کورنگی فیکٹری میں آگ لگنے کے دوران ریسکیو اداروں کے 3 رضا کار دم گھٹنے اور چھت سے گر کر زخمی ہوگئے۔
کورنگی صنعتی ایریا کے علاقے کورنگی مہران ٹاؤن سکیٹر ایف سیکز میں قائم لیگیج فیکٹری میں جمعہ کی صبح دس بجے آگ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ارادوں کے رضا کار موقع پر پہنچ گئی ، ریسکیو عمل کے دوران ایدھی اور چھیپا کے تین رضا کار دم گھٹنے اور چھت سے گر کر زخمی ہوگئے ، جہیں طبی امداد کے لئے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ،جہاں پر انکی شناخت اسد ، رضوان اور مدثر کے ناموں سے ہوئی ، ریسکیوادارے کے ترجمان نے بتایا کہ سیکنڈ فلور پر ریسکیو کے دوران سیڑھی سلپ ہونے ، دھوائیں سے دم گھنٹے اور چھت سے گر کر تین رضاکار زخمی ہوئے تھے ،تاہم اسپتال میں تینوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
Category: کراچی
-

کورنگی فیکٹری میں آگ لگنے کے دوران ریسکیو اداروں کے 3 رضا کار زخمی ہوگئے
-

پورٹ قاسم کے قریب ٹریلر کی ٹکرسے نوجوان جاں بحق ہو گیا
پورٹ قاسم کے قریب ٹریلر کی ٹکرسے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق بن قاسم کے علاقے پورٹ قاسم نزد آغا اسٹیل مل کے قریب تیز رفتار ٹریلرکی ٹکرسے موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا جس کی لاش ایدھی ایمبولنس کے ذریعے جناح اسپتال لائی گئی ، پولیس کے مطابق متوفی کی شناخت 23سالہ محمد غلام ولد اجمل خان کے نام سے ہوئی ،پولیس کے مطابق حادثے کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے ٹریلر قبضے میں لیکر ڈرائیور کی تلاش شروع کردی۔
-

ڈامر کی مشین کو صاف کرتے ہوئے تین افراد جھلس کر زخمی ہو گئے
لیاقت آباد ایف سی ایریا میں ڈامر کی مشین کی صاف کرتے ہوئے آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں تین افراد جھلس کر زخمی ہوگئے ، جنہیں طور پر ایمبولنس کی مدد سے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔
ایس ایچ او شریف آباد عبدالخالق انصاری نے بتایا کہ ایف سی ایریا میں ڈامر کی مشین کی صفائی کے دوران میشن کے اندر ایک بکس میں اچانک لگی جس کے نتیجے میں دو بھائی سمیت تین افراد جھلس کر زخمی ہوگئے زخمیوں میں 22سالہ سلمان ولد مومن اسکا بھائی 15سالہ ارسلان اور15سالہ ثاقب ولد صابر شامل ہے ،انھوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد مزدور ہے جنہیں عباسی شہید اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ -

بیرسٹر مرتضی وہاب کاذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کا دورہ
ایڈمنسٹریٹر کراچی و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے جمعہ کے روز ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کا دورہ کیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی ملیر بھی بیرسٹر مرتضی وہاب کے ہمراہ تھے ،ڈپٹی کمشنر ملیر اور متعلقہ حکام نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو بریفنگ دی، ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کے اندورنی حصے میں ٹینکرز، ڈرائیورز اور ٹرمینل میں آنے والوں کے لئے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور موقع پر بہتری کے احکامات جاری کئے،انہوں نے ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کو دوبارہ مکمل فعال کرنے کی ہدایات بھی دیں،ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ آئل ٹینکرز کی وجہ سے شہر بھر میں سڑکوں پرٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ٹریفک جام کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے ، ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کے فعال ہونے سے شہر میں ٹریفک کے نظام میں بہتری آئے گی، ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے آئل ٹینکرز ڈرائیورز سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے احکامات بھی جاری کئے۔
دریں اثناء ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب سے سینئرڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹس بلدیہ عظمی کراچی بشیر صدیقی نے ملاقات کی، اس موقع پر شہر میں تجاوزات کے مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی، سینئرڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹس نے ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو شہر کے مختلف علاقوں میںغیرقانونی تجاوزات کے خلاف اقدامات اور خالی کرائی گئی جگہوں کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ -

