ڈاکٹر سیمی جمالی جناح اسپتال کے ای ڈی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئی ہیں۔ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جناح اسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی کا اسپتال کے ساتھ 33 سالہ طویل سفر ختم ہوگیا۔
ڈاکٹر سیمی جمالی کے جناح اسپتال سے ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیاہے۔ڈاکٹر طارق محمود نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی تک اسپتال کے امور سرانجام دیں گے۔
Category: کراچی
-

ڈاکٹر سیمی جمالی کا جناح اسپتال کے ساتھ طویل سفر ختم ریٹائرڈ ہو گئیں
-

پاک فضائیہ کے ہیرو پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا 50 واں یوم شہادت منایا گیا
پاک فضائیہ کے ہیرو پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا 50 واں یوم شہادت منایا گیا ۔ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پائلٹ آفیسرراشد منہاس شہید 17 فروری 1951 کو پیدا ہوئے۔ ملکی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے جذبے سے سرشارراشد منہاس نے 14 مارچ 1971 کو پاک فضائیہ کے 51 ویں جی ڈی پی کورس میں کمیشن حاصل کیا۔
بعدازاں انہیں آپریشنل کنورڑن کورس کیلئے ماڑی پور (مسرور) میں واقع نمبر 2 اسکواڈرن میں تعینات کیا گیا جہاں رب کائنات نے ان کے مقدر میں لازوال رفعتیں لکھ رکھی تھیں۔20 اگست 1971 کے دن راشد منہاس کی قربانی سے ایک ناقابل فراموش داستان رقم ہوئی۔مٹی کے اس بہادر سپوت نے اپنی جان مادر وطن پر قربان کر دی لیکن ملکی وقار پر آنچ تک نہیں آنے دی۔ راشد منہاس کی عظیم قربانی اور ناقابل فراموش شجاعت کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا۔ راشد منہاس شہید ہماری آنے والی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہیں اور انکو شجاعت و قربانی کی علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔
-

کورونا وائرس نے ایک اور مسیحاکی جان لے لی
کورونا وائرس نے ایک اور مسیحاکی جان لے لی،ڈاکٹرنسرین مغل وبا سے زندگی کی بازی ہار گئیں۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ڈاکٹرنسرین مغل نجی اسپتال کی چیف میڈیکل افسرتھیں اور انہوں نے فرنٹ لائن ورکر کے طور پر ویکسی نشین مہم میں حصہ لیا۔پی ایم اے کے مطابق کورونا سے اب تک ملک میں 219 ڈاکٹرز شہید ہو چکے ہیں، سندھ میں76، پنجاب77، کے پی 56، بلوچستان میں 6 ڈاکٹرز شہید ہوئے۔
آزادکشمیر میں3، گلگت میں ایک ڈاکٹر کورونا کے باعث شہیدہوا جب کہ ملک بھر میں31 پیرامیڈیکل اسٹاف بھی کورونا کے باعث شہیدہو چکے۔پی ایم اے کے مطابق حکومت کی جانب سے فرنٹ لاین ورکرز کو نظر انداز کردیا گیا ہے شہدا پیکج اور سول ایوارڈ نہ دینا افسوس ناک ہے۔سیکرٹری جنرل پی ایم اے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہاکہ کوویڈ کے باعث جان بحق فرنٹ لاین ورکرز کو کسی قسم کی امداد نہیں دی گئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کسی قسم کے پیکج ہر عمل نہیں کیا گیا۔ -

انڈس اسپتال نے تین گھنٹے تک خواجہ سرا مریض کو داخل نہیں کیا،پہلی خواجہ سرا وکیل
پہلی خواجہ سرا وکیل نے کہاہے کہ انڈس اسپتال انتظامیہ نے تین گھنٹے تک خواجہ سرا مریض کو اسپتال میں داخل نہیں کیا۔پہلی خواجہ سرا وکیل نشا رائو نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے مریض خواجہ سرا کا علاج سے انکار کیا اور بدتمیزی کی وجہ پوچھنے پر اسپتال انتظامیہ آپے سے باہر ہوگئی۔ اور اسپتال انتظامیہ نے انتہائی بدتمیزی کی۔
نشا رائو نے کہا کہ مددگار 15 کو کال کر کے مدد لی گئی۔ اسپتال انتظامیہ فنڈز لیتے ہیں مگر علاج نہیں دے رہے ہیں۔ کیا خواجہ سرا انسان نہیں ہیں انڈس اسپتال انتظامیہ نے تین گھنٹے تک مریض داخل نہیں کیا۔ مجبور ہوکر مددگار 15 پولیس کو بلایا اس کے بعد مریض کو داخل کیا ہے۔انہوں نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ واقعہ کا نوٹس لیا جائے۔ -

