Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ میں سیلابی صورتحال، 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    سندھ میں سیلابی صورتحال، 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    سندھ کے سینیئر وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ بیراجوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ گڈو بیراج پر اونچے درجے، سکھر بیراج پر درمیانے درجے جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔صوبائی وزیر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کچے کے علاقوں سے 5 ہزار 269 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد اب تک نقل مکانی کرنے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار 364 ہوچکی ہے۔ اس دوران 252 متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا جہاں اس وقت 469 افراد مقیم ہیں۔

    شرجیل میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ نے 177 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائٹس قائم کی ہیں۔ ان مراکز پر گزشتہ 24 گھنٹے میں 6 ہزار 596 افراد کو جبکہ مجموعی طور پر 84 ہزار 118 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 11 ہزار 569 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اب تک نقل مکانی کرنے والے مویشیوں کی تعداد 4 لاکھ 38 ہزار 835 ہوچکی ہے۔ اسی دوران 51 ہزار 308 مویشیوں کو ویکسین اور علاج فراہم کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 12 لاکھ 32 ہزار 223 مویشیوں کا علاج اور ویکسینیشن کی جاچکی ہے۔

    اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسحٰق ڈار

    امریکا اور چین کے درمیان میڈرڈ میں اہم تجارتی مذاکرات شروع

  • اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کشمور کا دورہ کرکے سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا تھا، انہوں نے اس وقت وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ زرعی ایمرجنسی لگائیں، میں وزیراعظم کا ایمرجنسی لگانے پر شکرگزار ہوں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے وفاق سے بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے متاثرین کو امداد دینے کا بھی کہا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کے کاموں میں حصہ ڈالنے کی اپیل کرنے کی تجویز دی تھی کیوں کہ عالمی طور پر ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ہے لیکن متاثر ہم ہورہے ہیں،وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوراً بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے ریلیف کی اپیل کرے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گڈوبیراج کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے اور یہاں سے اب تک پانی کی سطح ساڑھے 5 لاکھ کیوسک تک ہے، ہم گڈو بیراج سے چھ ساڑھے چھ لاکھ تک پانی گزار سکتے ہیں، تمام بندوں کے حساس مقامات پر مشینری موجود ہے، سکھربیراج سے ساڑھے6سے7لاکھ کیوسک پانی گزر رہا ہے، امید ہے کہ کامیابی سے یہ پانی سکھر بیراج اور آگے سے گزار لیں گے۔

    گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ انشااللہ ہم خوش اسلوبی سے پانی سکھر بیراج سے گزاریں گے،اب تک دریا کے آس پاس کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، کشمور میں 30 ہزار لوگوں کا انخلا کیا گیا ہے، اس وقت تک اپنی تیاریوں سے مطمئن ہیں 2010 سے اب تک دریا کے آس پاس بندوں کو اونچا کیا ہے،انہوں نے سندھ کے لوگوں، بالخصوص کچے کے علاقے کی آبادی اور متعلقہ سرکاری محکموں کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب کا دلیری سے مقابلہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا،ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے، الحمداللہ زیریں علاقوں میں اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت تک ہماری تیاریاں پوری ہیں، اللہ نے کرم کیا ہوا ہے، اب تک کا سیلابی ریلہ خیر خیریت سے گزر رہا ہے، جام خان شورو اور ان کی ٹیم نے دن رات کام کیا ہے، کابینہ کے وزرا، ارکان اسمبلی اور انتظامیہ کو شاباش دیتا ہوں،وزیراعلیٰ سندھ نے فلڈ فائٹنگ کے عملے کو 24گھنٹے موجود رہنے اور وزیراعلیٰ کی ضلعی انتظامیہ کو عوامی تعاون کے ساتھ اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کردی، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، سندھ کے لوگ مضبوط ہیں، سیلابی چیلنج سے نکل آئیں گے۔

  • گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گڈو بیراج پر اونچے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت تمام بیراجوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں میں مکمل طور پر مصروف ہے،سکھر میں دریائے سندھ کی لہریں تیز ہونے پر کچے کے متعدد دیہات زیر آب آگئے، 30 فیصد سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    گھوٹکی میں قادرپور اور رونتی کے متعدد دیہات زیر آب آنے سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، دادو کی تحصیل میہڑ کے کچے میں بھی دریا کی سطح میں بلند ہوگئی جبکہ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلہ پہلے سے ہی سیلاب میں ڈوبے سیہون کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے اگلے ایک دو روز میں صورتحال مزید المناک ہونے کا خدشہ ہے،نواب شاہ میں بھی سیلاب سے 20 سے زائد دیہات ڈوب گئے، متاثرین کو گھریلو سامان، مال مویشی اور اناج کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاک پر پابندی کی قرارداد جمع

