Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

    شہر قائد میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 3.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ مرکز کراچی سے 72کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے نواحی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.1 ریکارڈ کی گئی ، زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ

    زلزلہ 15کلومیٹر گہرائی میں آیا اور مرکزکراچی سے72کلومیٹرشمال مشرق میں تھا۔

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ 3 اعشاریہ ایک شدت کا زلزلہ معمولی نوعیت کا حامل ہوتا ہے، جس سے کسی بھی نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں، تاہم زلزلے سے کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    یاد رہے گذشتہ سال نومبر میں بھی کراچی میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے ، زلزلے کے جھٹکوں کی زیر زمین گہرائی 10 کلو میٹر اور شدت3.6ریکارڈ کی گئی۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ زلزلے کے جھٹکےملیر، لانڈھی اور کورنگی میں محسوس کیے گئے، زلزلے کےجھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے تھے۔

  • کراچی میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکزکے مطابق کراچی میں آنے والے زلزلے کی شدت 3 اعشاریہ ایک ریکارڈ کی گئی ہے جس کی گہرائی 15 کلو میٹر تھی۔

    زلزلے کا مرکز کراچی سے 72 کلو میٹر شمال مشرق کی جانب تھا۔ زلزلہ 11 بجکر 39 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل سوات اور گرد و نواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 118 کلو میٹر تھی اور مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی علاقہ تھا۔ زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی-

  • تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ؟ وزیرتعلیم سندھ کا اہم بیان

    تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ؟ وزیرتعلیم سندھ کا اہم بیان

    وزیرتعلیم سندھ سردارشاہ کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت نےآئندہ ہفتےکوروناکی نئی لہر سے خبردار کیا تھا، جس کے بعد تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ، اسکولوں سے متعلق ایک ہفتے بعد جائزہ لے کر فیصلہ کیاجائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیرتعلیم سندھ سردارشاہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کوبندکرنےکافیصلہ کوروناصورتحال پرکیاگیا ، وزیراعلیٰ سندھ نےمشاورت کے بعد بندش کافیصلہ کیا۔

    سردارشاہ کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت نےآئندہ ہفتےکوروناکی نئی لہرسےخبردارکیاتھا اور صورتحال مدنظررکھ کرتعلیمی ادارےبندرکھنےکی تجویزدی، آئندہ ہفتےتک تمام اساتذہ کی ویکسین مکمل کی ہوجائےگی ، سندھ حکومت نےمحتاط رہ کرفیصلہ کیاہے۔

    وزیرتعلیم سندھ نے کہا کہ اسکولوں سےمتعلق ایک ہفتےبعدجائزہ لےکرفیصلہ کیاجائے گا ، والدین سےاپیل ہےاپنی ویکسین کرائیں تاکہ بچےمحفوظ رہیں۔

    دوسری جانب اسکول بند کرنے کے حوالے سے سندھ حکومت نےاسٹیک ہولڈرزکی مشاورت سےپہلے ہی فیصلہ کرلیا ، تمام اسٹیک ہولڈرز پرمشتمل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہونا تھا اور سیکریٹری اسکول ایجوکشن کی سربراہی میں آئندہ کےلائحہ عمل کا اعلان کیاجاناتھا۔

    ورکنگ کمیٹی میں نجی اسکولز،محکمہ صحت اور دیگر اسٹیک ہولڈزکی نمائندگی تھی تاہم مشاورت سےقبل ہی وزیراعلیٰ نےاسکولوں کی بندش کا اعلان کیا ، وزیراعلیٰ سندھ کے فیصلے سے تمام اسٹیک ہولڈرز پریشانی کا شکار ہے۔

  • سندھ حکومت کا یونیورسٹیز بھی مزید ایک ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا یونیورسٹیز بھی مزید ایک ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے اسکولوں کے بعد جامعات بھی مزید ایک ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

