Baaghi TV

Category: کراچی

  • سینیٹرفیصل واوڈا کی والدہ انتقال کرگئیں

    سینیٹرفیصل واوڈا کی والدہ انتقال کرگئیں

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا کی والدہ انتقال کرگئیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے بتایا کہ میری والدہ آج اپنے خالق حقیقی سے جاملیں، طبیعت ناسازی کے باعث والدہ کچھ دنوں سے کومہ میں تھیں۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے بتایا کہ والدہ کی نمازہ جنازہ کل بعد نماز ظہر ڈی ایچ اے فیز سیون کی جامع مسجد عائشہ میں ادا کی جائے گی، باغی ٹی وی فیملی کی جانب سے سینیٹر فیصل واوڈا کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے سینیٹر فیصل کی والدہ کے انتقال پر ان سے اظہار تعزیت کیا ہے اور ان کی والدہ کے بلند درجات کی دعا کی ہے

  • کے الیکٹرک کا انوکھا کارنامہ، 720 یونٹ کا بل 20 لاکھ روپے سے زائد

    کے الیکٹرک کا انوکھا کارنامہ، 720 یونٹ کا بل 20 لاکھ روپے سے زائد

    کے الیکٹرک نے تیس سال پرانے 25 ہزار روپے کے بل کی عدم ادائیگی پر رہائشی عمارت کی بجلی منقطع کردی۔

    گلستان جوہر بلاک 1 میں قائم رہائشی عمارت فاران سینٹر کے 30 سال پرانے 25 ہزار روپے کے بل کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنا کر کے الیکٹرک نے عمارت کی بجلی کاٹ دی۔

    اس عمارت میں 16 فلیٹ، ایک بینک اور پانج دکانیں ہیں، جو بجلی کٹنے کے بعد اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔

    مکینوں نے مؤقف اپنایا کہ ’ہم اپنے رہائشی فلیٹ کے بجلی کا بل ہرماہ باقاعدگی سے ادا کررہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے کے الیکٹرک کے بل پر اسٹار صارف لکھا ہوتا ہے‘۔

    بجلی منقطع کرنے کے لیے آنے والی ٹیم کے مطابق عمارت کی تعمیر کےوقت بلڈر کی طرف کچھ رقم واجب الاد تھی، اس وقت کی کے ای ایس سی نے 25 ہزار روپے کا بل ادا نہ کرنے پر عمارت کا میٹر کاٹ دیا تھا۔

    بلڈر کے مطابق کے الیکٹرک نے میٹر پرتیس برسوں میں سرچارجز لگا لگا کر بل 20 لاکھ روپے کیا اور پھر اس رقم کو ادا کرنے کی صورت میں ہی بجلی بحال کرنے کا اعلان کیا۔

    دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے وضاحت کی کہ گلستان جوہر میں غیر قانونی کنڈے کے استعمال اور واجبات کی عدم ادائیگی پر ایک عمارت کی بجلی منقطع کی گئی ہے، کئی بار رابطہ اور یاد دہانی کرائی گئی مگر واجبات ادا نہیں کیے گئے۔

  • وزیر صحت سندھ کا 12 سے17 سال کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا مطالبہ

    وزیر صحت سندھ کا 12 سے17 سال کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا مطالبہ

    وزیر صحت سندھ عذراپیچوہو نے عالمی ادارہ صحت سے منظور ویکسین 12 سے17 سال کے بچوں کو لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا محکمہ تعلیم اورمحکمہ صحت اسکول کھولنے سے متعلق ایک صفحے پر ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر صحت سندھ عذراپیچوہو کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکول بند کرنے کے حق میں نہیں ، جلوس اور جلسوں میں ایس او پیز کی پابندی نہیں ہوتی، محکمہ تعلیم اورمحکمہ صحت اسکول کھولنے سے متعلق ایک صفحے پر ہیں۔

    عذراپیچوہو نے مطالبہ کیا کہ عالمی ادارہ صحت سے منظور ویکسین 12 سے17 سال کے بچوں کو لگائی جائے۔

