قصور
تحصیل چونیاں انتظامیہ سبزی و فروٹ منڈیوں میں سرکاری نرخوں پر عملدرآمد اور ریٹ لسٹ کو نمایاں جگہ پر آویزاں کروانے کے لئے متحرک ہو گئی
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے علی الصبح فروٹ و سبزی منڈی چونیاں کا اچانک دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ
ص نیلامیی کے عمل کی مانیٹرنگ کرکے ملازمین کو معطل کر دیا
فروٹ و سبزی منڈی میں ملازمین کی حاضری کو چیک کیا گیا ڈیوٹی سے غیر حاضری پر 02 ملازمین کو معطل کر دیا گیا
دوران مانیٹرنگ اوور چارجنگ کا جائزہ لیا گیا اور اوور چارجنگ پر چئیرمین مارکیٹ کمیٹی کو ذمہ داران(کمیشن ایجنٹس) کے خلاف کاروائی کرنے کی بھی ہدایات کی اور ان کے لائسنس کو کینسل کرنے کا بھی کہا گیا جبکہ صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بھی چیک کیا
قصور:سابقہ رجسٹری محرر فاروق چٹہ نے قبرستان کی زمینوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا-
باغی ٹی وی :قبضہ مافیا نے قبرستانوں کی زمین پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ڈپٹی کمشنر قصور کے نوٹس میں بھی یہ معاملہ لایا گیا لیکن اس پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی-
قصور شہر میں موجود منیر شہید کالونی نے فاروق چٹہ اور اس کے بھائی نے مل کر قبرستان کی جگہ پر قبضہ کیا یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جو ایم این کا الیکشن بھی لڑ چکا ہے اور سابقہ رجسٹری محرر تھا اور کرپشن کی وجہ سے ڈسمس ہوا-
اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ انہیں کئی بار کہا کہ یہ قبرستان ہے اس کو نہ چھیڑا جائے لیکن اس کے باوجود فاروق چٹہ اور اس کا بھائی بار بار اسلحہ کے زور پر غنڈہ گردی کرتے ہیں –
بزرگ کا کہنا تھا کہ فاروق صدیق رجسٹری محرر تھا جو سسپنڈ ہوا اور ایک طاقتور مافیا ہے یہ 2004 سے لے کر اب تک اس طرح حملے کر رہا ہے-لیکن انتظامیہ ڈی سی صاحب کو دو ماہ ہو گئے ہیں درخواست دیئے ہوئے لیکن اس پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی-
معروف میاں محمد معصوم جو کہ ریٹائرڈ نائب تحصیلدار اور ڈسٹرکٹ امن کمیٹی اور رکن امن کمیٹی بھی ہوں اس قبرستان کے سامنے رہتا ہوں یہ پچاس سال سے بھی پُرانا قبرستان ہے اس میں بابا سلطان شاہ کا دربار بھی ہے اور اس کے ساتھ جتنا بھی رقبہ تھا وہ قبرستان کی جگہ تھی لیکن فاروق چٹہ نے اس کو ریکارڈ میں ردو بدل کر کے ساری رجسٹریاں اپنی ساس کے نام کروا رکھی ہیں اور قبروں کے اوپر سے پلر لگا کر قبرستان پر قبضہ کیا جارہا ہے –
انہوں نے انتظامیہ ڈی سی اور ڈی پی او سے اپیل کی کہ ان پر قانونی کاروائی کی جائے-
جبکہ دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ یہ متنازع ایریا ہے اور اس پر ڈی سی صاحب اور ڈی پی او صاحب پوری کاروائی کر رہے ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں گے دونوں فریقین کو منظور ہو گا لیکن یہ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فریق کسی بھی جگہ پر قبضہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ہم اس کی اجازت دیں گے –
شہریوں نے احتجاج کے دوران قبضہ مافیا فاروق چٹہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی –
