Baaghi TV

Category: کراچی

  • کسی ایک شخص کے جرم کو جواز بنا کر وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کو اگر رگڑا لگانے کی سازش کررہی ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، سعید غنی

    کسی ایک شخص کے جرم کو جواز بنا کر وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کو اگر رگڑا لگانے کی سازش کررہی ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، سعید غنی

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کسی ایک شخص کے جرم اور اس کے غلط کام کو جواز بنا کر وفاقی حکومت اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے پیپلز پارٹی کو اگر رگڑا لگانے کی سازش کررہی ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جس بھونڈے انداز میں وفاقی اداروں کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اس کہ ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
    سعید غنی نے کہا کہ ایک غیر متعلقہ شخص کی جانب سے اسلام آباد میں ایک ایسے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، جس کو توہین عدالت کے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ نے خود طلب کیا اور اس کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔مسعود الرحمان پیپلزپارٹی کے پی ایس 92 کا عہدیدار تھا، جس نے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف تقریر کی جس پر پارٹی نے نہ صرف اس کو اس کے عہدے سے ہٹایا بلکہ اس کی پارٹی رکنیت بھی معطل کی اور اس کو پارٹی کے کسی پروگرام میں شرکت نہ کرنے کا پابند کیا۔
    اب ایک واٹس اپ نمبر سے مجھ سمیت متعدد صوبائی وزراء ، ارکان قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔میڈیا کے ذریعے نوٹس کی اطلاع کے بعد ہماری رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کے ذریعے معلوم ہوا تو واٹس اپ دیکھا تو 13 اگست کو مجھے اصل شناختی کارڈ کے ہمراہ پیش ہونے اور نہ آنے کی صورت میں کرنل پروسیڈنگ کا کہا گیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ میں اس طرح کے بھونڈے انداز میں ہمارے خلاف وفاقی اداروں کی کارروائی پر 13 اگست کو پیش نہیں ہوں گا اور اگر میرے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔ سعید غنی عمران نیازی کی جانب سے کچھ روز قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ہم وفاقی اداروں کو سندھ میں استعمال کریں گے اور یہ کارروائی اسی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسعود الرحمان کے خلاف سپریم کورٹ کارروائی کررہی ہے چاہے وہ اسے سزا دے یا معاف کردے اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

  • کراچی میں پاکستانی پرچم کے اسٹالز سڑکوں ، فٹ پاتھ یا رش والی جگہ پر نہ لگانے کا فیصلہ

    کراچی میں پاکستانی پرچم کے اسٹالز سڑکوں ، فٹ پاتھ یا رش والی جگہ پر نہ لگانے کا فیصلہ

    شہر قائد میں کورونا صورتحال کے جشن آزادی پر پاکستانی پرچم کے اسٹالز سڑکوں ، فٹ پاتھ یا رش والی جگہ پر نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوم آزادی کے موقع پر کراچی میں پاکستانی پرچم کے اسٹالز سڑکوں ، فٹ پاتھ یا رش والی جگہ پر نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، فیصلہ ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے کنٹرول روم کے ذریعے ایسٹ زون پولیس کو احکامات دے دیئے گئے ہیں، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے کسی گراؤنڈ میں اسٹالز کا اہتمام کیا جائے اور گراؤنڈ میں سخت سیکورٹی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

    خیال رہے اگست کے آغاز سے ہی ملک کے شہروں میں پاکستانی پرچموں ، جھنڈیوں اور بیجز وغیرہ کے اسٹال ہر گلی اور محلے میں لگائے جاتے ہیں، رواں سال پاکستانی قوم 75 واں یوم آزادی منائے گی۔

    واضح رہے محرم الحرام کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات کیے جارہے ہیں جبکہ کراچی میں کورونا کیسز میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے تاہم کیسز میں اضافے پر سندھ حکومت نے دوبارہ سخت فیصلوں کا عندیہ دے دیا ہے۔

  • وزیر اطلاعات و محنت سندھ کی زیر صدارت سیسی کی گورننگ باڈی کا اجلاس

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ کی زیر صدارت سیسی کی گورننگ باڈی کا اجلاس

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ کی زیر صدارت سندھ ایملائیزسوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوٹ (سیسی) کی گورننگ باڈی کا اجلاس منعقد ہوا۔

     وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعیدغنی نے کہا ہے کہ سییسی کے زیر انتظام صوبے بھر کی تمام اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں کرونا ویسینیشن لگایے ے حوالے سے انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی خصوصی ہدایات پر سیسی کے زیر انتظام کراچی میں کڈنی سینٹر کے بعد اب لانڈھی اور سائٹ میں ولیکا اسپتال میں بھی کوووڈ وارڈز قائم کیے جارہے ہیں اور ان میں 162  اسپیشلسٹ، آر ایم اوز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو 89 روز کے لئے بھرتی کیا جارہا ہے۔ سیسی کے زیر انتظام اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو کوووڈ رسک الاؤنس فراہم کیا جائے گا جبکہ بینظیر بھٹو مزدور کارڈز کے کام کو مزید تیز کرنے کے لئے 174 ڈیٹا انٹری آپپریٹر بھرتی کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سیسی کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ عبدالرشید سولنگی، کمشنر سیسی اسحاق مہر، گورننگ باڈی میں مزدوروں اور مالکان کے نمائندوں اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر گورننگ باڈی نے سیسی کے زیر انتظام کراچی میں کڈنی سینٹر، لانڈھی اسپتال اور ولیکا بائی اسپتال، سائٹ میں کوووڈ وارڈز کے قیام کے حوالے سے آگا ہ کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ کڈنی سینٹر میں پہلے ہی کوووڈ وارڈز قائم کیا گیا ہے اور وہاں  16 بستروں پر مشتمل 3 آئی سی یو وارڈز قائم ہیں جہاں وینٹیلیٹرز، مانیٹر سمیت تمام سہولیات ماجود ہیں۔ کڈنی سینٹر میں 24 بستروں پر مشتمل ایچ ڈی  یو وارڈ اور 10 آئسولیشن وارڈز موجود ہیں جبکہ یہاں لیبارٹری، ایکسرے مشین اور دیگر سہولیات موجود ہیں تاہم یہاں کچھ مزید سامان درکار ہوگا جس کے بعد یہ مکمل طور پر کوووڈ اسپتال میں تبدیل ہوجائے گا۔ اسی طرح اب وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر سندھ سوشل سیکورٹی اسپتال  لانڈھی میں 20 بستروں پر مشتمل آئی سی یو وارڈ، 20 بستروں پر مشتمل ایچ ڈی یو وارڈ قائم کیا جارہا ہے جبکہ یہاں بھی لیبارٹری اور دیگر سہولیات جو پہلے سے موجود ہیں ان میں کچھ کمی کا سامنا ہے اس کو پورا کرکے جلد ہی وہاں بھی کوووڈ وارڈز قائم کردئیے جائیں گے اسی طرح ولیکا بائی اسپتال سائٹ میں 12 بستروں پر مشتمل آئی سی یو وارڈ،10 بستروں پر مشتمل ایچ ڈی یو وارڈ قائم کیا جارہا ہے جبکہ یہاں بھی لیبارٹری اور دیگر سہولیات جو پہلے سے موجود ہیں ان میں کچھ کمی کا سامنا ہے اس کو پورا کرکے جلد ہی وہاں بھی کوووڈ وارڈز قائم کردئیے جائیں گے۔ گورننگ باڈی نے ان تمام اسپپتالوں میں کوووڈ وارڈز کے لئے درکار 162 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز، آر ایم اوز اور پپیرامیڈیکل اسٹاف سمیت دیگر اسٹاف کو 89 روز کے لئے کنٹریکٹ پر بھرتی کی منظوری دی اس موقع پر بتایا گیا کہ اس مد میں ہر ماہ 1 کروڑ روپے کے اخراجات سیسی کو ادا کرنے ہوں گے البتہ جو مشینری اور دیگر سامان کی ضرووریات کو سیسی کے بجت سے پورا کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں بینظیر بھٹو مزدور کارڈز کے اجراء میں ہونے والی تاخیر پر بھی وزیر اطلاعات و محنت سندھ نے برہمی کا اظہار کیا، جس پر سیکرٹری محنت نے بتایا کہ اس سلسلے میں نادرہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ہمیں انہیں 174 ڈیٹا انٹری آپپریٹرز فراہم کرنا تھے تاہم گذشتہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھاکہ اس سلسلے میں نادرہ کو ہی یہ ذمہ داری دی جائے، جس پر نادرہ نے معذرت کی اور اب ہم 174 ڈیٹا انٹری آپریٹرز کو بھرتی کرنا چاہتے ہیں تاکہ نادرہ کے صوبے بھر کے دفاتر کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے دفاتر اور موبائل وین سروسز کے ذریعے اس کام کو مزید تیز کیا جاسکے گا۔ گورننگ باڈی نے اس کی منظوری دی۔ اجلاس میں سیسی کے زیر انتظام چلنے والے اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو کوووڈ رسک الاؤنس جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

  • وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی کا سندھ اسمبلی میں خطاب

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی کا سندھ اسمبلی میں خطاب

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی کا سندھ اسمبلی میں خطاب

    کسی ایک شخص کے جرم اور اس کے غلط کام کو جواز بنا کر وفاقی حکومت اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے پیپلز پارٹی کو اگر رگڑا لگانے کی سازش کررہی ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

    جس بھونڈے انداز میں وفاقی اداروں کو سیاسی انتقامی کارروائیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اس کہ ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

    ایک غیر متعلقہ شخص کی جانب سے اسلام آباد میں ایک ایسے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، جس کو توہین عدالت کے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ نے خود طلب کیا اور اس کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔

    مسعود الرحمان پیپلزپارٹی کے پی ایس 92 کا عہدیدار تھا، جس نے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف تقریر کی جس پر پارٹی نے نہ صرف اس کو اس کے عہدے سے ہٹایا بلکہ اس کی پارٹی رکنیت بھی معطل کی اور اس کو پارٹی کے کسی پروگرام میں شرکت نہ کرنے کا پابند کیا۔

    اب ایک واٹس اپ نمبر سے مجھ سمیت متعدد صوبائی وزراء، ارکان قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کو ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔

    میڈیا کے ذریعے نوٹس کی اطلاع کے بعد ہماری رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کے ذریعے معلوم ہوا تو واٹس اپ دیکھا تو 13 اگست کو مجھے اصل شناختی کارڈ کے ہمراہ پیش ہونے اور نہ آنے کی صورت میں کرنل پروسیڈنگ کا کہا گیا ہے۔

    میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ میں اس طرح کے بھونڈے انداز میں ہمارے خلاف وفاقی اداروں کی کارروائی پر 13 اگست کو پیش نہیں ہوں گا اور اگر میرے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔

    عمران نیازی کی جانب سے کچھ روز قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ہم وفاقی اداروں کو سندھ میں استعمال کریں گے اور یہ کارروائی اسی کا تسلسل معلوم ہوتی ہے۔

    مسعود الرحمان کے خلاف سپریم کورٹ کارروائی کررہی ہے چاہے وہ اسے سزا دے یا معاف کردے اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

  • کراچی میں ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کراچی میں ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کراچی کے مختلف علاقوں ميں ٹريفک جام سے ہزاروں گاڑياں پھنس گئيں۔

    پیر کو لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد پہلے روزاولڈ سٹی ایریا سمیت آئی آئی چندریگر روڈ، صدر اورڈينسو ہال پرٹريفک جام ہوگیا۔

    ايمپريس مارکيٹ اور اطراف ميں بھی ٹریفک جام ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم اےجناح روڈ،ٹاور اور لائٹ ہاؤس کے علاقے میں بھی رش میں کئی گھنٹے تک گاڑیاں اور مسافر بسیں پھنسی رہیں۔

    اس دوران ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کی روانی بہتر کرنے کےلیے کوششیں کرتےرہے

  • کراچی میں اپنی ہی شادی میں ہوائی فائرنگ کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار

    کراچی میں اپنی ہی شادی میں ہوائی فائرنگ کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار

    کلفٹن شاہ رسول کالونی میں اپنی شادی میں ہوائی فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکارکوکزن سمیت گرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔

    اتوار کی شب بوٹ بیسن تھانے کے علاقےکلفٹن شاہ رسول کالونی میں پولیس اہلکارسلیم نے اپنی شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ کی تھی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

    شادی میں ہوائی فائرنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی جس میں پولیس اہلکاراوراس کے کزنزکو شادی کی تقریب میں جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔

    سوشل میٖڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پرشادی کی تقریب میں فائرنگ کی ویڈیو نشر ہوئی تو پولیس افسران بھی حرکت میں آگئے اور فوری کارروائی کرتے ہوئے دولہا پولیس اہلکارسلیم اوراس کے کزن اعجازاحمد کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے رپیٹر اور ایک 30 بور پستول برآمد کر لی اور گرفتار پولیس اہلکار اور اس کے کزن کے خلاف2 مقامات درج کرلیے گئے ۔

    اس حوالے سے ایس ایس پی ساؤتھ زبیر نذیر شیخ نے بتایا کہ شادی کی تقریب میں 2 مقامات پرہوائی فائرنگ کی گئی،پہلے مقام پر ہوائی فائرنگ ہوئی.

    تواطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا بعد میں سوشل میڈیا پرپولیس اہلکارسلیم کی بھی ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے کی ویڈیووائرل ہوئی ۔

    پولیس اہلکار نے شادی سے واپسی کے بعد اپنی گھر کے باہر ہوائی فائرنگ کی تھی جس پرپولیس اہلکارسلیم کوگرفتارکرکے اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ درج کرلیا گیا.

    انھوں نے بتایا کہ گرفتار پولیس اہلکاربوٹ بیسن تھانے میں تعینات ہے اورشاہ رسول کالونی میں رہائش پذیرہے۔

  • گورنر سندھ سے پاکستان میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات

    گورنر سندھ سے پاکستان میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر کی ملاقات

    گورنر سندھ عمران اسماعیل سے پاکستان میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید الزعابی کی ملاقات۔

    ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبہ جات میں تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال۔

    گورنر سندھ نے پاکستان میں بالخصوص صحت، تعلیم ، توانائی اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے شعبہ جات میں متحدہ عرب امارات کی معاونت کو سراہا۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں۔

    دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے جس سے دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات کو مذید تقویت ملی ہے۔

    گورنر سندھ عمران اسماعیل کہتے ہیں وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی معیشت ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔

    کورونا وبا کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات اور ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

    یو اے ای کے سفیر حماد عبید الزعابی کا کہنا تھا
    حکومت پاکستان کی کورونا سے نمٹنے کی مجموعی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔

    پاکستان معاونت پروگرام کے تحت مختلف شعبہ جات میں تعاون کو مذید مستحکم بنایا جائیگا۔

  • کورونا کیسز، سندھ حکومت نے دوبارہ سخت فیصلوں کا عندیہ دے دیا

    کورونا کیسز، سندھ حکومت نے دوبارہ سخت فیصلوں کا عندیہ دے دیا

    وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے دوبارہ کورونا کیسز بڑھنے کے پیش نظر سخت فیصلوں کا عندیہ دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن کو بدقسمتی سےسیاسی نشانہ بنایاگیا، کورونا کیسزمیں تھوڑی سی کمی ہوئی ہے، اگرکیسزبڑھےتوسندھ حکومت دوبارہ سخت فیصلے کرے گی۔

    خیال رہے سندھ حکومت نے کورونا کیسز میں کمی کے پیش نظر آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کاروبار رات 8 بجے تک کھولا رہے گا۔

    یاد رہے کراچی میں کورونا کی صورت حال بہتری آناشروع ہوگئی، محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ مختلف اسپتالوں میں مریض114 وینٹ پر ہیں جبکہ نجی وسرکاری اسپتالوں میں260آئی سی یو وینٹ خالی ہے۔

    مختلف سرکاری ونجی اسپتالوں میں591 ایچ ڈی یوبیڈز بھی خالی پڑے ہیں ، مجموعی طورپرایچ ڈی یو بیڈز کی تعداد 1395 ہے اور مختلف اسپتالوں میں ایچ ڈی یومیں زیرعلاج مریضوں کی تعداد804 ہے۔

    کم آکسیجن کی ضرورت کے حامل ا یچ ڈی یو میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد 291 ہے جبکہ کم آکسیجن کی ضرورت کے حامل 177 بیڈزخالی ہیں۔

    خیال رہے سندھ حکومت نے کورونا کیسز میں کمی کے پیش نظر آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے ۔

  • ایس ایس پی ملیر نے قاری سجاد تنولی اور مری گروپ کے خونی تصادم کی تفصیلی رپورٹ آئی جی کو پیش کردی

    ایس ایس پی ملیر نے قاری سجاد تنولی اور مری گروپ کے خونی تصادم کی تفصیلی رپورٹ آئی جی کو پیش کردی

    ایس ایس پی ملیر سید عرفان علی بہادر نے لیبر اسکوائر میں قاری سجاد تنولی اور مری گروپ کے مابین خونی تصادم کی تفصیلی رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی یعقوب منہاس کو پیش کردی.

    انتہائی ذمہ دار ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے گذشتہ دنوں سکھن تھانے کی حدود میں واقع لیبر اسکوائر میں دو گروہوں کے درمیان المناک اور خونریز تصادم کی رپورٹ طلب کی تھی.

    جس پر ایس پی ملیر سنگہار ملک نے اپنی نگرانی میں حقائق پر مبنی رپورٹ تیار کرائی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز ایس ایس پی ملیر سید عرفان علی بہادر نے مذکورہ مرتب کی گئی.