    یاد رہے محکمہ صحت سندھ نے کورونا کیسز میں کمی کے پیش نظر اسپتالوں کو معمو ل کے آپریشن کی اجازت دے دی ، اس سے قبل سندھ کےاسپتالوں میں کوروناکیسزبڑھنے پرصرف ضروری آپریشن کئے جارہے تھے۔

    خیال رہے سندھ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 6.11 فیصد اور کراچی میں یہ شرح 8 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔

    اس وقت کورونا وائرس کے 48299 مریض زیر علاج ہیں، جن میں سے 47421 مریض گھروں اور 45 مریض آئسولیشن سینٹرز پر زیر علاج ہیں، جبکہ مختلف اسپتالوں میں 833 مریض زیر علاج ہیں۔

    سندھ میں کورونا متاثرہ 746 مریضوں کی حالت تشویشناک جبکہ کوویڈ-19 کے 69 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں

  • آج پوری قوم پاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے،گورنر عمران اسماعیل

    آج پوری قوم پاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے،گورنر عمران اسماعیل

    یوم بحریہ کے موقع پر گورنر عمران اسماعیل کا خطاب

    انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام پاک بحریہ کی شاندار کارکردگی کی یاد میں ہر سال آٹھ ستمبر کو یومِ بحریہ کے طور پر مناتے ہیں۔

    آج پوری قوم پاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے کہ جس نے 8 ستمبر 1965 کو دشمن کی تمام تر چالیں ناکام بنا دیں۔

    آپریشن دوارکا میں پاکستان نیوی نے دشمن کے دلوں پر جو لرزہ طاری کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔
    بہترین جنگی حکمت عملی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بدولت پاک بحریہ نے اپنے سے کئی گنا بڑی بحریہ کو ناکوں چنے چبوا دیے۔

    پاک بحریہ نے دنیا کو یہ واضح الفاظ میں پیغام دے دیا کہ پاکستان کی بحری و نظریاتی حدود کی محافظ اسکی بحری افواج ہماوقت چاک وچوبند رہتی ہے۔

  • انتظامیہ کراچی کے ساحل پر پھنسے جہازہینگ ٹونگ 77 کو نکالنے میں کامیاب

    انتظامیہ کراچی کے ساحل پر پھنسے جہازہینگ ٹونگ 77 کو نکالنے میں کامیاب

    انتظامیہ کراچی کے ساحل پر پھنسے جہازہینگ ٹونگ 77 کو نکالنے میں کامیاب ہوگئی، جہاز کوساحل سے 5میل سے زائد سمندرمیں گھسیٹ لیاگیا ، اب جہاز کو کل چینل تک منتقل کیا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے سی ویو کلفٹن پر پھنسے بحری جہاز ہینگ ٹونگ 77 کو نکا ل لیاگیا، انتظامیہ نے بتایا کہ جہاز کے ری فلوٹنگ آپریشن میں سالویج ماسٹر، 2کرین بارج ،دو ٹگس نے حصہ لیا۔

    انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جہاز کوساحل سے 5میل سے زائدسمندرمیں گھسیٹ لیاگیا ہے ، اب جہاز گہرے سمندرمیں موجود ہے ،کل چینل تک منتقل کیا جائے گا ، جہاز نے کرین شپ کو کراس کرلیا جو800میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق جہاز کا انجن اسٹارٹ اور مکمل ورکنگ میں ہے ، جہاز مزید آگے لے جانے کیلئےدونوں ٹگس جہاز کیساتھ موجود ہیں، جہاز گہرے سمندر ،برتھ ہونے کے بعد بھی کے پی ٹی تحویل میں رہے گا۔

    جہاز سے نکالا گیا تیل واپس جہاز میں منتقل کیا جائے گا اور جہاز کی وجہ سےپہنچنے والانقصان جہازمالک سےوصول کیا جائے گا، میرین مرکنٹائل ڈیپارٹمنٹ جہازکے برتھ ہونے کے بعد مکمل معائبنہ کرے گا۔