    ،پنجند میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم کا بہاؤ 402,919 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، گڈو بیراج پر اپ اسٹریم کا بہاؤ 612,269 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم کا بہاؤ 582,942 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ سکھر بیراج پر اپ اسٹریم 488,820 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 438,390 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم کا بہاؤ 274,129 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 261,399 کیوسک ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5269 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، اب تک منتقل ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 163,364 ہوگئی ہے، کچہ کے علاقوں سے 252 افراد ریلیف کیمپس میں منتقل ہوئے، ریلیف کیمپس میں موجود افراد کی مجموعی تعداد 469 ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے 177 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائٹس قائم کی گئی ہیں جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6,596 مریضوں کا علاج کیا گیا، اب تک مجموعی طور پر 84,118 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11,569 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد اب تک منتقل ہونے والے مویشیوں کی تعداد 438,835 تک پہنچ گئی ہے، 51,308 مویشیوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں ویکسین اور علاج فراہم کیا گیا، جس کی مجموعی تعداد 1,232,223 ہوگئی ہے۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    ادھرصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کا مون سون بارشوں کے 11 ویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا،ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 16 سے 19 ستمبر تک دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر کمشنر ز ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران الرٹ ہیں،محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک کو الرٹ جاری کیا گیا۔

    ایشیاکپ:پاک-بھارت ٹاکرا، گودی میڈیا سیخ پا، میچ کے بائیکاٹ پر زور

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں، آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں غیر ضروری سفر سے گریز کریں،ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

  • منی لانڈرنگ کیس: ملک ریاض اور علی ریاض کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    منی لانڈرنگ کیس: ملک ریاض اور علی ریاض کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    ایف آئی اے عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    منی لانڈرنگ اسکینڈل (مقدمہ نمبر 58/25 اور 59/25 ایف آئی اے سی بی سی) کی سماعت میں عدالت نے واضح اعلان کیا کہ اگر دونوں ملزمان 13 اکتوبر 2025 کو پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دے دیا جائے گا اور کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔سماعت کے دوران مقدمہ نمبر 58/25 میں ملزمان عطا الحسن اور سجاد حیدر جبکہ مقدمہ نمبر 59/25 میں عطا الحسن اور محمد عمران عدالت میں پیش ہوئے اور نقول فراہم کی گئیں۔

    ایک اہم ملزم خلیل الرحمن دونوں مقدمات میں پیش نہ ہوا، اس کے وکیل نے بیماری کی بنیاد پر حاضری معافی کی درخواست دی، تاہم عدالت نے اسے تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا اور حکم دیا کہ خلیل الرحمن کو نقول تبھی ملیں گی جب وہ خود پیش ہوگا.عدالت نے آئندہ تاریخ پر ہر صورت گواہ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی، ورنہ سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا۔

    مقدمہ نمبر 58/25 کی سماعت اب 15 ستمبر اور مقدمہ نمبر 59/25 کی سماعت 17 ستمبر 2025 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

    گنڈاپور کی درخواست، غلط نام درج ہونے پر وکیل نے چیف جسٹس کو خط بھیج دیا

    ماہ رنگ بلوچ کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل گئی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں اگست کے بجلی بل معاف، اویس لغاری کی تصدیق

    اسکردو کشتی حادثہ: 37 دن بعد احمر لودھی کی میت کراچی پہنچا دی گئی

  • ماہ رنگ بلوچ کو  انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل گئی

    ماہ رنگ بلوچ کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مل گئی

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے مبینہ دہشت گردی اور بغاوت کے کیس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ماہ رنگ بلوچ کی ضمانت منظور کر لی۔

