Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں بارش کے بعد مختلف مقامات پر پانی جمع

    کراچی میں بارش کے بعد مختلف مقامات پر پانی جمع

    کراچی میں رات بھر بارش کے بعد شہر کے نشیبی علاقے زیرآب آگئےہیں کے ایم سی کا عملہ پمپنگ مشینوں کی مدد سے پانی کی نکاسی بھی کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رات بھر بارش کے بعد شہر کے نشیبی علاقے زیرآب آگئے جبکہ مختلف علاقوں میں سڑکیں بھی پانی میں ڈوب گئیں، گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں خراب ہونے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے برساتی پانی سے شہر کی گلیاں، محلے پانی کے جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگے، پانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ پیدل چلنے والوں کو بھی دشواری کا سامنا ہے۔

    جبکہ بارش کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی-

    کراچی(سعدی ٹاؤن 81 ، گلشن حدید 73 ، فیصل بیس 70 ، یونیورسٹی روڈ 69 ، ایئرپورٹ ، ماڈل آبزرویٹری 61 ، جناح ٹرمینل 57 ، نارتھ کراچی 49 ، سرجانی 39 ، قائد آباد 35 ، مسرور بیس 34 ، اورنگی ٹاؤن 33 ، ڈی ایچ اے ، ناظم آباد 21 ، کیماڑی 17) ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

    علاوہ ازیں کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں 4 سالہ بچی سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں کلفٹن کے علاقے شاہ رسول کالونی میں بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے کے نتیجے میں 4 سالہ بچی تانیہ جاں بحق ہو گئی تانیہ کے والد کے مطابق بدقسمت تانیہ گھر کے باہر بارش کے پانی میں کھیل رہی تھی، 4 سالہ بچی پہلی جماعت کی طالبہ تھی شام کے وقت کھمبے پر اسپارک ہوا تھا تاہم شکایت کرنے کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے کارروائی نہیں کی گئی۔

    دوسری جانب بلدیہ ٹاؤن کے علاقے عابد آباد کے گھر میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت یاسین کے نام سے کر لی گئی ہے۔

    کراچی:پانی پانی ہوگیا:کمشنرکراچی اورایڈمنسٹریٹرکراچی کے دورے:عوام الناس کی خبرگیری…

    لیاقت آباد شریف آباد کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق شخص کی شناخت 50 سالہ محمد صابر کے نام سے کی گئی۔

    جبکہ لائٹ ہاؤس چپل گلی کے قریب ایک شخص کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا جس کی لاش کو سول اسپتال منتقل کیا گیا، متوفی کی شناخت 45 سالہ ساجد لودھی کے نام سے ہوئی۔

    پولیس کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ متوفی چپل گلی میں بجلی کے بلب چوری کر رہا تھا، بارش کے باعث جگہ گیلی تھی جس کی وجہ سے اسے کرنٹ لگا اور اس کی فوری طور پر موت واقع ہو گئی۔

    دوسری جانب کراچی میں صبح سویرے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہےمحکمہ موسمیات نے بارش کا سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

    بارش کی پیش گوئی کے باعث کراچی سمیت سندھ بھر میں آج تمام نجی اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ کراچی انٹر بورڈ کے آج ہونے والے امتحانات منسوخ کردیئے گئے، بارہویں جماعت کے آج ہونے والے پریکٹیکلز بھی ملتوی کیے گئے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 79 اموات

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں تیزبارش، اربن فلڈنگ کا خدشہ

    کراچی کے مختلف علاقوں میں تیزبارش، اربن فلڈنگ کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے شہرقائد میں جاری تیزبارش کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہرکیا ہے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی اورتیزبارش کا سلسلہ آج ایک بارپھرجاری رہا۔ شہرمیں گلستان جوہر، موسمیات، آئی آئی چندریگرروڈ، صدر، شارع فیصل، ڈیفنس اورکلفٹن، یونیورسٹی روڈ، ایئرپورٹ، سعدی ٹاؤن، کورنگی، گلشن اقبال اورملیرمیں گرج چمک کے ساتھ تیزبارش ہوئی جب کہ متعدد علاقوں میں ہلکی بارش کا سلسلبہ بھی جاری رہا۔