    سندھ حکومت کے وزیر برائے جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ کی تمام جامعات اور بورڈز 30 اگست سے کھلیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ طلباء اور اساتذہ 30 اگست سے پہلے ویکسی نیشن مکمل کروالیں۔

    واضح رہےکہ گزشتہ روز کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اسکولوں کو مزید ایک ہفتہ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس ایک ہفتے میں اساتذہ، اسٹاف اور والدین ویکسی نیشن کرائیں، اسکول ٹیچرز اور بچوں کے والدین کو بھی اپنا ویکسین سرٹیفکیٹ دکھانا ہوگا۔

    اس سے قبل سندھ حکومت نے اسکولوں کو پیر 23 اگست سے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔

  • ٹیپو سلطان تھانے کے ہاتھوں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 ملزمان گرفتار

    ٹیپو سلطان تھانے کے ہاتھوں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 ملزمان گرفتار

    ٹیپو سلطان تھانے کے ہاتھوں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 5 ملزمان گرفتار ملزمان مغوی کو کم مدتی اغواء کے بعد گھماتے پھراتے اور اے ٹی ایم سے رقم نکالتے رہے

    گرفتارملزمان میں سی آئی اے صدر کا اہلکار ملک ارباز شامل، ایسٹ ہیڈ کوارٹر کا اہلکار ذیشان شاہ بھی ملزمان میں شامل، لال کوٹھی اسٹاپ کے قریب ایک مشکوک کار اور موٹر سائیکل کو روکا گیا،

    تلاشی کے دوران کار سے ایک مغوی راحب حسین بازیاب ہوا، مولوی کو ڈیفنس فیز ٹو ایکسٹینشن میں موجود کال سینٹر سے اغوا کیا گیا تھا،

    اغوا کاروں نے اپنا تعلق فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے نام سے کروایا، ملزمان مغوی کو کراچی کے مختلف علاقوں میں گھماتے پھراتے رہے،

    مغوی کے اے ٹی ایم سے پچاس ہزار روپے کیش نکلوائے، ملزمان نے راحب حسین سے مزید 20 لاکھ روپے تاوان مانگا، اسی دوران ٹیپوسلطان پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا،

    پرائیویٹ ملزمان میں ناصر جمال، صفدر حسین اور نعمان شامل، فاروق بجارانی کا کہنا تھا کہ
    ملزمان سے 50 ہزار کیش، کار موٹر سائیکل برآمد،
    ملزمان سے ایک پستول دو لیپ ٹاپ اور دو موبائل فون بھی برآمد،

    گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل جاری۔

  • سابق شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے پر تیزاب پھینکنے کا الزام

    سابق شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے پر تیزاب پھینکنے کا الزام

    کراچی کے علاقے ناگن چورنگی میں سابق شوہر اور بیوی نے ایک دوسرے پر تیزاب پھینکنے کا الزام عائد کردیا۔

    کراچی کے علاقے ناگن چورنگی میں سابق شوہر اور اہلیہ نے ایک دوسرے پر تیزاب پھینکنے کا الزام عائد کردیا، پولیس نے تحقیقات شروع کردیں لیکن واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا۔

    پولیس کے مطابق خاتون نے گزشتہ روز تھانے میں بتایا کہ سابق شوہر نے تیزاب پھینکا، پولیس نے سابق شوہر کو دیکھا تو وہ بھی زیادہ زخمی ہوا تھا، سابق شوہر نے الزام لگایا کہ سابقہ بیوی نے اس پر تیزاب پھینکا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں خاتون شبانہ معمولی زخمی ہوئی، جھلسنے والا عثمان سول اسپتال برنس وارڈ میں زیر علاج ہے، واقعہ گزشتہ روز ناگن چورنگی کے قریب ہوٹل پر پیش آیا۔

    متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ سابقہ بیوی شبانہ نے مجھ پر تیزاب پھینکا ہے۔

