتے تو شائد جانی نقصان نہ ہوتا مگر فیکٹری مالکان چند پیسے بچانے کیلئے ہنگامی اخراج کے راستوں سمیت دیگر حفاظتی انتظامات نہیں کرتے ۔

    رمضان چھیپا نے بتایا کہ سانحہ بلدیہ ٹاو¿ن کے بعد تمام فیکٹریوں کیلئے ہدایات جاری ہوئی تھیں کہ وہ ہنگامی اخراج کے وسیع راستوں سمیت آگ پر قابو پانے والے آلات کی فیکٹریوں ، کارخانوں میں موجودگی کو لازم بنائیں ، مگر اس سانحے میں بھی شدید غفلت کے آثار نمایاں ہیں

  • کراچی: فیکٹری میں آتشزدگی ،حیران کن انکشافات کا سلسلہ جاری

    کراچی: فیکٹری میں آتشزدگی ،حیران کن انکشافات کا سلسلہ جاری

    کراچی :اورنگی ٹاﺅن میں فیکٹری میں آتشزدگی ،حیران کن انکشافات کا سلسلہ جاری ،اطلاعات کے مطابق شہر قائد میں انتہائی افسوسنا ک واقعہ پیش آیا ہے ، کورنگی کے علاقے مہران ٹاون میں کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے کے باعث 16 افراد جان کی بازی ہار گئے اور ا ب انکشا ف ہواہے کہ فیکٹری رہائشی پلاٹ پر غیر قانونی طور پر قائم کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکی لیکن متاثرہ حصے میں بتایا جارہاہے کہ 35 افراد موجود تھے ، اب تک 16 افراد کی جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے ۔

    انکشاف ہواہے کہ فیکٹری طور رہائشی اوور سیز سوسائٹی کے پلاٹ پر غیر قانو نی طور پر قائم کی گئی تھی ۔ یہ فیکٹری سوسائٹی کے پلاٹ نمبر سی 40 پر تعمیر کی گئی تھی ۔ کے ڈی اے حکام کاکہناہے کہ رہائشی پلاٹ پر کمرشل تعمیرات نہیں کی جا سکتی ہیں اور یہ مکمل طور پر غیر قانونی کام ہے ۔ حکام کا کہناہے کہ اس سے متعلق مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    آتشزدگی کا واقعہ آج صبح قریب ساڑھے دس بجے پیش آیا ، مزدوروں نے بھاگ کر چھت پر جانے کی کوشش کی مگر چھت پر جانے والے دروازے پر لگے تالے کی بدولت مزدور بری طرح پھنس کر رہ گئے اور زندہ جل گئے۔آگ پر قابو پالیا گیا مگر کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ف