    بارش کے باعث شہرکے متعدد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے جب کہ ٹریفک کی روانی بھی متاثرہوگئی ہے۔

    سردارسرفرازچیف میٹرولوجسٹ کراچی کا اس متعلق کہنا ہے کہ شہرچاروں طرف سے بادلوں کی لپیٹ میں ہے، شہرمیں مزید ایک سے دوگھنٹے بارش ہوسکتی ہے۔ اگربارش تواترسے جاری رہی تو اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ نے کہا کہ سمندرمیں بننے والا کلاؤڈ ماس شہرکی جانب بھی بڑھ رہا ہے، ہوا کا کم دباؤ جوسمندر میں جنوب مشرق میں موجود تھا اس نے شدت اختیارکرلی ہے۔

    کے الیکٹرک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شہرکے مختلف علاقوں سے ہلکی سے تیزبارش کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں، کے الیکٹرک کا عملہ صورتِحال کا جائزہ لے رہا ہے تاہم چند فیڈرزکو حفاظتی بنیادوں پر بند کیا جا سکتا ہے۔

  • سی این جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کا امکان

    سی این جی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کا امکان

    سی این جی ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں ایک بار پھر سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان ظاہر کردیا ہے۔

    غیاث پراچہ رہنما سی این جی ایسوسی ایشن کے مطابق پنجاب میں سی این جی کی قیمت 18 روپے لیٹر بڑھ جائے گی جس کے بعد پنجاب اور اسلام آباد میں سی این جی کی قیمت 125 روپے فی لیٹر ہوجائے گی جب کہ سندھ میں سی این جی کی قیمت میں 28 روپے کلو اضافہ ہوجائے گا جس کے باعث سندھ میں سی این جی کی قیمت 192 روپے کلو ہوجائے گی۔

    غیاث پراچہ نے کہا کہ ہم اوگرا کے نوٹیفکیشن کا انتظار کررہے ہیں، کچھ جگہوں پر سی این جی کی قیمت بڑھا دی گئی ہے، سی این جی پر ٹیکس بڑھانا اور پٹرول و ایل پی جی پر ٹیکس کم کرنا حیران کن ہے جس سے وزیراعظم کے وژن کے برعکس سی این جی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔

    غیاث پراچہ کا کہنا تھا کہ حکومت سی این جی سیکٹر کے ٹیکسز میں کمی کرے، سی این جی سیکٹر کو بھی دیگر سیکٹرز کی طرح مراعات دی جائیں ورنہ ملکی تاریخ میں پہلی بار سی این جی پٹرول سے مہنگی ہوجائے گی اور اس اقدام سے ملک مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب جائے گا۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز اور ہلکی بارش

    کراچی کے مختلف علاقوں میں تیز اور ہلکی بارش

    شہرقائد کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے تاہم آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ آج ایک بار پھر شروع ہوگیا۔ گلستان جوہرمیں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش جاری جب کہ موسمیات، یونیورسٹی روڈ، ایئرپورٹ اور ملیرمیں ہلکی بارش جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران گرچ چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ شہرمیں مطلع جزوی اور کبھی مکمل ابرآلود رہے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ہے۔ شمال مغرب سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار 11 کلومیٹرفی گھنٹہ ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت 28.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب شہر کے مختلف علاقوں میں 2 روزسے کہیں ہلکی اورکہیں تیز بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم حبس ختم نہیں ہوا۔

  • ڈی جی رینجرز کا امن کیلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور شہدا کی قر بانیوں کو خراج تحسین پیش

    ڈی جی رینجرز کا امن کیلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور شہدا کی قر بانیوں کو خراج تحسین پیش