کے ایم سی کے کنٹریکٹ ملازمین مستقل ہونے کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں ،عبدالمنان قائم خانی
کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نائب صدور عبدالمنان قائم خانی اور منظر وارثی نے ایڈمنسٹریٹر کراچی سے اپیل کی ہے کہ ملازمین جو کنٹریکٹ پر تھے سب مستقل نہیں کئے گئے جسکی سیاسی اور رشوت ستانی کی وجوہات تھیں انہیں اصل لسٹ لیکر مستقل کرنے کے علاوہ جو مستقل ہوگئے انہیں اعتراضات لگا کر تنخواہوں سے ا ھروم کردیا گیا ہے انکو فوری کلئیر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے کنٹریکٹ ملازمین مستقل ہونے کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ بعض سیاسی بنیادوں ]پر مستقل نہیں کئے گئے۔ محکمہ صھت عزر گناہ بدتر از گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد تنخواہیں روکنے اور میڈیکل فٹنس میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نوٹس لیں کنٹریکٹ ملازمین کی اصل لسٹ کے مطابق رہ جانے والے ملاز،مین بھی مستقل کئے جائیں۔ کے ایم سی میں پسند نا پسند کی بنیاد پر سالہا سال سے کام کرنے والے ملازمین کا استحصال کیا گیا۔ عبدالمنان قائم خانی اور منظر وارثی نے کہا کہ کنٹریکٹ ملاز،میں جنکی تعداد 722دکھائی گئی جبکہ یہ اس سے کہیں زیادہ تھی لیکن سیاسی بنیادوں پر اصل ملازمین کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔
مخصوص افراد کو 31 جولائی 2018کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ صوبائی کابینہ کی 29اپریل 2018اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو جواز بنا کر یہ منظوریاں دی گئیں۔ لیکن 85ایسے ملازمین جنکی عمریں 42سال سے زائد تھیں اور اور بعض محکمہ جس میں لینڈ ، کچی آبادی ، اورنگی، ای اینڈ آئی پی و دیگر محکمے تھے انکے کئی ملازمین کو ایچ آر ایم کو رشوت نہ دینے اور سیاسی بنیادوں پر مستقلی کی لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
ان میں سے 85ملازمین کی 20اگست 2020کو تنخواہیں بند کردی گئیں ۔ جس پر متاثرہ ملازمین نے چیف سیکریٹری سندھ سے رجوع کیا تھا۔ انکی عمروں پر رعایت دے دی گئی تھی۔ ان 23ملازمین کو 16مئی 2021کو منظوری کے باوجود نئے تقرر نامے بھی جاری کئے گئے لیکن انہیں میڈیکل فٹنس نہیں دی جا رہی ۔ سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز نے معاملہ لٹکا کر تین ماہ سے ان ملازمین کو زچ کیا ہوا ہے جبکہ مستقل نہ کئے گئے ملازمین کی درخواستیں ایچ آر ایم میں ڈمپ کرکے انہیں فاقہ کشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ رہ جانے والوں کو ریکارڈ چیک کرکے مستقل اور بقیہ کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔ ایدمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب اسکا خصوصی نوٹس لیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انکے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ -

جناح اسپتال ،ایم ایل اوز پر غیر میڈیکل رپورٹس لکھنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری
جناح اسپتال میں ایم ایل اوز کو غیرقانونی طور پر میڈیکل رپورٹس لکھنے کیلئے دباؤڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ایڈیشنل پولیس سرجن جناح اسپتال ڈاکٹرسمعیہ نے قیدی کی میڈیکل رپورٹ ضروری ٹیسٹ کرائے بغیر جاری کردی اورفرانزک ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹرسونو مل کے ساتھ افسران کے سامنے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا ۔
ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں تعینات ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ کی جانب سے ایم ایل او اور فرانزک ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز پر دبا کا ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق جناح اسپتال کے ڈپارٹمنٹ آف فرانزک میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرسونو مل نے سیکرٹری صحت سندھ کو ایک خط ارسال کیا ہے ،جس میں کہا گیا ہے کہ قیدی رمیش ولد تابا کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ سید ،ایم ایل او ڈاکٹر اوربحیثیت فرانزک ماہر مجھے شامل کیا گیا ۔
5مئی 2021کو جناح اسپتال کے مردہ خانے میں متوفی رمیش کے پوسٹ مارٹم کی کارروائی شروع کی گئی ۔ڈاکٹرسمعیہ نے اس دوران مجھے ایم ایل او کے ساتھ پوسٹ مارٹم لکھنے کو کہا ۔ہم نے معمول کی کارروائی کے تحت رپورٹ کے پہلے صحفے پر دستخط کیے اور تجویز دی کہ مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ مشترکہ طور پر آفس میں مرتب کی جائے کیونکہ یہاں بھارتی قونصلیٹ کے اسٹاف افسران موجود ہیں ۔
ڈاکٹرسونو مل نے اپنے خط میں انکشاف کیا کہ کیمیکل ایگزامنر سمیت دیگرضروری رپورٹس کے آئے بغیر ڈاکٹرسمعیہ نے ہم پر میڈیکل رپورٹ جاری کرنے کے لیے دبا ڈالا اور ہمارے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔انہوںنے کہا کہ میں نے اس کے بعد کارروائی میں مزید حصہ لینے سے انکار کردیا اور ڈاکٹر سمعیہ نے بغیر دستخط اور منظوری کے رمیش کی موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونا ظاہر کرکے از خود رپورٹ جاری کردی ،جس کا میں قطعی ذمہ دار نہیں ہوں اور اس حوالے سے اگر مستقبل میں کوئی کوتاہی کے عوامل سامنے آتے ہیں تو میں اس سے بری الذمہ ہوں ۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جناح اسپتال میں اس سے قبل بھی ایم ایل اوز پر ایڈیشنل پولیس سرجن کی جانب سے دبا ڈالنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور عید الاضحی کے پہلے روز بھی ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کی میڈیکل رپورٹ لکھنے کے لیے ایم ایل اوز کو مجبور کیا گیا تھا اور اس حوالے سے ڈاکٹر حسام اور ڈاکٹر عمیر نے پولیس سرجن ڈاکٹر حامد جیلانی سے تحریری طور پر شکایت کی تھی جبکہ ایڈیشنل پولیس سرجن جناح اسپتال کے خلاف تحریری شکایت پولیس سرجن کراچی کو جمع کرادی گئی ہے۔ -