قصور:قصور شہر میں جعلی نرسنگ سکول اور گائنی سنٹر چلانے والے محمد احمد عرف پپو نلکا کو ضلعی انتظامیہ قصور ڈپٹی کمشنر قصور نے پنجاب مینٹینینس آف پبلک آرڈر کے تحت نیا مقدمہ درج کر کے ایک مہینے کے لئے جیل بھیج دیا ہے –
باغی ٹی وی :پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے ان کو اس سے پہلے نرسنگ کی طالبات سے جنسی ہراساں کرنے پر اور ان کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینے پر تھانہ صدر قصور دو مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا جس پر ان کو عدالت نے نے ضمانت دی تھی تاہم اب پھر انتظامیہ نے نیا مقدمہ درج کرکے ان کو گزشتہ روز گرفتار کیا اور اب جیل روانہ کر دیا ہے-
پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس حوالے سے تین رکنی افسران کی تفتیشی رپورٹ بھی قصور کو مل گئی ہے-
قصور، اسسٹنٹ کمشنر چونیاں نے 12 ارب روپے مالیت کی 14 ہزار کنال زرعی اور 3 ہزار کنال کمرشل اراضی واگزار کروا لی 100 کے قریب ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کروایا پنجاب بھر میں AC چونیاں کی کارکردگی سر فہرست سماجی و سیاسی اور صحافتی شخصیات کی طرف سے خراج تحسین اور مبارکباد تفصیلات کے مطابق AC چونیاں عدنان بدر نے اپنی ایک سال کی کارکردگی کی رپورٹ میڈیا کو جاری کر دی ہے
جس کے مطابق تقریباً 12 ارب روپے مالیت کی 14 ہزار کنال، 3 ہزار کنال کمرشل اراضی جس میں دکانات، پلازے، رستہ جات، 12 پانی کے تالاب اور ہزاروں کنال پرائیویٹ رقبہ جات وغیرہ واگزار کروائے گئے ہیں کچھ جگہیں پلے گراونڈ، پبلک پارک اور قبرستان کے لئے مختص کر دی کئیں ہیں AC چونیاں نے مزید بتایا کہ واگزار کروائی گئی سرکاری اراضی کو 92 یونٹ میں تقسیم کر کے نیلام کی جائے گی
اور رقم سرکاری خزانہ میں جمع کروائی جائے گی تقریباً 30 لاکھ روپے کے قریب گرانفروشوں کو جرمانے بھی عائد کیے گئے مختلف ملزمان کے خلاف 100 کے قریب مقدمات درج کرا کر ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا گیا AC چونیاں کی ایک سالہ شاندار کارکردگی اور پنجاب بھر میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے پر سیاسی وسماجی اور صحافتی شخصیات نے AC چونیاں کو مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کیا ہے
قصور، چونیاں کے نواحی گاؤں محمدی پور میں مین روڈ پر کوڑے کے ڈھیرکا قبضہ،متعلقہ انتظامیہ بھنگ پی کر سو گئی بار بارقومی ا خبارات میں خبریں نشر ہونے اور اہل دیہہ کی جانب سے درخواستیں دئیے جانے کے باوجود انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی عوام پھٹ پڑے
تفصیلات کے مطابق اہل علاقہ نے صحافیوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ مین کارپٹ روڈ محمدی پورپر گندگی کے ڈھیروں نے قبضہ جما لیا ہے یہ مین روڈ 12 فٹ چوڑائی پر مشتمل ہے جبکہ کوڑے کے ڈھیروں کے باعث سکڑ کر تقریبا 5 فُٹ رہ گئی ہے
باقی روڈ پر گندگی و غلاظت کا راج ہے متعدد بار اسسٹنٹ کمشنر چونیاں کو درخواستیں گزار چکے ہیں تاحال ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے اس کوڑے کے ڈھیر کے باعث اہل علاقہ میں مختلف قسم کے جان لیوا امراض جنم لے رہے ہیں اسی گندگی کی وجہ سے مچھروں کی ٹولیاں لوگوں کے سروں پر منڈلا رہی ہیں