    ڈی جی رینجرز میجرجنرل افتخارحسن چوہدری نے امن کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور شہدا کی قر بانیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کراچی میں قائم امن قربانیوں کی مرہون منت ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی جی رینجرز میجرجنرل افتخارحسن چوہدری نے سائٹ ایسوسی ایشن کا دورہ کیا ، اس موقع پر سائٹ ایسوسی ایشن کے صدرعبدالہادی اورپیٹرن ان چیف زبیرموتی والا نے ان کا استقبال کیا۔

    ڈی جی رینجرز نے ایسوسی ایشن کےممبران سےملاقات کی ، جس میں امن کےلیےقانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار، شہدا کی قر بانیوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے شرکا کو سیکیورٹی کے لیے اقدامات سےآگاہ کیا۔

    ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کراچی میں قائم امن لوگوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کی مرہون منت ہے، ادارے امن وامان مزید بہتر بنانے اور پاکستانی سرمایہ داروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    انڈسٹریز کے ممبران نے قا نون نافذ کرنے والے اداروں کی خد مات کوسراہا ، جس پر ترجمان رینجرز نے کہا کہ بحالی امن کےاقدامات میں بھرپورتعاون کا یقین دلایاگیا۔

  • کراچی بارش، انتظامی دعوے دھرے، قبرستان کے اطراف نالے کا پانی جمع

    کراچی بارش، انتظامی دعوے دھرے، قبرستان کے اطراف نالے کا پانی جمع

    شہر قائد میں ہونے والی مون سون بارش نے انتظامی اقدامات اور دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    کراچی کے مختلف علاقوں میں آج کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش ہوئی، اعداد و شمار کے مطابق شہر میں آج سب سےزیادہ بارش سرجانی میں 18 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ اورنگی ٹاؤن میں 10.6 ملی میٹر اور پی اے ایف بیس مسرور میں 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ علاقہ ازیں ناظم آباد میں 5.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد مقامی انتظامیہ نے بارش کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کیے تھے، جس کی چند گھنٹوں کی بارش نے قلعی کھول دی۔

    انتظامیہ کی جانب سے نالوں کی صفائی کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے کیونکہ شادمان ٹاؤن کا نالہ تھوڑی سی بارش برداشت نہ کرسکا اور ابل پڑا جس کا پانی اطراف کی سڑکوں پر جمع ہوگیا۔

    نالے میں طغیانی کے باعث شادمان کے علاقے 14 نمبر، سخی حسن قبرستان کے اطراف سیوریج کا پانی بھر گیا، سڑک پر غلاظت اور گندگی کے ڈھیر اور نالے کے پانی کی وجہ سے روانی کی روانی بری طرح سے متاثر ہوئی۔

  • کراچی سے گرفتار ایس آر اے دہشت گردوں کو جرمنی سے بھی ہدایات ملنے کا انکشاف

    کراچی سے گرفتار ایس آر اے دہشت گردوں کو جرمنی سے بھی ہدایات ملنے کا انکشاف

    شہر قائد سے گرفتار ایس آر اے دہشت گردوں کو جرمنی سے بھی ہدایات ملنے کا انکشاف سامنے آیا ،ملزمان نے بتایا کراچی میں لسانی بنیادوں پرخود و ہراس پھیلانے کے لیے احکامات ملتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی سےگرفتارایس آر اے دہشت گردوں نے تفتیش کےدوران چونکا دینے والے انکشافات کئے ، ملزمان نے بتایا کہ جرمنی سےشاہنوازبھٹو، افغانستان سےاصغرشاہ کےاحکامات ملتے ہیں اور شاہنواز بھٹو،اصغرشاہ کےاحکامات پر ایس آر اے کو عاقب چانڈیو چلا رہا ہے۔

    ملزمان نے بیان میں کہا کہ کراچی میں لسانی بنیادوں پر خود و ہراس پھیلانے کے لیے احکامات اور غیر سندھیوں کو قتل کرنے کے احکامات ملتے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ محمدیونس اورسراج کو کورنگی پولیس نے 14 اگست کوگرفتارکیاتھا ، ملزمان کوایک شہری کوشدیدزخمی کرنے کےالزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ اسی گروپ کےارکان نےلاڑکانہ میں بھی قتل کی وارداتیں کیں۔