    واضح رہے کہ ماہ رنگ بلوچ اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں، جسے جمعرات کو کوئٹہ کی اے ٹی سی نے مزید 15 دن کے لیے بڑھایا تھا۔ بی وائی سی سربراہ کو 22 مارچ کو ’کوئٹہ سول اسپتال پر حملے‘ اور ’عوام کو تشدد پر اکسانے‘ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔سرکاری وکیل نے عدالت میں ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کے خلاف سنگین الزامات ہیں اور تفتیشی افسر نے ان کے خلاف شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں۔ تاہم عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایف آئی آر میں آزاد گواہ موجود نہیں، شکایت کنندہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا اور تفتیش میں بھی کئی سقم ہیں۔

    عدالت نے مزید کہا کہ تفتیشی افسر نے ملزمہ کو مفرور ظاہر کیا جبکہ وہ درحقیقت کوئٹہ اے ٹی سی کے ریمانڈ پر پولیس تحویل میں تھیں۔ اس کے علاوہ تفتیشی رپورٹ دس ماہ کی تاخیر سے جمع کرائی گئی جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی صورت میں ضمانت پر رہا کیا جائے۔

    اسکردو کشتی حادثہ: 37 دن بعد احمر لودھی کی میت کراچی پہنچا دی گئی

    آئی ایم ایف کا سیلاب پر دکھ کا اظہار، بحالی فنڈز اور بجٹ اقدامات کا جائزہ لینے کا اعلان

    غزہ پر اسرائیلی حملےجاری، مزید 40 فلسطینی شہید

    میانمار: راکھین میں فضائی حملہ، 19 طلبہ ہلاک، 22 زخمی

  • اسکردو کشتی حادثہ: 37 دن بعد  احمر لودھی کی میت کراچی پہنچا دی گئی

    اسکردو کشتی حادثہ: 37 دن بعد احمر لودھی کی میت کراچی پہنچا دی گئی

    اسکردو میں 4 اگست کو کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے احمر لودھی کی میت گلشن اقبال کراچی میں ان کے گھر پہنچا دی گئی۔

    احمر کی لاش 37 دن بعد 12 ستمبر کو ڈوبنے والے مقام سے ہی ملی تھی۔ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں میاں بیوی ڈوب گئے تھے، خاتون کی میت 5 اگست کو نکال لی گئی تھی جبکہ احمر کی لاش طویل تلاش کے بعد 37 روز بعد برآمد ہوئی۔متوفی کے والد یاسر لودھی نے بتایا کہ ان کا بیٹا اہل خانہ کے ساتھ 4 اگست کو اسکردو گیا تھا۔ کچورا لیک میں غیر قانونی ڈرافٹنگ کی جا رہی تھی اور وہاں کوئی مؤثر حفاظتی سامان موجود نہیں تھا۔

    انہوں نے شکوہ کیا کہ اسکردو میں ریسکیو 1122 کے پاس کوئی سہولت نہیں تھی اور بیٹے کو اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کرنا پڑا۔

    آئی ایم ایف کا سیلاب پر دکھ کا اظہار، بحالی فنڈز اور بجٹ اقدامات کا جائزہ لینے کا اعلان

    غزہ پر اسرائیلی حملےجاری، مزید 40 فلسطینی شہید

    غزہ پر اسرائیلی حملےجاری، مزید 40 فلسطینی شہید

    میانمار: راکھین میں فضائی حملہ، 19 طلبہ ہلاک، 22 زخمی

  • جسٹس ظفر احمد راجپوت سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر

    جسٹس ظفر احمد راجپوت سندھ ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس مقرر

    صدر مملکت نے جسٹس ظفر احمد راجپوت کو سندھ ہائی کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس تعینات کر دیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کی تاریخ سے ہوگا اور وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی تک اس عہدے پر فرائض انجام دیں گے۔اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ جسٹس ظفر احمد راجپوت اس وقت سندھ ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس ظفر احمد راجپوت 16 اکتوبر 1965 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گورنمنٹ سٹی آرٹس کالج سے بی اے، گورنمنٹ جناح لاء کالج سے ایل ایل بی اور جامعہ سندھ سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا۔

    وہ 1990 میں سندھ بار کونسل کے ساتھ بطور وکیل رجسٹرڈ ہوئے اور 2001 میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے۔ 1993 میں بطور عدالتی مجسٹریٹ منتخب ہوئے اور 31 اگست 2013 کو سندھ ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی۔

    سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور ججز کے سیکیورٹی پروٹوکولز میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    کے ایم سی نے کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے ٹیکس میں اضافہ کر دیا