    معاون خصوصی محمود مولوی نے کہا کہ آج اللہ کےفضل سےجہازگہرےسمندرمیں آچکاہے، اب جہازتحویل میں لیکرکارروائی شروع کریں گے، جہازاس وقت سیف واٹرمیں ہے ، جہازکاپہلےمکمل چیک اپ ہوگاپھرجانےکی اجازت ہوگی،محمودمولوی

    محمود مولوی کا کہنا تھا کہ جہازکونکال لیاگیاہےبہت سےلوگ کہہ رہےتھےکہ نہیں نکلےگا، جہازنکالنےمیں کافی خرچہ آیاہےپوراخرچہ مالک نےدیاہے، حکومت کاجہازنکالنےمیں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا،

    یاد رہے کمپنی نے جہاز نکالنے کیلئےتجربہ کار سالویج ماسٹر کی خدمات لیں، کمپنی کا کہنا تھا کہ جہاز کو نکالنے کے لیے کرین بارج اور دو ٹگس کو جہاز سے مخصوص پر اینکر کر دیا گیا ہے اور جہاز کو کھنچنے کے لیے نئے اور مضبوط رسے حاصل کر لیے گے ہیں۔

    خیال رہے گزشتہ ماہ ناقص پلاننگ ،پرانے رسوں اور ناتجربہ کار ٹیم کی وجہ سے جہاز کھنچنے کی متعدد کوشیشیں ناکام ہو چکی ہیں ، جس کے بعد وزارت بحری امور اور کراچی پورٹ ٹرسٹ جہاز کھینچنے میں ناکامی پر تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں کے پی ٹی نے جہازمالک کو جہاز نکالنے کے مکمل پلان ،آلات،بارج ،ٹگس سمیت سالویج ماسٹر کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی

  • سندھ میں اسکول اپ گریڈیشن پالیسی منظور

    سندھ میں اسکول اپ گریڈیشن پالیسی منظور

    سندھ کابینہ نے اسکول اپ گریڈیشن پالیسی کی منظوری دے دی، صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق ہائی اسکول میں اپ گریڈیشن کے لیے 40 بچے اور 30 بچیاں زیر تعلیم ہونا ضروری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ نے اسکول اپ گریڈیشن پالیسی کی منظوری دے دی، صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ کا کہنا ہے کہ پانچویں جماعت میں 20 لڑکے اور 15 لڑکیاں ہیں تو ایلیمنٹری اسکول بنایا جائے۔

    وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ہائی اسکول میں اپ گریڈیشن کے لیے 40 بچے اور 30 بچیاں ضروری ہیں، پانچویں جماعت میں 50 بچے اور 30 بچیاں ہیں تو ایلیمنٹری اسکول ڈکلیئر کیا جائے۔

    کابینہ اجلاس میں 200 ایکڑ اراضی پاکستان نیوی کو کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے دینے پر بھی غور کیا گیا، وزیر اعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں ایڈووکیٹ جنرل بھی شامل ہوں گے۔

  • تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    پرائویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے سربراہان کا تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن مہم کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے حوالے سے اجلاس ہوا ، 17 سال اور اس سے بڑی عمر کے طلبہ وطالبات کو ویکسینیشن کروائی جائے گی۔

    تفصیلات کے مطابق پرائویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے سربراہان کا طلبا کی ویکسی نیشن مہم پر انتہائی اہم اجلاس ہوا، اجلاس تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن مہم کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے لیے ڈائیریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ میں منعقد کیا گیا۔

    حکومت سندھ کے اعلان اور این سی او سی کی ہدایات کے مطابق 17 سال اور اس سے بڑی عمر کے طلبہ وطالبات کو ویکسینیشن کروائی جائے گی ، ویکسینیشن کےلئے کلاس سے زیادہ عمر کا خیال رکھا جائے گا۔