راغب سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے مارواڑی والی لائن میں فری میڈیکل کیمپ کاانعقاد
راغب سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے رنچھوڑ لائن کے علاقے مارواڑی والی لائن سلاوٹ جماعت ہال میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر راغب سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی صدر شبانہ شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں لاک ڈائون کی وجہ سے شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا پہلے ہی طبی سہولیات بہت مہنگی ہیں لاک ڈائون کی وجہ سے ہونے والی بیروزگاری کی وجہ سے یہ مسلہ مزید سنگین ہوگیا ہے ہم پہلے بھی میڈیکل کیمپ شہر کے مضافاتی علاقوں میں لگاتے آئیں ہیں اس بار ہم شہر کی گنجان آبادی رنچھوڑ لائن کا انتخاب کیا گیا ۔
آج کے میڈیکل کیمپ تقریبا 750مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور تقریبا اس برابر ہی مریضوں کے ٹیسٹ کیئے گئے،جن تمام اقسام کے ٹیسٹ شامل ہیں شہریوں نے ماہر معالجیں سے اپنا طبی معائنہ کروایا ،اور مریضوںکو مفت ادویات بھی فراہم کی گئیںہمارا مقصد صرف عوام والناس کی خدمت ہے اور ہم اپنی کاوش کا مظاہرہ آئے دن کرتے رہتے ہیں جن میں اللہ ہمیں سرخروع کرتا ہے اور سلسلہ جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔
اس موقع پر میں عوام سے گزارش کرتی ہوں کو کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے شہری ایس اوپیز پر عمل کریں ۔اور اپنی ویکسی نیشن لازمی کروائیں اور صحت مندہ معاشرہ بنانے کے لیئے شہری اپنا بھر پور کردار اد ا کریں اور اچھے شہری ہونے کا ثبوت پیش کریں اس موقع پر بانی راغب سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن محمد شفیق ،عامر ضیاء اور علاقے دیگر معززین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اورفری میڈیکل کیمپ لگانے پر راغب سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی کاوش کو سراہا ۔ -

کمشنر کراچی نوید احمد گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی واقعہ کے فوری بعد موقع پر پہنچ گئے
کمشنر کراچی نوید شیخ سائٹ میں واقع فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعہ کے فوری بعد وقوعہ پر پہنچ گئے جہاں انھون نےس آگ بجھانے کی کارروائی اور امدادی کاموںکی نگرانی کی ۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کیماڑی مختار ابڑو اور دیگر افسران بھی موجو د تھے۔ اس سے قبل کمشنر نے آگ پر قابو پانے اور آتشزدگی کے نقصان سے بچاوکے لئے کارروائی کے لئے متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے انھیں اطلاع دی اور فوری کارروائی کی ہدایت کی ۔آگ بجھانے کی کارروائی کے لئے بلدیہ عظمی کے فائر برگیڈ کے علاوہ کے پی ٹی اور پاکستان نیوی سے بھی مدد لی گئی ۔ڈپٹی کمشنر کیماڑی مختار ابڑو نے کمشنر کو بتایا کہ آگ صبح نوبجے کیمیکل ذخیرہ کی وجہ سے لگی تھی ۔ان کی ہدایت پر آتشزدگی پر قابو پانے اور ریسکیو کے لئے تمام انتظامات کر لئے گئے ہیں ۔ دریں اثنا کمشنر کراچی نے ڈپٹی کمشنر کو تحقیقات کا حکم دیا کہ وہ واقعہ کی تحقیقات کر کے انھیں رپورٹ پیش کریں۔ڈپٹی کمشنر کو آتشزدگی کے واقعہ کے اسباب اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ کمشنر کی ہدایت پر زخمیوں کو فوری اسپتال میں طبی امداد فراہم کی گئی ڈپٹی کمشنر نے کمشنر کو بتایا کہ تین مزدور جن میں عثمان ولد غلام محمد (عمر اٹھائیس سال) محمد علی ولد محمد عرس (عمر اکیس سال) الطاف ولد محمد دوست ( عمر بائیس سال)تینوں افراد معمولی زخمی ہوئے تھے جنھیںعباسی اسپتال طبی امداد کے بعد اسپتال سے رخصت کردیا گیا
-