    حکام نے کہا ہے کہ ستاراورسہیل لاشاری کی تلاش میں پولیس چھاپوں کاسلسلہ جاری ہے۔

    یاد رہے گزشتہ سال سندھ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے محکمے نے کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز کے موبائلوں اور چوکیوں پر گرینیڈ اور کریکر حملوں میں ملوث کالعدم سندھ انقلاب آرمی (ایس آر اے) سے منسلک چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔

    سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد نے کہا تھا کہ پولیس نے وفاقی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر ملزمان کو گرفتار کیا ، ان سے دستی بم اور پستول برآمد ہوئے۔

  • کراچی میں غیرمعیاری دودھ کی فروخت کیخلاف آپریشن کا حکم

    کراچی میں غیرمعیاری دودھ کی فروخت کیخلاف آپریشن کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ نے غیرمعیاری دودھ کی فروخت کیخلاف آپریشن کاحکم دیتے ہوئے کمشنر کراچی کو 2ہفتےمیں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں دودھ کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر سماعت ہوئی ، انتظامیہ کی کارکردگی پرجسٹس اقبال کلہوڑو نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کے نمائندے کو جھاڑ پلادی اور کہا آپ کچھ نہیں کررہے،شہریوں کےٹیکسزسےتنخواہیں دی جاتی ہیں، فوڈاتھارٹی سورہی ہے،شہری کیمیکل ملادودھ پینےپرمجبورہیں۔

    عدالت نے سندھ فوڈ اتھارٹی کے وکیل سے استفسار کیا آپ کو پتہ ہے شہر میں دودھ کا کیا نرخ ہے؟ وکیل نے اعتراف کیا شہربھر میں دودھ 160روپے کلو فروخت ہو رہا ہے،اےسی نے بتایا کہ اکتوبرمیں رپورٹ پیش کی تھی، قیمت 110روپے کلو مقرر کی گئی تھی۔

    جس پر عدالت نے کہا آپ نوٹیفکیشن نکال کر سو جاتے ہیں،نوٹیفکیشن نکالنا مسئلے کا حل نہیں، 160 روپے کلو بھی خالص دودھ مل جائے تو غنیمت ہے، کیمیکل ملے دودھ کی وجہ سے عوام ڈبے کا دودھ استعمال کررہی ہے۔

    جسٹس اقبال کلہوڑو کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ سے تو اطلاعات آتی ہیں کارروائی ہورہی ہے، کراچی کےشہریوں کومافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس پر وکیل فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں سو سے زائد چھاپے مارے،جرمانے کیے گئے۔

    جس پر عدالت نے پوچھا چھاپوں کےنتائج کیاہیں،عوام کو کیا فائدہ پہنچا، نتائج چاہتےہیں ، عدالت نے غیرمعیاری دودھ کی فروخت کیخلاف آپریشن کا حکم دیتے ہوئے کہا کمشنرکراچی آپریشن کی نگرانی کریں اور 2 ہفتے میں رپورٹ جمع کرائیں۔

    سندھ ہائی کورٹ نے کمشنر کراچی کو ایک ماہ میں دودھ کی قیمتوں کے تعین کا حکم دیتے ہوئے کہا قیمتوں کے تعین کیلئے از سر نو طریقہ کاربنایا جائے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے طریقہ کاراور قیمت کاتعین کریں۔

  • غلط علاج، شہری ہسپتال کے خلاف عدالت پہنچ گیا، 49 لاکھ روپے کا دعویٰ دائر

    غلط علاج، شہری ہسپتال کے خلاف عدالت پہنچ گیا، 49 لاکھ روپے کا دعویٰ دائر

    کراچی : شہری نجی اسپتال کے خلاف صارفین کے تحفظ کی عدالت پہنچ گیا.