درجنوں دیہاتوں کو ملانہ والا یہ اکلوتہ روڈ تحصیل کونسل چونیاں، اور متعلقہ انتظامیہ کی عدم توجہ کا شکار ہے یہ روڈ کروڑوں روپوں کی لاگت سے سفری مسائل کو ختم کر نے کیلئے بنایا گیا تھا جبکہ گندگی کے ڈھیروں نے مین شاہراہ کو لپیٹ میں لیکر عوام کا پیدل گزرنا بھی محال کر دیا ہے اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اور ڈی سی قصور سے فوری نوٹس لیکر عوام کو اس عذاب سے نجات دلانے اور متعلقہ افسران کی سرزنش کا مطالبہ کیا ہے
قصور, کنگن پور میں شیطانی عمل جاری،حیوانیت بھی شرما گئی،ذہنی معزور بہن کے ساتھ سگے بھائی کا زنا
تفصیلات کے مطابق تھانہ کنگن پور کی حدود کوٹ بسم اللہ میں نور حسن بی بی بیوہ مرزا نیاز بیگ نے درخواست دی کہ اس کی بیٹی صفیہ بی بی جس کی عمر تقریبا 30 سال ہے جسے گزشتہ 10 سال قبل اس کے خاوند عبدالغفار نے ذہنی توازن درست نہ ہونے کی وجہ سے واپس اس کی والدہ کے گھر چھوڑا ہوا ہے کو اس کا حقیقی بھائی محمد عرفان جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے
نور بی بی نے کہا کہ اسے مورخہ 15/01/2021 کو معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا محمد عرفان اپنی بہن صفیہ بی بی کے ساتھ زنا کرتا رہا ہے
درخواست دائر ہوتے ہی مقامی پولیس ملزم کو گرفتار کرکے کاروائی کا آغاز کر دیا ہے
قصور
مہنگائی کو پر لگ گئے ،سبزیوں کے ریٹ ہم ہوئے ٹو چینی ،گھی،ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ گئیں،موجودہ مہنگائی مثل قانون جنگل
تفصیلات کے مطابق قصور میں مہنگائی کا راج برقرار ہے چند دنوں میں سبزیوں کی قیمتیں کم ہوئیں تو منافع خوروں نے گھی،چینی،ایل پی جی و دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء میں اضافہ کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے دو سال قبل تک 125 روپیہ فی کلو والا کرن گھی اس وقت 250 روپیہ صوفی گھی دو سال قبل 145 کا تھا جو کہ اب 270 روپیہ میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 10 روپیہ فی کلو کا اضافہ کر دیا گیا ہے
شہریوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں جس طرح گورنمنٹ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون چل رہا ہے
قصور کے علاقہ نقیب آباد میں پتنگ بازی پر چار بہنوں کے اکلوتے بھاٸی سمیع اللہ کویوسف گجر کے بیٹے احمدنے اپنے 3ساتھیوں سے ملکر قتل کر دیا
تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر قصور کے علاقہ نقیب آباد میں ڈیڑھ ماہ قبل پتنگ بازی پر سمیع اللہ اور یوسف گجر کے بیٹے احمد کے درمیان معمولی تلخ کلامی ہوٸی جس کو لیکریوسف گجر کے بیٹےنے اپنے دل میں بغض رکھا اور موقع پا کر سمیع اللہ کو اپنے ساتھیوں عرفان۔ آصف اور ایک عدد نامعلوم کے ساتھ مل کر ڈنڈوں اور سوٹوں سے بری طرح مضروب کر دیا اور اس کے اُوپر سے موٹر ساٸیکل گزار کر وقوعہ کو ایکسیڈینٹ کا روپ دینے کی کوشش کی جب کہ سمیع اللہ کو زخمی حالت میں ریسکیو 1122 کی گاڑی پر جنرل ہسپتال لاہور پہنچایا گیا جہاں پر سمیع اللہ نے اپنا بیان دیا کہ مجھے یوسف گجر کے بیٹے احمد نے اپنے ساتھیوں سے ملکر مارا ہے جس پر علاقہ تھانہ صدر قصور میں جرم 324 کو شامل کرتےہوۓ ملزمان کے خلاف FIR کا اندراج کیا گیا تاہم کل زخموں کی شدت کی وجہ سے سمیع اللہ جان بر نا ہو سکا اور اللہ کو پیارا ہو گیا مقتول کے لواحقین نے سمیع اللہ کی لاش کو سڑک پر رکھ کر لاہور قصور روڈ کو دونوں جانب سے بند کر دیا اور احتجاج کرتے رہے اور آٸی جی پنجاب اور ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا کے ہمیں انصاف