شارٹ ٹرم اغوا میں ملوث اہل کار شادی کی رخصت پر جانے کے بعد واپس ہی نہیں لوٹا، انکشاف
شارٹ ٹرم اغوا میں ملوث ایس آئی یو اہل کار کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ شادی کی رخصت پر جانے کے بعد محکمے میں واپس ہی نہیں لوٹا۔
کراچی میں کال سینٹر سے ایک شہری کے شارٹ ٹرم اغوا میں ملوث پولیس اہل کاروں کے معاملے میں ایس ایس پی اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ حیدر رضا کی وضاحت سامنے آ گئی ہے۔
ایس آئی یو کے ایس ایس پی نے بتایا کہ انھیں میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ محکمے کے اہل کار ملک ارباز کو ایک تاجر کو اغوا کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
حیدر رضا کے مطابق ملک ارباز خان ایس آئی یو کراچی میں تعینات ہے، اس نے اپنی شادی کے لیے 16 جولائی کو 10 روز کے لیے رخصت لی تھی، رخصت ختم ہونے کے باوجود وہ مسلسل ڈیوٹی سے غیر حاضر تھا، جس پر 27 جولائی کو ارباز کی غیر حاضری کی رپورٹ روزنامچے میں درج کی گئی۔
ایس ایس پی ایس آئی یو کا کہنا تھا کہ مسلسل غیر حاضری پر کانسٹیبل ارباز کو برطرفی کا شو کاز نوٹس بھی دیا گیا تھا، اسی سبب کانسٹیبل کی تنخواہ بھی بند کر دی گئی تھی۔
انھوں نے اغوا کے واقعے پر کہا کہ کانسٹیبل ملک ارباز کا اغوا کا مجرمانہ فعل اس کا ذاتی فعل ہے، اس غیر قانونی فعل سے ایس آئی یو سی آئی اے کا کوئی تعلق نہیں، لہٰذا اس سلسلے میں یونٹ کو بدنام نہ کیا جائے۔
-

45 ہزار سے زائد سرکاری نوکریاں، سندھ حکومت کی جانب سے خوش خبری
سندھ حکومت نے 45 ہزار سے زائد خالی اسامیوں پر اساتذہ کی بھرتیوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ میں پینتالیس ہزار سے زائد خالی اسامیوں پر اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے، ابتدائی طور پر محکمہ اسکول تعلیم میں اساتذہ کی بھرتیاں کی جائیں گی۔
اساتذہ میں پرائمری اسکول ٹیچرز اور جونیئر اسکول ٹیچرز شامل ہیں، یہ بھرتیاں تھرڈ پارٹی آئی بی اے سکھر کے ذریعے ہوں گی، اس سلسلے میں آئی بی اے سکھر نے باضابطہ طور پر نئی بھرتیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔
شیڈول کے مطابق پرائمری اسکول ٹیچرز کا ٹیسٹ 23 آگست سے 29 آگست تک لیا جائے گا، جونیئر اسکول ٹیچرز کا ٹیسٹ 6 ستمبر سے 12 ستمبر تک لیا جائے گا۔
ٹیسٹ پاس کرنے والے امیدواروں کا رزلٹ آنے کے بعد زبانی انٹرویو بھی لیا جائے گا، اور کامیاب امیدواروں کی فہرست محکمہ اسکول تعلیم کو ارسال کر دی جائے گی۔
شیڈول میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اساتذہ کی بھرتیوں کا نوٹیفکیشن رواں سال ہی جاری کیا جائے گا۔
-