    پرائیوٹ اسکولزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کےلئے والدین سے ان کی رضامندی کا فارم جمع کیا جائے گا اور صرف رضامند والدین کے بچوں کو ویکسینیشن کروائی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی جانب سے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر مشتمل ایک ٹیم ہائر سیکنڈری اسکول اور کالج میں جا کر ویکسینیشن کا عمل انجام دے گی اور ہر طالبعلم کو ابتدائی میڈیکل ایگزامینیش کےبعد ہی ویکسینیشن دی جائے گی ۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی نگرانی میں ویکسینیشن ٹیم میں ڈائریکٹوریٹ پرائویٹ انسٹیٹیوشنز اور پرائویٹ اسکولز ایسوسیشنز کے نمائندے شامل ہوں گے ، ہر ہائر سیکنڈری اسکول اور کالج میں جا کر ویکسینیشن کا عمل انجام دیا جائے گا

    پرائویٹ اسکولز اور کالجز ویکسینیشن کےلئے والدین کو زیادہ سے زیادہ آمادہ کریں گے ۔

    خیال رہے حکومت سندھ نے کورونا صورتحال کے پیش نظر 9ویں سے12جماعت کے طلبا کی ویکسی نیشن کو لازم قرار دیا ہے۔

  • بینک خدمات کیلئے ویکسینیشن لازمی قرار دینے کی تجویز، سندھ حکومت کا این سی اوسی کو مراسلہ جاری

    بینک خدمات کیلئے ویکسینیشن لازمی قرار دینے کی تجویز، سندھ حکومت کا این سی اوسی کو مراسلہ جاری

    کراچی: کورونا وبا کی چوتھی لہر کے باعث بینک خدمات حاصل کرنے کے لیے بھی کورونا ویکسینیشن کی لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق محکمہ سندھ نے این سی او سی کو مراسلہ بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بینک خدمات کے لئے ویکسی نیشن سرٹیفیکٹ کو لازمی قرار دیا جائے کہ بینک اورپوسٹ آفیسز ویکسی نیٹڈ کسٹمرزکو ہی خدمات فراہم کریں۔

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے این سی او سی کو بھیجی جانے والی تجویز میں کہا گیا ہے کہ بنا ویکسینیشن کے آنے والے صارفین کو خدمات فراہم کرنے سے معذرت کرلی جائے۔

    محکمہ صحت سندھ نے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کو بھی ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بھیجے جانے والے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہوٹلزاورریسٹورنٹس کی ایس اوپیزمیں ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔

    محکمہ صحت سندھ نے اپنے مراسلے میں واضح کیا ہے کہ بنا کورونا ویکسینیشن ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے اور ہوٹلوں میں رہائش اختیار کرنے پر پابندی ہو گی۔

  • پیپلزپارٹی کے پپو،پیارے صرف شاہراہ فیصل پر فوٹو سیشن کروا رہے تھے، حلیم عادل شیخ

    پیپلزپارٹی کے پپو،پیارے صرف شاہراہ فیصل پر فوٹو سیشن کروا رہے تھے، حلیم عادل شیخ

    اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کراچی میں برسات متاثرہ علاقوں کے دورے کئے ان کے ہمراہ پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی شامل تھے، حلیم عادل شیخ نے نیو کراچی، لیاقت آباد، گارڈن، بنارس، سمیت دیگر ملحقہ علاقوں کا دورہ کیا اور سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہارکیا

    اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے نیو کراچی کے علاقے خمیسو بروھی گوٹھ میں خستہ حال اسکول کا دورہ کیا، علاقہ مکنوں نے شکایات کے انبار لگاتے ہوئے کہا بارش کی وجہ سے گٹر کا پانی اسکول اور گھروں میں داخل ہوگیا تھا، اسکول میں 200 سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، سرکار کی عدم توجہ سے اسکول نشہ کرنے والوں کی آماجگاہ بم گیا،اسکول میں اساتذہ، بچے بھی موجود ہیں سندھ حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی ہے، اپوزیشن لیڈر نے اسکول و علاقہ کی المناک صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کرتے ہوئے کہا سندھ حکومت نے کراچی کو تباہ کر دیا ہے، سندھ حکومت کے سالانہ بجٹ کا 90 فیصد روینیو کراچی سے آتا، ہے جبکہ ملک چلانے میں کراچی شہر ایک خآص حیثیت کا حامل ہے، سندھ حکومت نے ہمیشہ کراچی سے سوتیلی ماں والو سلوک کیا ہے،پیپلزپارٹی کے پپو پیارے صرف شاہراہ فیصل پر دورے کررہے ہیں، کراچی کے مختلف علاقوں میں لوگ پریشان ہیں، سندھ حکومت نے کاروبار کے بعد سندھ کی تعلیم پر وار کیا ہے، ایڈمنسٹریٹر صاحب کل فوٹو سیشن کرا رہے ہیں اور افسوس کہ کُچھ “کاسہ لیس“ انکے گُن گا رہے ہیں ۔