    تحقیقاتی رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کراچی یعقوب منہاس کو انکے دفتر میں پیش کی اس دوران Dig ایسٹ ثاقب اسماعیل میمن نے ایڈیشنل آئی جی کو سانحہ کے بارے میں بریفنگ دی اس موقع پر SSP ملیر سید عرفان علی بہادر Sp ملیر سنگہار ملک کے علاوه SDP سکھن ، ایس آئی او سکھن اور SHO سکھن بھی موجود تھے.

    ذرائع کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کو بتایا گیا کہ دونوں فریقین کے درمیان ماضی میں بھی کئی تنازعات ہوچکے ہیں اور باہمی رنجش موجود تھی مری بلوچ گروه 500 کواٹرز اور مری گوٹھ کے درمیان دیوار توڑ کر آہنی گیٹ نصب کرنا چاہتے تھے.

    جس پر انکا قاری سجاد گروپ سے تنازعہ ہوا جبکہ گراونڈ میں کھیلنے اور کار ، موٹر سائیکل کے معمولی تصادم کے بعد کشیدگی بڑھی جو خونی تصادم کی شکل اختیار کی گئی.

    اس دوران دونوں گروہوں کا کرمنل ریکارڈ بھی پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ تصادم کے دوران قاری سجاد گروپ کے دو افراد فائرنگ سے زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی رپورٹ کے بعد تھانے سے میڈیکل لیٹر دیکر جناح اسپتال روانہ کیا گیا.

    تاہم قاری سجاد گروپ کے دونوں زخمی افراد کے خلاف بعد ازاں مری گروپ نے ایف آئی آر درج کروا کر انہیں ملزم نامزد کیا جسکے باعث زخمی ملزمان مقدمہ کے اندراج سے گریزاں رہے.

    پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی تاہم دونوں گروہوں کے افراد کے مشتمل اور متعدد کے مسلح ہونے کے باعث پیشہ ورانہ اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو کنڑول کیا گیا.

    بصورت دیگر مزید اور بڑی خونریزی کا خدشہ تھا ایڈیشنل آئی جی یعقوب منہاس نے واقعہ کی شفاف تحقیقات اور فراہمی انصاف کیلئے پولیس کو کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ پر کاروائی کا حکم دیا.

    جبکہ دونوں گروہوں کے درمیان کشیدگی اور لسانی بڑھاوا دینے والے عناصر پر کڑی نظر رکھنے اور علاقے میں امن وامان کے قیام کیلئے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے خصوصی احکامات جاری کیے.

    واضح رہے کہ لیبر اسکوائر میں المناک سانحہ میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کے بعد تاحال سوگ اور خوف وہراس کی فضا قائم ہے.

  • کے ڈی اے لیاقت مارکیٹ کی ایکسٹرا لینڈ پر  مبینہ ملی بھگت سے چائینہ کٹنگ مکمل

    کے ڈی اے لیاقت مارکیٹ کی ایکسٹرا لینڈ پر مبینہ ملی بھگت سے چائینہ کٹنگ مکمل

    کے ڈی اے لیاقت مارکیٹ کی ایکسٹرا لینڈ پر مبینہ ملی بھگت سے چائینہ کٹنگ مکمل.

    دو دوکانوں کے اصلی اور ایک دوکان کے جعلی کاغذ کی بنیاد پر چھ دوکانیں ایسٹرا لینڈ پر تعمیر کردی گئی ۔

    جعلی سازی سےایکسٹرا لینڈ پر قبضہ میں مبینہ طور پر کے ڈی اے افسران مارکیٹ کمیٹی کے صدر اور ایک جعلی کرنل ملوث ہے۔ چھ دوکانین اس جگہ تعمیر کی گئیں جو نقشہ میں اوپن اسپیس تھا۔

    ذرائع ابلاغ کی مسلسل نشاندہی پر کے ڈی اے نے قبضہ مافیا کو نوٹس جاری کئے لیکن عملدراری نہیں کروائی جاسکی ۔

    عملہ کی کمی کا بہانہ اور مبینہ رقم وصولی کے بعد قبضہ مافیا کو ایکسٹرا لینڈ ہڑپ کرنے کے مکمل چھوٹ دے دی گئی ۔سابقہ ڈی جی کے ڈی اے نے ایکسٹرا لینڈ پر ہونے والی تعمیرات کے انہدام کا حکم دیا۔

    لیکن اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ اور اے ڈبل ای کے مجرمانہ تاخیری حربوں نے قبضہ مافیا کی تعمیرات مکمل کروادیں ۔کے ڈی اے حکام پولیس پر ڈالتے رہے۔

    ایس ایس پی کورنگی کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔تو مقدمہ درج کروانے کے بجائے کے ڈی اے حکام منظر عام سے غائب ہوگئے ۔