    پولیس کے مطابق عثمان 9 ماہ پہلے شبانہ کو طلاق دے چکا تھا، دوبارہ شادی کرنے کے معاملے پر واقعہ پیش آیا، شبانہ نے نیو کراچی تھانے میں سابقہ شوہر پر الزام عائد کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ عثمان کا چہرہ، سینہ اور جسم کے دیگر حصے تیزاب سے متاثر ہوئے ہیں، شبہ ہے شبانہ نے عثمان پر تیزاب ڈال کر مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی ہو، عثمان کا بیان لینے کے بعد مقدمہ درج کرکے تفتیش بڑھائیں گے۔

  • پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ کے وسائل کو لوٹ کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں میں ڈبونے کی سازش کی ہے : مصطفی کمال

    پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ کے وسائل کو لوٹ کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں میں ڈبونے کی سازش کی ہے : مصطفی کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی تعصب زدہ حکومت نے سندھ کے وسائل کو بری طرح سے لوٹ کر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریکیوں میں ڈبونے کی سازش کی ہے۔ محرم الحرام کے بعد اب صوبہ سندھ میں یزیدی حکومت کے خلاف کراچی سے کشمور تک احتجاجی تحریک شروع کرنے کے لیے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کررہے ہیں۔
    بھرپور عوامی حمایت کے ساتھ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اپنی جیبیں گرم کرنے والوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنائیں گے۔ انسانوں کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ دنیا چاند پر جانے کی بات کر رہی ہے، ہم تمام تر وسائل ہوتے ہوئے گٹر لائنوں کے مسئلوں سے باہر نہیں آسکے۔
    حکمرانوں نے جان بچانے والی ادویات کو بھی کرپشن کی نظر کر دیا ہے۔

    صوبے میں نہ علاج کی سہولیات ہیں، نہ تعلیم کی، نہ صفائی کی اور نہ کاروبار کیلئے انفرااسٹرکچر موجود ہے۔ پاک سرزمین پارٹی ان تمام مسائل کو حل کر کے سندھ کی عوام کو ایک بہترین مستقبل دے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان ہاس میں اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں عوامی رابطہ مہم کے تحت مختلف طبقوں کیلئے رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور بھرپور احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے کیلئے مشاورت کی گئی۔

  • سندھ حکومت اساتذہ، طالب علموں اور والدین کے جذبات کے ساتھ سنگین مذاق کررہی ہے : عظیم صدیقی

    سندھ حکومت اساتذہ، طالب علموں اور والدین کے جذبات کے ساتھ سنگین مذاق کررہی ہے : عظیم صدیقی