دیا جاۓاور ملزمان کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جاۓ اور ڈی پی او قصور کے آنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ڈی پی او قصور جناب عمران کشور صاحب کی خصوصی ہدایات پر ڈی ایس پی صدر سرکل جناب اشفاق حسین کاظمی صاحب اور ایس ایچ او تھانہ صدر قصور فوری طور پر موقع پر پہنچے اور مقتول کے لواحقین سے ملاقات کی اور مقامی میڈیا کے نماٸندوں سے بات کرتے ہوۓ مقتول کے لواحقین کو ہر طرح کی قانونی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواٸی جس پر مقتول کے لواحقین نے ڈی پی او قصور ۔ڈی ایس پی صدر سرکل اور ایس ایچ او تھانہ صدر قصورپر پورے اطمینان کا اظہار کرتے ہوۓ احتجاج ختم کردیا مقتول کے لواحقین اور علاقہ نقیب آبادکے مقامی لوگوں نے ڈی ایس پی صدر سرکل سید اشفاق حسین کاظمی صاحب کی ضلع قصور کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مقتول کے لواحقین کو فوری انصاف کی یقین دہانی پر دعاٸیں دیں
قصور
ایس ایچ او تھانہ راجہ جنگ راحیل خان کی کاروائی میں بین الاضلاعی خطرناک ڈکیٹ گینگ کے 6 ارکان گرفتار
تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ راجہ جنگ راحیل خان نے کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کے قبضہ سے لوٹی گی دو لاکھ روپے کی نقدی موٹرسائیکل 2 عدد موبائل فون 10 عدد اور ناجائز اسلحہ پسٹل 30 بور 3 عدد گولیاں پسٹل 30 بور 20 عدد بندوق 12 بور یک نالی 12 بور1 عدد رپیٹر12بور 1عدد کارتوس 12بور 30 عدد برآمد گینگ کے سرغنہ رمضان عرف جانی ولد صدیق ، بلال حسین عرف لالو شاہ ولد ریاض حسین وسیم اکرم عرف مستو ولد محمد اکرم محمد ذیشان ولد اللہ رکھا محمد ارسلان ولد انور عرفان عرف پھانا ولد عبد اللہ نئےوپرانے درج و ٹریس 19مقدمات میں ملوث حوالات میں بند کر دیا ملزمان راجہ جنگ رائیونڈ کے علاقے میں واردتوں کا بازار گرم کر رکھا تھا ملزمان چھوٹے بڑے اسلحہ سے لیس ہوکر دن کے وقت چھوٹی بڑی ٹولیوں میں موٹر سائیکل پر فیک نمبر کی نمبرپلیٹ لگاکر روڈ رابری کرکے موٹرسائیکل موبائل فون نقدی ر قم اور قیمتی اشیاء چھیننے کی وارداتیں کرتے ہیں رات کی تاریخی میں اکٹھے ہو کر ہاؤس ڈکیتی اور روڈرابری کی وارداتیں کرتے ہیں مزاحمت کرنے پر فائر مارنے سے گریز نہ کرتے ہیں گرو کا سرغنہ سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے انتہائی خطرناک گروہ ہے ملزمان نے دوران تفتیش ڈیڑھ درجن سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے مزید تفتیش جاری ایس ایچ او کا مزید کہنا تھا ملزمان پہلے بھی19 مقدمات میں ملوث پائیے گئے ہیں ایس ایچ او نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنا میری اولین ترجیح ہے جس کے لیے میں رات دن کوشاں ہوں۔
تھانہ راجہ جنگ کی اس کامیاب کاروائی پر سماجی حلقوں نے ایس ایچ او راحیل خان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایسے ایماندار اور بہادر افسر کی موجودگی سے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کیلئے جگہ نہیں
پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے قصور جنسی اسکینڈل کے سلسلے میں پولیس کی سستی اور خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا ہے-