سندھ حکومت کا اسکول مزید ایک ہفتہ نہ کھولنے کا اعلان
وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے سکول مزید ایک ہفتہ نہ کھولنے کا اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتے نہیں کھولیں گے، تعلیمی ادارے 30 اگست سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ہفتے میں والدین، اساتذہ، سٹاف ویکسین لگائیں۔
پریس کانفرنس کے دوران مراد علی شاہ نے وفاق سے کہا کہ آپ ہمیں اپنے حصے کا پانی دیں، اس وقت ہمیں 19 فیصد شارٹیج ملی ہے.
ارسا کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا، اگر ارسا اپنی مرضی سے فیصلے کرتا رہا۔ تو یہ بحران شہروں میں پینے کے پانی تک پہنچ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کینجھر جھیل پر پانی کا لیول 47.2 ہے ، کوٹری پر 36 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے.
ایک ہفتے بعد کم ہو جائے گا، کینجھر کو بھی پانی کم ملے گا، ہمیں شدید بحران کا سامنا ہوسکتا ہے، چشم جہلم اور تونسہ دونوں چل رہے ہیں۔
-

اثاثہ جات کیس ،پی پی رہنما کی عبوری ضمانت میں 4 اکتوبر تک توسیع
سند ھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسا ن کی آمد ن سے زائد اثاثہ جات کیس میں عبوری ضمانت میں 4 اکتوبر تک توسیع کردی۔
سندھ ہائی کورٹ میں منظور وسان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دورا ن پی پی رہنما کے وکیل ضمیر احمد ایڈووکیٹ او ر قومی احتساب بیور و (نیب ) کے پراسیکوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔
منظور وسان کے وکیل ضمیر احمد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انکوائر ی بند کرنے کے لئے کیس نیب ہیڈ کوارٹر بھیج دیا تھا لیکن معاملہ ابھی تک التو اکا شکار ہے،جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ انکوائری پر اب تک فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا ؟نیب پراسیکیوٹر نے عدالت نے کو بتایا کہ کیس انکوائری کے مراحل پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
پرائیویٹ تعلیمی ادارے یا مافیاز۔۔۔۔
عدالت نے سوال کیا کہ کہا گیا تھا انکوائری بند کررہے ہیں تو پھر ابھی تک فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ ، جس پر پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن نے کچھ آبزرویشن دی تھیں جن کے باعث معاملہ تعطل کا شکار ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں جو بھی کرنا ہے چیئرمین کوکہیں فیصلہ کریں۔
بعدازاں عدالت نے پی پی رہنما منظور وسان کی ضمانت میں چاراکتوبر تک توسیع کردی۔
-

کراچی،بوٹ بیسن پر فوڈ اسٹریٹ کے قیام کا فیصلہ
سندھ حکومت کا بوٹ بیسن پر فوڈ اسٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے بوٹ بیسن کلفٹن کا دورہ کیا، اس موقع پر وزیر اعلی کے معاون خصوصی وقار مہدی کراچی نیبرہوڈ پروجیکٹ کے پی ڈی اور کرم اللہ وکاسی بھی ہمراہ موجود تھے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بوٹ بیسن اور نشیبی علاقے میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جبکہ فوڈ اسٹریٹ سے متعلق انہیں بریفنگ دی گئی۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ کےساتھ واکنگ ٹریک اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فوڈ اسٹریٹ کو جدید وقدیم طرز تعمیر کے ساتھ تعمیر کیا جائے گا.
-

کراچی میں قبضہ مافیا سر گرم پولیس کمزور نظر آنے لگی
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن حسن بروہی گوٹھ میمن کالونی کا رہائشی قیوم الدین پولیس اور قبضہ مافیا کے آگے بے بس ہو گیا.
ایس ایس پی ویسٹ, ایڈیشنل آئی جی سندھ کو کمپلینٹ کے با وجود پولیس کاروائی کرنے میں ناکام.بیٹیوں کے جہیز کے لیئے پلاٹ لینا مہنگا پڑ گیا.
قبضہ کرنے والوں کا سر گنا ستار پٹھان ،اسکا کارندا عادل پٹھان اور ٹھیکیدار عمران جو قانون کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے
ایس ایچ او سرجانی کی خاموشی پولیس اور مافیا کے گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے
ہماری اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف جلد کاروائی کی جائے اور پولیس کو پابند کیا جائے کہ پلاٹ کے اصلی مالک کو اسکا حق دلوایا جائے.