    سندھ حکومت اساتذہ، طالب علم اور والدین کے جذبات کے ساتھ سنگین مذاق کررہی ہے۔ 18 ماہ سے حکومت تعلیمی اداروں کو کرونا کے نام پر دھوکہ دے رہی ہے۔ 17 اگست کو اسٹرئیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر تعلیم نے اسکول کھولنے کا اعلان تو کردیا اور وہ اخبار ات میں چھپ بھی گیا تھا لیکن نوٹیفیکیشن کا جاری نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کانفرنس اور پریس ریلیز بھی سابقہ کی طرح تعلیمی اداروں کے ساتھ دھوکے بازی کا مظاہرہ تھا۔
    17 اگست کو وزیر صحت کو اسکول کھولنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور اب صرف دو دن بعد کرونا کا بھوت سوار ہوگیا۔ سندھ حکومت مسلسل تعلیمی اداروں کے ساتھ بدنیتی کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ یہ بات شعبہ تعلیم جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے ڈائریکٹر محمد عظیم صدیقی نے ایسوسی ایشنز ، اسکولوں کے سربراہان اور اساتذہ کے ایک بڑی تعداد کے ساتھ مشترکہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
    انہوں نے کہا کہ پہلے اساتذہ کی ویکسین کا کہہ کر اسکول بند رکھے گئے اب جب کہ 95 فیصد اسٹاف ویکسین لگواچکا ہے تو اب والدین کی شرط عائد کردی۔یہ ریاست کو ترقی تعلیم کے میدان میں ترقی دینے اقداما ت نہیں بلکہ تباہی کے دہانے پر لے جانے والے اقدامات ہیں۔ اس سیشن کا آغاز بھی تعلیمی بندش کے ساتھ شروع ہوگیا ہے۔ یکم اگست سے شروع ہونیوالے سیشن کا پہلا مہینہ بغیر تعلیمی عمل کے گزر گیا۔
    یہ بات بار بار تعلیمی فورمز پر اٹھائی جاچکی ہے کہ آن لائن تعلیمی عمل ، تعلیم جاری رکھنے کا مکمل حل نہیں ہے اور پھر یہ ہر ایک لیے اور س ہرسطح کی کلاس کے لیے دستیاب بھی نہیں ہے۔ سندھ میں تعلیم کے فروغ کے صرف دعویٰ کیے جاتے ہیں ، ماضی میں بھی سندھ حکومت نیتعلیم کے لیے کوئی بہتر اقدامات نہیں کیے اور اب کرونا کے نام پر تعلیم کے ساتھ گھٹیا سیاست شروع کردی گئی ہے ، جو قوم کے بچوں کے ساتھ اور خصوصاً سندھ کے بچوں کے ساتھ بہت زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے۔
    سندھ کے بچوں کو تعلیم میدان میں پیچھے رکھ کر ان کو برباد کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ ہمارا سندھ حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے اور ویکسینیٹڈتمام تعلیمی اداروں کو فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کرے۔ہم ان تمام ایسوسی ایشنز کا خیر مقدم کرتے ہیں جو تعلیمی عمل کی بحالی کے لیے ویکسینٹیڈ اسکولوں کو کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں خؤد سے مجبوراً اسکولوں کے کھولنے کا اعلان کررہے ہیں ، ہم ان کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کریں گے۔
    اجلاس میں انتصار غوری، طاہر جمالی، محمد غؤث، ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر خالد محمود، سعید احمد صدیقی، اقبال یوسف، اے ڈی سومرو اور کئی ایسوسی ایشنز کے ذمہ داران، پرنسپلز اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے اجلاس میں براہ راست یا آن لائن شریک رہی.

  • سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان کے بھائی اور بھتیجی کے قتل کا ملزم ظہیر شریف کو کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار

    سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان کے بھائی اور بھتیجی کے قتل کا ملزم ظہیر شریف کو کراچی ایئر پورٹ سے گرفتار

    9سابق صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب خان کے بھائی اور بھتیجی کے قتل کا ملزم ظہیر شریف کو کراچی ایئر پورٹ سے FiA نے گرفتار کر لیا ۔

    مذکورہ ملزم کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ نام شامل تھا۔ ملزم کراچی ائیر پورٹ سے ملک سے باہر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا مذکورہ ملزم کو انٹروگیشن کی ٹیم نے حراست میں لے تفتیش شروع کر دی۔

  • شوکت ترین اپنا موبائل بجنے پر میٹنگ سے اٹھ کر باہر چلے گئے

    شوکت ترین اپنا موبائل بجنے پر میٹنگ سے اٹھ کر باہر چلے گئے

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین ایف پی سی سی آئی میں ممبران سے خطاب کے دوران اپناموبائل بجنے پر میٹنگ سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔
    وزیرخزانہ ممبران ایف پی سی سی آئی سے خطاب کررہے تھے کہ انکا فون بجا اور انہوں نے اپنافون ریسیو کیا۔انہوں نے موبائل پر دو سے تین بار پوچھاکہ کون بول رہا ہے،میں پریس کانفرنس میں ہوں اور جب دوسری جانب سے انہیں بتایا گیا تو وہ اٹھ کر کانفرنس ہال سے باہر چھلے گئے اورچندلمحے میں ہی فون سننے کے بات واپس آگئے۔