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شہری نے غلط علاج کرنے پر اسپتال کے خلاف49 لاکھ روپے سے زائد ہرجانے کا دعوی دائر کردیا صارفین کی عدالت نےنجی اسپتال کو نوٹس جاری کردیا۔

    صارف عدالت ضلع جنوبی میں شہری کامران فرید نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے والد جگر کے عارضے میں مبتلا تھے 7 جون کو مریض کو نجی اسپتال لایا گیااسپتال کے عملے اور ڈاکٹر نے انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کو ٹائیفائڈ ہوگیا ہے ہم سے جگرکے عارضے کی رپورٹ چھپائی گئی 7 روزانہیں اسپتال میں رکھنے کے بعد ڈسچار ج کیا گیا لیکن ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی۔

    ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کیلئے آبپاشی کے متبادل طریقے اختیار کرنے…

    درخواست گزارکے مطابق مریض اسپتال میں چیک اپ کراتا رہا 26 جون کو انہیں دوبارہ ایڈمٹ کرلیا گیا اور40 دن بعد بتایا گیا کہ مریض کوجگر کی بیماری ہے

    شہری کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے غلط بیانی کی اور مریض سے غلط علاج کے بہانے لاکھوں روپے وصول کیے ہرجانےکے دعوی میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مریض کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا نجی اسپتال پر جرمانہ عائد کیا جائے۔

    ملکی دولت بڑھانے کے لیے صنعتوں اور سیاحت پر توجہ دینی ہو گی عمران خان

  • ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے،عدالت

    ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے،عدالت

    ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے،عدالت

    سندھ کے جزائر وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سیکریٹری جنگلات کے جواب پر برہم ہو گئے ،چیف جسٹس نے کہا کہ بنڈار اور دیگر جزائر کی زمین کس کی ہے؟ سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ جزائر کی زمین پورٹ قاسم کودی تھی،زمین سندھ کی ملکیت ہے اس کے پاس ہونی چاہیے تھی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ پورٹ قاسم کو زمین دی تو کچھ حدود بھی تو مقرر کی ہوگی؟ ،عدالت نے سیکرٹری جنگلات کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی زمین کو اون کیوں نہیں کرتے؟ آپ کی ذاتی زمین ہوتی تو اون کرتے سندھ کی زمین کو اون نہیں کررہے؟ کیا جزائر کی زمین کسی بلڈر کو دینی ہے اور مال بنانا ہے؟ زمین سندھ کی ہے اور مینگروز کے جنگلات بھی محفوظ ہیں،ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے، ہم چیف سیکریٹری سندھ کو بلاتے ہیں، مجھے آج ہی بلیک اینڈ وائٹ جواب چاہیے، جزائر کی زمین کس کی ملکیت ہے؟

    چیف جسٹس نے سیکرٹری جنگلات کو جواب دیا کہ باہر بیٹھیں اور آج ہی لکھ کردیں ،

    قبل ازیں سندھ کے اراکین قومی اسمبلی کے بعد بلوچستان کے اراکین قومی اسمبلی نے جزائر کے متعلق صدر عارف علوی کے آئی لینڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کرادی ہے۔

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی آئی لینڈ اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کرتی ہے، سندھ کےساحلوں سےمنسلک جزائر پرغیر قانونی دعویٰ کی مخالفت کرینگے۔ آئی لینڈ اتھارٹی سےمتعلق صدارتی آرڈیننس ناقابل قبول ہے، آئی لینڈ اتھارٹی آرڈیننس مودی کےمقبوضہ کشمیر میں اقدام جیسا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے آئی لینڈ آرڈیننس کو روکنے کے لئے سندھ اسمبلی سےمتبادل قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ یہ جزائر حکومت سندھ کی ملکیت ہیں، کسی بھی آرڈینس کے ذریعے سندھ کی زمین پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا، آئی لینڈ کی زمین سندھ کی ہے اور اس پر سندھ کے عوام کا حق ہے، سندھ میں موجود جزیروں پر مقامی ماہی گیروں اور دیگر آبادیوں کا حق ہے۔