    ایشیا کپ 2025: پاک بھارت میچ سے قبل دبئی پولیس کی سخت سکیورٹی ہدایات

  • کے ایم سی نے کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے ٹیکس میں اضافہ کر دیا

    کے ایم سی نے کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے ٹیکس میں اضافہ کر دیا

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے انڈسٹریل اور کمرشل صارفین کے بل میں 350 روپے اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اب 400 روپے کے بجائے 750 روپے وصول کیے جائیں گے۔

    میونسپل کمشنر افضل زیدی کا کہنا ہے کہ شہریوں سے ایم یو سی ٹی کی مد میں کوئی نیا چارجز نہیں لیا جا رہا، ماضی میں انڈسٹریل اور کمرشل صارفین سے 5 ہزار روپے تک وصول کیے جاتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ٹیکس کو ابتدائی طور پر 400 روپے کیا تھا، جسے موجودہ بجٹ میں بڑھایا گیا ہے۔

    افضل زیدی نے وضاحت کی کہ ٹیکس بڑھنے کے باوجود ماضی کے مقابلے میں اب بھی 85 فیصد کم ٹیکس لیا جا رہا ہے، اس میونسپل ٹیکس سے فائر بریگیڈ اور سڑکوں کی بحالی جیسے کام انجام دیے جائیں گے۔

    ایشیا کپ 2025: پاک بھارت میچ سے قبل دبئی پولیس کی سخت سکیورٹی ہدایات

  • سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ 24 قیراط کے حامل فی تولہ خالص سونے کی قیمت 200 روپے کمی سے 3 لاکھ 86 ہزار 300 روپے ہو گئی،اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونے کے نرخ بھی 172 روپے گر کر 3 لاکھ 31 ہزار 189 روپے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 22 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت 158 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 3 ہزار 600 روپے ہو گئی،ادھربین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 2 ڈالر تنزلی سے 3,643 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔

    غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے،وزیر اعظم شہباز شریف

    ایسوسی ایشن کے مطابق چاندی 13 روپے سستی ہو کر 4 ہزار 443 روپے میں فروخت ہوئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 11 روپے کمی کے بعد 3,809 روپے ہو گئی،عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 0.13 ڈالر کمی کے بعد 42.15 ڈالر پر آ گئی۔

    چناب، سندھ، ستلج اور راوی میں پانی کی سطح مسلسل بلند

  • عباسی شہید اسپتال میں لفٹ حادثہ، صحافی بال بال بچ گئے

    عباسی شہید اسپتال میں لفٹ حادثہ، صحافی بال بال بچ گئے

    کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی موجودگی میں عباسی شہید اسپتال میں پیش آنے والا لفٹ حادثہ بڑے سانحے سے ٹل گیا۔

    تفصیلات کے مطابق اسپتال میں ایک تقریب کے دوران لفٹ اچانک گر گئی، جس میں متعدد صحافی، ٹی وی چینلز کے کیمرہ مین اور ایک خاتون صحافی بھی سوار تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق لفٹ تیسری منزل سے پہلی منزل پر آ کر رکی لیکن جھٹکے کے باعث دروازہ اٹک گیا، جس کے باعث لفٹ مکمل طور پر گرنے سے بچ گئی اور صحافی محفوظ رہے۔ریسکیو عملے نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے لفٹ کا دروازہ کھول کر اندر پھنسے صحافیوں کو باہر نکالا۔ موقع پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ حادثہ چند لمحوں کے فرق سے بڑے سانحے میں بدل سکتا تھا کیونکہ اس سے کچھ ہی دیر قبل میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اسی لفٹ کے ذریعے نیچے اترے تھے۔

    یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں برس فروری میں بھی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عباسی شہید اسپتال پہنچے تھے تو وہاں کی لفٹ میں پھنس گئے تھے۔ اس وقت لفٹ چوتھی منزل سے تیزی کے ساتھ پہلی منزل پر آ کر رک گئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے میئر، ڈپٹی میئر اور دیگر 15 افراد محفوظ رہے تھے۔

    اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لفٹوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بارہا شکایات درج کرائی گئی ہیں، تاہم ابھی تک مستقل حل فراہم نہیں کیا گیا۔ شہری حلقوں اور صحافتی تنظیموں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں نصب لفٹوں کو فوری طور پر قابلِ استعمال اور محفوظ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