    سندھ کے حکمرانوں کو نیو کراچی کو یہ اسکول نظر نہیں آرہا ہے پر جہان ووٹر بھی پی پی کے ہیں، ایڈمنسٹریٹر نے معاونین کا جو لشکر بنایا ہے اُنکو بھی توفیق نہیں ہوئی ایسی جگہوں پر جاانے کی ،ڈھائی سو بچوں والا اسکول گندگی کا ڈھیر اور منشیات کا اڈہ بنا ہوا ہے دس منٹ کی بارش سے گٹر کے پانی میں گھرا ہوا ہے ،ایسی کئی جگہیں ہیں جہان کل شام سے گندا پانی کھڑا ہے،مگر ایسے علاقوں میں نا انفیکٹڈ سی ایم گیا نا ہی رجیکٹڈ ایڈمنسٹریٹر،افسوس کہ بھنگی بھی پیسہ لے کر صفائی کرنے آرہے ہیں، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے لیاقت آباد 10 نمبر انڈر پاس کے دورے کے موقعے پر میڈیا سے بات چیت کرتےہوئے کہا بارش کا پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام شہریوں کو مشکلات کا سامنہ ہے، بارش وقفوں میں ہوئی رستے اسکول گٹر کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، ایس آئی ڈی سی ایل نے کام کیا گٹر نالے بنائے گئے،یہ کوئی بلاول یا مرتضیٰ وہاب کا کمال نہیں، تین نالے وفاق نے صاف کرائے،ان کے متاثرین کو معاوضہ بھی وفاق نے دیاسندھ حکومت کے حصے میں آنے والے 500 نالے صاف نہیں ہوئے، سندھ حکومت بتائے وہ نالے صاف کیوں نہیں ہوئے، شاہراہ فیصل کی تصاویر لگاکر کہتے ہیں شہر صاف ہے، یہاں کی عوام کو پانی نہیں ملتا، ہائیڈرینٹ بھرے ہوئے ہیں، منشیات کے 363 اڈے پولیس کی سرپرستی میں کراچی میں چل رہے ہیں، کراچی حیدرآباد اور بقیہ سندھ کے لیے الگ نظام ہے بنا دیا گیا ہے، آج بزنس کمیونٹی کا احتجاج بھی جاری ہے تاجر برداری کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں ان کے تمام مطالبات منظور کئے جائیں،

    معاون خصوصی کے لوگ کے ایم سی اور ، ڈی ایم سی سے بھتہ لے رہے ہیں،اسکول گٹر بن چکے ہیں، کراچی کو تباہ کررہے ہیں،اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کراچی سائیٹ ایریا کا بھی دورہ کیا، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ، رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی نے وفاقی فنڈ سے تعمیر گارڈن سے بنارس تک بنائی گئی نئی سڑک کا بھی دورہ کیا، اس پر موقعہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا یہ سڑک ہر بارش میں ڈوب جاتی تھی اور علاقہ میں پانی بھر جاتا تھا، وفاقی حکومت کے فنڈ سے نکاسی آب کا عمل بھی بہتر کیا گیا، شکریہ عمران خان شکریہ کپتان، یہ روڈ ایس آئی ڈی سی ایل کی جانب سے بنایا گیا، اس بارش میں کوئی پانی یہاں کھڑا نہیں ہوا، پورے انتظام کے ساتھ اس سڑک کو بنایا گیا ہے، پاکستان کے جھنڈے اس پوری سڑک پر لگے ہوئے ہیں، ساڑھے پانچ کلو میٹر کی سڑک پر ٹریفک رواں دواں ہے، ایم پی اے سعید آفریدی نے کہا کراچی سب سے زیادہ جنریٹ پیدا کرنے والا شہر ہے، انتظامیہ کا مقصد صرف شہر کو لوٹنا ہے،پ پ کے لوگ زکوٰۃ کا پیسہ بھی نہیں چھوڑتے،وہ نالے صاف کہاں سے کریں گے؟ انڈر پاس پانی میں ڈوبا ہوا ہے کوئی نکالنے کے لئے انتظامیہ کا بندہ نہیں آیا ہے۔