باغی ٹی وی : سینئیر صحافی مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹویب چینل پر جاری ویڈیو میں قصور میں میڈیکل کالج میں سو سے زائد طالبات کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی پر پولیس کی جانب سے خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کی روک تھا م کے لئے کوئی واضح قانون بنائے-
مبشر لقمان نے کہا کہ گزشتہ سال معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا اور اس وقت بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے واویلا کیا تھا جس کی وجہ سے قاتل پکڑا گیا اور اس کو سزا ہو گئی اور اسکے قاتل اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ہمارے پاکستان کی بچیاں محفوظ ہوئیں اورحکومت کی کوشش سے باقاعدہ قانون کی پاس ہوا ۔
لیکن اب پھر وہ ٹائم آ گیا ہے کہ میں دوبارہ آپ کے اوپر زور لگاؤں تاکہ اس مسئلے پر پوری طرح قانون سازی ہو سکے اب اسی طرح کا ایک اور واقعہ زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں رونما ہوا ہے اور اب پھر جس میں بتایا جارہا ہے کہ سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو اور ان کی زندگیوں کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔
اور اس حوالے سے جس بچی نے بھی آواز بُلند کرنے کی کوشش کی اس کو عبرت کا نشانہ بنایا گیا-پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے ان کے ساتھ ظلم کیا گیا جبر کیا گیا اور یہ ظلم ان بچیوں کے ساتھ بار بار کیا گیا-
مبشر لقمان کے مطابق کہ اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے لیکن اب وہ جعلی صحافی ہے یا اصلی صحافی ہے وہ بہروپیہ ہے یا کطھ لیکن اس کا اثرو رسوخ ہے کہ پنجاب پولیس اس کے خلاف پرچہ کاٹنے میں ہچکچا رہی ہے-
انہوں نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ س طرح کرنا پنجاب پولیس کی پُرانی روایت ہے سینئیر صحافی نے مزید کہا کہ وہ خود بھی پولیس کے پاس دو مرتبہ پرچہ کروانے کے لئے جا چُکے ہیں لیکن انہوں نے پرچہ نہیں کیا دو سال سے درخواستیں پڑی ہوئی ہیں وہاں-
مبشر لقمان نے بتایا کہ اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور کا کہنا ہے کہ قصور کا میڈیا جس طرح زینب والے معاملے پر شروع سے خاموشی اختیار کئے ہوا تھا تاہم جب قومی میڈیا پر جب بات آئی تو عوام کو حقائق کا علم ہوا۔ایک بار پھر قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے بھیڑیا کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی اس کی مدد کرنے میں سرفہرست ہے۔
مبشر لقمان نے خیال ظاہر کیا کہ اس سب کا مطلب ہے کہ پیسوں کا لین دین ہو رہا ہے اور مجرموں سے پیسے لے کر مسب کو چُپ کروایا جا رہا ہے اب اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کون کون کس جگہ پر صحافت کے نام پر کیا کیا کر رہا ہے-
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس وہ واٹس ایپ چیٹ بھی موجود ہے جن میں وہ لڑکیوں کو اپنے پاس بلانے کے لئے ڈراتا دھمکاتا اور پیپرز میں پاس کرنے کا لالچ دیتا تھا اور اس کی مبینہ آڈیو بھی ان کے پاس آ چکی ہے لیکن اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ان پر لازم ہے کہ وہ سب کے سامنے پیش نہ کریں لیکن یقین کریں کہ وہ اتنی غلیظ اور غلاظت سے بھر پور ہے کہ اگر آپ اور خاص طور پر والدین سنیں گے تو کانپ جائیں گے کہ ابھی تک اس کے اوپر پرچہ کیوں نہیں ہو رہا –