ضلع وسطی کراچی گندکی کا ڈھیر بنا ہوا ہے ، سلطان بھٹی
پاکستان مسلم لیگ ق یوتھ ونگ سندھ کے جنرل سیکرٹری سلطان بھٹی نے کہا ہے کہ ضلع وسطی کراچی اس وقت گندگی کا ڈھیر بناہوا ہے جگہ جگہ کچرے اور غلاظت کے ڈھیر انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ، علاقے میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں، علاقہ مکین اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں ، گندگی کی وجہ سے سیوریج لائنز بھی شدید متاثر ہیں، گلیوں میں سیوریج کا پانی کھڑا ہوا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کے موقع پر کارکنان سے ملاقاتوں کے دوران کیا، سلطان بھٹی نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے شہریوں کو گندگی اور غلاظت میں رہنے پر مجبورکردیا ہے تو دوسری جانب غیر قانونی تعمیرات بھی تیزی سے جاری ہیں جس کی سرپرستی طاقتور مافیا کرتا ہے ، کچھ شر پسند عناصر نہیں چاہتے کہ کراچی ترقی کرے اور یہاں کے لوگ خوشحال ہوں، سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی غیر قانونی تعمیرات کی سرپرست ہیں جو سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش ہیں غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات نے شہر کا حلیہ ہی خراب کردیا ہے ، کراچی پورے پاکستان کا معاشی حب ہے اس کی تعمیر و ترقی کی بجائے اس کو تباہ کیا جانا لمحہ فکریہ ہے، کوئی وقت تھا جب یہ شہر غریب پرور شہر تھا پورے ملک کے کونے کونے سے لوگ اس شہر میں حصول رزق کے لیئے آتے تھے ، پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی لوگ کراچی کو دیکھنے آتے تھے آج یہ عالم ہے کہ گندگی نے اس شہر میں جینامحال کردیا ہے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور غلاظت سے اٹھنے والے تعفن نے شدید ذہنی کرب میں مبتلا کردیا ہے ، انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف سخت ترین آپریشن وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائیاں کی جائیں تا کہ ان لوگوں کا قلع قمع کیا جا سکے جن کی وجہ سے شہر تجاوزات کے جنگل بنتا جا رہا ہے، مسلم لیگ ق ہی کراچی کے مسائل کا واحد حل ہے عوامی طاقت سے بہت جلد کراچی کے مسائل کو ختم کریں گے پاکستان مسلم لیگ ق ترقی کی ضمانت ہے تاریخ گواہ ہے کہ ق لیگ میں پورے ملک میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے اور ملکی معیشت نے بھی تیزی سے اڑان بھری۔
-

مراد علی شاہ نے کورنگی فیکٹری میں آگ لگنے کا نوٹس لے لیا
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کورنگی مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں آتشزدگی کا نوٹس لے لیا۔سید مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کمشنر کراچی اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلی نے کمشنر کراچی اور لیبر ڈپارٹمنٹ سے پوچھا کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور حفاظتی تدابیر کیا تھیں، اتنا زیادہ جانی نقصان کیسے ہوا مراد علی شاہ نے جاں بحق مزدوروں کے خاندان کی بھرپور مدد کرنے اور زخمیوں کا علاج کرانے کی ہدایت دے دی۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے کورنگی مہران ٹان میں کیمیکل فیکٹری میں آگ لگنے سے 15 مزدور موقع پر ہی جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری عملہ کے مطابق اندر پچیس کے قریب لوگ موجود تھے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بیس سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ آگ سے اندر کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں، کوئی معجزہ ہی شاید کسی کو بچا سکے گا۔