  • پی ٹی آئی  رہنماؤں کی تاجر ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر اظہار یکجہتی

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی تاجر ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر اظہار یکجہتی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی سربراہی میں تاجر ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچ کر ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان، مرکزی جوائنٹ سیکریٹری و رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، اراکین سندھ اسمبلی سعید آفریدی،راجہ اظہر، جمال صدیقی، شہزاد قریشی سمیت دیگر موجود تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ اس شہر کی صنعت اور بزنس کمیونٹی 70 فیصد ریونیو جمع کرتی ہے۔ اس ملک کے وی وی آئی پیز یہ لوگ ہیں،یہ تاجر اس قوم کے سر کا تاج ہیں۔ تین دن سے یہ تاجر برادری روڈ پر موجود ہے،

    ہمارے رکن راجہ اظہر پہلے دن سے یہاں موجود ہیں لیکن ان کے جائز مطالبے کو صوبائی حکومت کی جانب سے تسلیم نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں نادر شاہی لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ جلسے ہوسکتے ہیں لیکن کاروبار نہیں ہوسکتا۔ یہ سازش پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ تمام مشکلات کے باوجود عمران خان نے بزنس کمیونٹی اور مزدور کا خیال رکھا،سندھ حکومت ڈیڑھ سال سے سازشیں کررہی ہے۔ کشمیر میں جس طرح ظلم ہورہا ہے، وہی رویہ کراچی میں ہے۔ ہم تاجر برادری کے ساتھ کھڑے ہیں،تاجروں کے ہر فیصلے میں ساتھ ہیں۔ ایک اے سی کو ان سے مذاکرات کے لیے بھیجا گیا لیکن کسی وزیر کو یہاں آنے کی زحمت نہیں ہوئی۔سندھ حکومت سیکورٹی رسک بن چکی ہے۔ 18 ویں ترمیم کی آڑ میں ملک کے معاشی حب کو تباہ کیا جارہا ہے۔

    اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ کراچی کی تاجر برادری کراچی کا کیس لڑرہی ہے۔ یہ لوگ فرعونوں سے مقابلہ کررہے ہیں۔ تین دن سے ملک چلانے والے لوگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں، صوبے کا کوئی وزیر ان کے پاس نہیں آیا۔ تاجروں کے مطالبات جائز ہیں،سندھ کی حکومت کا مقصد ملک کے وزیراعظم کو پریشان کرنا ہے۔ ان کی کوشش ہے معیشت کو بٹھایا جائے۔ کراچی کے کاروباری شخصیات کے خلاف مقدمے کیے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک قبول نہیں۔جو تاجر کہیں گے ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ہم وزیراعظم عمران خان کا پیغام لیکر ائے ہیں، وزیراعظم نے کہا ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے ظلم کی مذمت کرتا ہوں۔ تاجر ریونیو دیتے ہیں تو ملک چلتا ہے۔ سندھ حکومت نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا۔ وزیراعظم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا۔ ہر چیز چل رہی ہے جلسے ہورہے ہیں،سندھ حکومت اپنے شہروں سے بھی تعصب رکھ رہی ہے۔ ہم امن امان کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے۔ سندھ حکومت کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت حوش کے ناخن لے اور تاجر برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