سینئیر صحافی نے ویڈیو میں میڈیکل کالج کے بارے میں مزید انکشاف کیا کہ اس کالج کا لائسنس جعلی ہے اور اس کالج نے سینکڑوں طالبات کو جعلی ڈگریاں جاری کی ہیں جس پر مقامی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران بھی اس پر کاروائی کرنے پر گریزاں ہیں پتہ نہیں کس کس کو مہینہ جاتا ہفتہ جاتا ہے-
مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ اگر اس درندے کے خلاف اگر جلد از جلد کاروائی نہیں ہوتی تو آپ سوچیں کہ معاشرے کے اندرلوگوں کی عزتیں محفوظ رہ سکیں گی لوگ کیا سکول ، یونیورسٹیز اور کالج میں اپنی بچیوں کو بھیج سکیں گے-
انہوں نے بتایا کہ دو ایف آئی آر درج ہوئیں جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم بعد ازاں باغی ٹی وی کی جانب سے خبر ریلیز ہو نے کے بعد قصور پنجاب پولیس کا موقف بھی سامنے آ یا، پنجاب پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے-جس میں کہا گیا ہے کہ 2 طالبات کو ہراساں کیا گیا جن کی شکایات پر مقدمات درج کر لیے گئے تھے ۔ مزید الزامات کی تحقیقات کے لیے مندرجہ ذیل افسران پر مشتمل ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جن میں یہ افسران شامل ہیں-
1. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (چیئرمین)
2. ایڈیشنل ایس پی ، قصور
3۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈی ایچ او قصور
مسز بشری انور ، پرنسپل اسکول آف نرسنگ ، ڈی ایچ کیو ، قصور
کمیٹی 3 دن میں مثبت جانچ پڑتال اور سفارشات اور گزارشات پر مبنی رپورٹ کرے گی جس کے حوالے سے تفتیش جاری ہے سینئیر صحافی نے اس کمیٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی اور اس میں افسران کا مطلب یہ ہے کہ چھیچھڑوں کی رکھوالی پربلی کو بٹھا دینے والا حساب ہے –
اینکر پرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور مقامی صحافی اتنے بڑے مجرم کو بچانے کے لئے زور لگا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کسی طرح بچ جائے جس کے اوپر الزام ہے کہ 100 سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی کی-
مبشر لقمان نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نہ صرف اس ویڈیو کو اتنا پھیلائیں کہ ہر آدمی کو پتہ چلے کہ اور یہ لوگ بے نقاب ہوں بلکہ ان کو پناہ دینے والے ان کی پشت پناہی کرنے والے ان کو بچانے والے جو لوگ اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں پولیس والا کہتا ہے سول سوسائٹی والا کہتے ہیں وہ سب کے سب بے نقاب ہوں اور ان سب کے اوپر بھی پرچے ہوں-
سینئیر صحافی نے کہا کہ بچیوں کے اس معاملے پر آرام سے سونا نہیں ہے بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں یہ آپ کی بھی ہیں میری بھی ہیں مبشر لقمان نے کہا کہ وہ بچیوں کا نام نہیں لینا چاہتے اور واٹس ایپ چیٹس نہیں دکھا سکتے کیونکہ بہرحا ل ان کی بھی عزت ہے اللہ تعالیٰ ان کی عزتیں قائم رکھیں لیکن اس مسئلے کا سب سے بڑا پوائنٹ یہ ہے کہ حکومت اور پنجاب پولیس اس واقعے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور مجرموں کوچھوڑنے کا یا انہوں نے پورا ایک طریقہ کار بنایا ہوا ہے –
انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس جو بھی میڈیا پر ہے سوشل میڈیا پر ہے اس واقعے کو خود سے اپنی زبانی شئیر کریں تاکہ وہ مجرم اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ے نقاب ہوں-